توضیح المسائل اردو آیت الله سیستانی

نجاسات

مسئلہ(۸۰) دس چیزیں نجس ہیں :

۱
)پیشاب

۲
)پاخانہ

۳
)منی

۴
)مردار

۵
)خون

۶
،۷)کتااورسور

۸
)کافر

۹
)شراب

۱۰
)نجاست خورحیوان کاپسینہ۔

۱
،۲- پیشاب اورپاخانہ

مسئلہ(۸۱) انسان کااورہراس حیوان کاجس کاگوشت حرام ہے اورجس کا خون جہندہ ہے یعنی اگر اس کی رگ کاٹی جائے توخون اچھل کرنکلتاہو، پیشاب اورپاخانہ نجس ہے۔اور اس حیوان کاپاخانہ پاک ہے جس کاگوشت حرام ہے مگراس کاخون اچھل کرنہیں نکلتا، مثلاً وہ مچھلی جس کاگوشت حرام ہے اور اسی طرح گوشت نہ رکھنے والے چھوٹے حیوانوں مثلاً مکھی، مچھر کافضلہ یاآلائش بھی پاک ہے، لیکن حرام گوشت حیوان جواچھلنے والاخون نہ رکھتاہو(احتیاط لازم کی بناپر)اس کے پیشاب سے بھی پرہیز کرنا ضروری ہے۔

مسئلہ(۸۲) جن پرندوں کاگوشت حرام ہے ان کاپیشاب اورفضلہ پاک ہے، لیکن اس سے پرہیز بہترہے۔

مسئلہ(۸۳) نجاست خورحیوان کاپیشاب اورپاخانہ نجس ہے اوراسی طرح اس بھیڑکے بچے کاپیشاب اورپاخانہ جس نے سورنی کادودھ پیاہونجس ہے( جس کی تفصیل بعد میں کھانے اور پینے کے احکام میں آئے گی۔) اسی طرح اس حیوان کاپیشاب اورپاخانہ بھی نجس ہے جس سے کسی انسان نے بدفعلی کی ہو۔

۳ –
 منی

مسئلہ(۸۴) مرد کی اورہراس حرام گوشت نر جانور کی منی نجس ہے جس کاخون جہندہ (ذبح ہوتے وقت اس کی شہ رگ سے اچھل کرنکلے۔)ہو اور وہ رطوبت جو شہوت کے وقت عورتوں سے خارج ہوتی ہے اور اس کی جنابت کاسبب قرار پاتی ہے(جس کاتفصیلی بیان مسئلہ ( ۳۴۵ )میں آئے گا) منی کے حکم میں ہےاور احتیاط واجب کی بناپروہ حلال گوشت نر حیوان جس کا خون جہندہ ہے اس کی منی سے پرہیز کرناچاہیے۔

۴ –
 ٍمردار

مسئلہ(۸۵) انسان کی اوراچھلنے والاخون رکھنے والے ہرحیوان کی لاش نجس ہے خواہ وہ (قدرتی طورپر) خود مراہویاشرعی طریقے کے علاوہ کسی اورطریقہ سے ذبح کیا گیا ہو۔

مچھلی چونکہ اچھلنے والاخون نہیں رکھتی اس لئے پانی میں مرجائے توبھی پاک ہے۔

مسئلہ(۸۶) لاش کے وہ اجزاء جن میں جان نہیں ہوتی پاک ہیں مثلاً پشم، بال، ہڈیاں اور دانت۔

مسئلہ(۸۷) جب کسی انسان یاجہندہ خون والے حیوان کے بدن سے اس کی زندگی کے دوران گوشت یاکوئی دوسرا حصہ جس میں جان ہوجداکرلیا جائے تووہ نجس ہے۔

مسئلہ(۸۸) اگرہونٹوں یابدن کی کسی اورجگہ سے باریک سی تہہ (پپڑی)جس میں روح نہ ہو اور آسانی سے اکھیڑلی جائے تووہ پاک ہے۔

مسئلہ(۸۹) مردہ مرغی کے پیٹ سے جوانڈانکلے وہ پاک ہے اگرچہ اس کا چھلکا سخت نہ ہوا ہو، لیکن اس کاچھلکا دھولیناضروری ہے۔

مسئلہ(۹۰) اگربھیڑیابکری کابچہ (میمنا) گھاس کھانے کے قابل ہونے سے پہلے مرجائے تووہ پنیرما یاجواس کے شیردان میں ہوتاہے پاک ہے، لیکن اگر پتا چلے کہ مایا ہے تو اس کے ظاہر کو (مردار کے بدن سے ملے ہونے کی بنا پر) باہر سے دھولیناضروری ہے۔

مسئلہ(۹۱) دوائیاں ،عطر،روغن (تیل، گھی)جوتوں کی پالش اور صابن جنہیں غیر اسلامی ملک سے درآمد کیاجاتاہے اگران کی نجاست کے بارے میں یقین نہ ہو تو پاک ہیں ۔

مسئلہ(۹۲) گوشت،چربی اورچمڑاجس کے بارے میں احتمال ہوکہ کسی ایسے جانور کاہے جسے شرعی طریقے سے ذبح کیاگیاہے پاک ہے۔ لیکن اگریہ چیزیں کسی کافر کے ہاتھ سے لی گئی ہوں یاکسی ایسے مسلمان کے ہاتھ سے لی گئی ہوں جس نے کافر سے لی ہوں اوریہ تحقیق نہ کی ہو کہ آیایہ کسی ایسے جانورکی ہیں جسے شرعی طریقے سے ذبح کیاگیاہے یانہیں توایسے گوشت اورچربی کاکھاناحرام ہے، البتہ ایسے چمڑے پرنماز جائزہے۔ لیکن اگر یہ چیزیں مسلمانوں کے بازار سے یاکسی مسلمان سے خریدی جائیں اوریہ معلوم نہ ہوکہ اس سے پہلے یہ کسی کافر سے خریدی گئی تھیں یا اس بات کا احتمال ہوکہ تحقیق کرلی گئی ہے توخواہ کافر سے ہی خریدی جائیں اس گوشت اورچربی کا کھانا جائز ہے اس شرط کے ساتھ کہ وہ مسلمان اس میں کوئی ایسا تصرف کرے جو حلال گوشت سے مخصوص ہوجیسے کھانے کے لئے بیچنا۔

۵ –
 خون

مسئلہ(۹۳) انسان اورخون جہندہ رکھنے والے(یعنی اگر اس کی رگ کاٹی جائے تو خون اچھل کرنکلتا ہو) ہرحیوان کاخون نجس ہے۔ پس ایسے جانوروں ، مثلاً مچھلی اورمچھرکاخون جواچھل کرنہیں نکلتاپاک ہے۔

مسئلہ(۹۴) جن جانوروں کاگوشت حلال ہے اگرانہیں شرعی طریقے سے ذبح کیاجائے اورضروری مقدارمیں اس کاخون خارج ہوجائے توجوخون بدن میں باقی رہ جائے وہ پاک ہے، لیکن اگر(نکلنے والا) خون جانورکے سانس کھینچنے سے یااس کاسربلند جگہ پرہونے کی وجہ سے بدن میں پلٹ جائے تووہ نجس ہوگا۔

مسئلہ(۹۵) مرغی کے انڈےکی زردی میں خون کاذرہ ہو تواس سے احتیاط مستحب کی بناپرپرہیزکرناضروری ہے۔

مسئلہ(۹۶) وہ خون جوبعض اوقات دودھ دوہتے وقت نظرآتاہے نجس ہے اور دودھ کوبھی نجس کردیتاہے۔

مسئلہ(۹۷) اگردانتوں کے مسوڑوں سے نکلنے والاخون لعاب دہن سے مخلوط ہو جانے پرحل ہوجائے تواس لعاب سے پرہیزلازم نہیں ہے۔

مسئلہ(۹۸) جوخون چوٹ لگنے کی وجہ سے ناخن یاکھال کے نیچے جم جائے اگر اس کی شکل ایسی ہوکہ لوگ اسے خون نہ کہیں تووہ پاک اوراگراسےخون کہیں اوروہ ظاہر ہو جائے تونجس ہوگا۔ ایسی صورت میں جب کہ ناخن یاکھال میں سوراخ ہوجائے اگر خون کا نکالنا اوروضو یاغسل کے لئے اس مقام کاپاک کرنابہت زیادہ تکلیف کاباعث ہوتو تیمم کرلیناچاہئے۔

مسئلہ(۹۹) اگرکسی شخص کویہ پتا نہ چلے کہ کھال کے نیچے خون جم گیاہے یا چوٹ لگنے کی وجہ سے گوشت نے ایسی شکل اختیار کرلی ہے تووہ پاک ہے۔

مسئلہ(۱۰۰) اگرکھاناپکاتے ہوئے خون کاایک ذرہ بھی اس میں گرجائے تو سارے کاسارا کھانااوربرتن (احتیاط لازم کی بناپر)نجس ہوجائے گا۔ابال، حرارت اور آگ انہیں پاک نہیں کرسکتے۔

مسئلہ(۱۰۱) زخم کے اچھا ہوتے وقت اس کے اطراف میں جومواد پیدا ہوجاتا ہے اگریہ معلوم نہ ہوکہ اس میں خون ملاہواہے تووہ پاک ہوگا۔

۶
،۷ – کتا اورسور

مسئلہ(۱۰۲) کتااورسور،نجس ہیں حتیٰ کہ ان کے بال، ہڈیاں ، پنجے، ناخن اور رطوبتیں بھی نجس ہیں ۔

۸ –
 کافر

مسئلہ(۱۰۳) کافریعنی وہ شخص جوباری تعالیٰ کے وجود یااس کی وحدانیت کامنکر ہو نجس ہے اوراسی طرح غلات (یعنی وہ لوگ جوائمہ علیہم السلام میں سے کسی کوخداکہیں یا یہ کہیں کہ خدا،امام میں سماگیاہے)اور خارجی وناصبی (یعنی وہ لوگ جوائمہ علیہم السلام سے نفرت اوربغض کااظہارکریں ) بھی نجس ہیں ۔

اسی طرح وہ شخص جوکسی نبی کی نبوت یاضروریات دین یعنی وہ چیزیں جنہیں مسلمان دین کاجزسمجھتے ہیں ، مثلاً نمازاورروزےمیں سے کسی ایک کایہ جانتے ہوئے کہ یہ ضروریات دین ہیں ،منکرہو اگر اس طرح انکار کریں کہ اس سے پیغمبر کی تکذیب لازم قرار پائے خواہ اجمالی طور سے ہی کیوں نہ ہو، لیکن اھل کتاب(یعنی یہود، نصاریٰ و مجوسی) پاک ہیں ۔

مسئلہ(۱۰۴) کافرکاتمام بدن حتیٰ کہ اس کے بال، ناخن اوررطوبتیں بھی نجس ہیں ۔

مسئلہ(۱۰۵) اگرکسی نابالغ کے ماں باپ یادادا دادی کافرہوں تووہ بچہ بھی نجس ہے۔ البتہ اگروہ سوجھ بوجھ رکھتاہو،اسلام کااظہارکرتاہوتوایسی صورت میں پاک ہے اور اگر اپنے ماں باپ سے روگرداں ہوکر مسلمانوں کی طرف جھک جائے یا پھر تحقیق کررہاہو تو اس کی نجاست کاحکم مشکل ہےاوراگران میں سے (یعنی ماں باپ یادادا دادی میں سے) ایک بھی مسلمان ہوتواس تفصیل کے مطابق جومسئلہ ( ۲۱۰ )میں آئے گی بچہ پاک ہے۔

مسئلہ(۱۰۶) اگرکسی کے متعلق یہ علم نہ ہوکہ مسلمان ہے یانہیں اورکوئی علامت اس کے مسلمان ہونے کی نہ ہوتووہ پاک سمجھاجائے گا،لیکن اس پراسلام کے دوسرے احکام کااطلاق نہیں ہوگامثلاً نہ ہی وہ مسلمان عورت سے شادی کر سکتاہے اورنہ ہی اسے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیاجاسکتاہے۔

مسئلہ(۱۰۷) جوشخص (خانوادئہ رسالتؐ کے) بارہ اماموں میں سے کسی ایک کو بھی دشمنی کی بناپرگالی دے وہ نجس ہے۔

۹ –
 شراب

مسئلہ(۱۰۸) شراب نجس ہےاس کے علاوہ تمام مست کرنے والی چیزیں نجس نہیں ہیں ۔

مسئلہ(۱۰۹) صنعتی الکحل،الکحل(خواہ صنعتی ہو یاطبی) کی تمام قسمیں پاک ہیں ۔

مسئلہ(۱۱۰) اگرانگورکارس خودبخود یاپکانے پرابل جائے توپاک ہے، لیکن اس کا کھانا پینا حرام ہےاسی طرح ابلا ہوا انگور( احتیاط واجب کی بنا پر) حرام ہےمگر نجس نہیں ہے۔

مسئلہ(۱۱۱) کھجور، منقیٰ، کشمش اوران کاشیرہ خواہ اُبل جائیں توبھی پاک ہیں اور ان کاکھاناحلال ہے۔

مسئلہ(۱۱۲) ’’فقاع‘‘ جوعام طور سے جَوسے تیارہوتی ہے جو تھوڑا سا نشہ پیداکرتی ہے حرام ہے اور احتیاط واجب کی بناپر نجس ہے اورغیرفقاع یعنی طبی قواعد کے مطابق حاصل کردہ ’’آب جو‘‘ جسے ’’مَاءُ الشَّعِیْر‘‘ کہتے ہیں جس میں کوئی نشہ نہیں ہوتا، پاک اور حلال ہے۔

۱۰ –
 نجاست کھانے والے حیوان کاپسینہ

مسئلہ(۱۱۳) انسانی نجاست کھانے کی عادت والے اونٹ کاپسینہ نجس ہے اور(احتیاط واجب کی بنا پر) بقیہ حیوان کاپسینہ جسے انسانی نجاست کھانے کی عادت ہونجس ہے۔

مسئلہ(۱۱۴) جوشخص فعل حرام سے جنب ہواہواس کاپسینہ پاک ہے اور اس میں نماز صحیح ہے۔

نجاست ثابت ہونے کے طریقے

مسئلہ(۱۱۵) ہرچیز کی نجاست تین طریقوں سے ثابت ہوتی ہے:

(اول:) خودانسان کویقین ہو یا عاقلانہ روش کی بنا پر اطمینان ہوکہ فلاں چیز نجس ہے۔ اگرکسی چیز کے متعلق محض گمان ہوکہ نجس ہے تواس سے پرہیزکرنالازم نہیں ۔ لہٰذاقہوہ خانوں اور ہوٹلوں میں جہاں لاپروا لوگ اورایسے افراد کھاتے پیتے ہیں جونجاست اورطہارت کالحاظ نہیں کرتے کھاناکھانے کی صورت یہ ہے کہ جب تک انسان کو اطمینان نہ ہوکہ جو کھانااس کے لئے لایاگیاہے وہ نجس ہے اس کے کھانے میں کوئی حرج نہیں ۔

(دوم:) کسی کے پاس کوئی چیزہواوروہ اس چیز کے بارے میں کہے کہ نجس ہے مثلاً کسی شخص کی بیوی یانوکریاملازمہ کہے کہ برتن یاکوئی دوسری چیزجواس کے پاس ہے نجس ہے تووہ نجس شمارہوگی۔

(سوم:) اگردوعادل آدمی کہیں کہ ایک چیزنجس ہے تووہ نجس شمار ہوگی بشرطیکہ وہ اس کے نجس ہونے کی وجہ بیان کریں ۔جیسے یہ کہیں کہ یہ چیز خون یا پیشاب سےمل گئی ہے اور اگر ایک عادل مرد یا قابل اعتماد شخص خبر دے اور اس کے کہنے سےاطمینان پیدا نہ ہوتو احتیاط واجب کی بنا پر اس چیز سے پرہیز کیاجائے۔

مسئلہ(۱۱۶) اگرکوئی شخص مسئلے سے عدم واقفیت کی بناپریہ نہ جان سکے کہ ایک چیز نجس ہے یاپاک۔مثلاً اسے یہ علم نہ ہوکہ چوہے کی مینگنی پاک ہے یانہیں تواسے چاہئے کہ مسئلہ پوچھ لے۔ لیکن اگرمسئلہ جانتاہواورکسی چیزکے بارے میں اسے شک ہوکہ پاک ہے یا نہیں مثلاً اسے شک ہوکہ وہ چیزخون ہے یانہیں یایہ نہ جانتاہوکہ مچھرکاخون ہے یاانسان کا تووہ چیزپاک شمارہوگی اوراس کے بارے میں تحقیق کرنایاپوچھنالازم نہیں ۔

مسئلہ(۱۱۷) اگرکسی نجس چیزکے بارے میں شک ہوکہ پاک ہوئی ہے یانہیں تووہ نجس ہے۔ اگرکسی پاک چیز کے بارے میں شک ہوکہ نجس ہوگئی ہے یانہیں تووہ پاک ہے۔ اگر کوئی شخص ان چیزوں کے نجس یاپاک ہونے کے متعلق پتالگابھی سکتاہوتوتحقیق ضروری نہیں ہے۔

مسئلہ(۱۱۸) اگرکوئی شخص جانتاہوکہ جودوبرتن یادوکپڑے وہ استعمال کرتاہے ان میں سے ایک نجس ہوگیاہے، لیکن اسے یہ علم نہ ہوکہ ان میں سے کون سانجس ہواہے تو دونوں سے اجتناب کرناضروری ہے لیکن مثال کے طورپراگریہ نہ جانتاہوکہ خوداس کاکپڑا نجس ہواہے یاوہ کپڑاجواس کےاستعمال میں نہیں ہے اورکسی دوسرے شخص کی ملکیت ہے تو یہ ضروری نہیں کہ اپنے کپڑے سے اجتناب کرے۔