توضیح المسائل اردو آیت الله سیستانی

غسل کرنے کے احکام

مسئلہ(۳۷۱) غسل ارتماسی یاغسل ترتیبی میں غسل سے پہلے سارے جسم کاپاک ہوناضروری نہیں ہے بلکہ اگرپانی میں غوطہ لگانے یاغسل کے ارادے سے پانی بدن پرڈالنے سے بدن پاک ہوجائے توغسل صحیح ہوگا۔اس شرط کے ساتھ کہ جس پانی سے وہ غسل کررہا ہے وہ پاک ہونے سے خارج نہ ہو جائے جیسےآب کُر سے غسل کرے۔

مسئلہ(۳۷۲) اگرکوئی شخص حرام سے جنب ہواہواورگرم پانی سے غسل کرلے تو اگرچہ اسے پسینہ بھی آئے تب بھی اس کاغسل صحیح ہے۔

مسئلہ(۳۷۳) غسل میں بدن کا ظاہری حصہ بغیر دھوئے رہ جائے توغسل باطل ہے، لیکن کان اور ناک کے اندرونی حصوں کااورہراس چیزکادھوناجوباطن شمار ہوتی ہو واجب نہیں ہے۔

مسئلہ(۳۷۴) اگرکسی شخص کوبدن کے کسی حصے کے بارے میں شک ہوکہ اس کا شماربدن کے ظاہرمیں ہے یاباطن میں توضروری ہے کہ اسے دھولے۔

مسئلہ(۳۷۵) اگرکان کی بالی کاسراخ یااس جیساکوئی اورسوراخ اس قدر کھلا ہوکہ اس کااندرونی حصہ بدن کاظاہرشمار کیاجائے تواسے دھوناضروری ہے ورنہ اس کادھونا ضروری نہیں ہے۔

مسئلہ(۳۷۶) جوچیزبدن تک پانی پہنچنے میں مانع ہوضروری ہے کہ انسان اسے ہٹا دے اوراگراس سے پیشترکہ اسے یقین ہوجائے کہ وہ چیزہٹ گئی ہے غسل کرے تواس کا غسل باطل ہے۔

مسئلہ(۳۷۷) اگرغسل کے وقت کسی شخص کو عاقلانہ روش کے تحت شک ہو کہ کوئی ایسی چیزاس کے بدن پرہے یانہیں جوبدن تک پانی پہنچنے میں مانع ہوتوضروری ہے کہ تحقیق کرے حتیٰ کہ مطمئن ہوجائے کہ کوئی ایسی رکاوٹ نہیں ہے۔

مسئلہ(۳۷۸) غسل میں ان چھوٹے چھوٹے بالوں کوجوبدن کاجزشمار ہوتے ہیں دھوناضروری ہے اورلمبے بالوں کادھوناواجب نہیں ہے بلکہ اگرپانی کوجلدتک اس طرح پہنچائے کہ لمبے بال ترنہ ہوں تو غسل صحیح ہے، لیکن انہیں دھوئے بغیرجلدتک پانی پہنچاناممکن نہ ہوتوانہیں بھی دھوناضروری ہے تاکہ پانی بدن تک پہنچ جائے۔

مسئلہ(۳۷۹) وہ تمام شرائط جووضو کے صحیح ہونے کے لئے بتائی جاچکی ہیں ،مثلاً پانی کاپاک ہونااور غصبی نہ ہوناوہی شرائط غسل کے صحیح ہونے کے لئے بھی ہیں ۔لیکن غسل میں یہ ضروری نہیں ہے کہ انسان بدن کو اوپرسے نیچے کی جانب دھوئے۔ اس کے علاوہ غسل ترتیبی میں یہ ضروری نہیں کہ سراورگردن دھونے کے بعدفوراً بدن کودھوئے، لہٰذا اگر سر اور گردن دھونے کے بعدتوقف کرے اورکچھ وقت گزرنے کے بعدبدن کو دھوئے تو کوئی حرج نہیں بلکہ ضروری نہیں کہ سراورگردن یاتمام بدن کوایک ساتھ دھوئے پس اگر مثال کے طورپر سردھویاہواورکچھ دیربعدگردن دھوئے توجائزہے لیکن جوشخص پیشاب یا پاخانہ کے نکلنے کونہ روک سکتاہو،تاہم اسے پیشاب اورپاخانہ اندازاًاتنے وقت تک نہ آتا ہو کہ غسل کرکے نماز پڑھ لے توضروری ہے کہ فوراً غسل کرے اور غسل کے بعدفوراً نماز پڑھ لے۔

مسئلہ(۳۸۰) اگرکوئی شخص یہ جانے بغیرکہ حمام والاراضی ہے یانہیں اس کی اجرت ادھاررکھنے کاارادہ رکھتاہوتوخواہ حمام والے کوبعدمیں اس بات پرراضی بھی کرلے اس کاغسل باطل ہے۔

مسئلہ(۳۸۱) اگرحمام والاادھارپرغسل کرانے کے لئے راضی ہو،لیکن غسل کرنے والااس کی اجرت نہ دینے یاحرام مال سے دینے کاارادہ رکھتاہو تواس کاغسل باطل ہے۔

مسئلہ(۳۸۲) اگرکوئی شخص حمام والے کوایسی رقم بطوراجرت دے جس کا خمس ادانہ کیاگیاہوتواگرچہ وہ حرام کامرتکب ہوگالیکن بظاہر اس کاغسل صحیح ہوگااورمستحقین کو خمس ادا کرنااس کے ذمے رہے گا۔

مسئلہ(۳۸۳) اگرکوئی شخص شک کرے کہ اس نے غسل کیاہے یانہیں توضروری ہے کہ غسل کرے، لیکن اگرغسل کے بعدشک کرے کہ غسل صحیح کیاہے یانہیں تودوبارہ غسل کرناضروری نہیں ۔

مسئلہ(۳۸۴) اگرغسل کے دوران کسی شخص سے حدث اصغرسرزدہوجائے،مثلاً پیشاب کردے تواس غسل کوترک کرکے نئے سرے سے غسل کرناضروری نہیں ہے بلکہ وہ اپنے اس غسل کومکمل کرسکتاہے اس صورت میں ( احتیاط لازم کی بناپر)وضوکرنابھی ضروری ہے۔لیکن اگروہ شخص غسل ترتیبی سے غسل ارتماسی کی طرف یا غسل ارتماسی سے غسل ترتیبی کی طرف پلٹ جائے تو وضو کرنا ضروری نہیں ہے۔

مسئلہ(۳۸۵) اگروقت کی تنگی کی وجہ سے مکلف کاوظیفہ تیمم ہو،لیکن اس خیال سے کہ غسل اور نمازکے لئے اس کے پاس وقت ہے غسل کرے تواگراس نے غسل قصد قربت سے کیاہے تواس کاغسل صحیح ہے اگرچہ اس نے نمازپڑھنے کے لئے غسل کیاہو۔

مسئلہ(۳۸۶) جوشخص مجنب ہواگر نماز کے بعدوہ شک کرے کہ اس نے غسل کیاہے یا نہیں تو جو نمازیں وہ پڑھ چکا ہے وہ صحیح ہیں ، لیکن بعدکی نمازوں کے لئے غسل کرناضروری ہے اور اگرنماز کے بعداس سے حدث اصغر صادر ہواہوتولازم ہے کہ وضوبھی کرے اور اگر وقت ہوتو(احتیاط لازم کی بناپر)جونماز پڑھ چکاہے اسے دوبارہ پڑھے۔

مسئلہ(۳۸۷) جس شخص پرکئی غسل واجب ہوں وہ ان سب کی نیت کرکے ایک غسل کر سکتاہے اور ظاہر یہ ہے کہ اگران میں سے کسی ایک مخصوص غسل کاقصد کرے تو وہ باقی غسلوں کے لئے بھی کافی ہے۔

مسئلہ(۳۸۸) اگربدن کے کسی حصہ پرقرآن مجیدکی آیت یااللہ تعالیٰ کانام لکھا ہوا ہو تووضویاغسل ترتیبی کرتے وقت اسے چاہئے کہ پانی اپنے بدن پراس طرح پہنچائے کہ اس کاہاتھ ان تحریروں کونہ لگے۔اور اسی طرح وہ وضو کرناچاہے تو قرآنی آیت اور اللہ کے نام کے سلسلے میں احتیاط واجب کی بناء پر(یہی طریقۂ کار اختیار کریں )۔

مسئلہ(۳۸۹) جس شخص نے غسل جنابت کیاہوضروری نہیں ہے کہ نماز کے لئے وضو بھی کرے بلکہ دوسرے واجب غسلوں کے بعدبھی( سوائے غسل استحاضۂ متوسطہ کے) اور مستحب غسلوں کے جن کاذکرمسئلہ (۶۳۳ )میں آئے گابغیر وضو نماز پڑھ سکتاہے اگرچہ احتیاط مستحب یہ ہے کہ وضو بھی کرے۔