توضیح المسائل اردو آیت الله سیستانی

نفاس

نفاس

مسئلہ(۴۹۷) بچے کاپہلاجزءماں کے پیٹ سے باہر آنے کے وقت سے جو خون عورت کودس دن کے دوران آتا ہے تووہ خون نفاس ہے اس شرط کے ساتھ کہ ولادت کا خون اس پر صادق آئے اور نفاس کی حالت میں عورت کو’’ نفساء‘‘ کہتے ہیں ۔

مسئلہ(۴۹۸) جو خون عورت کو بچے کاپہلا جزباہر آنے سے پہلے آئے وہ نفاس نہیں ہے۔

مسئلہ(۴۹۹) یہ ضروری نہیں ہے کہ بچے کی خلقت مکمل ہوبلکہ اس کی خلقت نامکمل ہو البتہ علقہ(جمع ہوا خون) اور مضغہ(گوشت کا ٹکڑا) کی حالت سے گزر چکا ہو اور ساقط ہوجائے تو جو خون عورت کودس دن تک آئے خون نفاس ہے۔

مسئلہ(۵۰۰) یہ ہوسکتاہے کہ خون نفاس ایک لحظہ سے زیادہ نہ آئے، اور دس دن سے زیادہ نہیں آتا۔

مسئلہ(۵۰۱) اگرکسی عورت کوشک ہوکہ اسقاط ہواہے یانہیں یاجواسقاط ہواوہ بچہ تھایانہیں تواس کے لئے تحقیق کرناضروری نہیں اور جو خون اسے آئے وہ شرعاً نفاس نہیں ہے۔

مسئلہ(۵۰۲) جو چیز حائض پر واجب ہے وہ نفساء پربھی واجب ہے اور بنا بر احتیاط واجب مسجد میں ٹھہرنا،عبور کئے بغیر داخل ہونا، دو مسجدوں (مسجد الحرام، مسجد پیغمبرؐ)سے عبور کرنا،آیات سجدۂ واجب کا پڑھنا اور قرآنی الفاظ و نام خدا کامس کرنا نفساء پر حرام ہے۔

مسئلہ(۵۰۳) جوعورت نفاس کی حالت میں ہواسے طلاق دینااور اس سے جماع کرنا حرام ہے، لیکن کفارہ نہیں ہے۔

مسئلہ(۵۰۴) وہ عورت جو عددکی عادت نہ رکھتی ہو اگر اسے دس دن سے زیادہ خون نہ آئے تو تمام خون نفاس ہے۔ اگر دس دن سے پہلے پاک ہوجائے تو ضروری ہے کہ غسل کرے اور اپنی عبادتوں کو بجالائے اور اگر بعد میں ایک بار یا ایک بار سے زیادہ خون دیکھے چنانچہ ان دنوں میں جن میں خون دیکھا ہے ان دنوں کے ساتھ جن میں وہ درمیان میں پاک تھی وہ سب ملا کر دس دن یا دس دن سےکم ہوتو جو خون اس نے دیکھا ہے وہ سب خون نفاس ہے اور ان دنوں میں جس میں وہ پاک تھی ضروری ہے کہ احتیاطاً اپنی واجب عبادتوں کو انجام دے اور وہ کام جو نفساء پر حرام ہیں ، چھوڑدے اس بناپر ضروری ہے چنانچہ اگر اس نے روزہ رکھا ہے تو اس کی قضا کرے اور اگر وہ خون جو اس نےآخر میں دیکھا ہے دس دن سے تجاوز کرجائے توضروری ہے کہ اسی مقدار میں جو اس نے دس دنوں کے اندر دیکھاہے اس کو نفاس اور بقیہ کو استحاضہ قرار دے۔

مسئلہ(۵۰۵) وہ عورت جس کی عادت عددی ہو اگر عادت کےدنوں سے خون زیادہ آئے اگرچہ ان دنوں سے تجاوز نہ کرے( بنا بر احتیاط واجب) ان دنوں میں جو عدد کی عادت کے بعد دیکھا ہے نفساء کے محرمات کو ترک کرے اور مستحاضہ کے واجبات کو انجام دے اور اگر ایک بار سے زیادہ خون آئے اور اس کے درمیان پاک ہوجائے تو عاد ت کےایام کی تعداد کےلحاظ سےخون کو نفاس قرار دے اور احتیاطاً درمیان کے ان دنوں میں جن میں خون نہیں آیا اور عادت سے زائد خون کےدنوں میں نفساء کےمحرمات کو ترک اور واجبات کو انجام دے۔

مسئلہ(۵۰۶) اگر کوئی عورت نفاس کےخون سےپاک ہوجائے اور احتمال ہو کہ اس کے باطن میں خون ہے تو یا ضروری ہے کہ احتیاطاً غسل کرے اور اپنی عبادتوں کو انجام دے یا ضروری ہے کہ استبراء کرے اورجائز نہیں ہے کہ بغیر استبراء کئے اپنی عبادتوں کو چھوڑ دے اور استبراء کا طریقہ مسئلہ (۴۹۵ )میں بیان ہوا ہے۔

مسئلہ(۵۰۷) اگرعورت کو نفاس کاخون دس دن سے زیادہ آئے اور وہ حیض میں عادت رکھتی ہوتوعادت کے برابر دنوں کی مدت نفاس اورباقی استحاضہ ہے اور اگرعادت نہ رکھتی ہوتودس دن تک نفاس اورباقی استحاضہ ہے اور اگر اپنی عادت کو بھول گئی ہو تو ضروری ہے کہ عادت کی سب سے زیادہ عدد کو فرض کرے جس کا احتمال دیتی ہو اور احتیاط مستحب یہ ہے جو عورت عادت رکھتی ہووہ عادت کے بعدکے دن سے اورجوعورت عادت نہ رکھتی ہووہ دسویں دن کے بعدسے بچے کی پیدائش کے اٹھارہویں دن تک استحاضہ کے افعال بجالائے اور وہ کام جونفساء پرحرام ہیں انہیں ترک کرے۔

مسئلہ(۵۰۸) جوعورت حیض میں عادت رکھتی ہواگراسے بچہ جننے کے بعدایک مہینے تک یاایک مہینے سے زیادہ مدت تک لگاتار خون آتارہے تواس کی عادت کے دنوں کی تعداد کے برابرخون نفاس ہے اور جو خون نفاس کے بعددس دن تک آئے اگر چہ وقتی عادت بھی رکھتی ہو اور وہ اس کی ماہانہ عادت کے دنوں میں آیاہواستحاضہ ہے۔ مثلاًایسی عورت جس کے حیض کی عادت ہر مہینے کی بیس تاریخ سے ستائیس تاریخ تک ہواگروہ مہینے کی دس تاریخ کو بچہ جنے اور ایک مہینے یا اس سے زیادہ مدت تک اسے متواتر خون آئے تو سترھویں تاریخ تک نفاس اور سترھویں تاریخ سے دس دن تک کاخون حتیٰ کہ وہ خون بھی جوبیس تاریخ سے ستائیس تاریخ تک اس کی عادت کے دنوں میں آیاہے استحاضہ ہوگااوردس دن گزرنے کے بعدجوخون اسے آئے اگر وقتی عادت رکھتی ہو اور جو خون آیا ہےوہ عادت کے دنوں میں نہ ہو تواس کے لئے ضروری ہے کہ اپنی عادت کے دنوں کاانتظار کرے اگرچہ اس کے انتظار کی مدت ایک مہینے یاایک مہینے سے زیادہ ہوجائے اورخواہ اس مدت میں جو خون آئے اس میں حیض کی علامات ہوں اور اگروہ وقت کی عادت والی عورت نہ ہواور اس کے لئے ممکن ہو توضروری ہے کہ وہ اپنے حیض کوعلامات کے ذریعے معین کرے(جس کا طریقہ مسئلہ (۴۷۹)میں بیان ہوا) اور اگر ممکن نہ ہوجیساکہ نفاس کے بعد دس دن جو خون آئے وہ ساراایک جیسا ہواور ایک مہینہ یاچندمہینے انھی علامات کے ساتھ آتارہے توضروری ہے کہ ہرمہینے میں اپنے کنبے کی بعض عورتوں کی جو صورت ہو اسی کے مطابق اپنے لئے حیض قرار دے جیسا کہ تفصیل کے ساتھ مسئلہ (۴۷۹ )میں بیان ہوا ہے اور اگریہ ممکن نہ ہو توجو عدداپنے لئے مناسب سمجھتی ہے اختیار کرے اور ان تمام امور کی تفصیل مسئلہ (۴۸۱ )میں گزرچکی ہے۔

مسئلہ(۵۰۹) جوعورت حیض میں عدد کے لحاظ سے عادت نہ رکھتی ہو اگراسے بچہ جننے کے بعدایک مہینے تک یاایک مہینے سے زیادہ مدت تک خون آئے تو اس کے پہلے دس دن کو نفاس قرار دے اور دوسری دہائی میں جو خون آئے وہ استحاضہ ہے اور جو خون اسے اس کے بعد آئے ممکن ہے وہ حیض ہو اور ممکن ہے استحاضہ ہواور حیض قراردینے کے لئے ضروری ہے کہ اس حکم کے مطابق عمل کرے جس کا ذکرسابقہ مسئلہ میں گزرچکاہے۔