توضیح المسائل اردو آیت الله سیستانی

حنوط کے احکام

مسئلہ(۵۷۳) غسل دینے کے بعدواجب ہے کہ میت کوحنوط کیاجائے یعنی اس کی پیشانی،دونوں ہتھیلیوں ،دونوں گھٹنوں اوردونوں پاؤں کے انگوٹھوں پرکافوراس طرح ملاجائے کہ کچھ کافوراس پرباقی رہے خواہ کچھ کافور بغیر ملے باقی بچے اور مستحب یہ ہے کہ میت کی ناک کے اوپری حصہ پربھی کافور ملاجائے۔کافورپساہوااورتازہ ہوناچاہئے پاک اور مباح (غیر غصبی) ہونا چاہیے اور اگرپرانا ہونے کی وجہ سے اس کی خوشبوزائل ہوگئی ہوتوکافی نہیں ۔

مسئلہ(۵۷۴) احتیاط مستحب یہ ہے کہ کافور پہلے میت کی پیشانی پرملاجائے لیکن دوسرے مقامات پرملنے میں ترتیب ضروری نہیں ہے۔

مسئلہ(۵۷۵) بہتریہ ہے کہ میت کو کفن پہنانے سے پہلے حنوط کیاجائے۔ اگرچہ کفن پہنانے کے دوران یا اس کے بعدبھی حنوط کریں توکوئی حرج نہیں ہے۔

مسئلہ(۵۷۶) اگرکوئی ایساشخص مرجائے جس نے حج یاعمرے کے لئے احرام پہن رکھاہوتو اسے حنوط کرناجائزنہیں ہے مگران دوصورتوں میں (جائزہے) جن کا ذکر مسئلہ (۵۴۱ )میں گزرچکاہے۔

مسئلہ(۵۷۷) اعتکاف کرنے والا اور ایسی عورت جس کا شوہر مرگیاہواورابھی اس کی عدت باقی ہو اگرچہ خوشبولگانااس کے لئے حرام ہے لیکن اگروہ مرجائے تواسے حنوط کرناواجب ہے۔

مسئلہ(۵۷۸) احتیاط مستحب یہ ہے کہ میت کو مشک، عنبر، عوداور دوسری خوشبوئیں نہ لگائی جائیں اورانہیں کافور کے ساتھ بھی نہ ملایاجائے۔

مسئلہ(۵۷۹) مستحب ہے کہ سیدالشہداء امام حسین علیہ السلام کی قبر مبارک کی مٹی (خاک شفا) کی کچھ مقدار کافورمیں ملالی جائے،لیکن اس کافورکو ایسے مقامات پر نہیں لگانا چاہئے جہاں لگانے سے خاک شفا کی بے حرمتی ہواوریہ بھی ضروری ہے کہ خاک شفا اتنی زیادہ نہ ہوکہ جب وہ کافور کے ساتھ مل جائے تواسے کافور نہ کہاجاسکے۔

مسئلہ(۵۸۰) اگر کافورنہ مل سکے یافقط غسل کے لئے کافی ہوتوحنوط کرناضروری نہیں اوراگرغسل کی ضرورت سے زیادہ ہولیکن تمام سات اعضا کے لئے کافی نہ ہوتو (احتیاط مستحب کی بناپر)چاہئے کہ پہلے پیشانی پراوراگربچ جائے تو دوسرے مقامات پرملا جائے۔

مسئلہ(۵۸۱) مستحب ہے کہ (درخت کی) دوتروتازہ ٹہنیاں میت کے ساتھ قبر میں رکھی جائیں ۔