مسئلہ(۶۰۲) میت کواس طرح زمین میں دفن کرناواجب ہے کہ اس کی بوباہر نہ آئے اوردرندے بھی اس کابدن باہرنہ نکال سکیں اوراگراس بات کاخوف ہوکہ درندے اس کابدن باہرنکال لیں گے توقبرکو اینٹوں وغیرہ سے پختہ کردیناچاہئے۔
مسئلہ(۶۰۳) اگرمیت کوزمین میں دفن کرناممکن نہ ہوتودفن کرنے کے بجائے اسے کمرے یاتابوت میں رکھاجاسکتاہے۔
مسئلہ(۶۰۴) میت کوقبرمیں دائیں پہلو اس طرح لٹاناچاہئے کہ اس کے بدن کا سامنے کاحصہ روبقبلہ ہو۔
مسئلہ(۶۰۵) اگرکوئی شخص کشتی میں مرجائے اوراس کی میت کے خراب ہونے کا امکان نہ ہواوراسے کشتی میں رکھنے میں بھی کوئی امرمانع نہ ہوتولوگوں کوچاہئے کہ انتظار کریں تاکہ خشکی تک پہنچ جائیں اور اسے زمین میں دفن کردیں ورنہ چاہئے کہ اسے کشتی میں ہی غسل دے کرحنوط کریں اورکفن پہنائیں اورنماز میت پڑھنے کے بعد اسے چٹائی میں رکھ کراس کامنہ بندکردیں اور سمندرمیں ڈال دیں یاکوئی بھاری چیزاس کے پاؤں میں باندھ کرسمندرمیں ڈال دیں اورجہاں تک ممکن ہواسے ایسی جگہ نہیں ڈالناچاہئے جہاں جانوراسے فوراًاپنا لقمہ بنالیں ۔
مسئلہ(۶۰۶) اگراس بات کاخوف ہوکہ دشمن قبرکوکھودکرمیت کاجسم باہر نکال لے گااوراس کے کان یاناک یادوسرے اعضاء کاٹ لے گاتواگرممکن ہوتوسابقہ مسئلے میں بیان کئے گئے طریقے کے مطابق اسے سمندر میں ڈال دیناچاہئے۔
مسئلہ(۶۰۷) اگرمیت کوسمندرمیں ڈالنایااس کی قبرکوپختہ کرناضروری ہوتواس کے اخراجات میت کے اصل مال میں سے لے سکتے ہیں ۔
مسئلہ(۶۰۸) اگرکوئی کافرعورت مرجائے اوراس کے پیٹ میں مراہوابچہ ہو اور اس بچے کاباپ مسلمان ہوتواس عورت کوقبرمیں بائیں پہلو قبلے کی طرف پیٹھ کرکے لٹانا چاہئے تاکہ بچے کامنہ قبلے کی طرف ہواوراگرپیٹ میں موجود بچے کے بدن میں ابھی جان نہ پڑی ہوتب بھی (احتیاط مستحب کی بناپر)یہی حکم ہے۔
مسئلہ(۶۰۹) مسلمان کوکافروں کے قبرستان میں دفن کرنااورکافر کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرناجائز نہیں ہے۔
مسئلہ(۶۱۰) مسلمان کوایسی جگہ جہاں اس کی بے حرمتی ہوتی ہومثلاً جہاں کوڑا کرکٹ اورگندگی پھینکی جاتی ہو، دفن کرناجائزنہیں ہے۔
مسئلہ(۶۱۱) میت کوغصبی زمین میں یاایسی زمین میں جودفن کے علاوہ کسی دوسرے مقصد مثلاً مسجد کے لئے وقف ہواس صورت میں جب وقف کے نقصان دہ یا وقف کےمفادات کی راہ میں رکاوٹ ہو دفن کرنا جائز نہیں ہے اور( احتیاط واجب کی بنا پر) یہی صورت حال اس وقت بھی ہوگی جب وقف کےلئے نقصان دہ اور رکاوٹ نہ بنےدفن کرناجائزنہیں ہے۔
مسئلہ(۶۱۲) کسی میت کی قبرکھودکرکسی دوسرے مردے کواس قبرمیں دفن کرنا جائز نہیں ہے، لیکن اگرقبرپرانی ہوگئی ہواورپہلی میت کامکمل نشان باقی نہ رہاہوتودفن کر سکتے ہیں ۔
مسئلہ(۶۱۳) جوچیزمیت سے جداہوجائے خواہ وہ اس کے بال، ناخن یا دانت ہی ہوں اسے اس کے ساتھ ہی دفن کردیناچاہئے اوراگرجداہونے والی چیزیں اگرچہ وہ دانت،ناخن یابال ہی کیوں نہ ہوں میت کو دفنانے کے بعدملیں تو(احتیاط لازم کی بناپر ) انہیں کسی دوسری جگہ دفن کردیناچاہئے اور دانت اور ناخن انسان کی زندگی میں ہی اس سے جدا ہو جائیں تو انہیں دفن کرنامستحب ہے۔
مسئلہ(۶۱۴) اگرکوئی شخص کنویں میں مرجائے اوراسے باہرنکالناممکن نہ ہوتو چاہئے کہ کنویں کامنہ بندکردیں اوراس کنویں کوہی اس کی قبرقراردیں ۔
مسئلہ(۶۱۵) اگرکوئی بچہ ماں کے پیٹ میں مرجائے اوراس کاپیٹ میں رہناماں کی زندگی کے لئے خطرناک ہوتوچاہئے کہ اسے آسان ترین طریقے سے باہر نکالیں ۔ چنانچہ اگراسے ٹکڑے ٹکڑے کرنے پربھی مجبورہوں توایساکرنے میں کوئی حرج نہیں لیکن چاہئے کہ اگراس عورت کاشوہر اہل فن(ماہر) ہوتو بچے کو اس کے ذریعے باہر نکالیں اور اگریہ ممکن نہ ہوتوکسی اہل فن(ماہر) عورت کے ذریعے سے نکالیں اور عورت کسی ایسے شخص سے رجوع کرسکتی ہے جو اس کام کو بہتر انجام دے سکے اور اس کی حالت کےلئے زیادہ مناسب ہو اگر چہ وہ نامحرم ہو۔
مسئلہ(۶۱۶) اگرماں مرجائے اوربچہ اس کے پیٹ میں زندہ ہواوراگرچہ اس بچے کے زندہ رہنے کی امیدتھوڑے وقت کےلئے ہی صحیح ہوتب بھی ضروری ہے کہ ہر اس جگہ کو چاک کریں جوبچے کی سلامتی کے لئے بہترہے اور بچے کوباہر نکالیں اورپھراس جگہ کوٹانکے لگا دیں اور اگر اس عمل کی بناء پر بچے کے مرجانے کاعلم یا اطمینان ہو تو جائز نہیں ہے۔
دفن کے مستحبات
مسئلہ(۶۱۷) مستحب ہے کہ متعلقہ اشخاص قبرکوایک متوسط انسان کے قدکے لگ بھگ کھودیں اور میت کونزدیک ترین قبرستان میں دفن کریں ماسوااس کے جوقبرستان دور ہو وہ کسی وجہ سے بہترہومثلاً وہاں نیک لوگ دفن کئے گئے ہوں یازیادہ لوگ وہاں فاتحہ پڑھنے جاتے ہوں ۔ یہ بھی مستحب ہے کہ جنازہ قبر سے چندگزدورزمین پررکھ دیں اور تین دفعہ کرکے تھوڑا تھوڑاقبرکے نزدیک لے جائیں اورہردفعہ زمین پررکھیں اورپھر اٹھالیں اورچوتھی دفعہ قبرمیں اتاردیں اور اگرمیت مردہوتوتیسری دفعہ زمین پراس طرح رکھیں کہ اس کاسرقبرکی نچلی طرف ہواورچوتھی دفعہ سرکی طرف سے قبرمیں داخل کریں اور اگر میت عورت ہوتوتیسری دفعہ اسے قبرکے قبلے کی طرف رکھیں اور پہلو کی طرف سے قبر میں اتاریں اور قبر میں اتارتے وقت ایک کپڑاقبر کے اوپرتان لیں ۔یہ بھی مستحب ہے کہ جنازہ بڑے آرام کے ساتھ تابوت سے نکالیں اورقبر میں داخل کریں اوروہ دعائیں جنہیں پڑھنے کے لئے کہاگیاہے دفن کرنے سے پہلے اوردفن کرتے وقت پڑھیں اور میت کوقبر میں رکھنے کے بعداس کے کفن کی گرہیں کھول دیں اور اس کا رخسار زمین پر رکھ دیں اور اس کے سرکے نیچے مٹی کاتکیہ بنادیں اور اس کی پیٹھ کے پیچھے کچی اینٹیں یا ڈھیلے رکھ دیں تاکہ میت چت نہ ہوجائے او راس سےپہلےکہ قبر بندکریں دایاں ہاتھ میت کے داہنے کندھے پرماریں اور بایاں ہاتھ زورسے میت کے بائیں کندھے پررکھیں اور منہ اس کے کان کے قریب لے جائیں اور اسے زورسے حرکت دیں اور تین دفعہ کہیں : ’’اِسْمَعْ اِفْھَمْ یَافُلاَنَ ابْنَ فُلَانٍ‘‘۔ اور فلان ابن فلان کی جگہ میت کااور اس کے باپ کا نام لیں ۔ مثلاً اگراس کااپنانام محمد اوراس کے باپ کا نام علی ہوتوتین دفعہ کہیں :’’ اِسْمَعْ اِفْھَمْ یَامحمد بْنَ علی‘‘ اس کے بعدکہیں : ھَلْ اَنْتَ عَلَی الْعَھْدِ الَّذِیْ فَارَقْتَنَاعَلَیْہِ مِنْ شَہَادَۃِ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّااللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَاَنَّ مُحَمَّداً صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ وَسَیِّدُالنَّبِیِّیْنَ وَخَاتَمُ الْمُرْسَلِیْنَ وَاَنَّ عَلِیًّا اَمِیْرُالْمُؤْمِنِیْنَ وَسَیِّدُ الْوَصِیِّیْنَ وَاِمَامٌ اِفْتَرَضَ اللہُ طَاعَتَہٗ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ وَاَنَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَیْنَ وَعَلِیَّ بْنَ الْحُسَیْنِ وَمُحَمَّدَ بْنَ عَلِیٍّ وَّ جَعْفَرَبْنَ مُحَمَّدٍ وَّمُوْسَیٰ بْنَ جَعْفَرٍوَّعَلِیَّ بْنَ مُوْسٰی وَمُحَمَّدَبْنَ عَلِیٍّ وَّعَلِیَّ بْنَ مُحَمَّدٍ وَالحَسَنَ بْنَ عَلِیٍّ وَّالْقَائِمَ الْحُجَّۃَ الْمَھْدِیَّ صَلَوَاتُ اللہِ عَلَیْھِمْ اَئِمَّۃُ الْمُؤْمِنِیْنَ وَحُجَجُ اللہِ عَلَی الْخَلْقِ اَجْمَعِیْنَ وَاَئِمَّتُکَ اَئِمَّۃُ ھُدًی بِکَ اَبْرَارٌ یَافُلَانَ ابْنَ فُلَانٍ، اورفلان ابن فلان کے بجائے میت کااوراس کے باپ کانام لے اورپھرکہے :’’ اِذَااَتَاکَ الْمَلَکَانِ الْمُقَرَّبَانِ رَسُوْلَیْنِ مِنْ عِنْدِاللہِ تَبَارَکَ وَتَعَالیٰ وَسَاَلَاکَ عَنْ رَّبِّکَ وَعَنْ نَّبِیِّکَ وَعَنْ دِیْنِکَ وَعَنْ کِتَابِکَ وَعَنْ قِبْلَتِکَ وَعَنْ اَئِمَّتِکَ فَلَا تَخَفْ وَلَا تَحْزَنْ وَقُلْ فِیْ جَوَابِھِمَااَللہُ رَبِّیْ وَمُحَمَّدٌ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمْ نَبِیٍّ وَالْاِسْلَامُ دِیْنِیْ وَالْقُرْاٰنُ کِتَابِیْ وَالْکَعْبَۃُ قِبْلَتِیْ وَاَمِیْرُالْمُؤْمِنِیْنَ عَلِیُّ بْنُ اَبِیْ طَالِبٍ اِمَامِیْ وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ الْمُجْتَبٰی اِمَامِیْ وَالْحُسَیْنُ بْنُ عَلِیِّ الشَّھِیْدُ بِکَرْبَلَاءِ اِمَامِیْ وَعَلِیٌّ زَیْنُ الْعَابِدِیْنَ اِمَامِیْ وَمُحَمَّدُالْبَاقِرُ اِمَامِیْ وَجْعْفَرْ الصَّادِقُ اِمَامِیْ وَمُوْسَیٰ الْکَاظِمُ اِمَامِیْ وَعَلِیُّ الرِّضَا اِمَامِیْ وَمُحَمَّدُ الْجَوَادُ اِمَامِیْ وَعَلِیُّ الْھَادِیْ اِمَامِیْ وَالْحَسَنُ الْعَسْکَرِیُّ اِمَامِیْ وَالْحُجَّۃُ الْمُنْتَظَرُ اِمَامِیْ ھٰٓؤُلَاءِ صَلَوَاتُ اللہُ عَلَیْھِمْ اَئِمَّتِیْ وَسَادَتِیْ وَقَادَتِیْ وَ شُفَعَائِی بِھِمْ اَتَوَلّٰی وَمِنْ اَعْدَائِھِمْ اَتَبَرَّاُ فِی الدُّنْیَاوَالْاٰخِرَۃِ ثُمَّ اعْلَمْ یَافُلَانَ ابْنَ فُلَانٍ اور فلان ابن فلان کے بجائے میت کا اور اس کے باپ کا نام لے اورپھرکہے :’’ اَنَّ اللہَ تَبَارَکَ وَتَعَالیٰ نِعْمَ الرَّبُّ وَاَنَّ مُحَمَّداًصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہِ نِعْمَ الرَّسُوْلُ وَاَنَّ عَلِیَّ ابْنَ اَبِیْ طَالِبٍ وَاَوْلَادَہُ الْمَعْصُوْمِیْنَ الْاَئِمَّۃَ الْاِثْنَیْ عَشَرَنِعْمَ الْاَئِمَّۃُ وَاَنَّ مَاجَآءَ بِہٖ مُحَمَّدٌ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمْ حَقٌّ وَّاَنَّ الْمَوْتَ حَقٌّ وَّ سُؤَالَ مُنْکَرٍ وَّنَکِیْرٍ فِی الْقَبْرِحَقٌّ وَّ الْبَعْثَ حَقٌّ وَّالنُّشُوْرَ حَقٌّ وَّالصِّرَاطَ حَقٌّ وَّالْمِیْزَانَ حَقٌّ وَّتَطَایُرَالْکُتُبِ حَقٌّ وَّاَنَّ الْجَنَّۃَ حَقٌّ وَّالنَّارَحَقٌّ وَّاَنَّ السَّاعَۃَ اٰتِیَۃُ لَّا رَیْبَ فِیھَاوَاَنَّ اللہَ یَبْعَثُ مَنْ فِی الْقُبُوْرِ‘‘۔ پھرکہے ،’’اَفَھِمْتَ یَافُلَانُ‘‘ اورفلان کے بجائے میت کانام لے اور اس کے بعد کہے : ’’ثَبَّتَکَ اللہُ بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ وَ ھَدَاکَ اللہُ اِلیٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ عَرَّفَ اللہُ بَیْنَکَ وَبَیْنَ اَوْلِیَآئِکَ فِیْ مُسْتَقَرٍّمِّنْ رَّحْمَتِہٖ‘‘۔ اس کے بعد کہے: ’’اَللّٰھُمَّ جَافِ الْاَرْضَ عَنْ جَنْبَیْہِ وَاَصْعِدْ بِرُوْحِہٖ اِلَیْکَ وَلَقِّہٖ مِنْکَ بُرْھَانًا اَللّٰھُمَّ عَفْوَکَ عَفْوَکَ‘‘۔
مسئلہ(۶۱۸) مستحب ہے کہ جوشخص میت کوقبر میں اتارے وہ باطہارت، برہنہ سر اور برہنہ پاہواورمیت کی پائینتی کی طرف سے قبر سے باہر نکلے اورمیت کے عزیزو اقربا کے علاوہ جو لوگ موجودہوں وہ ہاتھ کی پشت سے قبر پرمٹی ڈالیں اور’’اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّااِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ‘‘پڑھیں ۔اگرمیت عورت ہوتواس کامحرم اسے قبر میں اتارے اوراگرمحرم نہ ہو تو اس کے عزیز واقربا اسے قبرمیں اتاریں ۔
مسئلہ(۶۱۹) مستحب ہے کہ قبر مربع بنائی جائے اورزمین سے تقریباً چار انگل بلندہواور اس پر کوئی (کتبہ یا) نشانی لگادی جائے تاکہ پہچاننے میں غلطی نہ ہو اور قبر پرپانی چھڑکاجائے اورپانی چھڑکنے کے بعدجولوگ موجودہوں وہ اپنی انگلیاں قبر کی مٹی میں گاڑکرسات دفعہ سورۂ قدرپڑھیں اورمیت کے لئے مغفرت طلب کریں اور یہ دعاپڑھیں :
’’ اَللّٰھُمَّ جَافِ الْاَرْضَ عَنْ جَنْبَیْہِ وَاَصْعِدْ اِلَیْکَ رُوْحَہٗ وَلَقِّہٖ مِنْکَ رِضْوَاناً وَّاَسْکِنْ قَبْرَہٗ مِنْ رَّحْمَتِکَ مَاتُغْنِیْہِ بِہٖ عَنْ رَّحْمَۃِ مَنْ سِوَاکَ‘‘۔
مسئلہ(۶۲۰) مستحب ہے کہ جولوگ جنازے میں شرکت کے لئے آئے ہوں ان کے چلے جانے کے بعدمیت کاولی یاوہ شخص جسے ولی اجازت دے میت کو ان دعاؤں کی تلقین کرے جوبتائی گئی ہیں ۔
مسئلہ(۶۲۱) دفن کے بعدمستحب ہے کہ میت کے پسماندگان کوپرسادیا جائے، لیکن اگراتنی مدت گزرچکی ہوکہ پرسادینے سے ان کادکھ تازہ ہوجائے توپرسانہ دینا بہتر ہے۔ یہ بھی مستحب ہے کہ میت کے اہل خانہ کے لئے تین دن تک کھانابھیجاجائے۔ ان کے پاس بیٹھ کراوران کے گھرمیں کھاناکھانامکروہ ہے۔
مسئلہ(۶۲۲) مستحب ہے کہ انسان عزیزواقرباکی موت پرخصوصاً بیٹے کی موت پر صبر کرے اور جب بھی میت کی یادآئے پڑھے’’ اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّااِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ‘‘ اور میت کے لئے قرآن خوانی کرے اورماں باپ کی قبروں پر جاکر اللہ تعالیٰ سے اپنی حاجتیں طلب کرے اورقبر کوپختہ کردے تاکہ جلدی ٹوٹ پھوٹ نہ جائے۔
مسئلہ(۶۲۳) کسی کی موت پربھی انسان کے لئے احتیاط کی بناپر جائزنہیں کہ اپنا چہرہ اوربدن زخمی کرے اوراپنے بال نوچے لیکن سراورچہرے کاپیٹنا جائزہے۔
مسئلہ(۶۲۴) باپ اوربھائی کے علاوہ کسی کی موت پرگریبان چاک کرنا(احتیاط کی بناپر)جائز نہیں ہے اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ باپ اوربھائی کی موت پربھی گریبان چاک نہ کیاجائے۔
مسئلہ(۶۲۵) اگرعورت میت کے سوگ میں اپناچہرہ زخمی کرکے خون آلود کرلے یااپنا بال نوچے تو احتیاط مستحب کی بناپروہ ایک غلام کوآزاد کرے یا دس فقیروں کوکھاناکھلائے یا انہیں کپڑے پہنائے اوراگرمرداپنی بیوی یافرزند کی موت پر اپناگریبان یالباس پھاڑے تو اس کے لئے بھی یہی حکم ہے۔
مسئلہ(۶۲۶) احتیاط مستحب یہ ہے کہ میت پرروتے وقت آواز بہت بلندنہ کی جائے۔
نمازوحشت
مسئلہ(۶۲۷) مناسب ہے کہ میت کے دفن کے بعدپہلی رات کواس کے لئے دو رکعت نماز وحشت پڑھی جائے اوراس کے پڑھنے کاطریقہ یہ ہے کہ پہلی رکعت میں سورۂ الحمد کے بعدایک دفعہ آیۃ الکرسی اوردوسری رکعت میں سورۂ الحمد کے بعددس دفعہ سورۂ قدر پڑھاجائے اور نمازکے سلام کے بعدکہاجائے :’’ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَّاٰلِ مُحَمَّدٍ وَّابْعَثْ ثَوَابَھَااِلَی قَبْرِ فُلَانٍ‘‘۔اورلفظ فلاں کے بجائے میت کانام لیاجائے۔
مسئلہ(۶۲۸) نماز وحشت میت کے دفن کے بعدپہلی رات کو کسی وقت بھی پڑھی جا سکتی ہے لیکن بہتریہ ہے کہ اول شب میں نماز عشاکے بعدپڑھی جائے۔
مسئلہ(۶۲۹) اگرمیت کوکسی دورکے شہرمیں لے جانامقصودہویاکسی اوروجہ سے اس کے دفن میں تاخیرہوجائے تونماز وحشت کواس کے سابقہ طریقے کے مطابق دفن کی پہلی رات تک ملتوی کردیناچاہئے۔
نبش قبر
مسئلہ(۶۳۰) کسی مسلمان کانبش قبریعنی اس کی قبرکاکھولناخواہ وہ بچہ یا دیوانہ ہی کیوں نہ ہوحرام ہے۔ہاں اگراس کابدن مٹی کے ساتھ مل کرمٹی ہوچکاہوتوپھرکوئی حرج نہیں ۔
مسئلہ(۶۳۱) امام زادوں ،شہیدوں ،عالموں کی قبروں کواجاڑنا خواہ انہیں فوت ہوئے کئی سال گزرچکے ہوں اوران کے بدن خاک ہوگئے ہوں ، اگر ان کی بے حرمتی شمار ہوتی ہوتوحرام ہے۔
مسئلہ(۶۳۲) چندصورتیں ایسی ہیں جن میں قبرکاکھولناحرام نہیں :
۱): جب میت کوغصبی زمین میں دفن کیاگیاہواورزمین کامالک اس کے وہاں رہنے پر راضی نہ ہو۔اور نبش قبر بھی کسی قسم کی دشواری کا سبب نہ ہو ورنہ لازم نہیں ہے سواء یہ کہ خود غاصب ہو اور اگر نبش قبر میں بہت بڑی پریشانی ہوتو لازم نہیں ہےبلکہ جائز نہیں ہے جیسے یہ کہ نبش قبر سے میت کے بدن کے ٹکڑے ٹکڑے ہوجانے کا سبب بنے بلکہ اگر بے احترامی کا سبب ہوتو (احتیاط واجب کی بنا پر) جائز نہیں ہے مگر یہ کہ میت نے خود زمین کو غصب کیا ہو۔
۲): جب کفن یاکوئی اورچیزجومیت کے ساتھ دفن کی گئی ہوغصبی ہواور اس کامالک اس بات پررضامندنہ ہوکہ وہ قبرمیں رہے اوراگرخودمیت کے مال میں سے کوئی چیزجو اس کے وارثوں کوملی ہواس کے ساتھ دفن ہوگئی ہواوراس کے وارث اس بات پر راضی نہ ہوں کہ وہ چیز قبرمیں رہے تواس کی بھی یہی صورت ہے،البتہ اگرمرنے والے نے وصیت کی ہوکہ دعایاقرآن مجیدیاانگوٹھی اس کے ساتھ دفن کی جائے اوراس کی وصیت نافذ ہوتوان چیزوں کونکالنے کے لئے قبرکونہیں کھولاجاسکتا۔اور اس مقام میں وہ مستثنیٰ چیزیں جو پہلے بیان کی گئی ہیں ان کا حکم جاری ہے۔
۳): جب قبرکاکھولنامیت کی بے حرمتی کاموجب نہ ہواورمیت کوبغیر غسل دیئے یا بغیرکفن پہنائے یا بغیر حنوط کے دفن کیاگیاہویاپتا چلے کہ میت کاغسل باطل تھایااسے شرعی احکام کے مطابق کفن نہیں دیاگیاتھایاحنوط نہیں کیا گیا تھایاقبر میں قبلے کے رخ پرنہیں لٹایاگیاتھا۔
۴): جب کوئی ایساحق ثابت کرنے کے لئے جو نبش قبرسے اہم یا اس کے مساوی ہو میت کا بدن دیکھنا ضروری ہو۔
۵): جب میت کو ایسی جگہ دفن کیاگیاہوجہاں اس کی بے حرمتی ہوتی ہو، مثلاً اسے کافروں کے قبرستان میں یا اس جگہ دفن کیاگیاہو جہاں غلاظت اورکوڑاکرکٹ پھینکا جاتا ہو۔
۶): جب کسی ایسے شرعی مقصد کے لئے قبرکھولی جائے جس کی اہمیت قبرکھولنے سے زیادہ ہو مثلاً کسی زندہ بچے کو ایسی حاملہ عورت کے پیٹ سے نکالنا مطلوب ہو جسے دفن کر دیا گیاہو۔
۷): جب یہ خوف ہوکہ درندہ میت کوچیر پھاڑ ڈالے گایاسیلاب اسے بہالے جائے گا یا دشمن اسے نکال لے گا۔
۸): میت نے وصیت کی ہوکہ اسے دفن کرنے سے پہلے مقدس مقامات کی طرف منتقل کیاجائے اور چنانچہ لے جاتے وقت اس میں کوئی دشواری نہ ہو لیکن جان بوجھ کر یا بھولے سےیا حکم سے جاہل ہونے کی بناء پر کسی دوسری جگہ دفنادیاگیاہوتوبے حرمتی نہ ہونے کی صورت میں قبر کھول کر اسے مقدس مقامات کی طرف لے جاسکتے ہیں بلکہ اس صورت میں نبش قبر کرنا اور منتقل کرنا واجب ہے۔

