توضیح المسائل اردو آیت الله سیستانی

ظہر اورعصر کی نماز کاوقت

مسئلہ(۷۱۷) نماز ظہر اور عصر کا وقت زوال (ظہر شرعی[4]) کے بعد سے غروب آفتاب تک ہے۔ لیکن اگرکوئی شخص جان بوجھ کرعصر کی نماز کوظہر کی نماز سے پہلے پڑھے تواس کی عصر کی نماز باطل ہے سوائے اس کے کہ آخری وقت تک ایک نمازسے زیادہ پڑھنے کا وقت باقی نہ ہوکیوں کہ ایسی صورت میں اگراس نے ظہر کی نماز نہیں پڑھی تواس کی ظہر کی نماز قضا ہوگی اور اسے چاہئے کہ عصر کی نماز پڑھے اوراگرکوئی شخص اس وقت سے پہلے غلط فہمی کی بناپر عصر کی پوری نماز ظہر کی نمازسے پہلے پڑھ لے تواس کی نماز صحیح ہے اور نماز ظہر پڑھنا ضروی ہے اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ مافی الذمہ کی نیت سے چاررکعت نماز پڑھے۔

مسئلہ(۷۱۸) اگرکوئی شخص ظہر کی نماز پڑھنے سے پہلے غلطی سے عصر کی نماز پڑھنے لگ جائے اورنماز کے دوران پتا چلے کہ اس سے غلطی ہوئی ہے تواسے چاہئے کہ نیت نماز ظہر کی جانب پھیردے یعنی نیت کرے کہ جوکچھ میں پڑھ چکاہوں اورپڑھوں گاوہ تمام کی تمام نماز ظہر ہے اورجب نماز ختم کرے تواس کے بعدعصر کی نماز پڑھے۔