توضیح المسائل اردو آیت الله سیستانی

نماز جمعہ اور اس کے احکام

نماز جمعہ اور اس کے احکام

مسئلہ(۷۱۹) جمعہ کی نماز صبح کی نماز کی طرح دو رکعت ہے۔اس میں اور صبح کی نماز میں فرق یہ ہے کہ اس نماز سے پہلے دوخطبے ضروری ہیں ۔ جمعہ کی نمازواجب تخییری ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ جمعہ کے دن مکلف کواختیار ہے کہ( اگرنماز جمعہ کی شرائط موجود ہوں ) تو جمعہ کی نماز پڑھے یاظہر کی نماز پڑھے۔ لہٰذا اگرانسان جمعہ کی نماز پڑھے تووہ ظہر کی نماز سے کفایت کرتی ہے (یعنی پھرظہر کی نماز پڑھناضروری نہیں )۔

جمعہ کی نمازواجب ہونے کی چندشرطیں ہیں :

(اول:) وقت کاداخل ہوناجو زوال آفتاب ہے اور اس کاوقت اول زوال عرفی ہے پس جب بھی اس سے تاخیرہوجائے،اس کاوقت ختم ہوجاتاہے اورپھر ظہر کی نماز اداکرنی چاہئے۔

(دوم:) نماز پڑھنے والوں کی تعدادجو بمع امام پانچ افراد ہے اورجب تک پانچ مسلمان اکٹھے نہ ہوں جمعہ کی نماز واجب نہیں ہوتی۔

(سوم:) امام کاجامع شرائط امامت ہونامثلاً عدالت وغیرہ جوامام جماعت میں معتبرہیں اور نماز جماعت کی بحث میں بتایاجائے گا۔اگریہ شرط پوری نہ ہوتوجمعہ کی نماز واجب نہیں ہوتی۔

جمعہ کی نماز کے صحیح ہونے کی چندشرطیں ہیں :

(اول:) باجماعت پڑھاجانا۔پس یہ نمازفرادیٰ اداکرناصحیح نہیں اورجب مقتدی نماز کی دوسری رکعت کے رکوع سے پہلے امام کے ساتھ شامل ہوجائے تواس کی نمازجمعہ صحیح ہے اوروہ اس نماز پرایک فرادیٰ رکعت کااضافہ کرے گااوراگروہ دوسری رکعت کے رکوع میں امام کوپالےتو (احتیاط واجب کی بناء پر) اس نماز جمعہ پر اکتفا نہیں کرسکتا بلکہ نمازظہر پڑھنا ضروری ہے۔

(دوم:) امام جماعت کانماز سے پہلے دوخطبے پڑھنا۔ پہلے خطبے میں خطیب اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرے نیزنمازیوں کوتقویٰ اورپرہیزگاری کی تلقین کرے۔پھرقرآن مجید کاایک چھوٹا سورہ پڑھےاور دوسرے خطبہ میں دوبارہ اللہ تعالیٰ کی حمدوثنابجا لائے۔ پھرحضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور ائمہ طاہرین علیہم السلام پردرود بھیجے اوراحتیاط مستحب یہ ہے کہ مومنین اورمومنات کے لئے استغفار (بخشش کی دعاء) کرے۔ ضروری ہے کہ خطبے نمازسے پہلے پڑھے جائیں ۔پس اگرنمازدو خطبوں سے پہلے شروع کرلی جائے تو صحیح نہیں ہوگی اور زوال (ظہر شرعی) سے پہلے خطبے پڑھنے میں اشکال ہے اور ضروری ہے کہ جوشخص خطبے پڑھے وہ خطبے پڑھنے کے وقت کھڑاہو۔لہٰذا اگر وہ بیٹھ کرخطبے پڑھے گاتوصحیح نہیں ہوگااوردوخطبوں کے درمیان بیٹھ کرفاصلہ دینالازم اورواجب ہے اورضروری ہے کہ مختصر لمحوں کے لئے بیٹھے اوریہ بھی ضروری ہے کہ امام جماعت اور خطیب یعنی جوشخص خطبے پڑھے ایک ہی شخص ہو(احتیاط کی بناپر ) اللہ تعالیٰ کی حمدوثنااسی طرح پیغمبراکرمؐ اورائمۃ المسلمین ؑ پرعربی زبان میں درودبھیجنا ضروری ہے اوراس سے زیادہ میں عربی معتبرنہیں ہے۔ بلکہ اگرحاضرین کی اکثریت عربی نہ جانتی ہوتواحتیاط لازم یہ ہے کہ تقویٰ کے بارے میں وعظ ونصیحت کرتے وقت جو زبان حاضرین جانتے ہیں اسی میں تقویٰ کی نصیحت کرے۔

(سوم:) یہ کہ جمعہ کی دونمازوں کے درمیان ایک فرسخ سے کم فاصلہ نہ ہو۔ پس جب جمعہ کی دوسری نمازایک فرسخ سے کم فاصلہ پرقائم ہواوردونمازیں بیک وقت پڑھی جائیں تودونوں باطل ہوں گی اوراگرایک نمازکودوسری پرسبقت حاصل ہوخواہ وہ تکبیرۃُالاحرام کی حدتک ہی کیوں نہ ہوتووہ (نمازجسے سبقت حاصل ہو) صحیح ہوگی اور دوسری باطل ہوگی، لیکن اگرنماز کے بعدپتا چلے کہ ایک فرسخ سے کم فاصلہ پرجمعہ کی ایک اور نماز اس نماز سے پہلے یااس کے ساتھ ساتھ قائم ہوئی تھی توظہر کی نماز واجب نہیں ہوگی اور جمعہ کی نماز کاقائم کرنامذکورہ فاصلے کے اندرجمعہ کی دوسری نماز قائم کرنے میں اس وقت مانع ہوتاہے جب وہ نماز خودصحیح اور جامع الشرائط ہوورنہ وہ مانع نہیں ہوگی۔

مسئلہ(۷۲۰) جب جمعہ کی ایک ایسی نماز قائم ہوجوشرائط کوپوراکرتی ہواورنماز قائم کرنے والاامام وقت یااس کا خاص نائب ہوتواس صورت میں نمازجمعہ کے لئے حاضر ہونا واجب ہے اوراس صورت کے علاوہ حاضرہوناواجب نہیں ہے۔پہلی صورت میں چند گروہ کےلئے نماز جمعہ میں حاضر ہونا واجب نہیں :

(اول:) عورتیں ۔

(دوم:) غلام۔

(سوم:) مسافر۔ خواہ ایسا مسافر کیوں نہ ہو جس کا فریضہ پوری نماز پڑھناہوجیسے کسی مسافر نے ایک جگہ پر قصد اقامت کیاہے۔

(چہارم:) بیمار اوراندھا اور بوڑھا ہو۔

(پنجم:) وہ افراد جو ایسی جگہ رہتے ہیں جس کا فاصلہ نماز جمعہ کے قائم ہونے کی جگہ سے دو شرعی فرسخ سے زیادہ دوری پر ہو۔

(ششم:)اسی طرح وہ شخص جس کے لئے جمعہ کی نمازمیں بارش یاسخت سردی وغیرہ کی وجہ سے حاضر ہونامشکل یادشوارہو۔

مسئلہ(۷۲۱) جس شخص پر نماز جمعہ واجب ہے اگر وہ نماز جمعہ کےبجائے نماز ظہر پڑھ لے تو اس کی نماز صحیح ہے۔

نماز جمعہ سے متعلق چند احکام

(اول:) جیسا کہ پہلےبیان کیا جاچکا ہے کہ زمانۂ غیبت میں نماز جمعہ واجب تعیینی نہیں ہے لہٰذااول وقت پر نماز ظہر کےلئے جلدی کرنا جائز ہے۔

(دوم:) امام کے خطبے کے دوران باتیں کرنامکروہ ہے،لیکن اگرباتوں کی وجہ سے خطبہ سننے میں رکاوٹ ہوتواحتیاط کی بناپرباتیں کرناجائزنہیں ہے۔

(سوم:) (احتیاط کی بناپر)دونوں خطبوں کاتوجہ سے سنناواجب ہے،لیکن جولوگ خطبوں کے معنیٰ نہ سمجھتے ہوں ان کے لئے توجہ سے سنناواجب نہیں ہے۔

(چہارم:) جب امام، جمعہ کا خطبہ پڑھ رہاہوتوحاضرہوناواجب نہیں ہے۔