مسئلہ(۷۲۲) اگر انسان کو غروب آفتاب کےبارے میں شک ہو اور احتمال دے رہا ہو کہ وہ پہاڑوں یا عمارتوں یا درختوں کے پیچھے چھپ گیا ہے تو اس صورت میں ( غروب آفتاب کے بعد) جو سرخی پیدا ہوتی ہے انسان کے سر پر سے گزرنے سےپہلے مغرب کی نماز نہیں پڑھنا چاہئے اور اگر شک نہ بھی ہو تو(احتیاط واجب) یہ ہے کہ جب تک مشرق کی جانب کی وہ سرخی جو سورج غروب ہونے کے بعدظاہرہوتی ہے انسان کے سرپرسے نہ گزرجائے وہ مغرب کی نماز نہ پڑھے۔
مسئلہ(۷۲۳) مغرب اورعشاکی نماز کاوقت مختار شخص کے لئے آدھی رات تک برقرار رہتا ہے لیکن جن لوگوں کوکوئی عذرہو(مثلاً بھول جانے کی وجہ سے یانیند یاحیض یاان جیسے دوسرے امورکی وجہ سے آدھی رات سے پہلے نماز نہ پڑھ سکتے ہوں ) توان کے لئے مغرب اورعشاکی نماز کاوقت فجرطلوع ہونے تک باقی رہتاہے۔ لیکن ان دونوں نمازوں کے درمیان متوجہ ہونے کی صورت میں ترتیب معتبرہے یعنی عشاکی نماز کو جان بوجھ کرمغرب کی نماز سے پہلے پڑھے توباطل ہے۔ لیکن اگرعشاکی نمازاداکرنے کی مقدارسے زیادہ وقت باقی نہ رہاہوتواس صورت میں لازم ہے کہ عشاکی نماز کومغرب کی نماز سے پہلے پڑھے۔
مسئلہ(۷۲۴) اگرکوئی شخص غلط فہمی کی بناپرعشاکی نماز مغرب کی نماز سے پہلے پڑھ لے اورنمازکے بعد اس امر کی جانب متوجہ ہوتواس کی نماز صحیح ہے اورضروری ہے کہ مغرب کی نمازاس کے بعدپڑھے۔
مسئلہ(۷۲۵) اگرکوئی شخص مغرب کی نماز پڑھنے سے پہلے بھول کرعشاکی نماز پڑھنے میں مشغول ہوجائے اورنماز کے دوران اسے پتا چلے کہ اس نے غلطی کی ہے اور ابھی وہ چوتھی رکعت کے رکوع تک نہ پہنچاہوتوضروری ہے کہ مغرب کی نماز کی طرف نیت پھیرلے اور نماز کوتمام کرے اور بعدمیں عشا کی نماز پڑھے اوراگرچوتھی رکعت کے رکوع میں جاچکاہوتواسے عشاکی نمازقراردے اورختم کرے اوربعدمیں مغرب کی نماز بجا لائے۔
مسئلہ(۷۲۶) عشاکی نمازکا آخری وقت مختارشخص کے لئے آدھی رات ہے(جیسا کہ گزر چکا ہے) اور رات کا حساب سورج غروب ہونے کی ابتداسے طلوع فجرتک ہے۔
مسئلہ(۷۲۷) اگرکوئی شخص اختیاری حالت میں مغرب اورعشاکی نمازآدھی رات تک نہ پڑھے تو(احتیاط واجب کی بناپر)ضروری ہے کہ اذان صبح سے پہلے قضااوراداکی نیت کئے بغیران نمازوں کوپڑھے۔

