توضیح المسائل اردو آیت الله سیستانی

نمازمیں بدن کاڈھانپنا

مسئلہ(۷۷۵) ضروری ہے کہ مردخواہ اسے کوئی بھی نہ دیکھ رہاہونماز کی حالت میں اپنی دونوں شرم گاہوں کو ڈھانپے اوربہتریہ ہے کہ ناف سے گھٹنوں تک بدن بھی ڈھانپے۔

مسئلہ(۷۷۶) ضروری ہے کہ عورت نماز کے وقت اپناتمام بدن حتیٰ کہ سراور بال بھی ڈھانپے اوراحتیاط واجب یہ ہےکہ اپنی نظروں سے بھی اپنے سر اور بال کو چھپائے لہٰذا اگر نماز کی چادر کو اس طرح سے پہنے کہ اپنے بدن کو دیکھ سکتی ہے تو( ایسی نماز میں ) اشکال ہے البتہ چہرے اورکلائیوں تک ہاتھ اورٹخنوں تک پاؤں کاڈھانپنا ضروری نہیں ہے لیکن یہ یقین کرنے کے لئے کہ اس نے بدن کی واجب مقدار ڈھانپ لی ہے ضروری ہے کہ چہرے کے اطراف کاکچھ حصہ اورکلائیوں سے نیچے کاکچھ حصہ بھی ڈھانپے۔

مسئلہ(۷۷۷) جب انسان بھولے ہوئے سجدے یابھولے ہوئے تشہدکی قضابجا لارہاہوتوضروری ہے کہ اپنے آپ کواس طرح ڈھانپے جس طرح نماز کے وقت ڈھانپا جاتاہے اوراحتیاط مستحب یہ ہے کہ سجدۂ سہو اداکرنے کے وقت بھی اپنے آپ کو ڈھانپے۔

مسئلہ(۷۷۸) اگرانسان جان بوجھ کر اپنی شرم گاہ نہ ڈھانپے تواس کی نماز باطل ہےاور اگر مسئلہ نہ جاننے کی بناپر ہو چنانچہ اس کی یہ جہالت مسئلہ سیکھنے میں کوتاہی کرنے کی بنا پرہو تو (احتیاط واجب کی بنا پر) نماز دوبارہ پڑھے۔

مسئلہ(۷۷۹) اگرکسی شخص کونماز کے دوران پتا چلے کہ اس کی شرم گاہ دکھائی دے رہی ہے تو ضروری ہے کہ اپنی شرم گاہ چھپائے اور اس پرلازم نہیں ہے کہ نمازدوبارہ پڑھے لیکن احتیاط واجب یہ ہے کہ جب اسے پتا چلے کہ اس کی شرم گاہ دکھائی دے رہی ہے تواس کے بعد نماز کا کوئی جز انجام نہ دے۔ لیکن اگراسے نماز کے بعدپتا چلے کہ نماز کے دوران اس کی شرم گاہ دکھائی دے رہی تھی تو اس کی نماز صحیح ہے۔

مسئلہ(۷۸۰) اگرکسی شخص کالباس کھڑے ہونے کی حالت میں اس کی شرم گاہ کو ڈھانپ لے لیکن ممکن ہوکہ دوسری حالت میں مثلاً رکوع اور سجود کی حالت میں نہ ڈھانپے تواگرشرم گاہ کےدکھائی دیتے وقت اسے کسی ذریعے سے ڈھانپ لے تواس کی نماز صحیح ہے لیکن احتیاط مستحب یہ ہے کہ اس لباس کے ساتھ نماز نہ پڑھے۔

مسئلہ(۷۸۱) انسان نماز میں اپنے آپ کوگھاس پھونس اوردرختوں کے پتوں سے ڈھانپ سکتاہے لیکن احتیاط مستحب یہ ہے کہ ان چیزوں سے اس وقت ڈھانپے جب اس کے پاس کوئی کپڑانہ ہو۔

مسئلہ(۷۸۲) انسان کے پاس مجبوری کی حالت میں شرم گاہ چھپانے کے لئے کوئی چیزنہ ہوتواپنی شرم گاہ کی کھال نمایاں نہ ہونے کے لئے گیلی مٹی یااس جیسی کسی دوسری چیزسے چھپائے۔

مسئلہ(۷۸۳) اگرکسی شخص کے پاس کوئی چیزایسی نہ ہوجس سے وہ نماز میں اپنے آپ کوڈھاپے اورابھی وہ ایسی چیزملنے سے مایوس بھی نہ ہوتواحتیاط واجب یہ ہے کہ نمازپڑھنے میں تاخیرکرے اور اگرکوئی چیزنہ ملے تو آخروقت میں اپنے وظیفے کے مطابق نماز پڑھے اور اگر مایوس ہوتو اول وقت اپنی ذمہ داری کے مطابق نماز پڑھ سکتا ہے اور اس صورت میں اگر نماز اول وقت میں پڑھ لے اور اس کے بعد اس کا عذر ختم ہوجائے تو دوبارہ نماز پڑھنا ضروری نہیں ہے۔

مسئلہ(۷۸۴) اگرکسی شخص کے پاس جونمازپڑھناچاہتاہواپنے آپ کوڈھاپنے کے لئے درخت کے پتے،گھاس،گیلی مٹی یادلدل نہ ہواورآخروقت تک کسی ایسی چیزکے ملنے سے مایوس ہوجس سے وہ اپنے آپ کوچھپاسکے اگراسے اس بات کااطمینان ہوکہ کوئی شخص جس سے شرم گاہ چھپانا واجب ہے اسے نہیں دیکھے گاتووہ کھڑےہوکراسی طرح نمازپڑھے جس طرح اختیاری حالت میں رکوع اورسجود کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں لیکن اگراسے اس بات کا احتمال ہوکہ کوئی شخص محترم (باشعور) ہے اسے دیکھ لے گاتوضروری ہے کہ اس طرح نماز پڑھے کہ اس کی شرم گاہ نظر نہ آئے مثلاً بیٹھ کرنماز پڑھے اور اگر چنانچہ اپنےآپ کو شخص محترم(باشعور) کی نظروں سے بچانے کےلئے کھڑے ہونے اور رکوع و سجود کو ترک کرنے پر مجبور ہو یعنی تینوں حالت میں اس کی (شرم گاہ) دکھائی دےگی تو بیٹھ کرنماز پڑھے اور رکوع وسجود کو اشارے سے بجالائے اور اگر تینوں حالتوں میں سے کسی ایک پر مجبوری ہوتو صرف اس کو چھوڑ دے پس اگر کھڑےہو کر نماز پڑھ سکتا ہے تو رکوع وسجود کو اشاروں سے انجام دے اور اگر کھڑا ہونا سبب بنے کہ اس کی شرم گاہ دکھائی دے تو بیٹھ جائے اور رکوع و سجود انجام دے اگر چہ اس صورت میں احتیاط مستحب یہ ہے کہ نماز اس طرح سے بیٹھ کر پڑھے اور ساتھ ہی ساتھ کھڑے ہو کر رکوع وسجود کو اشارے کے ساتھ بھی پڑھے اوراحتیاط لازم یہ ہے کہ برہنہ شخص نماز کی حالت میں اپنی شرم گاہ کواپنے بعض اعضاکے ذریعے مثلاً بیٹھاہوتودونوں رانوں سے اور کھڑا ہو تو دونوں ہاتھوں سے چھپالے۔