توضیح المسائل اردو آیت الله سیستانی

جن صورتوں میں نمازی کابدن اورلباس پاک ہوناضروری نہیں

مسئلہ(۸۳۴) تین صورتوں میں جن کی تفصیل نیچے بیان کی جارہی ہے اگر نماز پڑھنے والے کابدن یا لباس نجس بھی ہوتواس کی نماز صحیح ہے :

(اول:)اس کے بدن کے زخم، جراحت یاپھوڑے کی وجہ سے اس کے لباس یا بدن پرخون لگ جائے۔

(دوم:) اس کے بدن یالباس پردرہم(جس کی مقدارتقریباً انگوٹھے کے اوپر والی گرہ کے برابرہے )کی مقدار سے کم خون لگ جائے (احتیاط واجب کی بنا پر) درہم کی مقدار انگوٹھے کے پور کے برابر ہونا ضروری ہے۔

(سوم:) وہ نجس بدن یالباس کے ساتھ نماز پڑھنے پرمجبورہو۔

اس کےعلاوہ ایک اورصورت میں اگر نماز پڑھنے والے کا لباس نجس بھی ہوتواس کی نماز صحیح ہے اور وہ صورت یہ ہے کہ اس کاچھوٹالباس مثلاً موزہ اورٹوپی نجس ہو۔

ان چاروں صورتوں کے مفصل احکام آئندہ مسئلوں میں بیان کئے جائیں گے۔

مسئلہ(۸۳۵) اگر نماز پڑھنے والے کے بدن یالباس پرزخم یاجراحت یاپھوڑے کا خون ہوتووہ اس خون کے ساتھ اس وقت تک نماز پڑھ سکتاہے جب تک زخم یا جراحت یا پھوڑاٹھیک نہ ہوجائے اوراگراس کے بدن یالباس پرایسی پیپ ہوجوخون کے ساتھ نکلی ہو یا ایسی دوائی ہو جوزخم پرلگائی گئی ہواورنجس ہوگئی ہوتواس کے لئے بھی یہی حکم ہے۔

مسئلہ(۸۳۶) اگرنماز پڑھنے والے کے بدن یالباس پرایسی خراش یازخم کاخون لگا ہو جوجلدی ٹھیک ہوجاتاہواورجس کادھوناآسان ہواوردرہم کی مقدار میں ہو یااس سے زیادہ تواس کی نمازباطل ہے۔

مسئلہ(۸۳۷) اگربدن یالباس کی ایسی جگہ جوزخم سے فاصلے پرہوزخم کی رطوبت سے نجس ہوجائے تو اس کے ساتھ نماز پڑھناجائزنہیں ہے، لیکن اگرلباس یابدن کی وہ جگہ جوعموماً زخم کی رطوبت سے آلودہ ہوجاتی ہے اس زخم کی رطوبت سے نجس ہوجائے تواس کے ساتھ نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ۔

مسئلہ(۸۳۸) اگرکسی کے بدن یالباس کوبواسیر یا وہ زخم جو منہ اور ناک وغیرہ کے اندرہوں خون لگ جائے تووہ اس کے ساتھ نماز پڑھ سکتاہے اور اس بات میں کوئی فرق نہیں ہےکہ بواسیر کےمسے باہر ہوں یا اندر ہوں ۔

مسئلہ(۸۳۹) اگرکوئی ایساشخص جس کے بدن پرزخم ہواپنے بدن یالباس پرایسا خون دیکھے جودرہم سے زیادہ ہواوریہ نہ جانتاہوکہ یہ خون زخم کاہے یاکوئی اورخون ہے تو احتیاط واجب یہ ہے کہ اس خون کے ساتھ نماز نہ پڑھے۔

مسئلہ(۸۴۰) اگرکسی شخص کے بدن پرچندزخم ہوں اوروہ ایک دوسرے کے اس قدر نزدیک ہوں کہ ایک زخم شمارہوتے ہوں توجب تک وہ زخم ٹھیک نہ ہوجائیں ان کے خون کے ساتھ نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں لیکن اگروہ ایک دوسرے سے اتنے دور ہوں کہ ان میں سے ہرزخم ایک علیٰحدہ زخم شمارہوتوجوزخم ٹھیک ہوجائے ضروری ہے کہ نماز کے لئے بدن اورلباس کو دھوکراس زخم کے خون سے پاک کرے۔

مسئلہ(۸۴۱) اگرنمازپڑھنے والے کے بد ن یالباس پرسوئی کی نوک کے برابر بھی حیض کاخون لگاہوتو اس کی نمازباطل ہے اور( احتیاط واجب کی بناپر) نجس العین حیوانات مثلاً سور، مرداراورحرام گوشت جانور نیزنفاس اور استحاضہ کی بھی یہی صورت ہے لیکن کوئی دوسرا خون مثلاً انسان یاحلال گوشت حیوان کے خون کی چھینٹ بدن کے کئی حصوں پرلگی ہو لیکن اس کی مجموعی مقدار ایک درہم سے کم ہوتواس کے ساتھ نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

مسئلہ(۸۴۲) جوخون بغیر استرکے کپڑے پرگرے اوردوسری طرف پہنچ جائے وہ ایک خون شمار ہوتاہے اور جس طرف خون کی مقدار زیادہ ہواس کا حساب کیا جائے لیکن اگر کپڑے کی دوسری طرف الگ سے خون آلودہ ہوجائے تو ضروری ہے کہ ان میں سے ہرایک کوعلٰیحدہ خون شمارکیاجائے۔ پس اگر وہ خون جو کپڑے کے سامنے کے رخ اورپچھلی طرف ہے مجموعی طورپرایک درہم سے کم ہوتواس کے ساتھ نماز صحیح ہے اور اگر اس سے زیادہ ہوتواس کے ساتھ نماز باطل ہے۔

مسئلہ(۸۴۳) اگراستر والے کپڑے پرخون گرے اوراس کے استرتک پہنچ جائے یا استرپرگرے اور کپڑے تک پہنچ جائے یا ایک لباس سے دوسرے لباس تک پہونچ جائے توضروری ہے کہ ہرخون کوالگ شمارکیاجائے۔پس اگر سب ملا کرایک درھم سے کم خون ہو تو نماز صحیح ہے ورنہ باطل ہے لیکن اگرکپڑے کاخون اوراسترکا خون اس طرح مل جائے کہ لوگوں کے نزدیک ایک خون شمارہوتواگرکپڑے کے اس حصہ کا خون کہ جس کی مقدار زیادہ ہے درہم سے کم ہےتو اس کی نماز صحیح ہے اور اگر درھم کے برابر ہے یااس سے زیادہ ہے تو اس میں نماز باطل ہے۔

مسئلہ(۸۴۴) اگربدن یالباس پرایک درہم سے کم خون ہواورکوئی رطوبت اس خون سے مل جائے جو خون کی حد سے تجاوز کرجائے اور اس کے اطراف کوآلودہ کردے تواس کے ساتھ نمازباطل ہے خواہ خون اورجورطوبت اس سے ملی ہے ایک درہم کے برابر نہ ہوں لیکن اگررطوبت صرف خون سے ملے اوراس کے اطراف کوآلودہ نہ کرے تواس کے ساتھ نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

مسئلہ(۸۴۵) اگربدن یالباس پرخون نہ ہولیکن رطوبت لگنے کی وجہ سے خون سے نجس ہوجائیں تواگرچہ جومقدارنجس ہوئی ہے وہ ایک درہم سے کم ہوتواس کے ساتھ بھی نماز نہیں پڑھی جاسکتی۔

مسئلہ(۸۴۶) بدن یالباس پرجوخون ہواگروہ ایک درہم سے کم ہو اورکوئی دوسری نجاست اس سے مل جائے مثلاً پیشاب کاایک قطرہ اس پرگرجائے اوروہ پاک بدن یالباس کی جگہوں پر لگ جائے تواس کے ساتھ نماز پڑھناجائزنہیں بلکہ اگربدن اورلباس کی جگہوں تک نہ بھی پہنچے تب بھی( احتیاط لازم کی بناپر)اس میں نماز پڑھناصحیح نہیں ہے۔

مسئلہ(۸۴۷) اگرنمازپڑھنے والے کاچھوٹالباس مثلاًٹوپی اورموزہ جس سے شرم گاہ کونہ ڈھانپاجاسکتاہونجس ہو جائےچنانچہ نجس مردار یانجس العین حیوان مثلاً کتے (کے اجزا) سے نہ بناہوتواس کے ساتھ نمازصحیح ہے اوراگر نجس مردار یا نجس العین حیوان کے اجزا سے بنا ہوا ہوتو (احتیاط واجب کی بنا پر) اس میں نماز پڑھنا باطل ہے اگر نجس انگوٹھی کے ساتھ نماز پڑھی جائے توکوئی حرج نہیں ۔

مسئلہ(۸۴۸) نجس چیزمثلاً نجس رومال،چابی اورچاقوکانمازپڑھنے والے کے پاس ہوناجائزہے نجس لباس (جوپہناہوانہ ہو) اس کے پاس ہو تب بھی نماز کوکوئی ضررنہ پہنچے گا ۔

مسئلہ(۸۴۹) اگرکوئی شخص جانتاہوکہ جوخون اس کے لباس یابدن پرہے وہ ایک درہم سے کم ہے لیکن اس امر کااحتمال ہوکہ یہ اس خون میں سے ہے جومعاف نہیں ہے تو اس کے لئے جائزہے کہ اس خون کے ساتھ نمازپڑھے ۔

مسئلہ(۸۵۰) اگروہ خون جوایک شخص کے لباس یابدن پرہوایک درہم سے کم ہو اور اسے یہ علم نہ ہوکہ یہ اس خون میں سے ہے جومعاف نہیں ہے، اورنماز پڑھ لے اور پھر اسے پتا چلے کہ یہ اس خون میں سے تھاجومعاف نہیں ہے، تواس کے لئے دوبارہ نماز پڑھناضروری نہیں اوراس وقت بھی یہی حکم ہے جب وہ یہ سمجھتاہوکہ خون ایک درہم سے کم ہے اورنماز پڑھ لے اور بعدمیں پتا چلے کہ اس کی مقدار ایک درہم یا اس سے زیادہ تھی، اس صورت میں بھی دوبارہ نماز پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔