توضیح المسائل اردو آیت الله سیستانی

نماز پڑھنے کی جگہ

نماز پڑھنے والے کی جگہ کی سات شرطیں ہیں :

پہلی شرط یہ ہے کہ: وہ مباح ہو بنا بر احتیاط واجب۔

مسئلہ(۸۵۳) جوشخص غصبی جگہ پراگرچہ وہ قالین،تخت اوراسی طرح کی دوسری چیزیں ہوں ،نماز پڑھ رہاہوتو(احتیاط لازم کی بناپر) اس کی نماز باطل ہے، لیکن غصبی چھت کے نیچے اورغصبی خیمے میں نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

مسئلہ(۸۵۴) ایسی ملکیت میں نماز پڑھناجس کی منفعت کسی اورکی ہےتومنفعت کے مالک کی اجازت کے بغیر وہاں نماز پڑھناغصبی جگہ پرنماز پڑھنے کے حکم میں ہے مثلاً کرائے کے مکان میں مالک مکان یا کوئی دوسرا شخص مستاجر کی اجازت کے بغیر نماز پڑھتا ہے تو(احتیاط واجب کی بناپر)اس کی نماز باطل ہے۔

مسئلہ(۸۵۵) اگرکوئی شخص مسجد میں بیٹھاہواوردوسراشخص اس کی جگہ پرقبضہ کرلے اوراس کی اجازت کے بغیر اس جگہ نمازپڑھے تواس کی نمازصحیح ہے اگرچہ اس نے گناہ کیاہے۔

مسئلہ(۸۵۶) اگرکوئی شخص کسی ایسی جگہ نمازپڑھے جس کے غصبی ہونے کا اسے علم نہ ہواورنماز کے بعداسے پتا چلے یاایسی جگہ نماز پڑھے جس کے غصبی ہونے کووہ بھول گیا ہواورنماز کے بعداسے یاد آئے تواس کی نماز صحیح ہے۔ لیکن کوئی ایساشخص جس نے خود وہ جگہ غصب کی ہواور وہ بھول جائے اور وہاں نماز پڑھے تواس کی نماز احتیاط کی بناپر باطل ہے۔

مسئلہ(۸۵۷) اگرکوئی شخص جانتاہوکہ یہ جگہ غصبی ہے اوراس میں تصرف حرام ہے لیکن اسے یہ علم نہ ہوکہ غصبی جگہ پرنماز پڑھنے میں اشکال ہے اور وہاں نماز پڑھے تو( احتیاط کی بناپر)اس کی نماز باطل ہے۔

مسئلہ(۸۵۸) اگرکوئی شخص واجب نماز سواری کی حالت میں پڑھنے پرمجبورہوچنانچہ سواری کاجانوریااس کی زین یانعل غصبی ہوتواس کی نماز(احتیاط واجب کی بنا پر) باطل ہے اوراگروہ شخص اس جانور پرسواری کی حالت میں مستحب نماز پڑھناچاہے تواس کابھی یہی حکم ہے۔

مسئلہ(۸۵۹) اگرکوئی شخص کسی جائدادمیں دوسرے کے ساتھ شریک ہواور اس کا حصہ جدانہ ہوتواپنے شراکت دارکی اجازت کے بغیر وہ اس جائداد پرتصرف نہیں کر سکتا اور (احتیاط واجب کی بنا پر) اس پر نماز پڑھنا باطل ہے۔

مسئلہ(۸۶۰) اگرکوئی شخص ایک ایسی رقم سے کوئی جائداد خریدے جس کا خمس اس نے ادانہ کیاہولیکن معاملہ کلی طور سے ذمہ میں تھا(سودے میں رائج طریقۂ کار کےمطابق قیمت اپنے ذمہ لے لی ہو) جیسا کہ عام طور سےمعاملات میں ہوتا ہے اور اس کا استعمال حلال ہے اور خمس کی اس رقم کا مقروض ہوجائےگا جو اس نے ادا کیا ہے لیکن اگر اسی رقم سے جائدادخریدے جس کا خمس نہیں دیا ہے تو اس کے لئے حاکم شرعی کی اجازت کے بغیر استعمال حرام اور احتیاط واجب کی بناپر اس میں نماز پڑھنا باطل ہے۔

مسئلہ(۸۶۱) اگرکسی جگہ کامالک زبان سے نماز پڑھنے کی اجازت دے دے اور انسان کوعلم ہوکہ وہ دل سے راضی نہیں ہے تواس کی جگہ پرنمازپڑھناجائز نہیں اوراگر اجازت نہ دے لیکن انسان کویقین ہوکہ وہ دل سے راضی ہے تونماز پڑھناجائزہے۔

مسئلہ(۸۶۲) جس متوفی نے زکوٰۃ نہ دیا ہو یا لوگوں کامقروض ہو چنانچہ اس کی جائداد میں تصرف کرنا اگر واجبات کی ادائگی کے منافی نہ ہو(مثلاً اس کے گھر میں ورثاء کی اجازت سے نماز پڑھی جائے) تواشکال نہیں ہے۔ اسی طرح اگرکوئی شخص وہ رقم جومتوفی کے ذمے ہواداکردے یایہ ضمانت دے کہ ادا کردے گایا اس کے قرض کی مقدار کے برابر (جائداد) باقی رکھیں تواس کی جائداد میں تصرف کرنے میں بھی کوئی اشکال نہیں ہے اگر چہ وہ ضائع ہونے کا سبب ہی کیوں نہ ہو۔

مسئلہ(0863) اگر میت کے بعض ورثاء کمسن یا مجنون یاغیرحاضرہوں تو ان کی ملکیت میں ان کے ولی کی اجازت کے بغیر ان کی جائدادمیں تصرف حرام ہے اور اس میں نماز جائزنہیں لیکن معمولی استعمال جو میت کی تجہیز و تکفین کا مقدمہ ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

مسئلہ(۸۶۴) کسی کی جائداد میں نماز پڑھنااس صورت میں جائز ہےجب کہ اس کا مالک صریحاً اجازت دے یاکوئی ایسی بات کہے جس سے معلوم ہوکہ اس نے نماز پڑھنے کی اجازت دے دی ہے( مثلاً اگرکسی شخص کو اجازت دے کہ اس کی جائداد میں بیٹھے یا سوئے تواس سے سمجھاجاسکتاہے کہ اس نے نماز پڑھنے کی اجازت بھی دے دی ہے) یا مالک کے راضی ہونے پردوسری وجوہات کی بناپراطمینان رکھتاہو۔

مسئلہ(۸۶۵) وسیع وعریض زمین میں نماز پڑھناجائزہے اگرچہ اس کامالک کمسن یامجنون ہویاوہاں نماز پڑھنے پرراضی نہ ہو۔اسی طرح وہ سارے باغ اور زمینیں کہ جن کے دروازے اور دیوارنہ ہوں ان میں ان کے مالک کی اجازت کے بغیر نمازپڑھ سکتے ہیں ۔ لیکن اس صورت میں کہ اگر وہ جانتا ہے کہ اس کا مالک راضی نہیں ہے تو اس کا استعمال نہیں کرنا چاہئےاگر مالک کمسن یامجنون ہویااس کے راضی نہ ہونے کاگمان ہوتواحتیاط لازم یہ ہے کہ اس میں تصرف نہ کیا جائے اور نہ وہاں نماز پڑھی جائے۔

مسئلہ(۸۶۶) (دوسری شرط:) ضروری ہے کہ نمازی کی جگہ واجب نمازوں میں ایسی نہ ہوکہ تیزحرکت نمازی کے کھڑے ہونے یارکوع اورسجود کرنے میں اختیاری طور سے مانع ہوبلکہ (احتیاط لازم کی بناپر)ضروری ہے کہ اس کے بدن کوساکن رکھنے میں بھی مانع نہ ہواور اگر وقت کی تنگی یاکسی اوروجہ سے ایسی جگہ مثلاً بس، ٹرک،کشتی یاریل گاڑی میں نماز پڑھنے پر مجبور ہو تو جس قدرممکن ہوبدن کے ٹھہراؤ اورقبلے کی سمت کاخیال رکھے اوراگر سواری قبلے سے کسی دوسری طرف مڑجائے تواپنامنہ قبلے کی جانب موڑدے اور اگر قبلہ کی رعایت پورے طور سے ممکن نہ ہو تو کوشش کرے کہ اس کا (قبلہ)سےانحراف (۹۰) درجہ سے کم ہو اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو صرف تکبیرۃ الاحرام کہتے وقت قبلہ کی رعایت کرے اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہوتوقبلہ کی رعایت ضروری نہیں ہے۔

مسئلہ(۸۶۷) جب گاڑی،کشتی یاریل گاڑی وغیرہ کھڑی ہوئی ہوں توان میں نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں اوراسی طرح جب چل رہی ہوں تواس حدتک نہ ہل جل رہی ہوں کہ نمازی کے بدن کے ٹھہراؤ میں حائل ہوں ۔

مسئلہ(۸۶۸) گندم،جواوران جیسی دوسری اجناس کے ڈھیرپرجوہلے بغیر نہیں رہ سکتے نمازباطل ہے۔

(تیسری شرط:) ضروری ہے کہ انسان ایسی جگہ نماز پڑھے جہاں نماز پوری پڑھ لینے کااحتمال ہو۔ ایسی جگہ جس کے متعلق اسے یقین ہوکہ مثلاًہوا اوربارش یابھیڑبھاڑ وغیرہ کی وجہ سے وہاں پوری نمازنہ پڑھ سکے گا تو وہاں رجاء نماز پڑھے اگرچہ اتفاق سے پوری پڑھ لے تو حرج نہیں ہے۔

مسئلہ(۸۶۹) اگرکوئی شخص ایسی جگہ نمازپڑھے جہاں ٹھہرناحرام ہومثلاً کسی ایسی مخدوش چھت کے نیچے جوعنقریب گرنے والی ہوتو(اگرچہ وہ گناہ کامرتکب ہوا ہے) لیکن اس کی نماز صحیح ہے۔

مسئلہ(۸۷۰) کسی ایسی چیزپرنمازپڑھناصحیح نہیں ہے جس پرکھڑاہونایابیٹھنا حرام ہومثلاًقالین کے ایسے حصے پرجہاں اللہ تعالیٰ کانام لکھاہو۔چنانچہ وہ (یہ اسم خدا) قصد قربت میں منافی ہو تو نماز پڑھنا صحیح نہیں ہے۔

(چوتھی شرط:) جس جگہ انسان نماز پڑھے اس کی چھت اتنی نیچی نہ ہوکہ سیدھا کھڑانہ ہوسکے اورنہ ہی وہ جگہ اتنی مختصر ہوکہ رکوع اورسجدے کی گنجائش نہ ہو۔

مسئلہ(۸۷۱) اگرکوئی شخص ایسی جگہ نماز پڑھنے پرمجبورہوجہاں بالکل سیدھاکھڑا ہونا ممکن نہ ہوتواس کے لئے ضروری ہے کہ بیٹھ کرنمازپڑھے اور اگررکوع اورسجود ادا کرنے کابھی امکان نہ ہوتوان کے لئے سر سے اشارہ کرے۔

مسئلہ(۸۷۲) ضروری ہے کہ پیغمبراکرم ﷺ اور ائمہ اہل بیت علیھم السلام کی قبر کے آگے اگران کی بے حرمتی ہوتی ہوتونماز نہ پڑھے۔ اس کے علاوہ کسی اور صورت میں اشکال نہیں ۔لیکن دونوں صورتوں میں نماز صحیح ہے۔

(پانچویں شرط:) اگرنماز پڑھنے کی جگہ نجس ہوتواتنی مرطوب نہ ہوکہ اس کی رطوبت نماز پڑھنے والے کے بدن یالباس تک پہنچے اس صورت میں ہے کہ یہ نجاست ان نجاست میں سے ہو جو نماز کو باطل کردیتی ہے لیکن اگرسجدہ میں پیشانی رکھنے کی جگہ نجس ہوتوخواہ وہ خشک بھی ہونمازباطل ہے اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ نمازپڑھنے کی جگہ ہرگزنجس نہ ہو۔

(چھٹی شرط:)( احتیاط لازم کی بناپر)ضروری ہے کہ عورت مردسے پیچھے کھڑی ہو اور کم ازکم اس کے سجدہ کرنے کی جگہ سجدہ کی حالت میں مردکے دوزانوؤں کے برابر فاصلے پرہو۔

مسئلہ(۸۷۳) اگرکوئی عورت مرد کے برابریاآگے کھڑی ہواوردونوں بیک وقت نماز پڑھنے لگیں تو(احتیاط واجب کی بنا پر)ضروری ہے کہ نمازکودوبارہ پڑھیں اوریہی حکم ہے اگرایک، دوسرے سے پہلے نماز کے لئے کھڑاہو۔

مسئلہ(۸۷۴) اگرمرداورعورت ایک دوسرے کے برابرکھڑے ہوں یاعورت آگے کھڑی ہواوردونوں نماز پڑھ رہے ہوں لیکن دونوں کے درمیان دیوار یاپردہ یاکوئی اور ایسی چیزحائل ہوکہ ایک دوسرے کونہ دیکھ سکیں یاان کے درمیان دس ہاتھ سے زیادہ فاصلہ ہو(تقریباً ساڑھے چار میٹر)تودونوں کی نمازصحیح ہے۔

(ساتویں شرط:)نماز پڑھنے والے کی پیشانی رکھنے کی جگہ، دوزانواورپاؤں کی انگلیاں رکھنے کی جگہ سے چارملی ہوئی انگلیوں کی مقدارسے زیادہ اونچی یانیچی نہ ہو۔ اس مسئلے کی تفصیل سجدے کے احکام میں آئے گی۔

مسئلہ(۸۷۵) نامحرم مرداور عورت کاایک ایسی جگہ ہوناجہاں گناہ میں مبتلا ہونے کا احتمال ہوحرام ہے اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ ایسی جگہ نمازبھی نہ پڑھیں ۔

مسئلہ(۸۷۶) جس جگہ پر غناءہو یا حرام موسیقی بجائی جارہی ہو وہاں نمازپڑھناباطل نہیں ہے اگر چہ ان کاسننااوراستعمال کرناگناہ ہے۔

مسئلہ(۸۷۷) احتیاط واجب یہ ہے کہ اختیارکی حالت میں خانۂ کعبہ کے اندراور اس کی چھت کے اوپرواجب نماز نہ پڑھی جائے۔ لیکن مجبوری کی حالت میں کوئی اشکال نہیں ہے۔

مسئلہ(۸۷۸) خانۂ کعبہ کے اندراوراس کی چھت کے اوپرمستحب نمازیں پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے بلکہ مستحب ہے کہ خانۂ کعبہ کے اندرہررکن کے مقابل دورکعت نماز پڑھی جائے۔

وہ مقامات جہاں نمازپڑھنامستحب ہے

مسئلہ(۸۷۹) اسلام کی مقدس شریعت میں بہت تاکیدکی گئی ہے کہ نمازمسجد میں پڑھی جائے۔ دنیا بھرکی ساری مسجدوں میں سب سے بہترمسجدالحرام اوراس کے بعد مسجد نبویؐ ہے اوراس کے بعدمسجدکوفہ اور اس کے بعدمسجدبیت المقدس کادرجہ ہے۔ اس کے بعدشہرکی جامع مسجداوراس کے بعدمحلے کی مسجداور اس کے بعدبازارکی مسجد کانمبر آتا ہے۔

مسئلہ(۸۸۰) عورتوں کے لئے بہترہے کہ نمازایسی جگہ پڑھیں جونامحرم سے محفوظ ہونے کے لحاظ سے دوسری جگہوں سے بہترہوخواہ وہ جگہ مکان یامسجد یا کوئی اور جگہ ہو۔

مسئلہ(۸۸۱) ائمہ اہل بیت علیہم السلام کے حرموں میں نماز پڑھنامستحب ہے بلکہ مسجد میں نماز پڑھنے سے بہترہے اورروایت ہے کہ حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کے حرم پاک میں نماز پڑھنادولاکھ نمازوں کے برابرہے۔

مسئلہ(۸۸۲) مسجد میں زیادہ جانااوراس مسجد میں جاناجوآبادنہ ہو(یعنی جہاں لوگ بہت کم نمازپڑھنے آتے ہوں ) مستحب ہے اوراگرکوئی شخص مسجد کے پڑوس میں رہتا ہواورکوئی عذربھی نہ ہوتواس کے لئے مسجدکے علاوہ کسی اور جگہ نماز پڑھنامکروہ ہے۔

مسئلہ(۸۸۳) جوشخص مسجدمیں نہ آتاہو،مستحب ہے کہ انسان اس کے ساتھ مل کر کھانا نہ کھائے، اپنے کاموں میں اس سے مشورہ نہ کرے، اس کے پڑوس میں نہ رہے اورنہ اس سے عورت کارشتہ لے اور نہ اسے عورت کا رشتہ دے۔

وہ مقامات جہاں نماز پڑھنامکروہ ہے

مسئلہ(۸۸۴) چندمقامات پرنمازپڑھنامکروہ ہے جن میں سے کچھ یہ ہیں :

۱
) حمام۔

۲
) شورزمین۔

۳
) کسی انسان کے مقابل۔

۴
) اس دروازے کے مقابل جوکھلاہو۔

۵
) سڑک، گلی اورکوچے میں بشرطیکہ گزرنے والوں کے لئے باعث زحمت نہ ہو اور اگرانہیں زحمت ہوتوان کے راستے میں رکاوٹ ڈالناحرام ہے۔

۶
) آگ اورچراغ کے مقابل۔

۷
) باورچی خانے میں اورہراس جگہ جہاں آگ کی بھٹی ہو۔

۸
) کنویں کے اورایسے گڑھے کے مقابل جس میں پیشاب کیاجاتا ہو۔

۹
) جان دارکے فوٹویامجسّمے کے سامنے مگریہ کہ اسے ڈھانپ دیاجائے۔

۱۰
) ایسے کمرے میں جس میں جنب شخص موجودہو۔

۱۱
) جس جگہ فوٹوہوخواہ وہ نمازپڑھنے والے کے سامنے نہ ہو۔

۱۲
) قبرکے مقابل۔

۱۳
) قبرکے اوپر۔

۱۴
) دوقبروں کے درمیان۔

۱۵
) قبرستان میں ۔

مسئلہ(۸۸۵) اگرکوئی شخص لوگوں کی رہ گذرپرنمازپڑھ رہاہویاکوئی اورشخص اس کے سامنے کھڑاہوتونمازی کے لئے مستحب ہے کہ اپنے سامنے کوئی چیزرکھ لے اور اگر وہ چیزلکڑی یارسی ہوتوبھی کافی ہے۔