توضیح المسائل اردو آیت الله سیستانی

اذان اوراقامت

مسئلہ(۹۰۲) ہرمرداورعورت کے لئے مستحب ہے کہ شب وروز کی(روزانہ) کی واجب نمازوں سے پہلے اذان اور اقامت کہے اورایساکرنادوسری واجب یامستحب نمازوں کے لئےجائز نہیں لیکن عیدفطراورعیدقربان سے پہلے جب کہ نمازباجماعت پڑھیں تومستحب ہے کہ تین مرتبہ ’’الصلوٰۃ‘‘ کہیں ۔

مسئلہ(۹۰۳) مستحب ہے کہ بچے کی پیدائش کے پہلے دن یاناف اکھڑنے سے پہلے اس کے دائیں کان میں اذان اوربائیں کان میں اقامت کہی جائے۔

مسئلہ(۹۰۴) اذان اٹھارہ جملوں پرمشتمل ہے:

اَللہُ اَکْبَرُ اَللہُ اَکْبَرُ اَللہُ اَکْبَرُ اَللہُ اَکْبَرُ

اَشْھَدُ اَنْ لَّااِلٰہَ اِلَّا اللہُ اَشْھَدُ اَنْ لَّااِلٰہَ اِلَّا اللہُ

اَشْھَدُاَنَّ مُحَمَّدًارَّسُوْلُ اللہِ اَشْھَدُاَنَّ مُحَمَّدًارَّسُوْلُ اللہِ

حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ

حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ حَیَّ عَلَی الْفَلاَحِ

حَیَّ عَلیٰ خَیْرِ الْعَمَلِ حَیَّ عَلیٰ خَیْرِ الْعَمَلِ

اَللہُ اَکْبَرُ اَللہُ اَکْبَرُ

لَااِلٰہَ اِلَّااللہُ لَااِلٰہَ اِلَّااللہُ

اقامت کے سترہ جملے ہیں : یعنی اذان کی ابتداسے دومرتبہ اَللہُ اَکْبَرُ اور آخر سے ایک مرتبہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ کم ہوجاتاہے اورحَیَّ عَلیٰ خَیْرِالْعَمَلِ کہنے کے بعد دودفعہ قَدْقَامتِ الصَّلَاۃُ کااضافہ کردیناضروری ہے۔

مسئلہ(۹۰۵) اَشْھَدُاَنَّ عَلِیًّاوَلِیُّ اللہِ اذان اوراقامت کاجزنہیں ہے، لیکن اگر اَشْھَدُاَنَّ مُحَمَّدًارَّسُوْلُ اللہِ کے بعدقربت کی نیت سے کہاجائے تواچھاہے۔

اذان اوراقامت کاترجمہ

اَللہُ اَکْبَرُیعنی خدائے تعالیٰ اس سے بزرگ ترہے کہ اس کی تعریف کی جائے اَشْھَدُاَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ یعنی میں گواہی دیتاہوں کہ یکتااوربے مثل اللہ کے علاوہ کوئی اور پرستش کے قابل نہیں ہے۔

اَشْھَدُاَنَّ مُحَمَّدًارَّسُوْلُ اللہِ یعنی میں گواہی دیتاہوں کہ حضرت محمدابن عبداللہ صلی الله علیه و آله اللہ کے پیغمبراوراسی کی طرف سے بھیجے ہوئے ہیں ۔

اَشْھَدُاَنَّ عَلِیًّااَمِیْرَالْمُؤْمِنِیْنَ وَلِیُّ اللہِیعنی میں گواہی دیتاہوں کہ حضرت علی علیہ السلام مومنوں کے امیراورتمام مخلوق پراللہ کے ولی ہیں ۔

حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ یعنی نمازکی طرف جلدی کرو۔

حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ یعنی رستگاری وکامیابی کے لئے جلدی کرو۔

حَیَّ عَلیٰ خَیْرِالْعَمَلِ یعنی بہترین کام کے لئے جو نماز ہے جلدی کرو۔

قَدْقَامَتِ الصَّلَاۃُ یعنی بالتحقیق نمازقائم ہوگئی۔

لَااِلٰہَ اِلَّا اللہُ یعنی یکتااوربے مثل اللہ کے علاوہ کوئی اورپرستش کے قابل نہیں ۔

مسئلہ(۹۰۶) ضروری ہے کہ اذان اوراقامت کے جملوں کے درمیان زیادہ فاصلہ نہ ہواوراگران کے درمیان معمول سے زیادہ فاصلہ رکھاجائے توضروری ہے کہ اذان اوراقامت دوبارہ شروع سے کہی جائیں ۔

مسئلہ(۹۰۷) اگراذان یااقامت میں آواز کوگلے میں اس طرح پھیرے کہ غنا ہو جائے (یعنی اذان اور اقامت اس طرح کہے جیسالہوولعب اورکھیل کودکی محفلوں میں آواز نکالنے کادستورہے) تووہ حرام ہے اوراگرغنانہ ہوتومکروہ ہے۔

مسئلہ(۹۰۸) تمام صورتوں میں جب کہ نمازی دونمازوں کوایک مشترک وقت میں پے در پےاداکرے اگر اس نے پہلی نماز کے لئے اذان کہی ہوتوبعدوالی نماز کے لئے اذان ساقط ہے۔ خواہ دو نمازوں کاجمع کرنابہترہویانہ ہومثلاً عرفہ کے دن جونویں ذی الحجہ کادن ہے ظہراورعصر کی نمازوں کاجمع کرنااورعیدقربان کی رات میں مغرب اور عشاکی نمازوں کاجمع کرنا اس شخص کے لئے جومشعرالحرام میں ہو۔ان صورتوں میں اذان کاساقط ہونااس سے مشروط ہے کہ دونمازوں کے درمیان بالکل فاصلہ نہ ہویابہت کم فاصلہ ہولیکن نافلہ اورتعقیبات پڑھنے سے کوئی فرق نہیں پڑتااوراحتیاط واجب یہ ہے کہ ان صورتوں میں اذان جائز ہونے کی نیت سے نہ کہی جائے بلکہ آخری دوصورتوں روز عرفہ اور مشعرالحرام میں اذان کہنا مذکورہ شرائط کے ساتھ مناسب نہیں ہے اگرچہ جائز ہونے کی نیت سے نہ ہو تو خلاف احتیاط ہے۔

مسئلہ(۹۰۹) اگرنماز جماعت کے لئے اذان اوراقامت کہی جاچکی ہوتوجو شخص اس جماعت کے ساتھ نماز پڑھ رہاہواس کے لئے ضروری نہیں کہ اپنی نماز کے لئے اذان اور اقامت کہے۔

مسئلہ(۹۱۰) اگرکوئی شخص نماز کے لئے مسجد میں جائے اوردیکھے کہ نماز جماعت ختم ہوچکی ہے توجب تک صفیں ٹوٹ نہ جائیں اورلوگ منتشرنہ ہوجائیں وہ اپنی نماز کے لئے اذان اوراقامت نہ کہے یعنی ان دونوں کاکہنامستحب تاکیدی نہیں بلکہ اگراذان دینا چاہتاہوتوبہتریہ ہے کہ بہت آہستہ کہے اور اگر دوسری نماز جماعت قائم کرناچاہتا ہو تو ہرگز اذان اوراقامت نہ کہے۔

مسئلہ(۹۱۱) گزشتہ مسئلہ کے مذکورہ مقامات کے علاوہ چھ شرطوں کے ساتھ اذان اوراقامت اس پرسے ساقط ہوجاتی ہے :

۱:
) نمازجماعت مسجدمیں ہو اوراگرمسجد میں نہ ہوتواذان اوراقامت ساقط نہیں ہے۔

۲:
)اس نماز کے لئے اذان اوراقامت کہی جاچکی ہو۔

۳:
)نمازجماعت باطل نہ ہو۔

۴:
)اس شخص کی نمازاورنماز جماعت ایک ہی جگہ پرہو۔لہٰذااگرنماز جماعت مسجد کے اندر پڑھی جائے اوروہ شخص مسجد کی چھت پرنماز پڑھناچاہے تومستحب ہے کہ اذان اور اقامت کہے۔

۵:
)نمازجماعت اداہو۔ لیکن اس بات کی شرط نہیں کہ خوداس کی فرادیٰ نماز بھی اداہو۔

۶:
)اس شخص کی نمازاورنماز جماعت کاوقت مشترک ہومثلاً دونوں نمازظہر یادونوں نماز عصرپڑھیں یانمازظہر جماعت سے پڑھی جارہی ہے اوروہ شخص نماز عصر پڑھے یا وہ شخص ظہر کی نماز پڑھے اورجماعت کی نماز،عصرکی نمازہواوراگرجماعت کی نمازعصرہو اور آخری وقت میں وہ چاہے کہ مغرب کی نمازادا کے طور پرپڑھے تواذان اوراقامت اس پر سے ساقط نہیں ہوگی۔

مسئلہ(۹۱۲) جوشرطیں سابقہ مسئلہ میں بیان کی گئی ہیں اگرکوئی شخص ان میں سے تیسری شرط کے بارے میں شک کرے یعنی اسے شک ہوکہ جماعت کی نمازصحیح تھی یانہیں تو اس پرسے اذان اوراقامت ساقط ہے۔ اگروہ دوسری پانچ شرائط میں سے کسی ایک کے بارے میں شک کرے توبہترہے کہ اذان اور اقامت کہے لیکن اگر جماعت میں ہوتو رجاء مطلوبیت کی نیت سے کہے۔

مسئلہ(۹۱۳) اگرکوئی شخص کسی دوسرے کی اذان جواعلان یاجماعت کی نماز کے لئے کہی جائے،سنے تومستحب ہے کہ اس کاجوحصہ سنے خودبھی اسے آہستہ آہستہ دہرائے۔

مسئلہ(۹۱۴) اگرکسی شخص نے کسی دوسرے کی اذان اوراقامت سنی ہو خواہ اس نے ان جملوں کودہرایاہویانہ دہرایاہوتواگراس اذان اوراقامت اوراس نمازکے درمیان جووہ پڑھناچاہتاہوزیادہ فاصلہ نہ ہواہو اذان سننے کی ابتداء سے نماز پڑھنے کی نیت رکھتاہو تووہ اپنی نماز کے لئے اسی اذان اوراقامت پر اکتفا کرسکتا ہے لیکن یہی حکم اس جماعت میں ہو جس میں صرف امام نے اذان سنی ہو یا صرف مامومین نے اذان سنی ہو تو اس صورت میں اشکال ہے۔

مسئلہ(۹۱۵) اگرکوئی مردعورت کی اذان کولذت کے قصد سے سنے تواس کی اذان ساقط نہیں ہوگی بلکہ اگرمردکاارادہ لذت حاصل کرنے کانہ ہوتب بھی اس کی اذان ساقط ہونے میں مطلقاً اشکال ہے۔

مسئلہ(۹۱۶) ضروری ہے کہ نمازجماعت کی اذان اوراقامت مردکہے لیکن عورتوں کی نماز جماعت میں اگرعورت اذان اوراقامت کہہ دے توکافی ہے لیکن اس نماز جماعت میں جس میں عورت اذان و اقامت کہے اور سارے مرد اس کے محرم ہوں توایسی اذان کے کفایت کرنےمیں اشکال ہے۔

مسئلہ(۹۱۷) ضروری ہے کہ اقامت،اذان کے بعدکہی جائے اس کےعلاوہ اقامت میں معتبرہے کہ کھڑے ہوکراورحدث سے پاک ہوکر(وضویاغسل یاتیمم کرکے) کہی جائے۔

مسئلہ(۹۱۸) اگرکوئی شخص اذان اوراقامت کے جملے بغیر ترتیب کے کہے مثلاً’’ حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ ‘‘کاجملہ’’ حَیَّ عَلَی الصَّلَاۃِ‘‘ سے پہلے کہے تو ضروری ہے کہ جہاں سے ترتیب بگڑی ہو وہاں سے دوبارہ کہے۔

مسئلہ(۹۱۹) ضروری ہے کہ اذان اوراقامت کے درمیان فاصلہ نہ ہواوراگران کے درمیان اتنافاصلہ ہوجائے کہ جواذان کہی جاچکی ہے اسے اس اقامت کی اذان شمار نہ کیاجاسکےتو اذان باطل ہے۔اس کے علاوہ اگراذان اوراقامت کے اورنماز کے درمیان اتنافاصلہ ہوجائے کہ اذان اوراقامت اس نماز کی اذان اور اقامت شمارنہ ہوتواذان اور اقامت دونوں باطل ہوجائیں گے۔

مسئلہ(۹۲۰) ضروری ہے کہ اذان اوراقامت صحیح عربی میں کہی جائیں ۔ لہٰذا اگر کوئی شخص انہیں غلط عربی میں کہے یاایک حرف کی جگہ کوئی دوسراحرف کہے یامثلاً ان کا ترجمہ کسی زبان میں کہے توصحیح نہیں ہے۔

مسئلہ(۹۲۱) ضروری ہے کہ اذان اوراقامت، نماز کاوقت داخل ہونے کے بعد کہی جائیں اوراگرکوئی شخص عمداً یابھول کروقت سے پہلے کہے توباطل ہے مگرایسی صورت میں جب کہ وسط نماز میں وقت داخل ہوتواس نمازپرصحیح کاحکم لگے گاکہ جس کا مسئلہ ( ۷۳۱) میں ذکرہوچکاہے۔

مسئلہ(۹۲۲) اگرکوئی شخص اقامت کہنے سے پہلے شک کرے کہ اذان کہی ہے یا نہیں توضروری ہے کہ اذان کہے اوراگراقامت کہنے میں مشغول ہوجائے اورشک کرے کہ اذان کہی ہے یانہیں تواذان کہناضروری نہیں ۔

مسئلہ(۹۲۳) اگراذان اوراقامت کہنے کے دوران کوئی جملہ کہنے سے پہلے ایک شخص شک کرے کہ اس نے اس سے پہلے والاجملہ کہاہے یانہیں توضروری ہے کہ جس جملے کی ادائیگی کے بارے میں اسے شک ہواہواسے ادا کرے لیکن اگراسے اذان یا اقامت کاکوئی جملہ اداکرتے ہوئے شک ہوکہ اس نے اس سے پہلے والا جملہ کہا ہے یا نہیں تواس جملے کاکہناضروری نہیں ۔

مسئلہ(۹۲۴) مستحب ہے کہ اذان کہتے وقت انسان قبلے کی طرف منہ کرکے کھڑا ہو اور وضو یاغسل کی حالت میں ہواورہاتھوں کوکانوں پررکھے اورآواز کوبلندکرے اور کھینچے اوراذان کے جملوں کے درمیان قدرے فاصلہ دے اور جملوں کے درمیان باتیں نہ کرے۔

مسئلہ(۹۲۵) مستحب ہے کہ اقامت کہتے وقت انسان کابدن ساکن ہواوراذان کے مقابلے میں اقامت آہستہ کہے اوراس کے جملوں کوایک دوسرے سے ملانہ دے لیکن اقامت کے جملوں کے درمیان اتنافاصلہ نہ دے جتنااذان کے جملوں کے درمیان دیتاہے۔

مسئلہ(۹۲۶) مستحب ہے کہ اذان اوراقامت کے درمیان ایک قدم آگے بڑھے یا تھوڑی دیرکے لئے بیٹھ جائے یاسجدہ کرے یااللہ کاذکرکرے یادعاپڑھے یاتھوڑی دیر کے لئے ساکت ہوجائے یاکوئی بات کرے یادورکعت نمازپڑھے لیکن نماز فجرکی اذان اور اقامت کے درمیان کلام کرنامستحب نہیں ہے۔

مسئلہ(۹۲۷) مستحب ہے کہ جس شخص کواذان دینے پرمقررکیاجائے وہ عادل اور وقت شناس ہو،نیزیہ کہ اس کی آواز بلند ہواوراونچی جگہ پراذان دے۔