توضیح المسائل اردو آیت الله سیستانی

ایسے مواقع جن میں روزہ کی قضا اورکفارہ واجب ہوجاتا ہے

ایسے مواقع جن میں روزہ کی قضا اورکفارہ واجب ہوجاتا ہے

مسئلہ(۱۶۲۸) اگرکوئی ماہ رمضان کے روزے کوکھانےیا پینے یاہم بستری یا استمناء یا جنابت پرباقی رہنے کی وجہ سے باطل کرے جب کہ جبراورناچاری کی بناپر نہیں بلکہ عمداً اور اختیاراًایساکیاہوتواس پرقضاکے علاوہ کفارہ بھی واجب ہوگااورجوکوئی مذکورہ امور کے علاوہ کسی اورطریقے سے روزہ باطل کرے تواحتیاط مستحب یہ ہے کہ وہ قضاکے علاوہ کفارہ بھی دے۔

مسئلہ(۱۶۲۹) جن امورکاذکرکیاگیاہے اگرکوئی ان میں سے کسی فعل کوانجام دے جب کہ اسے پختہ یقین ہوکہ اس عمل سے اس کاروزہ باطل نہیں ہوگاتواس پرکفارہ واجب نہیں ہے اور یہی حکم ہے اس شخص کےلئے جونہیں جانتا کہ اس پر روزہ واجب ہے جیسے ابتدائے بلوغ میں بچے۔

روزے کاکفارہ

مسئلہ(۱۶۳۰) ماہ رمضان کاروزہ توڑنے کے کفارے کے طورپرضروری ہے کہ انسان ایک غلام آزاد کرے یا ان احکام کے مطابق جوآئندہ مسئلے میں بیان کئے جائیں گے دومہینے روزے رکھے یاساٹھ فقیروں کو پیٹ بھرکرکھاناکھلائے یاہرفقیرکوایک مدتقریباً ’’۷۵۰‘‘ گرام طعام( یعنی گندم یاجویاروٹی وغیرہ دے) اوراگریہ افعال انجام دینا اس کے لئے ممکن نہ ہوتوبقدرامکان صدقہ دیناضروری ہے اوراگریہ ممکن نہ ہو تو توبہ واستغفار کرے اور احتیاط واجب یہ ہے کہ جس وقت کفارہ دینے کے قابل ہوجائے کفارہ دے۔

مسئلہ(۱۶۳۱) جوشخص ماہ رمضان کے روزے کے کفارے کے طورپردوماہ روزے رکھناچاہے تو ضروری ہے کہ ایک پورامہینہ اوراس سے اگلے مہینے کے ایک دن تک مسلسل روزے رکھے اور احتیاط واجب کی بناء پرباقی روزے بھی ضروری ہے کہ پے در پے بجالائے لیکن اگر کوئی رکاوٹ پیش آجائے جسے عرف میں عذرکہا جائے تو وہ اس دن روزہ چھوڑ سکتا ہے اور پھر عذر ختم ہونے کے بعد دوبارہ روزہ جاری رکھے۔

مسئلہ(۱۶۳۲) جوشخص ماہ رمضان کے روزے کے کفارے کے طورپردوماہ روزے رکھناچاہتاہے ضروری ہے کہ وہ روزے ایسے وقت نہ رکھے جس کے بارے میں وہ جانتا ہو کہ ایک مہینے اورایک دن کے درمیان عیدقربان کی طرح کوئی ایسادن آجائے گاجس کا روزہ رکھناحرام ہے یا اس میں روزہ رکھناواجب ہے۔

مسئلہ(۱۶۳۳) جس شخص کومسلسل روزے رکھنے ضروری ہیں وہ ان کے بیچ میں بغیر عذرکے ایک دن روزہ نہ رکھے توضروری ہے کہ دوبارہ ازسرنوروزے رکھے۔

مسئلہ(۱۶۳۴) اگران دنوں کے درمیان جن میں مسلسل روزے رکھنے ضروری ہیں روزہ دار کوکوئی عذرپیش آجائے مثلاً حیض یانفاس یاایساسفرجسے اختیار کرنے پر وہ مجبورہوتوعذرکے دورہونے کے بعدروزوں کاازسرنورکھنااس کے لئے واجب نہیں بلکہ وہ عذردورہونے کے بعد باقیماندہ روزے رکھے۔

مسئلہ(۱۶۳۵) اگرکوئی شخص حرام چیزسے اپناروزہ باطل کردے خواہ وہ چیزبذات خود حرام ہوجیسے شراب اورزنایاکسی وجہ سے حرام ہوجائے جیسے کہ حلال غذاجس کاکھانا انسان کے لئے بالعموم مضرہویا وہ اپنی بیوی سے حالت حیض میں مجامعت کرے تو ایک کفارہ دینا کافی ہے لیکن( احتیاط مستحب) یہ ہے کہ مجموعاً کفارہ دے۔یعنی اسے چاہئے کہ ایک غلام آزاد کرے اور دومہینے روزے رکھے اورساٹھ فقیروں کوپیٹ بھر کر کھانا کھلائے یا ان میں سے ہرفقیرکو ایک مد گندم یاجویاروٹی وغیرہ دے اوراگریہ تینوں چیزیں اس کے لئے ممکن نہ ہوں تو ان میں سے جوکفارہ ممکن ہوادا کرے۔

مسئلہ(۱۶۳۶) اگرروزہ دارجان بوجھ کراللہ تعالیٰ یانبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے کوئی جھوٹی بات منسوب کرے تو کفارہ نہیں ہے مگراحتیاط مستحب یہ ہے کہ کفارہ دے۔

مسئلہ(۱۶۳۷) اگرروزہ دارماہ رمضان کے ایک دن میں کئی مرتبہ کھاناکھانے یا پانی پینےیا جماع یا استمناء کرے توان سب کےلئے ایک کفارہ کافی ہے ۔

مسئلہ(۱۶۳۸) اگرروزہ دار ماہ رمضان کے ایک دن میں جماع اوراستمناء کے علاوہ کئی دفعہ کوئی دوسراایساکام کرے جوروزے کو باطل کرتاہواور اس کے بعد جائز طریقہ سے جماع کرے تو دونوں کےلئے ایک ہی کفارہ کافی ہے۔

مسئلہ(۱۶۳۹) اگرروزہ دارکوئی حلال کام کرے جو روزے کو باطل کرتاہو(جیسے پانی پینا) اور پھر دوسرا حرام کام کرے جو روزہ کو باطل کرتا ہے جیسے حرام غذا کھانا تو ایک کفارہ کافی ہے۔

مسئلہ(۱۶۴۰) اگرروزہ دار ڈکارلے اورکوئی چیز اس کے منہ میں آجائے تو اگروہ اسے جان بوجھ کر نگل لے تو( احتیاط واجب کی بناء پر)اس کاروزہ باطل ہے اورضروری ہے کہ اس کی قضا کرے اور کفارہ بھی اس پرواجب ہوجاتا ہے اور اگراس چیزکاکھاناحرام ہومثلاً ڈکارلیتے وقت خون یاایسی خوراک جوغذاکی تعریف میں نہ آتی ہواس کے منہ میں آجائے اوروہ اسے جان بوجھ کرنگل لے توبہتر ہے کہ کفارہ جمع یعنی مجموعاً کفارہ دے۔

مسئلہ(۱۶۴۱) اگرکوئی شخص منت مانے کہ ایک خاص دن روزہ رکھے گاتواگروہ اس دن جان بوجھ کر اپنے روزے کوباطل کردے توضروری ہے کہ کفارہ دے اور اس کا کفارہ احکام نذر میں آئےگا۔

مسئلہ(۱۶۴۲) اگرروزہ دارایک ایسے شخص کے کہنے پرجوکہے کہ مغرب کاوقت ہو گیاہے اورجس کے کہنے پراسے اعتماد نہ ہوروزہ افطار کرلے اوربعدمیں اسے پتا چلے کہ مغرب کاوقت نہیں ہوایا شک کرے کہ مغرب کاوقت ہواہے یانہیں تواس پرقضااور کفارہ دونوں واجب ہوجاتے ہیں اگر اس کی بات پر اعتماد تھا تو صرف قضا لازم ہے۔

مسئلہ(۱۶۴۳) جوشخص جان بوجھ کراپناروزہ باطل کرلے اوراگروہ ظہرکے بعدسفر کرے یاکفارے سے بچنے کے لئے ظہرسے پہلے سفرکرے تواس پرسے کفارہ ساقط نہیں ہوتا بلکہ اگرظہرسے پہلے اتفاقاً اسے سفرکرناپڑے تب بھی کفارہ اس پرواجب ہے ۔

مسئلہ(۱۶۴۴) اگرکوئی شخص جان بوجھ کراپناروزہ توڑدے اوراس کے بعد کوئی عذر پیداہوجائے مثلاً حیض یانفاس یابیماری میں مبتلاہوجائے تواحتیاط مستحب یہ ہے کہ کفارہ دےخاص طور سے دوا کے ذریعہ حیض یا بیماری میں مبتلا ہو۔

مسئلہ(۱۶۴۵) اگرکسی شخص کویقین ہوکہ آج ماہ رمضان المبارک کی پہلی تاریخ ہے اور وہ جان بوجھ کر روزہ توڑدے لیکن بعدمیں اسے پتا چلے کہ شعبان کی آخری تاریخ ہے تو اس پرکفارہ واجب نہیں ہے۔

مسئلہ(۱۶۴۶) اگر کسی شخص کوشک ہوکہ آج رمضان کی آخری تاریخ ہے یاشوال کی پہلی تاریخ اوروہ جان بوجھ کرروزہ توڑدے اوربعدمیں پتا چلے کہ پہلی شوال ہے تو اس پر کفارہ واجب نہیں ہے۔

مسئلہ(۱۶۴۷) اگرایک روزہ دار ماہ رمضان میں اپنی روزہ دار بیوی سے جماع کرے تواگراس نے بیوی کو مجبورکیاہوتواپنے روزے کاکفارہ اوراحتیاط کی بناپر ضروری ہے کہ اپنی بیوی کے روزے کابھی کفارہ دے اوراگربیوی جماع پرراضی ہوتوہرایک پر ایک کفارہ واجب ہوجاتاہے۔

مسئلہ(۱۶۴۸) اگرکوئی عورت اپنے روزہ دار شوہرکوجماع کرنے پرمجبورکرے تو اس پرشوہر کے روزے کاکفارہ اداکرناواجب نہیں ہے۔

مسئلہ(۱۶۴۹) اگرروزہ دارماہ رمضان میں اپنی بیوی کوجماع پرمجبور کرے اور جماع کے دوران عورت بھی جماع پرراضی ہوجائے تو ہر ایک پر ایک کفارہ واجب ہے اور احتیاط مستحب کی بناپر مرددوکفارے دے۔

مسئلہ(۱۶۵۰) اگرروزہ دار ماہ رمضان المبارک میں اپنی روزہ دار بیوی سے جو سو رہی ہوجماع کرے تواس پر ایک کفارہ واجب ہوجاتاہے اور عورت کاروزہ صحیح ہے اور اس پرکفارہ بھی واجب نہیں ہے۔

مسئلہ(۱۶۵۱) اگرشوہراپنی بیوی کویابیوی اپنے شوہرکو جماع کے علاوہ کوئی ایسا کام کرنے پرمجبورکرے جس سے روزہ باطل ہوجاتاہوتوان دونوں میں سے کسی پر بھی کفارہ واجب نہیں ہے۔

مسئلہ(۱۶۵۲) جوآدمی سفریابیماری کی وجہ سے روزہ نہ رکھے وہ اپنی روزہ دار بیوی کو جماع پرمجبورنہیں کرسکتالیکن اگرمجبورکرے تب بھی مردپرکفارہ واجب نہیں ۔

مسئلہ(۱۶۵۳) ضروری ہے کہ انسان کفارہ دینے میں کوتاہی نہ کرے لیکن فوری طور پردینابھی ضروری نہیں ۔

مسئلہ(۱۶۵۴) اگرکسی شخص پرکفارہ واجب ہواوروہ کئی سال تک ادا نہ کرے توکفارے میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا۔

مسئلہ(۱۶۵۵) جس شخص کوبطورکفارہ ایک دن ساٹھ فقیروں کو کھاناکھلاناضروری ہو اگرساٹھ فقیرموجود ہوں تو وہ ان کی تعداد کم نہیں کرسکتا ہےچاہے وہ کفارہ کی مقدار انھیں دے دے۔ مثلاً تیس فقیروں میں سے ہرایک کودو مد کھانا کھلائے اور اسی پر اکتفا کرے لیکن وہ فقیر کےخاندان کے ہر فرد کو اگر چہ وہ چھوٹے ہوں ایک مد کھانادے دے اور فقیر اپنے خاندان کی وکالت یا بچوں کی سرپرستی کی بناپر اسے قبول کرلیں اور اگر ساٹھ فقیر نہ ملیں اور مثلاً تیس فقیر ہی ملیں تو وہ ہر ایک فرد کو دو مد کھانا دے سکتا ہے لیکن( احتیاط واجب کی بنا پر) جب طاقت پیدا ہوجائے تو دوسرے تیس فقیروں کو بھی ایک مد کھانا دے دے۔

مسئلہ(۱۶۵۶) جوشخص ماہ رمضان المبارک کے روزے کی قضا کرے اگروہ ظہر کے بعدجان بوجھ کرکوئی ایساکام کرے جوروزے کو باطل کرتاہوتوضروری ہے کہ دس فقیروں کو فرداًفرداًایک مدکھانادے اوراگرنہ دے سکتاہوتوتین روزے رکھے۔