توضیح المسائل اردو آیت الله سیستانی

خمس کامصرف

مسئلہ(۱۸۵۱) ضروری ہے کہ خمس دوحصوں میں تقسیم کیاجائے:اس کاایک حصہ سادات کاحق ہے اور ضروری ہے کہ کسی فقیرسیدیایتیم سیدیاایسے سیدکودیاجائے جوسفر میں ناچارہوگیاہواوردوسراحصہ امام علیہ السلام کاہے جوضروری ہے کہ موجود زمانے میں جامع الشرائط مجتہدکودیاجائے یاایسے کاموں پرجس کی وہ مجتہداجازت دے خرچ کیاجائے اور احتیاط لازم یہ ہے کہ وہ مرجع اعلم عمومی مصلحتوں سے آگاہ ہو۔

مسئلہ(۱۸۵۲) جس یتیم سیدکوخمس دیاجائے ضروری ہے کہ وہ فقیربھی ہولیکن جو سید سفر میں ناچارہو جائے وہ خواہ اپنے وطن میں فقیرنہ بھی ہواسے خمس دیاجاسکتاہے۔

مسئلہ(۱۸۵۳) جوسیدسفرمیں ناچارہوگیاہواگراس کاسفرگناہ کاسفرہوتو(احتیاط واجب کی بناپر)ضروری ہے کہ اسے خمس نہ دیاجائے۔

مسئلہ(۱۸۵۴) جوسیدعادل نہ ہواسے خمس دیاجاسکتاہے لیکن جوسیداثناعشری نہ ہو ضروری ہے کہ اسے خمس نہ دیاجائے۔

مسئلہ(۱۸۵۵) وہ سید جو خمس کے مال کو گناہ میں خرچ کرتا ہے اس کو خمس نہیں دیا جاسکتا بلکہ اگر خمس دینا اس کی معصیت میں مدد کہلائے تو احتیاط واجب یہ ہےکہ اسے خمس نہ دیا جائے اگرچہ وہ گناہ میں خرچ نہ بھی کرے اور اسی طرح احتیاط واجب یہ ہےکہ اس سیدکوبھی خمس نہ دیاجائے جو شراب پیتاہویانمازنہ پڑھتاہویاآشکارا گناہ کرتاہو۔

مسئلہ(۱۸۵۶) جوشخص کہے کہ میں سیدہوں اسے اس وقت تک خمس نہ دیاجائے جب تک دوعادل اشخاص اس کے سیدہونے کی تصدیق نہ کردیں یالوگوں میں اس کا سید ہونااتنامشہورہوکہ انسان کویقین اوراطمینان ہوجائے کہ وہ سیدہے۔

مسئلہ(۱۸۵۷) کوئی شخص اپنے شہرمیں سیدمشہورہواوراس کے سیدنہ ہونے کے بارے میں جوباتیں کی جاتی ہوں انسان کوان پریقین یااطمینان نہ ہوتواسے خمس دیا جاسکتا ہے۔

مسئلہ(۱۸۵۸) اگرکسی شخص کی بیوی سیدانی ہوتو(احتیاط واجب کی بناپر)ضروری ہے کہ شوہر اسے اس مقصدکے لئے خمس نہ دے کہ وہ اسے اپنے ذاتی استعمال میں لے آئے لیکن اگردوسرے لوگوں کی کفالت اس عورت پرواجب ہو اوروہ ان اخراجات کی ادائیگی سے قاصرہوتوانسان کے لئے جائز ہے کہ اپنی بیوی کو خمس دے تاکہ وہ زیر کفالت لوگوں پرخرچ کرے اور اس عورت کواس غرض سے خمس دینے کے بارے میں بھی یہی حکم ہےجب کہ وہ (یہ رقم) اپنے غیرواجب اخراجات پرصرف کرے۔

مسئلہ(۱۸۵۹) اگرانسان پرکسی سیدکے یاایسی سیدانی کے اخراجات واجب ہوں جو اس کی بیوی نہ ہوتو (احتیاط واجب کی بناپر)وہ اس سیدیاسیدانی کے خوراک اور پوشاک کے اخراجات اورباقی واجب اخراجات اپنے خمس سے ادانہیں کرسکتا۔ہاں اگروہ اس سید یا سیدانی کوخمس کی کچھ رقم اس مقصد سے دے کہ وہ واجب اخراجات کے علاوہ اسے دوسری ضروریات پرخرچ کرے توکوئی حرج نہیں ۔

مسئلہ(۱۸۶۰) اگرکسی فقیرسیدکے اخراجات کسی دوسرے شخص پرواجب ہوں اور وہ شخص اس سیدکے اخراجات برداشت نہ کرسکتاہویااستطاعت رکھتاہولیکن نہ دیتا ہو تو اس کو خمس دیاجاسکتاہے۔

مسئلہ(۱۸۶۱) احتیاط واجب یہ ہے کہ کسی ایک فقیرسیدکواس کے ایک سال کے اخراجات سے زیادہ خمس نہ دیاجائے۔

مسئلہ(۱۸۶۲) اگرکسی شخص کے اپنے شہرمیں خمس کامستحق نہ ہو تو وہ خمس دوسرے شہرلے جاکرمستحق کوپہنچاسکتاہے بلکہ اگر خود اس کے شہر میں مستحق ہو تب بھی دوسرے شہر میں لے جاسکتاہے۔لیکن اس طرح ہو کہ خمس پہچانے میں سستی شمار نہ ہو اوراس صورت میں اگر خمس ضائع ہوجائے تو اگرچہ اس نے اس کی نگہداشت میں کوتاہی نہ برتی ہووہ اس کاذمہ دارہےاور خمس کے مال کو لے جانے کےخرچ کو خمس سے نہیں لے سکتا۔

مسئلہ(۱۸۶۳) اگر کوئی شخص حاکم شرع کی وکالت سے یا اس کے وکیل سے خمس وصولی پر مامور ہوتواس کا ذمہ بری ہوجائے گا اور اگر ان میں سے کسی ایک کی اجازت سے دوسرے شہر میں منتقل کرے اوربغیر کوتاہی کئے تلف ہوجائے تو ضامن نہیں ہے۔

مسئلہ(۱۸۶۴) یہ جائزنہیں کہ کسی چیزکی قیمت اس کی اصل قیمت سے زیادہ لگا کر اسے بطورخمس دیاجائے اور جیساکہ مسئلہ ( ۱۸۰۵) میں بتایاگیاہے کہ کسی دوسری جنس کی شکل میں خمس اداکرنا سوائے روپیہ کے مطلقاً محل اشکال ہے مگر یہ کہ حاکم شرع یا اس کے وکیل کی اجازت سے ہو۔

مسئلہ(۱۸۶۵) جس شخص کوخمس کے مستحق شخص سے کچھ لیناہواورچاہتاہوکہ اپنا قرضہ خمس کی رقم سے منہاکرلے تو(احتیاط واجب کی بناپر)ضروری ہے کہ یاتوحاکم شرع سے اجازت لے یاخمس اس مستحق کو دے دے اوربعدمیں مستحق شخص اسے وہ مال قرضے کی ادائیگی کے طورپرلوٹادے اوروہ یہ بھی کرسکتاہے کہ خمس کے مستحق شخص کی اجازت سے اس کاوکیل بن کرخوداس کی طرف سے خمس لے لے اوراس سے اپناقرض چکالے۔

مسئلہ(۱۸۶۶) مالک، خمس کے مستحق شخص سے یہ شرط نہیں کرسکتاکہ وہ خمس لینے کے بعد اسے واپس لوٹا دے۔