مسئلہ (۲۰۵۹)ایک تاجر کے لئے مناسب ہے کہ خریدوفروخت کے سلسلے میں جن مسائل کاعموماً سامناکرناپڑتاہے ان کے احکام سیکھ لے بلکہ اگرمسائل نہ سیکھنے کی وجہ سے کسی واجب حکم کی مخالفت کرنے کااندیشہ ہوتومسائل سیکھنالازم وضروری ہے۔ حضرت امام جعفرصادق علیہ الصلوٰۃ والسلام سے روایت ہے کہ ’’جو شخص خریدوفروخت کرنا چاہتاہواس کے لئے ضروری ہے کہ اس کے احکام سیکھے اوراگران احکام کوسیکھنے سے پہلے خریدوفروخت کرے گاتوباطل یامشتبہ معاملہ کرنے کی وجہ سے ہلاکت میں پڑے گا۔‘‘
مسئلہ (۲۰۶۰)اگرکوئی مسئلے سے ناواقفیت کی بناپریہ نہ جانتاہوکہ اس نے جومعاملہ کیاہے وہ صحیح ہے یاباطل توجومال اس نے حاصل کیاہواسے استعمال نہیں کرسکتااور وہ مال جسے دیاہے اس میں بھی تصرف نہیں کرسکتا بلکہ ضروری ہےکہ مسئلہ سیکھے یا احتیاط کرے اگر چہ مصالحت کے ذریعہ ہی کیو ں نہ ہو اور اگر اسے علم ہوجائے کہ دوسرافریق اس مال کواستعمال کرنے پرراضی ہے تواس صورت میں وہ استعمال کرسکتاہے اگرچہ معاملہ باطل ہو۔
مسئلہ (۲۰۶۱)جس شخص کے پاس مال نہ ہواورکچھ اخراجات اس پرواجب ہوں ، مثلاًبیوی بچوں کاخرچ، توضروری ہے کہ کاروبارکرے اور مستحب کاموں کے لئے مثلاً اہل وعیال کی خوشحالی اور فقیروں کی مددکرنے کے لئے کاروبارکرنامستحب ہے۔
خریدوفروخت کے مستحبات
خریدوفروخت میں چندچیزیں مستحب شمارکی گئی ہیں :
(اول:) فقراوراس جیسی کیفیت کے سواجنس کی قیمت میں خریداروں کے درمیان فرق نہ کرے۔
(دوم:) تجارت کرتے وقت پہلے شہادتین پڑھے اور معاملہ کے وقت تکبیر کہے۔
(سوم:) جوچیزبیچ رہاہووہ کچھ زیادہ دے اورجوچیزخریدرہاہووہ کچھ کم لے۔
(چہارم:) اگرکوئی شخص سوداکرنے کے بعدپشیمان ہوکراس چیزکوواپس کرنا چاہے توواپس لے لے۔
مکروہ معاملات
مسئلہ (۲۰۶۲)وہ خاص معاملات جنہیں مکروہ شمارکیاگیاہے،یہ ہیں :
۱:) جائداد کابیچنابجزاس کے کہ اس رقم سے دوسری جائداد خریدی جائے۔
:۲)گوشت فروشی کاپیشہ اختیارکرنا۔
۳:)کفن فروشی کاپیشہ اختیارکرنا۔
۴:)پست لوگوں سے معاملہ کرنا۔
۵:)صبح کی اذان سے سورج نکلنے کے وقت تک معاملہ کرنا۔
۶:)گیہوں ،جواوران جیسی دوسری اجناس کی خریدوفروخت کواپناپیشہ قراردینا۔
۷:)اگر کوئی جنس خریدرہاہوتواس کے سودے میں دخل اندازی کرکے خریدار بننے کااظہارکرنا۔
حرام معاملات
مسئلہ (۲۰۶۳)بہت سے معاملات حرام ہیں جن میں سے کچھ یہ ہیں :
۱:) نشہ آورمشروبات،غیرشکاری کتے اورسورکی خریدوفروخت حرام ہے اوراسی طرح (احتیاط واجب کی بناپر)نجس مردار کے متعلق بھی یہی حکم ہے۔ان کے علاوہ دوسری نجاسات کی خریدو فروخت اس صورت میں جائزہے جب کہ عین نجس سے حلال فائدہ حاصل کرنامقصود ہو مثلاً گوبراورپاخانے سے کھادبنائیں ( اگرچہ احتیاط اس میں ہے کہ ان کی خریدوفروخت سے بھی پرہیزکیاجائے)۔
۲:) غصبی مال کی خریدوفروخت اگر اس میں تصرف لازم آئے جیسے کوئی چیز لینا اور دینا۔
۳:) ان پیسوں سے لین دین کرنا جن کا اعتبار ختم ہوچکا ہو یا نقلی ہوں اس شرط کے ساتھ کہ دوسرا فریق متوجہ نہ ہو لیکن اگر متوجہ ہوتو معاملہ جائز ہے۔
۴:) حرام وسائل کے ذریعہ معاملہ کرنا یعنی ایسی چیزیں جنھیں اس طرح بنایا گیا ہو کہ عام طورپر حرام کام میں استعمال ہوتی ہوں اور ان کی اہمیت حرام استعمال کی وجہ سے ہو جیسے بت صلیب، جوئے اور حرام لھو ولعب کے وسائل۔
۵:) ایسا معاملہ جس میں دھوکا دھڑی ہو، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فرماتے ہیں : ’’جو شخص مسلمانوں کےساتھ معاملہ میں دھوکہ دھڑی سے کام لے وہ ہم میں سے نہیں ہے خداوندعالم اس کی روزی کی برکت اٹھا لیتا ہے اور اس کے ذریعۂ معاش کو بند کردیتا ہے اور اس کو خود اس کے حوالے کردیتا ہے۔‘‘ دھوکا دھڑی کے مختلف مقامات ہیں ۔
(۱) اچھی جنس کو خراب یا کسی دوسری چیز سے ملانا جیسے دودھ میں پانی ملانا۔
(۲) حقیقت اور واقع کے خلاف کسی جنس کو اچھا بنا کر پیش کرنا جیسے باسی سبزی پر پانی ڈال کر تازہ بنا کر پیش کرنا۔
(۳) ایک جنس کو دوسری شکل میں ظاہر کرنا جیسے سونے کو خریدار کی اطلاع کے بغیر کسی دوسری شکل میں ڈھال دینا۔
(۴) جنس کے عیب کو چھپانا جب کہ خریدار بیچنے والے پر اعتماد رکھتا ہو کہ وہ اس سے نہیں چھپائے گا۔
مسئلہ (۲۰۶۴)جوپاک چیزنجس ہوگئی ہواوراسے پانی سے دھوکرپاک کرناممکن ہو تو اسے فروخت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے جیسے قالین اور برتن اوراگراسے دھوناممکن نہ ہوتب بھی یہی حکم ہے لیکن اگراس کاحلال فائدہ عرف عام میں اس کے پاک ہونے پرمنحصر نہ ہومثلاً بعض اقسام کے تیل بلکہ اگراس کاحلال فائدہ پاک ہونے پر موقوف ہواوراس کامناسب حد تک حلال فائدہ بھی ہوتب بھی اس کابیچناجائزہے۔
مسئلہ (۲۰۶۵)اگرکوئی شخص نجس چیز بیچناچاہے توضروری ہے کہ وہ اس کی نجاست کے بارے میں خریدار کوبتادے اوراگراسے نہ بتائے تووہ ایک حکم واجب کی مخالفت کا مرتکب ہوگامثلاًنجس پانی کووضویاغسل میں استعمال کرے گااوراس کے ساتھ اپنی واجب نمازپڑھے گایااس نجس چیزکوکھانے یاپینے میں استعمال کرے گاالبتہ اگریہ جانتاہوکہ اسے بتانے سے کوئی فائدہ نہیں کیوں کہ وہ لاپروا شخص ہے اورنجس پاک کاخیال نہیں رکھتاتو اسے بتاناضروری نہیں ۔
مسئلہ (۲۰۶۶)اگرچہ کھانے والی اورنہ کھانے والی نجس دواؤں کی خریدوفروخت جائز ہے لیکن ان کی نجاست کے متعلق خریدارکواس صورت میں بتادیناضروری ہے جس کا ذکرسابقہ مسئلے میں کیاگیاہے۔
مسئلہ (۲۰۶۷)جوتیل غیراسلامی ممالک سے درآمدکئے جاتے ہیں اگران کے نجس ہونے کے بارے میں علم نہ ہوتوان کی خریدوفروخت میں کوئی حرج نہیں اورجوچربی کسی حیوان کے مرجانے کے بعدحاصل کی جاتی ہے تیل، چربی، جلاٹین اگراسے کافرسے لیں یاغیراسلامی ممالک سے منگائیں تواس صورت میں جب کہ اس کے بارے میں احتمال ہوکہ ایسے حیوان کی ہے جسے شرعی طریقے سے ذبح کیاگیاہے تواگر چہ وہ پاک ہے اوراس کی خریدو فروخت جائزہے لیکن اس کاکھاناحرام ہے اوربیچنے والے کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس کی کیفیت سے خریدار کوآگاہ کرے کیوں کہ خریدارکوآگاہ نہ کرنے کی صورت میں وہ کسی واجب حکم کی مخالفت یا حرام کامرتکب ہوگاجیسے کہ مسئلہ ( ۲۰۶۵) میں گزرچکاہے۔
مسئلہ (۲۰۶۸)اگرلومڑی یااس جیسے جانوروں کوغیرشرعی طریقے سے ذبح کیاجائے یا وہ خودمرجائیں توان کی کھال کی خریدوفروخت (احتیاط کی بناپر)جائزنہیں ہے اور اگر مشکوک ہوتو کوئی حرج نہیں ہے۔
مسئلہ (۲۰۶۹)جوچمڑاغیراسلامی ممالک سے درآمدکیاجائے یاکافر سے لیا جائے اگراس کے بارے میں احتمال ہوکہ ایک ایسے جانورکاہے جسے شرعی طریقے سے ذبح کیا گیاہے تواس کی خرید وفروخت جائزہے اوراسی طرح اس میں نمازبھی صحیح ہوگی۔
مسئلہ (۲۰۷۰)جوتیل اورچربی حیوان کے مرنے کے بعدحاصل کی جائے یا وہ چمڑا جومسلمان سے لیاجائے اورانسان کوعلم ہوکہ اس مسلمان نے یہ چیزکافرسے لی ہے لیکن یہ تحقیق نہیں کی کہ یہ ایسے حیوان کی ہے جسے شرعی طریقے سے ذبح کیاگیاہے یانہیں اگرچہ اس پرطہارت کاحکم لگتاہے اوراس کی خریدوفروخت جائزہے لیکن اس تیل یاچربی کا کھاناجائزنہیں ہے۔
مسئلہ (۲۰۷۱)شراب اور حمام سیال نشہ آورمشروبات کالین دین حرام اور باطل ہے۔
مسئلہ (۲۰۷۲)غصبی مال کابیچناباطل ہےمگر یہ کہ اس کا مالک اجازت دے دے اوربیچنے والے نے جورقم خریدارسے لی ہو اسے واپس کرناضروری ہے۔
مسئلہ (۲۰۷۳)اگرخریدارسنجیدگی سے سوداکرنے کاارادہ رکھتاہولیکن اس کی نیت یہ ہوکہ جوچیزخریدرہاہے اس کی قیمت نہیں دے گاتواس کایہ سوچناسودے کے صحیح ہونے میں مانع نہیں ہے اورضروری ہے کہ خریداراس سودےکا پیسہ بیچنے والے کودے۔
مسئلہ (۲۰۷۴)اگرخریدارچاہے کہ جومال اس نے ادھار خریداہے اس کی قیمت بعدمیں حرام مال سے دے گاتب بھی معاملہ صحیح ہے البتہ ضروری ہے کہ جتنی قیمت اس کے ذمہ ہوحلال مال سے دے تاکہ اس کاادھارچکتاہوجائے۔
مسئلہ (۲۰۷۵)حرام آلات لہو ولعب کی خرید وفروخت جائز نہیں ہے۔لیکن (حلال اورحرام میں استعمال ہونے والے) مشترکہ آلات مثلاً ریڈیواورٹیپ ریکارڈ ویڈیوکی خرید وفروخت میں کوئی حرج نہیں اور ان کااس شخص کےلئے اپنے پاس رکھنا جائز ہے جو اس بات سے مطمئن ہے کہ خوداور اس کے گھر والے حرام میں استعمال نہیں کریں گے۔
مسئلہ (۲۰۷۶)اگرکوئی چیز جس سے جائزفائدہ اٹھایاجاسکتاہواس نیت سے بیچی جائے کہ اسے حرام مصرف میں لایاجائے مثلاً انگوراس نیت سے بیچاجائے کہ اس سے شراب تیارکی جائےخواہ اسے معاملہ کے ضمن میں اسی کام کےلئے قرار دیا ہویا معاملہ سے پہلے اور معاملہ کو ایسے معاہدہ کی بنیاد پر انجام دے تواس کاسوداحرام ہے۔لیکن اگرکوئی شخص انگور اس مقصد سے نہ بیچے اورفقط یہ جانتاہوکہ خریدار انگورسے شراب تیارکرے گاتو سودے میں کوئی حرج نہیں ۔
مسئلہ (۲۰۷۷)جاندار کامجسمہ بنانا(احتیاط کی بناپر) حرام ہے لیکن ان کی خرید و فروخت ممنوع نہیں ہے لیکن جاندار کی نقاشی جائزہے۔
مسئلہ (۲۰۷۸)کسی ایسی چیزکاخریدناحرام ہے جوجوئے یاچوری یاباطل سودے سے حاصل کی گئی ہو اگر اس میں تصرف لازم آرہا ہے تو حرام ہےاور اگرکوئی ایسی چیزخریدلے اور بیچنے والے سے لے لے توضروری ہے کہ اس کے اصلی مالک کو لوٹا دے۔
مسئلہ (۲۰۷۹)اگرکوئی شخص ایساگھی بیچے جس میں چربی کی ملاوٹ ہواوراسے معین کردے مثلاًکہے کہ: میں ’’یہ ایک من گھی بیچ رہاہوں ‘‘ تواس صورت میں جب اس میں چربی کی مقداراتنی زیادہ ہوکہ اسے گھی نہ کہاجائے تومعاملہ باطل ہے اوراگرچربی کی مقدار اتنی کم ہوکہ اسے چربی ملاہواگھی کہاجائے تومعاملہ صحیح ہے لیکن خریدنے والے کومال عیب دارہونے کی بناپرحق حاصل ہے کہ وہ معاملہ ختم کرسکتاہے اوراپناپیسہ واپس لے سکتا ہے اوراگرچربی گھی سے جداہوتوچربی کی جتنی مقدارکی ملاوٹ ہے اس کامعاملہ باطل ہے اورچربی کی جوقیمت بیچنے والے نے لی ہے وہ خریدار کی ہے اور چربی، بیچنے والے کا مال ہے اورگاہک اس میں جوخالص گھی ہے اس کامعاملہ بھی کرسکتاہے۔لیکن اگرمعین نہ کرے بلکہ صرف ایک من گھی بتاکربیچے لیکن دیتے وقت چربی ملاہواگھی دے توگاہک وہ گھی واپس کرکے خالص گھی کامطالبہ کرسکتاہے۔
مسئلہ (۲۰۸۰)جس جنس کوناپ تول کربیچاجاتاہے اگرکوئی بیچنے والااسی جنس کے بدلے میں بڑھاکربیچے مثلاً ایک من گیہوں کی قیمت ڈیڑھ من گیہوں وصول کرے تویہ سوداورحرام ہے بلکہ اگردوجنسوں میں سے ایک بے عیب اوردوسری عیب دارہویاایک جنس بڑھیااوردوسری گھٹیاہویاان کی قیمتوں میں فرق ہوتواگربیچنے والاجو مقدار دے رہا ہواس سے زیادہ لے تب بھی سوداورحرام ہے۔لہٰذااگروہ ثابت تانبادے کراس سے زیادہ مقدارمیں ٹوٹاہواتانبالے یاثابت قسم کا پیتل دے کراس سے زیادہ مقدارمیں ٹوٹا ہواپیتل لےیا صدری (نامی) چاول دے کر گردہ (نامی) چاول لے، یا گڑھا ہوا سونا دے کراس سے زیادہ مقدارمیں بغیرگڑھاہواسونالے تویہ بھی سوداورحرام ہے۔
مسئلہ (۲۰۸۱)بیچنے والاجوچیززائدلے اگروہ اس جنس سے مختلف ہوجووہ بیچ رہا ہے مثلاًایک من گیہوں کوایک من گیہوں اورکچھ نقدرقم کے عوض بیچے تب بھی یہ سود اور حرام ہے بلکہ اگروہ کوئی چیززائدنہ لے لیکن یہ شرط لگائے کہ خریداراس کے لئے کوئی کام کرے گاتویہ بھی سوداورحرام ہے۔
مسئلہ (۲۰۸۲)جوشخص کوئی چیزکم مقدارمیں دے رہاہواگروہ اس کے ساتھ کوئی اور چیزشامل کردے مثلاًایک من گیہوں اورایک رومال کوڈیڑھ من گیہوں کے عوض بیچے تو اس میں کوئی حرج نہیں اس صورت میں جب کہ اس کی نیت یہ ہوکہ رومال اس زیادہ گیہوں کے مقابلے میں ہے اورمعاملہ بھی نقد ہواوراسی طرح اگردونوں طرف سے کوئی چیزبڑھادی جائے مثلاًایک شخص ایک من گیہوں اورایک رومال کوڈیڑھ من گیہوں اور ایک رومال کے عوض بیچے تواس کے لئے بھی یہی حکم ہے لہٰذااگران کی نیت یہ ہوکہ ایک کا رومال آدھامن گیہوں دوسرے کے رومال کے مقابلے میں ہے تواس میں کوئی اشکال نہیں ہے۔
مسئلہ (۲۰۸۳)اگرکوئی شخص ایسی چیزبیچے جومیٹراورگزکے حساب سے بیچی جاتی ہے (مثلاًکپڑا)یاایسی چیزبیچے جوگن کربیچی جاتی ہے مثلاً اخروٹ اورانڈے اور زیادہ لے مثلاً دس انڈے دے اورگیارہ لے تواس میں کوئی حرج نہیں ۔لیکن اگرایساہوکہ معاملے میں دونوں چیزیں ایک ہی جنس سے ہوں اور مدت معین ہوتواس صورت میں معاملے کے صحیح ہونے میں اشکال ہے مثلاً دس اخروٹ نقددے اوربارہ اخروٹ ایک مہینے کے بعدلے اور کرنسی نوٹوں کافروخت کرنابھی اسی زمرے میں آتاہے مثلاًتومان کونوٹوں کی کسی دوسری جنس کے بدلے میں مثلاً دینار یاڈالرکے بدلے میں نقدیامعین مدت کے لئے بیچے تواس میں کوئی حرج نہیں لیکن اگراپنی ہی جنس کے بدلے میں بیچناچاہے اور بہت زیادہ لے تومعاملہ معین مدت کے لئے نہیں ہوناچاہئے مثلاًسوتومان نقددے اور ایک سودس تومان چھ مہینے کے بعدلے تواس معاملے کے صحیح ہونے میں اشکال ہے۔
مسئلہ (۲۰۸۴)اگرکسی جنس کواکثرشہروں میں ناپ تول کربیچاجاتاہواوربعض شہروں میں اس کالین دین گن کرہوتاہوتواس جنس کو اس شہر کی نسبت جہاں گن کر لین دین ہوتاہے دوسرے شہرمیں زیادہ قیمت پربیچناجائزہے۔
مسئلہ (۲۰۸۵)ان چیزوں میں جوتول کریاناپ کربیچی جاتی ہیں اگربیچی جانے والی چیزاوراس کے بدلے میں لی جانے والی چیزایک جنس سے نہ ہوں اورلین دین بھی نقدہو توزیادہ لینے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن اگرلین دین معین مدت کے لئے ہوتواس میں اشکال ہے۔لہٰذااگرکوئی شخص ایک من چاول کودومن گیہوں کے بدلے میں ایک مہینے کی مدت تک بیچے تواس لین دین کاصحیح ہونااشکال سے خالی نہیں ۔
مسئلہ (۲۰۸۶)اگرایک شخص پکے میووں کاسوداکچے میووں سے کرے توزیادہ لےکر معاملہ کرناجائز نہیں ہے اور اگر دونوں نقدی ہوں تو مساوی طورپر معاملہ کرنا مکروہ ہے اور اگر ادھار ہوتو اس میں اشکال ہے۔
مسئلہ (۲۰۸۷)سودکے اعتبار سے گیہوں اور جوایک جنس شمار ہوتے ہیں لہٰذامثال کے طورپراگرکوئی شخص ایک من گیہوں دے اوراس کے بدلے میں ایک من پانچ سیرجو لے تویہ سود اورحرام ہے اور مثال کے طورپراگردس من جواس شرط پرخریدے کہ گیہوں کی فصل اٹھانے کے وقت دس من گیہوں بدلے میں دے گاتوچونکہ جواس نے نقد لئے ہیں اورگیہوں کچھ مدت کے بعددے رہاہے لہٰذایہ اسی طرح ہے۔جیسے اضافہ لیاہواس لئے حرام ہے۔
مسئلہ (۲۰۸۸)باپ بیٹااورمیاں بیوی ایک دوسرے سے سودلے سکتے ہیں اوراسی طرح مسلمان ایک ایسے کافرسے جواسلام کی پناہ میں نہ ہوسودلے سکتاہے لیکن ایسے کافر سے جواسلام کی پناہ میں ہے سودکالین دین حرام ہے البتہ معاملے طے کرلینے کے بعداگر سوددینااس کی شریعت میں جائزہوتواس سے سودلے سکتاہے۔
مسئلہ (۲۰۸۹)ڈاڑھی منڈوانا اور اس کی اجرت لینا (احتیاط واجب کی بناء پر) جائز نہیں ہے سوائے مجبوری کی حالت میں یا اس کا ترک کرنا کسی نقصان یا حرج کا سبب قرار پانے جس کو عام طورپربرداشت کرنا مشکل ہو اگر چہ مذاق اڑانے اور توہین کے لحاظ سے ہو۔
مسئلہ (۲۰۹۰)غناء حرام ہے اور اس سے مراد وہ باطل کلام ہے جو گانے کے انداز میں ہو اور لہو و لعب کی نشستوں سے مناسبت رکھتا ہو اور اسی طرح جائز نہیں ہے کہ اس انداز سے قرآن،دعا اور اس کے جیسی چیزیں پڑھی جائیں اور( احتیاط واجب کی بناء پر) جو باتیں بیان کی گئی ان کے علاوہ بھی اس طرح سے نہ گائیں اور اسی طرح غناء کا سننا بھی حرام ہے اور اس کی اجرت لینا بھی حرام ہے اور وہ اس اجرت کا مالک نہیں بن سکتا اور اسی طرح سے اس کو سیکھنا اور سکھانا بھی جائز نہیں ہے اور موسیقی یعنی مخصوص وسائل کوبجانا بھی اس طرح سے ہو کہ لہو ولعب کی نشستوں سے مناسبت رکھتی ہو تو حرام ہے اور اس کے علاوہ حرام نہیں ہے اور حرام موسیقی بجانے کی اجرت لینا بھی حرام ہے اور اس کا مالک نہیں بن سکتا اور اس کا سیکھنا اور سکھانا حرام ہے۔
بیچنے والے اورخریدارکی شرائط
مسئلہ (۲۰۹۱)بیچنے والے اورخریدارکے لئے چھ چیزیں شرط ہیں :
۱:) بالغ ہوں ۔
۲:) عاقل ہوں ۔
۳:) سفیہ نہ ہوں یعنی اپنامال احمقانہ کاموں میں خرچ نہ کرتے ہوں ۔
۴:) خریدوفروخت کاارادہ رکھتے ہوں ۔پس اگرکوئی مذاق میں کہے کہ میں نے اپنامال بیچاتومعاملہ باطل ہوگا۔
۵:) کسی نے انہیں خریدوفروخت پرمجبورنہ کیاہو۔
۶:) جوجنس اوراس کے بدلے میں جوچیزایک دوسرے کودے رہے ہوں اس کے مالک ہوں اور ان کے بارے میں احکام آئندہ مسائل میں بیان کئے جائیں گے۔
مسئلہ (۲۰۹۲)کسی نابالغ بچے کے ساتھ سوداکرناجوآزادانہ طورپرسوداکررہاہو باطل ہے لیکن ان کم قیمت چیزوں میں جن کی خریدوفروخت نابالغ مگر سمجھ داربچے کے ساتھ لین دین کا رواج ہو(صحیح ہے) اوراگرسودااس کے سرپرست کے ساتھ ہواورنابالغ مگرسمجھ داربچہ لین دین کاصیغہ جاری کرے توسوداصحیح ہے بلکہ اگرجنس یارقم کسی دوسرے آدمی کا مال ہواوربچہ بحیثیت وکیل اس مال کے مالک کی طرف سے وہ مال بیچے یااس رقم سے کوئی چیزخریدے توظاہریہ ہے کہ سوداصحیح ہے اگرچہ وہ سمجھ داربچہ آزادانہ طورپراس مال یارقم میں (حق) تصرف رکھتاہواوراسی طرح اگربچہ اس کام میں وسیلہ ہوکہ رقم بیچنے والے کو دے اورجنس خریدار تک پہنچائے یاجنس خریدار کو دے اوررقم بیچنے والے کوپہنچائے تواگرچہ بچہ سمجھ دار نہ ہو سوداصحیح ہے کیونکہ دراصل دوبالغ افراد نے آپس میں سوداکیاہے۔
مسئلہ (۲۰۹۳)اگرکوئی شخص اس صورت میں کہ ایک نابالغ بچے سے سوداکرنا صحیح نہ ہواس سے کوئی چیزخریدے یااس کے ہاتھ کوئی چیزبیچے توضروری ہے کہ جوجنس یارقم اس بچے سے لے اگروہ خودبچے کامال ہوتواس کے سرپرست کواوراگرکسی اورکامال ہوتواس کے مالک کودےدے یااس کے مالک کی رضامندی حاصل کرے اوراگرسوداکرنے والا شخص اس جنس یارقم کے مالک کونہ جانتاہواوراس کاپتا چلانے کاکوئی ذریعہ بھی نہ ہو تو اس شخص کے لئے ضروری ہے کہ جوچیزاس نے بچے سے لی ہووہ اس چیزکے مالک کی طرف سے بعنوان ردّ مظالم کسی فقیرکودے دے اور احتیاط لازم یہ ہے کہ اس کام میں حاکم شرع سے اجازت لے۔
مسئلہ (۲۰۹۴)اگرکوئی شخص ایک سمجھ داربچے سے اس صورت میں سوداکرے جب کہ اس کے ساتھ سوداکرناصحیح نہ ہواوراس نے جوجنس یارقم بچے کودی ہووہ تلف ہوجائے تو ظاہریہ ہے کہ وہ شخص بچے سے اس کے بالغ ہونے کے بعدیااس کے سرپرست سے مطالبہ کرسکتاہے اوراگربچہ سمجھ دار نہ ہویاممیز ہو اوراس نے خود اپنے مال کو تلف نہ کیا بلکہ اس کے پاس رہتے ہوئے تلف ہوگیا ہو اگر چہ بے توجہی یا حفاظت میں کوتاہی کی وجہ سے ہو ‘ ضامن نہیں ہے۔
مسئلہ (۲۰۹۵)اگرخریداریابیچنے والے کوسوداکرنے پرمجبورکیاجائے اورسوداہو جانے کے بعدوہ راضی ہوجائے اورمثال کے طورپرکہے کہ میں راضی ہوں توسودا صحیح ہے لیکن احتیاط مستحب یہ ہے کہ معاملے کا صیغہ دوبارہ پڑھاجائے۔
مسئلہ (۲۰۹۶)اگرانسان کسی کامال اس کی اجازت کے بغیربیچ دے اورمال کا مالک اس کے بیچنے پرراضی نہ ہواوراجازت نہ دے توسوداباطل ہے۔
مسئلہ (۲۰۹۷)بچے کاباپ اوردادانیزباپ کاوصی اورداداکاوصی بچے کامال فروخت کرسکتے ہیں اوراگر صورت حال کاتقاضاہوتومجتہدعادل بھی دیوانے شخص یایتیم بچے کامال یاایسے شخص کامال جوغائب ہوفروخت کرسکتاہے۔
مسئلہ (۲۰۹۸)اگرکوئی شخص کسی کامال غصب کرکے بیچ ڈالے اورمال کے بک جانے کے بعداس کامالک سودے کی اجازت دے دے توسوداصحیح ہے اورجوچیزغصب کرنے والے نے خریدارکودی ہواوراس چیزسے جو منافع سودے کے وقت سے حاصل ہو وہ خریدار کی ملکیت ہے اورجوچیزخریدارنے دی ہواوراس چیزسے جومنافع سودے کے وقت سے حاصل ہووہ اس شخص کی ملکیت ہے جس کامال غصب کیاگیاہو۔
مسئلہ (۲۰۹۹)اگرکوئی شخص کسی کامال غصب کرکے بیچ دے اوراس کاارادہ یہ ہو کہ اس مال کی قیمت خوداس کی ملکیت ہوگی اوراگرمال کامالک سودے کی اجازت دےدے توسوداصحیح ہے لیکن مال کی قیمت مالک کی ملکیت ہوگی نہ کہ غاصب کی۔
جنس اوراس کے عوض کی شرائط
مسئلہ (۲۱۰۰)جوچیزبیچی جائے اورجوچیزاس کے بدلے میں لی جائے اس کی پانچ شرطیں ہیں :
(اول:) ناپ، تول یاگنتی وغیرہ کی شکل میں اس کی مقدار معلوم ہو۔
(دوم:) بیچنے والاان چیزوں کوتحویل میں دینے کااہل ہو۔اگراہل نہ ہوتوسودا صحیح نہیں ہے لیکن اگروہ اس کوکسی دوسری چیزکے ساتھ ملاکربیچے جسے وہ تحویل میں دے سکتاہوتواس صورت میں لین دین صحیح ہے البتہ ظاہریہ ہے کہ اگرخریدار اس چیزکوجو خریدی ہواپنے قبضے میں لے سکتاہواگرچہ بیچنے والااسے اس کی تحویل میں دینے کااہل نہ ہوتوبھی لین دین صحیح ہے مثلاًجوگھوڑابھاگ گیاہواگراسے بیچے اورخریدنے والااس گھوڑے کو ڈھونڈسکتاہوتواس سودے میں کوئی حرج نہیں اوروہ صحیح ہوگااوراس صورت میں کسی بات کے اضافے کی ضرورت نہیں ہے۔
(سوم:) وہ خصوصیات جوجنس اورعوض میں موجودہوں اورجن کی وجہ سے سودے میں لوگوں کی دلچسپی میں فرق پڑتاہو،بتادی جائیں ۔
(چہارم:) کسی دوسرے کاحق اس مال سے اس طرح وابستہ نہ ہوکہ مال مالک کی ملکیتسے خارج ہونے سے دوسرے کاحق ضائع ہوجائے۔
(پنجم:) بیچنے والاخوداس جنس کوبیچے نہ کہ اس کی منفعت کو۔پس مثال کے طور پر اگرمکان کی ایک سال کی منفعت بیچی جائے توصحیح نہیں ہے لیکن اگرخریدار نقد کے بجائے اپنی ملکیت کامنافع دے مثلاً کسی سے قالین یادری وغیرہ خریدے اوراس کے عوض میں اپنےمکان کےایک سال کامنافع اسے دےدے تواس میں کوئی حرج نہیں۔ ان سب کے احکام آئندہ مسائل میں بیان کئے جائیں گے۔
مسئلہ (۲۱۰۱)جس جنس کاسوداکسی شہرمیں تول کریاناپ کرکیاجاتاہواس شہرمیں ضروری ہے اس جنس کوتول کریاناپ کرہی خریدے لیکن جس شہرمیں اس جنس کاسودااسے دیکھ کرکیاجاتاہواس شہرمیں وہ اسے دیکھ کرخریدسکتاہے۔
مسئلہ (۲۱۰۲)جس چیزکی خریدوفروخت تول کرکی جاتی ہواس کاسوداناپ کربھی کیاجاسکتاہے مثال کے طورپراگرایک شخص دس من گیہوں بیچناچاہے تووہ ایک ایسا پیمانہ جس میں ایک من گیہوں سماتا ہودس مرتبہ بھرکردے سکتاہے۔
مسئلہ (۲۱۰۳)اگرمعاملہ (چوتھی شرط کے علاوہ) جوشرائط بیان کئے گئے ہیں ان میں سے کوئی ایک شرط نہ ہونے کی بناپرباطل ہولیکن بیچنے والااور خریدارایک دوسرے کے مال میں تصرف کرنے پرراضی ہوں توان کے تصرف کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔
مسئلہ (۲۱۰۴)جوچیزوقف کی جاچکی ہواس کاسودا باطل ہے لیکن اگروہ اس قدر خراب ہوجائے کہ جس فائدے کے لئے وقف کی گئی ہے وہ حاصل نہ کیاجاسکے یاوہ چیز خراب ہونے والی ہومثلاً مسجدکی چٹائی اس طرح پھٹ جائے کہ اس پرنمازنہ پڑھی جاسکے توجوشخص متولی ہے یاجسے متولی جیسے اختیارات حاصل ہوں وہ اسے بیچ دے توکوئی حرج نہیں اور(احتیاط مستحب کی بناپر)جہاں تک ممکن ہواس کی قیمت اسی مسجد کے کسی ایسے کام پر خرچ کی جائے جووقف کرنے والے کے مقصدسے قریب ترہو۔
مسئلہ (۲۱۰۵)جب ان لوگوں کے مابین جن کے لئے مال وقف کیاگیاہوایسا اختلاف پیداہوجائے کہ اندیشہ ہوکہ اگروقف شدہ مال فروخت نہ کیاگیاتومال یاکسی کی جان تلف ہوجائے گی تواس کے بیچنے میں اشکال ہے۔ ہاں اگروقف کرنے والایہ شرط لگائے کہ وقف کے بیچ دینے میں کوئی مصلحت ہوتو بیچ دیاجائے تواس صورت میں اسے بیچنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
مسئلہ (۲۱۰۶)جوجائدادکسی دوسرے کوکرائے پردی گئی ہواس کی خریدوفروخت میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن جتنی مدت کے لئے اسے کرائے پردی گئی ہو وہ کرایہ دار کا مال ہے اوراگر خریدار کویہ علم نہ ہوکہ وہ جائداد کرائے پردی جا چکی ہے یااس گمان کے تحت کہ کرائے کی مدت تھوڑی ہے اس جائداد کو خریدلے تو جب اسے حقیقت حال کاعلم ہو،وہ سوداتوڑسکتاہے۔
خریدوفروخت کاصیغہ
مسئلہ (۲۱۰۷)ضروری نہیں کہ خریدوفروخت کاصیغہ عربی زبان میں جاری کیا جائے مثلاًاگربیچنے والا فارسی (یااردو) میں کہے کہ میں نے یہ مال اتنی رقم پربیچا اورخریدار کہے کہ میں نے قبول کیاتوسوداصحیح ہے لیکن یہ ضروری ہے کہ خریداراوربیچنے والاقصد انشاء (معاملے کا) دلی ارادہ رکھتے ہوں یعنی یہ دوجملے کہنے سے ان کی مراد خریدوفروخت ہو۔
مسئلہ (۲۱۰۸)اگرسوداکرتے وقت صیغہ نہ پڑھاجائے لیکن بیچنے والااس مال کے مقابلے میں جووہ خریدار سے لے اپنامال اس کی ملکیت میں دے دے تو سودا صحیح ہے اور دونوں اشخاص متعلقہ چیزوں کے مالک ہوجاتے ہیں ۔
پھلوں کی خریدوفروخت
مسئلہ (۲۱۰۹)جن پھلوں کے پھول گرچکے ہوں اوران میں دانے پڑچکے ہوں اگر ان کے آفت (مثلاً بیماریوں اورکیڑوں کے حملوں ) سے محفوظ ہونے یانہ ہونے کے بارے میں اس طرح علم ہوکہ اس درخت کی پیداوارکااندازہ لگاسکیں تواس کے توڑنے سے پہلے اس کابیچناصحیح ہے بلکہ اگرمعلوم نہ بھی ہوکہ آفت سے محفوظ ہے یانہیں تب بھی اگر دوسال یااس سے زیادہ عرصے کی پیداواریاپھلوں کی صرف اتنی مقدارجواس وقت لگی ہو بیچی جائے( بشرطیکہ اس کی کسی حدتک مالیت ہو)تومعاملہ صحیح ہے۔ اسی طرح اگر زمین کی پیداواریاکسی دوسری چیزکواس کے ساتھ بیچاجائے تومعاملہ صحیح ہے لیکن اس صورت میں احتیاط لازم یہ ہے کہ دوسری چیز(جوضمناًبیچ رہاہووہ)ایسی ہوکہ اگربیج ثمرآورنہ ہوسکیں توخریدار کے سرمائے کوڈوبنے سے بچالے۔
مسئلہ (۲۱۱۰)جس درخت پرپھل لگاہو،دانا بننے اورپھول گرنے سے پہلے اس کا بیچناجائزہے لیکن ضروری ہے کہ اس کے ساتھ کوئی اورچیزبھی بیچے جیساکہ اس سے پہلے والے مسئلے میں بیان کیاگیاہے یا ایک سال سے زیادہ مدت کاپھل بیچے۔
مسئلہ (۲۱۱۱)درخت پرلگی ہوئی وہ کھجوریں جو پکی ہوں یا کچی ہوں ان کوبیچنے میں کوئی حرج نہیں لیکن ان کے عوض میں خواہ اسی درخت کی کھجوریں ہوں یاکسی اور درخت کی،کھجوریں نہ دی جائیں لیکن اگر پکی رطب کو یا کچی کھجور سے بیچا جائے تو اشکال نہیں ہے البتہ اگرایک شخص کاکھجورکادرخت کسی دوسرے شخص کے گھرمیں ہوتواگراس درخت کی کھجوروں کاتخمینہ لگا لیاجائے اوردرخت کامالک انہیں گھرکے مالک کوبیچ دے اور کھجوروں کواس کاعوض نہ قراردیاجائے تو کوئی حرج نہیں ۔
مسئلہ (۲۱۱۲)کھیرے،بینگن،سبزیاں اوران جیسی(دوسری)چیزیں ساگ وغیرہ جو سال میں کئی دفعہ توڑی جاتی ہوں اگر وہ اگ آئی ہوں اوریہ طے کرلیاجائے کہ خریدارانہیں سال میں کتنی دفعہ توڑے گاتوانہیں بیچنے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن اگراگی نہ ہوں توانہیں بیچنے میں اشکال ہے۔
مسئلہ (۲۱۱۳)اگردانہ آنے کے بعدگندم کے خوشے کوگندم سے جوخوداس سے حاصل ہوتی ہے یاکسی دوسرے خوشے کے عوض بیچ دیاجائے توسوداصحیح نہیں ہے۔
نقداورادھارکے احکام
مسئلہ (۲۱۱۴)اگرکسی جنس کونقدبیچاجائے توسوداطے پاجانے کے بعدخریدار اور بیچنے والاایک دوسرے سے جنس اوررقم کامطالبہ کرسکتے ہیں اوراسے اپنے قبضے میں لے سکتے ہیں ۔منقولہ چیزوں مثلاًقالین اورلباس کوقبضے میں دینے اورغیرمنقولہ چیزوں مثلاً گھر اورزمین کوقبضے میں دینے سے مرادیہ ہے کہ ان چیزوں سے دست بردار ہوجائے اور انہیں فریق ثانی کی تحویل میں اس طرح دےدے کہ جب وہ چاہے اس میں تصرف کر سکے اورواضح رہے کہ مختلف چیزوں میں تصرف مختلف طریقے سے ہوتاہے۔
مسئلہ (۲۱۱۵)ادھار کے معاملے میں ضروری ہے کہ مدت ٹھیک ٹھیک معلوم ہو۔ لہٰذااگرایک شخص کوئی چیزاس وعدے پربیچے کہ وہ اس کی قیمت فصل اٹھنے پرلے گاتو چونکہ اس کی مدت ٹھیک ٹھیک معین نہیں ہوئی اس لئے سوداباطل ہے۔
مسئلہ (۲۱۱۶)اگرکوئی شخص اپنامال ادھار بیچے توجومدت طے ہوئی ہواس کی میعاد پوری ہونے سے پہلے وہ خریدار سے اس کے عوض کامطالبہ نہیں کرسکتالیکن اگرخریدار مر جائے اوراس کااپناکوئی مال ہوتوبیچنے والاطے شدہ میعادپوری ہونے سے پہلے ہی جورقم لینی ہواس کامطالبہ مرنے والے کے ورثاء سے کرسکتاہے۔
مسئلہ (۲۱۱۷)اگرکوئی شخص ایک چیزادھاربیچے توطے شدہ مدت گزرنے کے بعد وہ خریدار سے اس کے عوض کامطالبہ کرسکتاہے لیکن اگرخریدارادائیگی نہ کرسکتاہوتو ضروری ہے کہ بیچنے والااسے مہلت دے یاسوداختم کردے اوراگروہ چیزجوبیچی ہے موجودہوتو اسے واپس لے لے۔
مسئلہ (۲۱۱۸)اگرکوئی شخص ایک ایسے فرد کوجسے کسی چیزکی قیمت معلوم نہ ہواس کی کچھ مقدار ادھاردے اور اس کی قیمت اسے نہ بتائے توسوداباطل ہے۔لیکن اگرایسے شخص کو جسے جنس کی نقدقیمت معلوم ہوادھار پرمہنگے داموں پربیچے مثلاًکہے کہ: جوجنس میں تمہیں ادھار دے رہاہوں اس کی قیمت سے جس پرمیں نقدبیچتاہوں ایک پیسہ فی روپیہ زیادہ لوں گااورخریدار اس شرط کوقبول کرلے توایسے سودے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
مسئلہ (۲۱۱۹)اگرایک شخص نے کوئی جنس ادھار فروخت کی ہواوراس کی قیمت کی ادائیگی کے لئے مدت مقررکی گئی ہوتواگرمثال کے طورپرآدھی مدت گزرنے کے بعد (فروخت کرنے والا) واجب الادا رقم میں کٹوتی کردے اورباقی ماندہ رقم نقدلے لے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
معاملہ ٔ سلف اور اس کی شرائط
مسئلہ (۲۱۲۰)معاملہ ٔ سلف (پیشگی سودا) سے مرادیہ ہے کہ کوئی شخص نقدرقم لے کر پورامال جووہ مقررہ مدت کے بعدتحویل میں دے گا،بیچ دے لہٰذااگرخریدارکہے کہ میں یہ رقم دے رہاہوں تاکہ مثلاً چھ مہینے بعدفلاں چیزلے لوں اوربیچنے والاکہے کہ میں نے قبول کیایابیچنے والارقم لے لے اورکہے کہ میں نے فلاں چیزبیچی اوراس کا قبضہ چھ مہینے بعد دوں گاتوسوداصحیح ہے۔
مسئلہ (۲۱۲۱)اگرکوئی شخص سونے یاچاندی کے سکے بطورسلف بیچے اوراس کے عوض چاندی یاسونے کے سکے لے توسوداباطل ہے لیکن اگرکوئی ایسی چیز یاسکے جوسونے یاچاندی کے نہ ہوں بیچے اوران کے عوض کوئی دوسری چیزیاسونے یاچاندی کے سکے لے توسودا(اس تفصیل کے مطابق) صحیح ہے جوآئندہ مسئلے کی ساتویں شرط میں بتائی جائے گی اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ جومال بیچے اس کے عوض رقم لے، کوئی دوسرامال نہ لے۔
مسئلہ (۲۱۲۲)معاملہ ٔ سلف میں سات شرطیں ہیں :
۱:) ان خصوصیات کوجن کی وجہ سے کسی چیز کی قیمت میں فرق پڑتاہو معین کردیا جائے۔لیکن زیادہ تفصیلات میں جانے کی ضرورت نہیں بلکہ اسی قدرکافی ہے کہ لوگ کہیں کہ اس کی خصوصیات معلوم ہوگئی ہیں ۔
۲:) اس سے پہلے کہ خریدار اوربیچنے والاایک دوسرے سے جداہوجائیں خریدار پوری قیمت بیچنے والے کودے یااگربیچنے والاخریدار کااتنی ہی رقم کا مقروض ہو اور خریدار کو اس سے جو کچھ لیناہو اسے مال کی قیمت میں حساب کرلے اور بیچنے والااس بات کو قبول کرے اوراگرخریدار اس مال کی قیمت کی کچھ مقدار بیچنے والے کو دےدے تو اگر چہ اس مقدار کی نسبت سے سوداصحیح ہے۔ لیکن بیچنے والا سودا فسخ کرسکتاہے۔
۳:) مدت کوٹھیک معین کیاجائے۔ مثلاًاگربیچنے والاکہے کہ فصل کاقبضہ کٹائی پر دوں گا توچونکہ اس سے مدت کا ٹھیک ٹھیک تعین نہیں ہوتااس لئے سوداباطل ہے۔
۴:) جنس کاقبضہ دینےکے لئے ایساوقت معین کیاجائے جس میں بیچنے والاجنس کاقبضہ دے سکے خواہ وہ جنس کمیاب ہویافراوان ہو۔
۵:) جنس کاقبضہ دینے کی جگہ کا تعین( احتیاط واجب کی بناپر)مکمل طور پر کیا جائے ۔ لیکن اگر طرفین کی باتوں سے جگہ کا پتاچل جائے تواس کانام لیناضروری نہیں ۔
۶:) اس جنس کاتول یاناپ یا عدد معین کیاجائے اور جس چیزکاسوداعموماً دیکھ کرکیاجاتا ہے اگر اسے بطورسلف بیچاجائے تواس میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن مثال کے طورپراخروٹ اور انڈوں کی بعض قسموں میں تعداد کافرق ضروری ہے کہ اتناہوکہ لوگ اسے اہمیت نہ دیں ۔
۷:) جس چیزکوبطورسلف بیچاجائے اگروہ ایسی ہوں جنہیں تول کریاناپ کربیچا جاتا ہےتو اس کا عوض اسی جنس سے نہ ہوبلکہ احتیاط لازم کی بناپردوسری جنس میں سے بھی ایسی چیزنہ ہوجسے تول کریاناپ کربیچاجاتاہے اوراگروہ چیزجسے بیچاجارہاہے ان چیزوں میں سے ہوجنہیں گن کربیچاجاتاہو تو(احتیاط واجب کی بناپر)جائزنہیں ہے کہ اس کاعوض خود اسی کی جنس سے زیادہ مقدارمیں مقررکرے۔
معاملہ ٔ سلف کے احکام
مسئلہ (۲۱۲۳)جوجنس کسی نے بطورسلف خریدی ہواسے وہ مدت ختم ہونے سے پہلے بیچنے والے کے سوا کسی اور کے ہاتھ نہیں بیچ سکتااورمدت ختم ہونے کے بعداگرچہ خریدارنے اس کاقبضہ نہ بھی لیاہواسے بیچنے میں کوئی حرج نہیں ۔البتہ پھلوں کے علاوہ جن غلوں مثلاً گیہوں اورجووغیرہ کوتول کریاناپ کرفروخت کیاجاتاہے انہیں اپنے قبضے میں لینے سے پہلے ان کا دوسرےخریدار کوبیچناجائزنہیں ہے ماسوااس کے کہ جس قیمت پراس نے خریدی ہوں اسی قیمت پریااس سے کم قیمت پربیچے۔
مسئلہ (۲۱۲۴)سلف کے لین دین میں اگربیچنے والامدت ختم ہونے پراس چیزکا قبضہ دے جس کاسوداہواہے توخریدارکےلئے قبول کرنا ضروری ہے اور اگر بہتر دے دیا ہوتو قبول کرنا ضروری ہے البتہ منظور شدہ شرط سے بہتر چیز کی نفی کرنا بہتر ہے ۔
مسئلہ (۲۱۲۵)اگربیچنے والاجوجنس دے وہ اس جنس سے گھٹیاہوجس کاسوداہوا ہے تو خریدار اسے قبول کرنے سے انکار کرسکتاہے۔
مسئلہ (۲۱۲۶)اگربیچنے والااس جنس کے بجائے جس کاسوداہواہے کوئی دوسری جنس دے اورخریدار اسے لینے پرراضی ہوجائے تواشکال نہیں ہے۔
مسئلہ (۲۱۲۷)جوچیزبطورسلف بیچی گئی ہواگروہ خریدار کے حوالے کرنے کے لئے طے شدہ وقت پردستیاب نہ ہوسکے توخریدارکواختیارہے کہ انتظار کرے تاکہ بیچنے والا اسے مہیاکردے یاسودافسخ کردے اور جوچیز بیچنے والے کودی ہواسے واپس لے لے اور (احتیاط واجب کی بناپر)وہ چیزبیچنے والے کوزیادہ قیمت پرنہیں بیچ سکتا۔
مسئلہ (۲۱۲۸)اگرایک شخص کوئی چیز بیچے اورمعاہدہ کرے کہ کچھ مدت بعد وہ چیز خریدار کے حوالے کردے گااور اس کی قیمت بھی کچھ مدت بعدلے گاتوایساسوداباطل ہے۔
سونے چاندی کوسونے چاندی کے عوض بیچنا
مسئلہ (۲۱۲۹)اگرسونے کوسونے سے یاچاندی کوچاندی سے بیچاجائے توچاہے وہ سکہ دارہوں یانہ ہوں اگران میں سے ایک کاوزن دوسرے وزن سے زیادہ ہوتوایساسودا حرام اور باطل ہے۔
مسئلہ (۲۱۳۰)اگرسونے کوچاندی سے یاچاندی کوسونے سے نقد بیچاجائے تو سودا صحیح ہے اور ضروری نہیں کہ دونوں کاوزن برابرہو۔لیکن اگرمعاملے میں مدت معین ہوتو باطل ہے۔
مسئلہ (۲۱۳۱)اگرسونے یاچاندی کوسونے یاچاندی کے عوض بیچاجائے توضروری ہے کہ بیچنے والااور خریدار ایک دوسرے سے جداہونے سے پہلے جنس اور اس کا عوض ایک دوسرے کے حوالے کردیں اور اگرجس چیزکے بارے میں معاملہ طے ہواہے اس کی کچھ مقدار بھی ایک دوسرے کے حوالے نہ کی جائے تومعاملہ باطل ہے اگر کچھ حصہ بھی دےدیا جائے تو اس کی مقدار کے بقدر معاملہ صحیح ہے۔
مسئلہ (۲۱۳۲)اگربیچنے والے یاخریدار میں سے کوئی ایک طے شدہ مال پوراپورا دوسرے کے حوالے کردے لیکن دوسرا (مال کی صرف) کچھ مقدارحوالے کرے اور پھر وہ ایک دوسرے سے جداہوجائیں تو اگرچہ اتنی مقدار کے متعلق معاملہ صحیح ہے لیکن جس کو پورامال نہ ملاہووہ سودافسخ کرسکتاہے۔
مسئلہ (۲۱۳۳)اگرچاندی کی کان کی مٹی کوخالص چاندی سے اور سونے کی کان کی سونے کی مٹی کوخالص سونے سے بیچاجائے توسوداباطل ہے۔( مگریہ کہ جب جانتے ہوں کہ مثلاً چاندی کی مٹی کی مقدار خالص چاندی کی مقدار کے برابر ہے) لیکن جیسا کہ پہلے کہا جاچکاہے چاندی کی مٹی کوسونے کے عوض اورسونے کی مٹی کوچاندی کے عوض بیچنے میں کوئی اشکال نہیں ۔
معاملہ فسخ کئے جانے کی صورتیں
مسئلہ (۲۱۳۴)معاملہ فسخ کرنے کے حق کو ’’خیار‘‘ کہتے ہیں اورخریدار اوربیچنے والا گیارہ صورتوں میں معاملہ فسخ کرسکتے ہیں :
۱:) جس نشست میں معاملہ ہواہے وہ برخاست نہ ہوئی ہواگرچہ سوداہوچکاہواسے ’’خیارمجلس‘‘ کہتے ہیں ۔
۲:) خریدوفروخت کے معاملے میں خریداریابیچنے والانیزدوسرے معاملات میں طرفین میں سے کوئی ایک مغبون ہوجائے،اسے ’’خیارغبن‘‘ کہتے ہیں (مغبون سے مراد وہ شخص ہے جس کے ساتھ فراڈکیاگیاہو)خیارکی اس قسم کا منشاعرف عام میں شرط ارتکازی ہوتاہے یعنی ہر معاملے میں فریقین کے ذہن میں یہ شرط موجود ہوتی ہے جو مال حاصل کررہاہے اس کی قیمت مال سے بہت زیادہ کم نہیں جووہ اداکررہاہے اور اگر اس کی قیمت کم ہوتووہ معاملے کوختم کرنے کاحق رکھتاہے لیکن عرف خاص کی چند صورتوں میں ارتکازی شرط دوسری طرح ہومثلاً یہ شرط ہوکہ اگرجومال لیاہووہ بلحاظ قیمت اس مال سے کم ہوجواس نے دیاہے تودونوں (مال) کے درمیان جوکمی بیشی ہوگی اس کا مطالبہ کر سکتاہے اوراگرممکن نہ ہوسکے تومعاملے کوختم کردے اورضروری ہے کہ اس قسم کی صورتوں میں عرف خاص کاخیال رکھاجائے۔
۳:) سوداکرتے وقت یہ طے کیاجائے کہ مقررہ مدت تک فریقین کویاکسی ایک فریق کو سودافسخ کرنے کااختیارہوگا۔اسے ’’خیارشرط‘‘ کہتے ہیں ۔
۴:) فریقین میں سے ایک فریق اپنے مال کواس کی اصلیت سے بہتربتاکرپیش کرے جس کی وجہ سے دوسرافریق اس میں دلچسپی لے یااس کی دلچسپی اس میں بڑھ جائے اسے ’’خیارتدلیس‘‘ کہتے ہیں ۔
۵:) فریقین میں سے ایک فریق دوسرے کے ساتھ شرط کرے کہ وہ فلاں کام انجام دے گااور اس شرط پرعمل نہ ہویاشرط کے بجائے کہ ایک فریق دوسرے فریق کوایک مخصوص قسم کامعین مال دے گااورجومال دیاجائے اس میں وہ خصوصیت نہ ہو،اس صورت میں شرط لگانے والا فریق معاملے کوفسخ کرسکتاہے۔اسے ’’خیارتخلف شرط‘‘ کہتے ہیں ۔
۶:) دی جانے والی جنس یااس کے عوض میں کوئی عیب ہو۔اسے ’’خیار عیب‘‘ کہتے ہیں ۔
۷:) یہ پتاچلے کہ فریقین نے جس جنس کاسوداکیاہے اس کی کچھ مقدارکسی اورشخص کا مال ہے۔اس صورت میں اگراس مقدارکامالک سودے پرراضی نہ ہوتوخریدنے والا سودا فسخ کرسکتاہے یااگر اتنی مقدار کی ادائیگی کرچکاہوتواسے واپس لے سکتاہے۔اسے ’’خیار شرکت‘‘ کہتے ہیں ۔
۸:) جس معین جنس کودوسرے فریق نے نہ دیکھاہواگراس جنس کامالک اسے اس کی خصوصیات بتائے اوربعدمیں معلوم ہوکہ جوخصوصیات اس نے بتائی تھیں وہ اس میں نہیں ہیں یادوسرے فریق نے پہلے اس جنس کودیکھاتھااوراس کاخیال تھاکہ وہ خصوصیات اب بھی اس میں باقی ہیں لیکن دیکھنے کے بعدمعلوم ہوکہ وہ خصوصیات اب اس میں باقی نہیں ہیں تواس صورت میں دوسرا فریق معاملہ فسخ کرسکتاہے۔ اسے ’’خیار رؤیت‘‘ کہتے ہیں ۔
۹:) خریدارنے جوجنس خریدی ہواگراس کی قیمت تین دن تک نہ دے اور بیچنے والے نے بھی وہ جنس خریدارکے حوالے نہ کی ہوتوبیچنے والاسودے کوختم کرسکتاہے لیکن ایسااس صورت میں ہوسکتاہے جب بیچنے والے نے خریدارکوقیمت اداکرنے کی مہلت دی ہولیکن مدت معین نہ کی ہواور اگراس کوبالکل مہلت نہ دی ہوتوبیچنے والاقیمت کی ادائیگی میں معمولی سی تاخیر سے بھی سوداختم کرسکتا ہے اوراگراسے تین دن سے زیادہ مہلت دی ہوتومدت پوری ہونے سے پہلے سوداختم نہیں کر سکتا۔اس سے یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ جوجنس بیچی ہے اگروہ بعض ایسے پھلوں یا سبزیوں کی ہو جو تین دن سے پہلے ضائع ہوجاتی ہے تواس کی مہلت کم ہوگی ۔اسے ’’خیارتاخیر‘‘ کہتے ہیں ۔
۱۰:) جس شخص نے کوئی جانورخریداہووہ تین دن تک سودافسخ کرسکتاہے اورجوچیز اس نے بیچی ہواگراس کے عوض میں خریدار نے جانوردیاہوتوجانوربیچنے والابھی تین دن تک سودافسخ کرسکتاہے۔اسے ’’خیارحیوان‘‘ کہتے ہیں ۔
۱۱:) بیچنے والے نے جوچیزبیچی ہواگراس کاقبضہ نہ دے سکے مثلاً جوگھوڑااس نے بیچا ہووہ بھاگ گیاہوتواس صورت میں خریدارسودافسخ کرسکتاہے۔اسے ’’خیار تعذّرتسلیم‘‘ کہتے ہیں ۔
مسئلہ (۲۱۳۵)اگرخریدار کوجنس کی قیمت کاعلم نہ ہویاوہ سوداکرتے وقت غفلت برتے اور اس چیز کو عام قیمت سے مہنگا خریدے اوریہ قیمت خریدبڑی حدتک مہنگی ہوتووہ سوداختم کرسکتاہے بشرطیکہ سوداختم کرتے وقت وہ غبن (فراڈ) باقی ہو ورنہ حق خیار میں اشکال ہےنیز اگربیچنے والے کوجنس کی قیمت کاعلم نہ ہویاسوداکرتے وقت غفلت برتے اوراس جنس کواس کی قیمت سے سستابیچے اور بڑی حد تک سستا بیچے اس صورت میں کہ سستی قیمت عام طور سے قابل توجہ ہو توسابقہ شرط کے مطابق سوداختم کرسکتا ہے۔
مسئلہ (۲۱۳۶)مشروط خریدوفروخت میں جب کہ مثال کے طورپرایک لاکھ روپے کا مکان پچاس ہزار روپے میں بیچ دیاجائے اورطے کیاجائے کہ اگربیچنے والامقررہ مدت تک رقم واپس کردے توسودافسخ کرسکتاہے تواگرخریدار اوربیچنے والا واقعی خریدوفروخت کی نیت رکھتے ہوں توسوداصحیح ہے۔
مسئلہ (۲۱۳۷)مشروط خریدوفروخت میں اگربیچنے والے کواطمینان ہوکہ خریدار مقررہ مدت میں رقم ادا نہ کرسکنے کی صورت میں مال اسے واپس کردے گا توسودا صحیح ہے لیکن اگروہ مدت ختم ہونے تک رقم ادانہ کرسکے تووہ خریدارسے مال کی واپسی کامطالبہ کرنے کاحق نہیں رکھتااور اگرخریدار مرجائے تواس کے ورثاء سے مال کی واپسی کامطالبہ نہیں کرسکتا۔
مسئلہ (۲۱۳۸)اگرکوئی شخص عمدہ چائے میں گھٹیاچائے کی ملاوٹ کرکے عمدہ چائے کے طورپربیچے تو خریدارسودافسخ سکتاہے۔
مسئلہ (۲۱۳۹)اگرخریدارکوپتاچلے کہ جومعین مال اس نے خریداہے وہ عیب دار ہے مثلاً ایک جانور خریدے اور (خریدنے کے بعد) اسے پتاچلے کہ اس کی ایک آنکھ نہیں ہے لہٰذا اگریہ عیب مال میں سودے سے پہلے تھااوراسے علم نہیں تھاتووہ سودافسخ کر سکتا ہے اورمال بیچنے والے کوواپس کرسکتاہے اور اگرواپس کرناممکن نہ ہومثلاًاس مال میں کوئی تبدیلی ہوگئی ہویاایساتصرف کرلیاگیاہوجوواپسی میں رکاوٹ بن رہاہوتوجسے اس نے بیچ دیا ہو کرایہ پر دے دیا ہو یا کپڑے کو کاٹ دیا یا سل دیا ہواس صورت میں وہ بے عیب اورعیب دار مال کی قیمت کے فرق کاحساب کرکے بیچنے والے سے (فرق کی) رقم واپس لے لے مثلاً اگراس نے کوئی مال چارروپے میں خریداہواور اسے اس کے عیب دارہونے کاعلم ہوجائے تواگرایساہی بے عیب مال (بازارمیں ) آٹھ روپے کااورعیب دارچھ روپے کاہوتوچونکہ بے عیب اورعیب دارکی قیمت کافرق ایک چوتھائی ہے اس لئے اس نے جتنی رقم دی ہے اس کاایک چوتھائی یعنی ایک روپیہ بیچنے والے سے واپس لے سکتاہے۔
مسئلہ (۲۱۴۰)اگربیچنے والے کوپتاچلے کہ اس نے جس معین عوض کے بدلے اپنا مال بیچاہے اس میں عیب ہے تواگروہ عیب اس عوض میں سودے سے پہلے موجودتھااور اسے علم نہ ہواہووہ سودافسخ کر سکتاہے اوروہ عوض اس کے مالک کوواپس کرسکتاہے لیکن اگر تبدیلی یاتصرف کی وجہ سے واپس نہ کر سکے توبے عیب کی قیمت کافرق اس قاعدے کے مطابق لے سکتاہے جس کاذکرسابقہ مسئلے میں کیاگیاہے۔
مسئلہ (۲۱۴۱)اگرسوداکرنے کے بعداورقبضہ دینے سے پہلے مال میں کوئی عیب پیداہوجائے توخریدار سودافسخ کرسکتاہے نیزجوچیزمال کے عوض دی جائے اگراس میں سوداکرنے کے بعداورقبضہ دینے سے پہلے کوئی عیب پیداہوجائے توبیچنے والاسودافسخ کر سکتاہے اوراگرفریقین قیمت کافرق لیناچاہیں توواپس کرنا ناممکن ہونے کی صورت میں جائزہے۔
مسئلہ (۲۱۴۲)اگرکسی شخص کومال کے عیب کاعلم سوداکرنے کے بعدہوتواگروہ (سوداختم کرنا) چاہے توضروری ہے کہ فوراً سودے کوختم کردے( اور اختلاف کی صورتوں کو پیش نظررکھتے ہوئے) اگرمعمول سے زیادہ تاخیرکرے تووہ سودے کوختم نہیں کرسکتا۔
مسئلہ (۲۱۴۳)جب کسی شخص کوکوئی جنس خریدنے کے بعداس کے عیب کاپتاچلے تو خواہ بیچنے والااس پر تیارنہ بھی ہوخریدارسودافسخ کرسکتاہے اور دوسرے خیارات کے لئے بھی یہی حکم ہے۔
مسئلہ (۲۱۴۴)دوصورتوں میں خریدارمال میں عیب ہونے کی بناپرسودافسخ نہیں کر سکتااورنہ ہی قیمت کافرق لے سکتاہے:
۱:) خریدتے وقت مال کے عیب سے واقف ہو۔
۲:)سودے کے وقت بیچنے والاکہے: ’’میں اس مال کوجوعیب بھی اس میں ہے اس کے ساتھ بیچتاہوں ‘‘۔ لیکن اگروہ ایک عیب کاتعین کردے اورکہے: ’’میں اس مال کوفلاں عیب کے ساتھ بیچ رہا ہوں ‘‘ اور بعدمیں معلوم ہوکہ مال میں کوئی دوسراعیب بھی ہے تو جو عیب بیچنے والے نے معین نہ کیاہواس کی بناپرخریداروہ مال واپس کرسکتاہے اور اگرواپس نہ کرسکے توقیمت کافرق لے سکتاہے۔
مسئلہ (۲۱۴۵)اگرخریدار کومعلوم ہوکہ مال میں ایک عیب ہے اوراسے وصول کرنے کے بعداس میں کوئی اورعیب نکل آئے تووہ سودافسخ نہیں کرسکتالیکن بے عیب اور عیب دار مال کافرق لے سکتاہے لیکن اگروہ عیب دارحیوان خریدے اورخیارکی مدت جو تین دن ہے گزرنے سے پہلے اس حیوان میں کسی اورعیب کاپتاچل جائے توگوخریدار نے اپنی تحویل میں لے لیاہوپھربھی وہ اسے واپس کرسکتاہے۔نیزاگرفقط خریدارکوکچھ مدت تک سودافسخ کرنے کاحق حاصل ہواوراس مدت کے دوران مال میں کوئی دوسرا عیب نکل آئے تواگرچہ خریدار نے وہ مال اپنی تحویل میں لے لیاہووہ سودافسخ کرسکتا ہے۔
مسئلہ (۲۱۴۶)اگرکسی شخص کے پاس ایسامال ہوجسے اس نے بچشم خودنہ دیکھاہواور کسی دوسرے شخص نے مال کی خصوصیات اسے بتائی ہوں اوروہی خصوصیات خریدار کو بتائے اوروہ مال اس کے ہاتھ بیچ دے اوربعدمیں اسے (یعنی مالک کو) پتاچلے کہ وہ مال اس سے بہترخصوصیات کاحامل ہے تووہ سودافسخ کرسکتاہے۔
متفرق مسائل
مسئلہ (۲۱۴۷)اگربیچنے والاخریدارکوکسی جنس کی قیمت خریدبتائے توضروری ہے کہ وہ تمام چیزیں بھی اسے بتائے جن کی وجہ سے مال کی قیمت گھٹتی بڑھتی ہے اگرچہ اسی قیمت پر (جس پرخریداہے) یااس سے بھی کم قیمت پربیچے۔مثلاًاسے بتاناضروری ہے کہ مال نقدخریداہے یاادھارلہٰذااگرمال کی کچھ خصوصیات نہ بتائے اورخریدار کوبعدمیں معلوم ہوتووہ سودافسخ کرسکتاہے۔
مسئلہ (۲۱۴۸)اگرانسان کوئی جنس کسی کودے اوراس کی قیمت معین کردے اور کہے: ’’یہ جنس اس قیمت پربیچواوراس سے زیادہ جتنی قیمت وصول کروگے وہ تمہاری محنت کی اجرت ہوگی‘‘تواس صورت میں وہ شخص اس قیمت سے زیادہ جتنی قیمت بھی وصول کرے وہ جنس کے مالک کامال ہوگااوربیچنے والا مالک سے فقط محنتانہ لے سکتاہے لیکن اگر معاہدہ بطورجعالہ (حق العمل) ہواورمال کامالک کہے کہ اگرتونے یہ جنس اس قیمت سے زیادہ پربیچی توفاضل آمدنی تیرامال ہے تواس میں کوئی حرج نہیں ۔
مسئلہ (۲۱۴۹)اگرقصاب نرجانورکاگوشت کہہ کرمادہ کاگوشت بیچے تووہ گنہگار ہوگا لہٰذااگروہ اس گوشت کومعین کردے اورکہے کہ میں یہ نرجانورکاگوشت بیچ رہاہوں تو خریدار سودافسخ کرسکتاہے اور اگرقصاب اس گوشت کومعین نہ کرے اورخریدار کوجوگوشت ملاہو (یعنی مادہ کاگوشت) وہ اس پرراضی نہ ہوتوضروری ہے کہ قصاب اسے نرجانورکا گوشت دے۔
مسئلہ (۲۱۵۰)اگرخریداربزازسے کہے کہ مجھے ایساکپڑاچاہئے جس کارنگ کچانہ ہو اور بزازایک ایساکپڑااس کے ہاتھ فروخت کرے جس کارنگ کچاہوتوخریدارسودا فسخ کر سکتاہے۔
مسئلہ (۲۱۵۱)اگر جنس بیچنے والا جنس کو فروخت کرے جسے قبضہ میں نہیں دےسکتا جیسے کسی ایسے گھوڑے کو بیچے جو بھاگ گیا ہو تو اس صورت میں معاملہ باطل ہوجائے گا اور خریدنے والا اپنی رقم کا مطالبہ کرسکتا ہے۔

