توضیح المسائل اردو آیت الله سیستانی

وہ اشخاص جواپنے مال میں تصرف نہیں کرسکتے

مسئلہ (۲۲۷۰)جوبچہ بالغ نہ ہواہووہ اپنی ذمہ داری اوراپنے مال میں شرعاً تصرف نہیں کرسکتااگرچہ اچھے اور برے کوسمجھنے میں حدکمال اوررشدتک پہنچ گیاہواور سرپرست کی گذشتہ اجازت اس بارے میں کوئی فائدہ نہیں رکھتی اور بعد کی اجازت میں بھی اشکال ہے۔لیکن چندچیزوں میں بچے کا تصرف کرناصحیح ہے،ان میں سے کم قیمت والی چیزوں کی خریدوفروخت کرناہے جیسے کہ مسئلہ ( ۲۰۹۲) میں گذرچکاہے۔اسی طرح بچے کا اپنے خونی رشتے داروں اورقریبی رشتے داروں کے لئے وصیت کرناجس کابیان مسئلہ (۲۷۱۴ ) میں آئے گا۔لڑکی میں بالغ ہونے کی علامت یہ ہے کہ وہ نوقمری سال پورے کرلے اور لڑکے کے بالغ ہونے کی علامت تین چیزوں میں سے ایک ہوتی ہے:

۱:
) ناف کے نیچے اورشرم گاہ سے اوپرسخت بالوں کااگنا۔

۲:
)منی کاخارج ہونا۔

۳:
)عمرکے پندرہ قمری سال پورے کرنا۔

مسئلہ (۲۲۷۱)چہرے پراورہونٹوں کے اوپرسخت بالوں کااگنابعیدنہیں کہ بلوغت کی علامت ہولیکن سینے پراوربغل کے نیچے بالوں کااگنااورآواز کابھاری ہوجانااورایسی ہی دوسری علامات بلوغت کی نشانیاں نہیں ہیں ۔

مسئلہ (۲۲۷۲)دیوانہ اپنے مال میں تصرف نہیں کرسکتا۔اسی طرح دیوالیہ یعنی وہ شخص جسے اس کے قرض خواہوں کے مطالبے پرحاکم شرع نے اپنے مال میں تصرف کرنے سے منع کردیاہو، قرض خواہوں کی اجازت کے بغیراس مال میں تصرف نہیں کر سکتا اوراسی طرح سفیہ یعنی وہ شخص جواپنامال احمقانہ اور فضول کاموں میں خرچ کرتاہو، سرپرست کی اجازت کے بغیراپنے مال میں تصرف نہیں کرسکتا۔

مسئلہ (۲۲۷۳)جوشخص کبھی عاقل اورکبھی دیوانہ ہوجائے اس کادیوانگی کی حالت میں اپنے مال میں تصرف کرناصحیح نہیں ہے۔

مسئلہ (۲۲۷۴)انسان کواختیارہے مرض الموت کے عالم میں اپنے آپ پریااپنے اہل وعیال اورمہمانوں پراوران کاموں پرجوفضول خرچی میں شمارنہ ہوں جتناچاہے صرف کرے اوراگراپنے مال کواس کی (اصل) قیمت پر فروخت کرے یاکرائے پردے توکوئی اشکال نہیں ہے۔لیکن اگرمثلاً اپنامال کسی کو بخش دے یارائج قیمت سے سستا فروخت کرے توجتنی مقداراس نے بخش دی ہے یاجتنی سستی فروخت کی ہے اگروہ اس کے مال کی ایک تہائی کے برابریا اس سے کم ہوتواس کاتصرف کرناصحیح ہے اور اگرایک تہائی سے زیادہ ہوتوورثاء کی اجازت کی صورت میں اس کاتصرف کرناصحیح ہے اوراگر ورثاء اجازت نہ دیں توایک تہائی سے زیادہ میں اس کاتصرف باطل ہے۔