توضیح المسائل اردو آیت الله سیستانی

نکاح کے احکام

عقدازدواج کے ذریعے عورت،مردپراورمرد،عورت پرحلال ہوجاتے ہیں اورعقد کی دوقسمیں ہیں : پہلی دائمی اور دوسری غیردائمی – عقد دائمی اسے کہتے ہیں جس میں ازدواج کی مدت معین نہ ہواوروہ ہمیشہ کے لئے ہواور جس عورت سے اس قسم کاعقد کیاجائے اسے دائمہ کہتے ہیں اورغیردائمی عقدوہ ہے جس میں ازدواج کی مدت معین ہومثلاً عورت کے ساتھ ایک گھنٹے یاایک دن یاایک مہینے یاایک سال یااس سے زیادہ مدت کے لئے عقدکیاجائے لیکن اس عقد کی مدت عورت اورمرد کی عام عمرسے زیادہ نہیں ہونی چاہئے کیونکہ اس صورت میں عقد باطل ہوجائے گا۔جب عورت سے اس قسم کاعقد کیاجائے تواسے ’’متعہ‘‘ یا’’صیغہ‘‘ کہتے ہیں ۔

عقد کے احکام

مسئلہ (۲۳۸۲)ازدواج خواہ دائمی ہویاغیردائمی اس میں صیغہ پڑھنا ضروری ہے۔ عورت اور مرد کامحض رضامندہونااسی طرح (نکاح نامہ) لکھنا (احتیاط واجب کی بناء پر)کافی نہیں ہے۔نکاح کاصیغہ یاتوعورت اورمردخودپڑھتے ہیں یاکسی کووکیل مقرر کر لیتے ہیں تاکہ وہ ان کی طرف سے پڑھ دے۔

مسئلہ (۲۳۸۳)وکیل کامردہونالازم نہیں بلکہ عورت بھی نکاح کاصیغہ پڑھنے کے لئے کسی دوسرے کی جانب سے وکیل ہوسکتی ہے۔

مسئلہ (۲۳۸۴)عورت اورمردکوجب تک اطمینان نہ ہوجائے کہ ان کے وکیل نے صیغہ پڑھ دیاہے اس وقت تک وہ ایک دوسرے کو محرمانہ نظروں سے نہیں دیکھ سکتے اوراس بات کاگمان کہ وکیل نے صیغہ پڑھ دیاہے کافی نہیں بلکہ اگروکیل کہہ دے کہ میں نے صیغہ پڑھ دیاہے لیکن اس کی بات پر اطمینان نہ ہوتواحتیاط واجب کی بناء پر اس کی بات پر ترتیب اثر نہ دیا جائے ۔

مسئلہ (۲۳۸۵)اگرکوئی عورت کسی کو وکیل مقررکرے اورکہے کہ تم میرانکاح دس دن کے لئے فلاں شخص کے ساتھ پڑھ دواوردس دن کی ابتداکومعین نہ کرے تووہ (نکاح خوان) وکیل جن دس دنوں کے لئے چاہے اسے اس مردکے نکاح میں دے سکتاہے لیکن اگروکیل کومعلوم ہوکہ عورت کامقصد کسی خاص دس دن یاگھنٹے کاہے توپھراسے چاہئے کہ عورت کے قصد کے مطابق صیغہ پڑھے۔

مسئلہ (۲۳۸۶)عقددائمی یاعقدغیردائمی کاصیغہ پڑھنے کے لئے ایک شخص دو اشخاص کی طرف سے وکیل بن سکتاہے اورانسان یہ بھی کرسکتاہے کہ عورت کی طرف سے وکیل بن جائے اوراس سے خود دائمی یاغیردائمی نکاح کرلے لیکن احتیاط مستحب یہ ہے کہ نکاح دواشخاص پڑھیں ۔

نکاح پڑھنے کاطریقہ

مسئلہ (۲۳۸۷)اگرعورت اورمردخوداپنے دائمی نکاح کاصیغہ پڑھیں تومہرمعین کرنے کے بعدپہلے عورت کہے: ’’زَوَّجْتُکَ نَفْسِیْ عَلَی الصِّدَاقِ الْمَعْلُوْمِ‘‘ یعنی میں نے اس مہرپرجومعین ہوچکاہے اپنے آپ کوتمہاری بیوی بنایااوراس کے فوراًبعدمردکہے : ’’قَبِلْتُ التَّزْوِیْجَ‘‘ یعنی میں نے ازدواج کوقبول کیاتونکاح صحیح ہے اور اسی طرح اگر صرف’’قبلت‘‘کہے تو بھی صحیح ہے اور اگروہ کسی دوسرے کووکیل مقررکریں کہ ان کی طرف سے صیغۂ نکاح پڑھ دے تواگر مثال کے طورپرمردکانام احمداورعورت کانام فاطمہ ہواورعورت کاوکیل کہے:’’زَوَّجْتُ مُوَکِّلَکَ اَحْمَدَمُوَکِّلَتِیْ فَاطِمَۃَ عَلَی الصِّدَاقِ الْمَعْلُوْمِ‘‘ اوراس کے فوراً بعدمرد کاوکیل کہے:’’قَبِلْتُ التَّزْوِیْجَ لِمُوَکِّلِیْ اَحْمَدَ عَلَی الصِّدَاقِ الْمَعْلُوْمِ‘‘ تونکاح صحیح ہوگا اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ مردجولفظ کہے وہ عورت کے کہے جانے والے لفظ کے مطابق ہومثلاً اگرعورت’’زَوَّجْتُ‘‘ کہے تو مردبھی ’’قَبِلْتُ التَّزْوِیجَ‘‘ کہے اور ’’قَبِلْتُ النِّکَاحَ‘‘ نہ کہے۔

مسئلہ (۲۳۸۸)اگرخودعورت اورمردچاہیں توغیردائمی نکاح کاصیغۂ نکاح کی مدت اور مہرمعین کرنے کے بعدپڑھ سکتے ہیں ۔لہٰذااگرعورت کہے:’’زَوَّجْتُکَ نَفْسِیْ فِی الْمُدَّۃِ الْمَعْلُوْمَۃِ عَلَی الْمَھْرِالْمَعْلُوْمِ‘‘اوراس کےفوراًبعدمردکہے: ’’قَبِلْتُ‘‘ تو نکاح صحیح ہے اوراگروہ کسی اورشخص کووکیل بنائیں اورپہلے عورت کاوکیل مردکے وکیل سے کہے:’’زَوَّجْتُ مُوَکِّلَتِیْ مُوَکِّلَکَ فِی الْمُدَّۃِ الْمَعْلُوْمَۃِ عَلَی الْمَھْرِالْمَعْلُوْمِ‘‘ اوراس کے بعدمردکاوکیل فوراً بعدکہے: ’’قَبِلْتُ التَّزْوِیْجَ لِمُوَکِّلِیْ ھٰکَذَا‘‘تونکاح صحیح ہوگا۔

نکاح کے شرائط

مسئلہ (۲۳۸۹)نکاح کی چندشرطیں ہیں جوذیل میں درج کی جاتی ہیں :

۱:
) (احتیاط واجب کی بناپر)نکاح کاصیغہ عربی میں پڑھاجائے اوراگرخودمرد اور عورت صیغۂ عربی نہ پڑھ سکتے ہوں توعربی کے علاوہ کسی دوسری زبان میں پڑھ سکتے ہیں اور کسی شخص کووکیل بنانالازم نہیں ہے۔البتہ انہیں چاہئے کہ وہ الفاظ کہیں جو ’’زَوَّجْتُ اور قَبِلْتُ‘‘ کامفہوم اداکرسکیں ۔

۲:
)مرداورعورت یاان کے وکیل جو صیغہ پڑھ رہے ہوں وہ ’’قصدانشاء‘‘ رکھتے ہوں یعنی اگرخودمرداورعورت صیغہ پڑھ رہے ہوں توعورت کا’’زَوَّجْتُکَ نَفْسِیْ‘‘ کہنااس نیت سے ہوکہ خودکواس کی بیوی قراردے اور مردکا ’’قَبِلْتُ التَّزْوِیْجَ‘‘ کہنااس نیت سے ہوکہ وہ اس کااپنی بیوی بنناقبول کرے اوراگرمرداورعورت کے وکیل صیغہ پڑھ رہے ہوں تو ’’زَوَّجْتُ وَقَبِلْتُ‘‘کہنے سے ان کی نیت یہ ہوکہ وہ مرد اور عورت جنہوں نے انہیں وکیل بنایاہے ایک دوسرے کے میاں بیوی بن جائیں ۔

۳:
)جوشخص صیغہ پڑھ رہاہوضروری ہے کہ وہ عاقل ہواوراگر اپنے لئے پڑھ رہا ہو تو ضروری ہے کہ بالغ بھی ہو بلکہ( احتیاط کی بناء پر) سمجھ دار نابالغ بچے کا دوسرے کےلئے صیغہ جاری کرنا کافی نہیں ہے اور اگر پڑھ دے تو ضروری ہےکہ طلاق دیں یاپھر سے صیغہ پڑھیں ۔

۴:
)اگرعورت اورمردکے وکیل یاان کے سرپرست صیغہ پڑھ رہے ہوں تووہ نکاح کے وقت عورت اورمردکومعین کرلیں مثلاًان کے نام لیں یاان کی طرف اشارہ کریں ۔ لہٰذا جس شخص کی کئی لڑکیاں ہوں اگروہ کسی مردسے کہے: ’’زَوَّجْتُکَ اِحْدٰی بَنَاتِیْ‘‘ یعنی میں نے اپنی بیٹیوں میں سے ایک کو تمہاری بیوی بنایااوروہ مردکہے: ’’قَبِلْتُ‘‘ یعنی میں نے قبول کیاتوچونکہ نکاح کرتے وقت لڑکی کومعین نہیں کیاگیااس لئے نکاح باطل ہے۔

۵:
)عورت اورمردازدواج پرراضی ہوں ۔ہاں اگرعورت بظاہرناپسندیدگی سے اجازت دے اورمعلوم ہوکہ دل سے راضی ہے تونکاح صحیح ہے۔

مسئلہ (۲۳۹۰)اگرنکاح میں ایک حرف یا اس سے زیادہ غلط پڑھاجائے جواس کے معنی کو نہ بدلے تو نکاح صحیح ہے۔

مسئلہ (۲۳۹۱)وہ شخص جونکاح کاصیغہ پڑھ رہاہواگر( خواہ اجمالی طورپر) نکاح کے معنی جانتاہواوراس کے معنی کو قصد تحقق یعنی حقیقی شکل دیناچاہتاہوتونکاح صحیح ہے اور یہ لازم نہیں کہ وہ تفصیل کے ساتھ صیغے کے معنی جانتاہومثلاً یہ جانے کہ عربی زبان کے لحاظ سے فعل یا فاعل کون ساہے۔

مسئلہ (۲۳۹۲)اگرکسی عورت کانکاح اس کی اجازت کے بغیرکسی مردسے کردیا جائے اوربعدمیں عورت اورمرداس نکاح کی اجازت دے دیں تونکاح صحیح ہےاور اجازت کےلئے کافی ہے کہ کچھ زبان سے کہے یا کوئی ایساکام کرے جو اس کی رضایت پر دلالت کرسکتا ہو۔

مسئلہ (۲۳۹۳)اگرعورت اورمرددونوں کویاان میں سے کسی ایک کوازدواج پر مجبور کیاجائے اورنکاح پڑھے جانے کے بعدوہ اجازت دے دیں جیسا کہ گزشتہ مسئلہ میں بیان کیا گیا تونکاح صحیح ہے اور بہتریہ ہے کہ دوبارہ نکاح پڑھاجائے۔

مسئلہ (۲۳۹۴)باپ اوردادااپنے نابالغ لڑکے یالڑکی یا دیوانے فرزند کا جودیوانگی کی حالت میں بالغ ہواہونکاح کرسکتے ہیں اورجب وہ بچہ بالغ ہو جائے یادیوانہ عاقل ہوجائے توانہوں نے اس کاجو نکاح کیاہواگراس میں کوئی خرابی ہو تو انہیں اس نکاح کوبرقراررکھنے یاختم کرنے کااختیار ہے اور اگرکوئی خرابی نہ ہواور نابالغ لڑکے یالڑکی میں سے کوئی ایک اپنے اس نکاح کومنسوخ کرے تو (احتیاط واجب کی بناء پر) ضروری ہےکہ یا طلاق دیں یا دوبارہ نکاح پڑھیں ۔

مسئلہ (۲۳۹۵)جولڑکی سن بلوغ کوپہنچ چکی ہواوررشیدہ ہویعنی اپنابرابھلاسمجھ سکتی ہو اگروہ شادی کرناچاہے اورکنواری ہو اور اپنے زندگی کے امور کو خود انجام نہ دیتی ہو تو اسے چاہئے کہ اپنے باپ یادادا سے اجازت لےبلکہ اگر وہ خودمختاری سے اپنی زندگی کے کاموں کوانجام دیتی ہو تو( احتیاط واجب کی بناء)پھر بھی اجازت لےالبتہ ماں اور بھائی سے اجازت لینالازم نہیں ۔

مسئلہ (۲۳۹۶)اگر لڑکی کنواری ہولیکن باپ یا دادا کسی بھی مرد کے ساتھ اسے شادی کرنے کی اجازت نہ دیتے ہوں جوعرفاًوشرعاًاس کےلیے ہمکفو ہو اور وہ پوری طرح سے روک رہے ہوں یاباپ اور دادا بیٹی کے شادی کے معاملے میں کسی طرح شریک ہونے کے لئے راضی نہ ہوں یادیوانگی یا اس جیسی کسی دوسری وجہ سے اجازت دینے کی اہلیت نہ رکھتے ہوں،یا اگر لڑکی کنواری نہ ہو توان تمام صورتوں میں ان سے اجازت لینالازم نہیں ہے۔ اسی طرح کنواری ہونے کی صورت میں ان کے موجودنہ ہونے یاکسی دوسری وجہ سے اجازت لیناممکن نہ ہواورلڑکی کاشادی کرنابےحدضروری ہوتوباپ اوردادا سے اجازت لینالازم نہیں ہے۔

مسئلہ (۲۳۹۷)اگرباپ یادادااپنے نابالغ لڑکے کی شادی کردیں تو لڑکے کو چاہئے کہ بالغ ہونے کے بعداس عورت کاخرچ دے بلکہ بالغ ہونے سے پہلے بھی جب اس کی عمراتنی ہو جائے کہ وہ اس لڑکی سے لذت اٹھانے کی قابلیت رکھتاہواورلڑکی بھی اس قدرچھوٹی نہ ہوکہ شوہراس سے لذت نہ اٹھاسکے توبیوی کے خرچ کاذمہ دارلڑکاہے اوراس صورت کے علاوہ بقیہ صورتوں میں نفقہ واجب نہیں ہے۔

مسئلہ (۲۳۹۸)اگرباپ یادادااپنے نابالغ لڑکے کی شادی کردیں تو اگر لڑکے کے پاس نکاح کے وقت کوئی مال نہ ہوتوباپ یادادا کوچاہئے کہ اس عورت کا مہر دے اور یہی حکم ہے اگرلڑکے کے پاس کوئی مال ہولیکن باپ یادادا نے مہر ادا کرنے کی ضمانت دی ہواور ان دوصورتوں کے علاوہ اگراس کامہرمہرالمثل سے زیادہ نہ ہو یا کسی مصلحت کی بناپراس لڑکی کامہرمہرالمثل سے زیادہ ہوتوباپ یادادابیٹے کے مال سے مہراداکرسکتے ہیں ورنہ بیٹے کے مال سے مہرالمثل سے زیادہ مہر نہیں دے سکتے مگریہ کہ بچہ بالغ ہونے کے بعدان کے اس کام کوقبول کرے۔

وہ صورتیں جن میں مردیاعورت نکاح فسخ کرسکتے ہیں

مسئلہ (۲۳۹۹)اگرنکاح کے بعدمردکوپتاچلے کہ عورت میں نکاح کے وقت مندرجہ ذیل چھ عیوب میں سے کوئی عیب موجودتھاتواس کی وجہ سے نکاح فسخ کرسکتاہے:

۱:
)دیوانگی، اگرچہ کبھی کبھارہوتی ہو۔

۲:
)جذام۔

۳:
)برص۔

۴:
)اندھاپن۔

۵:
)اپاہج ہونا، اگرچہ زمین پرنہ گھسٹتی ہو۔

۶:
)بچہ دانی میں گوشت یاہڈی ہو۔خواہ جماع اورحمل کے لئے مانع ہویانہ ہو اور اگر مردکونکاح کے بعدپتاچلے کہ عورت نکاح کے وقت افضاہوچکی تھی یعنی اس کاپیشاب اور حیض کامخرج یا حیض اورپاخانے کامخرج یا تینوں ایک ہوچکاتھاتواس صورت میں نکاح کوفسخ کرنے میں اشکال ہے اور احتیاط لازم یہ ہے کہ اگرعقدکوفسخ کرناچاہے توطلاق بھی دے۔

مسئلہ (۲۴۰۰)اگرعورت کونکاح کے بعدپتاچلے کہ اس کے شوہرکاآلہ ٔ تناسل نہیں ہے یانکاح کے بعدجماع کرنے سے پہلے یاجماع کرنے کے بعد،اس کاآلہ تناسل کٹ جائے یاایسی بیماری میں مبتلا ہوجائے کہ جماع نہ کرسکتاہوخواہ وہ بیماری نکاح کے بعداورجماع کرنے سے پہلے یاجماع کرنے کے بعدہی کیوں نہ لاحق ہوئی ہو۔ ان تمام صورتوں میں عورت طلاق کے بغیر نکاح کوختم کرسکتی ہے اوراگرعورت کونکاح کے بعد پتاچلے کہ اس کاشوہرنکاح سے پہلے دیوانہ تھایانکاح کے بعد( خواہ جماع سے پہلے یا جماع کے بعد) دیوانہ ہوجائے یااسے (نکاح کے بعد) پتاچلے کہ نکاح کے وقت اس کے کوڑیاں نکال دئے گئے تھے یامسل دیئے گئے تھے یااسے پتاچلے کہ نکاح کے وقت جذام یا برص اندھے پن میں مبتلاتھاتوان تمام صورتوں میں احتیاط واجب یہ ہےکہ عورت نکاح کو نہ توڑے اور اگر یہ کام کیا تو احتیاط واجب ہے کہ اگر دوبارہ ازدواجی زندگی گذارنا چاہے تو دوبارہ نکاح کریں اور جدا ہونا چاہیں تو ضروری ہےکہ طلاق دی جائے۔ لیکن اس صورت میں کہ اس کاشوہر جماع نہ کرسکتاہواورعورت نکاح کوختم کرنا چاہے تواس پرلازم ہے کہ پہلے حاکم شرع یااس کے وکیل سے رجوع کرے اورحاکم شرع اسے ایک سال کی مہلت دے گالہٰذااگراس دوران وہ اس عورت یاکسی دوسری عورت سے جماع نہ کرسکے تواس کے بعدعورت نکاح کوختم کرسکتی ہے۔

مسئلہ (۲۴۰۱)اگرعورت اس بناپرنکاح ختم کردے کہ اس کاشوہرنامردہے تو ضروری ہے کہ شوہراسے آدھامہردے لیکن اگران دوسرے نقائص میں سے جن کاذکر اوپر کیاگیاہے کسی ایک کی بناپرمردیاعورت نکاح ختم کردیں تواگرمردنے عورت کے ساتھ جماع نہ کیاہوتووہ کسی چیز کاذمہ دار نہیں ہے اور اگرجماع کیاہوتوضروری ہے کہ پورا مہردے۔

مسئلہ (۲۴۰۲)اگرمردیاعورت جوکچھ وہ ہیں اس سے زیادہ بڑھاچڑھاکران کی تعریف کی جائے تاکہ وہ شادی کرنے میں دلچسپی لیں ( خواہ یہ تعریف نکاح کے ضمن میں ہو یااس سے پہلے۔اس صورت میں کہ اس تعریف کی بنیادپرنکاح ہواہو) لہٰذااگرنکاح کے بعددوسرے فریق کواس بات کاغلط ہونامعلوم ہوجائے تووہ نکاح کوختم کرسکتاہے اور اس مسئلے کے تفصیلی احکام’’ منہاج الصالحین ‘‘میں بیان ہوئے ہیں۔

وہ عورتیں جن سے نکاح کرناحرام ہے

مسئلہ (۲۴۰۳)ان عورتوں کے ساتھ جوانسان کی محرم ہوں ازدواج حرام ہے مثلاً ماں ، بہن، بیٹی،پھوپھی، خالہ، بھتیجی، بھانجی،ساس۔

مسئلہ (۲۴۰۴)اگرکوئی شخص کسی عورت سے نکاح کرے چاہے اس کے ساتھ جماع نہ بھی کرے تواس عورت کی ماں ،نانی اوردادی اورجتناسلسلہ اورپرچلاجائے سب عورتیں اس مردکی محرم ہوجاتی ہیں ۔

مسئلہ (۲۴۰۵)اگرکوئی شخص کسی عورت سے نکاح کرے اوراس کے ساتھ ہم بستری کرے توپھراس عورت کی لڑکی،نواسی،پوتی اورجتناسلسلہ نیچے چلاجائے سب عورتیں اس مردکی محرم ہوجاتی ہیں خواہ وہ عقدکے وقت موجودہوں یابعدمیں پیداہوں ۔

مسئلہ (۲۴۰۶)اگرکسی مردنے ایک عورت سے نکاح کیاہولیکن ہم بستری نہ کی ہو تو جب تک وہ عورت اس کے نکاح میں رہے( احتیاط واجب کی بناپر) اس وقت تک اس کی لڑکی سے ازدواج نہ کرے۔

مسئلہ (۲۴۰۷)انسان کی پھوپھی اورخالہ اوراس کے باپ کی پھوپھی اورخالہ اور داداکی پھوپھی اورخالہ باپ کی ماں اورماں کی پھوپھی اورخالہ اورنانی اور نانا کی پھوپھی اورخالہ اورجس قدریہ سلسلہ اوپرچلاجائے سب اس کے محرم ہیں ۔

مسئلہ (۲۴۰۸)شوہرکاباپ اوردادااورجس قدریہ سلسلہ اوپرچلاجائے اورشوہرکا بیٹا، پوتااورنواساجس قدربھی یہ سلسلہ نیچے چلاجائے اورخواہ وہ نکاح کے وقت دنیامیں موجودہوں یابعدمیں پیداہوں سب اس کی بیوی کے محرم ہیں ۔

مسئلہ (۲۴۰۹)اگرکوئی شخص کسی عورت سے نکاح کرے توخواہ وہ نکاح دائمی ہویا غیردائمی جب تک وہ عورت اس کی منکوحہ ہے وہ اس کی بہن کے ساتھ نکاح نہیں کرسکتا۔

مسئلہ (۲۴۱۰)اگرکوئی شخص ترتیب کے مطابق جس کاذکرطلاق کے مسائل میں کیا جائے گااپنی بیوی کوطلاق رجعی دے دے تووہ عدت کے دوران اس کی بہن سے نکاح نہیں کرسکتالیکن طلاق بائن کی مدت کے دوران اس کی بہن سے نکاح کرسکتاہے اور متعہ کی عدت کے دوران احتیاط واجب یہ ہے کہ عورت کی بہن سے نکاح نہ کرے۔

مسئلہ (۲۴۱۱)انسان اپنی بیوی کی اجازت کے بغیراس کی بھتیجی یابھانجی سے شادی نہیں کرسکتالیکن اگروہ بیوی کی اجازت کے بغیران سے نکاح کرلے اوربعدمیں بیوی اجازت دے دے توپھرکوئی اشکال نہیں ۔

مسئلہ (۲۴۱۲)اگربیوی کوپتاچلے کہ اس کے شوہرنے اس کی بھتیجی یابھانجی سے نکاح کرلیاہے اورخاموش رہے تواگروہ بعدمیں راضی ہوجائے تونکاح صحیح ہے اوراگر رضا مند نہ ہوتوان کانکاح باطل ہے۔

مسئلہ (۲۴۱۳)اگرانسان خالہ یاپھوپھی کی لڑکی سے شادی کرنے سے پہلے (نعوذ باللہ) خالہ یاپھوپھی سے زناکرے توپھروہ اس کی لڑکی سے( احتیاط واجب کی بناپر)شادی نہیں کر سکتا۔

مسئلہ (۲۴۱۴)اگرکوئی شخص اپنی پھوپھی کی لڑکی یاخالہ کی لڑکی سے شادی کرے اور اس سے ہم بستری کرنے کے بعد یا پہلے اس کی ماں سے زناکرے تویہ بات ان کی جدائی کا موجب نہیں بنتی۔

مسئلہ (۲۴۱۵)اگرکوئی شخص اپنی پھوپھی یاخالہ کے علاوہ کسی اور عورت سے زنا کرے تواحتیاط مستحب یہ ہے کہ اس کی بیٹی کے ساتھ شادی نہ کرے ۔

مسئلہ (۲۴۱۶)مسلمان عورت کافرمردسے نکاح نہیں کرسکتی چاہے دائمی ہو یا غیر دائمی چاہے کتابی ہو یا غیر کتابی۔مسلمان مردبھی اہل کتاب کے علاوہ کافرعورتوں سے نکاح نہیں کرسکتا۔لیکن یہودی اورعیسائی عورتوں کے مانند اہل کتاب عورتوں سے متعہ کرنے میں کوئی حرج نہیں اور(احتیاط لازم کی بناپر)ان سے دائمی عقدنہ کیاجائے اور( احتیاط واجب کی بناء پر) مجوسی عورتوں سے نکاح موقت(متعہ) بھی ایک مسلمان نہ کرے البتہ وہ مردجس کی بیوی مسلمان ہے وہ اس کی اجازت کےبغیر ان سب سے نکاح نہ کرے بلکہ احتیاط واجب کی بناء پر اس کی اجازت سے بھی نکاح کرنا جائز نہیں ہے اوربعض فرقے مثلاً ناصبی جو اپنے آپ کومسلمان سمجھتے ہیں کفارکے حکم میں ہیں اور مسلمان مرداورعورتیں ان کے ساتھ دائمی یاغیردائمی نکاح نہیں کرسکتےیہی حکم مرتد کا بھی ہے۔

مسئلہ (۲۴۱۷)اگرکوئی شخص ایک ایسی عورت سے زناکرے جورجعی طلاق کی عدت گزاررہی ہوتو (احتیاط واجب کی بناپر)وہ عورت اس پرحرام ہوجاتی ہے اوراگرایسی عورت کے ساتھ زناکرے جومتعہ یا طلاق بائن یاوفات یا وطی شبہ کی عدت گزاررہی ہوتوبعدمیں اس کے ساتھ نکاح کرسکتاہے اوررجعی طلاق اوربائن طلاق اورمتعہ کی عدت اوروفات کی عدت اور وطی شبہ کی عدت کے معنی طلاق کے احکام میں بتائے جائیں گے۔

مسئلہ (۲۴۱۸)اگرکوئی شخص کسی ایسی عورت سے زناکرے جو بے شوہر ہومگر عدت میں نہ ہوتو(احتیاط واجب کی بناپر)توبہ کرنے سے پہلے اس سے شادی نہیں کرسکتا۔لیکن اگرزانی کے علاوہ کوئی دوسراشخص (اس عورت کے) توبہ کرنے سے پہلے اس کے ساتھ شادی کرنا چاہے توکوئی اشکال نہیں ہے۔ مگراس صورت میں کہ وہ عورت زناکار مشہورہوتو(احتیاط واجب کی بناپر)اس (عورت) کے توبہ کرنے سے پہلے اس کے ساتھ شادی کرناجائز نہیں ہے۔ اسی طرح کوئی مردزناکارمشہور ہوتوتوبہ کرنے سے پہلے اس کے ساتھ شادی کرناجائز نہیں ہے اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ اگرکوئی شخص زناکارعورت سے جس سے خوداس نے یاکسی دوسرے نے زناکیاہوشادی کرناچاہے توحیض آنے تک انتظارکرے اورحیض آنے کے بعداس کے ساتھ شادی کرلے۔

مسئلہ (۲۴۱۹)اگرکوئی شخص ایک ایسی عورت سے نکاح کرے جودوسرے کی عدت میں ہوتواگرمرداور عورت دونوں یاان میں سے کوئی ایک جانتاہوکہ عورت کی عدت ختم نہیں ہوئی اوریہ بھی جانتے ہوں کہ عدت کے دوران عورت سے نکاح کرناحرام ہے تو اگرچہ مردنے نکاح کے بعدعورت سے جماع نہ بھی کیاہووہ عورت ہمیشہ کے لئے اس پر حرام ہوجائے گی اور اگر دونوں عدت کے بارے میں جاہل ہوں یا دوران عدت ازدواج کی حرمت سے ناواقف ہوں تو نکاح باطل ہے لہٰذا اگر ہمبستری بھی کی ہوتو ہمیشہ کےلئے حرام ہوجائیں گے ورنہ حرام نہیں ہے اور عدت مکمل ہونے کے بعد دوبارہ عقد کرسکتے ہیں ۔

مسئلہ (۲۴۲۰)اگرکوئی شخص یہ جانتے ہوئے کہ عورت شوہردارہے اور اس سے شادی کرے توضروری ہے کہ اس عورت سے جداہو جائے اوربعدمیں بھی اس سے نکاح نہیں کرناچاہئے اور اگراس شخص کویہ علم نہ ہوکہ عورت شوہردارہے لیکن شادی کے بعداس سے ہم بستری کی ہوتب بھی (احتیاط واجب کی بناپر)یہی حکم ہے۔

مسئلہ (۲۴۲۱)اگرشوہردارعورت زناکرے تو(احتیاط واجب کی بناپر) وہ زانی پر ہمیشہ کے لئے حرام ہوجاتی ہے۔لیکن شوہرپرحرام نہیں ہوتی اوراگرتوبہ واستغفارنہ کرے اور اپنے عمل پرباقی رہے (یعنی زناکاری ترک نہ کرے) تو بہتریہ ہے کہ اس کاشوہراسے طلاق دے دے لیکن شوہرکوچاہئے کہ اس کامہربھی دے۔

مسئلہ (۲۴۲۲)جس عورت کوطلاق دےدیا گیا ہواورجوعورت متعہ میں رہی ہواوراس کے شوہرنے متعہ کی مدت بخش دی ہویامتعہ کی مدت ختم ہوگئی ہواگروہ کچھ عرصے کے بعد دوسراشوہرکرے اورپھراسے شک ہوکہ دوسرے شوہرسے نکاح کے وقت پہلے شوہر کی عدت ختم ہوئی تھی یانہیں تووہ اپنے شک کی پروانہ کرے۔

مسئلہ (۲۴۲۳)اغلام کروانے والے لڑکے کی ماں ،بہن اوربیٹی اغلام کرنے والے پر (جب کہ (اغلام کرنے والا) بالغ ہو) حرام ہوجاتے ہیں اگر چہ ختنہ گاہ سے کم داخل ہوا ہو اوراگراغلام کروانے والا مرد ہویااغلام کرنے والانابالغ ہوتب بھی (احتیاط لازم کی بناپر)یہی حکم ہے۔ لیکن اگر اسے گمان ہوکہ دخول ہواتھایاشک کرے کہ دخول ہوا تھا یا نہیں توپھروہ حرام نہیں ہوں گے اور اسی طرح اغلام کرنے والے کی ماں بہن اور بیٹی اغلام کروانےوالے پر حرام نہیں ہے۔

مسئلہ (۲۴۲۴)اگرکوئی شخص کسی عورت کے ساتھ شادی کرے اور اس کے بعد اس کے باپ بھائی یا بیٹے کے ساتھ اغلام کرے تو( احتیاط واجب کی بنا ء پر) وہ عورت اس پر حرام ہوجاتی ہے۔

مسئلہ (۲۴۲۵)اگرکوئی شخص احرام کی حالت میں جواعمال حج میں سے ایک عمل ہے کسی عورت سے شادی کرے اگرچہ وہ عورت احرام میں نہ ہو تواس کانکاح باطل ہے اوراگراسے علم تھاکہ کسی عورت سے احرام کی حالت میں نکاح کرنااس پرحرام ہے توبعدمیں زندگی بھر وہ اس عورت سے شادی نہیں کر سکتا۔

مسئلہ (۲۴۲۶)جوعورت احرام کی حالت میں ہواگروہ ایک ایسے مردسے شادی کرے جواحرام کی حالت میں نہ ہوتواس کانکاح باطل ہے اوراگرعورت کومعلوم تھاکہ احرام کی حالت میں شادی کرناحرام ہے تواحتیاط واجب یہ ہے کہ بعدمیں زندگی بھر اس مردسے شادی نہ کرے۔

مسئلہ (۲۴۲۷)اگرمرد یا عورت طواف النساء جوحج اور عمرۂ مفردہ کے اعمال میں سے ایک عمل ہے بجانہ لائے توان دونوں کےلئے جنسی لذت کا حاصل کرنا اس وقت تک حلال نہ ہوگا جب تک طواف النساء انجام نہ دیں لیکن اگر شادی کریں اور اگر حلق اور تقصیر کے ذریعہ احرام سے خارج ہوئے ہوں تو ان کی شادی صحیح ہے اگر چہ طواف النساء انجام نہ دیاہو۔

مسئلہ (۲۴۲۸)اگرکوئی شخص نابالغ لڑکی سے نکاح کرے تواس لڑکی کی عمرنوسال ہونے سے پہلے اس کے ساتھ جماع کرناحرام ہے۔لیکن اگرجماع کرے تو لڑکی کے بالغ ہونے کے بعداس سے جماع کرناحرام نہیں ہے خواہ اس نے افضاء ہی کردیاہو۔ افضاء کے معنی مسئلہ ( ۲۳۹۹) میں بتائے جاچکے ہیں ۔ لیکن افضاء کی صورت میں اس کی دیت دے جو ایک انسان کے قتل کے برابر ہے اور ہمیشہ اس کی زندگی کے اخراجات کو دے حتی طلاق کے بعد بھی دے بلکہ( احتیاط واجب کی بناء پر) اگر وہ لڑکی کسی دوسرے سے شادی بھی کرلے تب بھی اخراجات دے۔

مسئلہ (۲۴۲۹)جس عورت کوتین مرتبہ طلاق دی جائے جن کے درمیان دو دفعہ رجوع یا عقد ہوا ہو وہ شوہرپرحرام ہوجاتی ہے۔ ہاں اگران شرائط کے ساتھ جن کاذکرطلاق کے احکام میں کیاجائے گاوہ عورت دوسرے مردسے شادی کرے تودوسرے شوہرکی موت یااس سے طلاق ہوجانے کے بعد اورعدت گزرجانے کے بعداس کاپہلاشوہردوبارہ اس کے ساتھ نکاح کرسکتاہے۔

دائمی عقدکے احکام

مسئلہ (۲۴۳۰)جس عورت کادائمی نکاح ہوجائے اس کے لئے حرام ہے کہ شوہر کی اجازت کے بغیرگھرسے باہرنکلے خواہ اس کانکلناشوہرکے حق کے منافی نہ بھی ہو۔سوائے اس صورت میں کہ جب کوئی ضرورت پیش آئے یا اس کا گھر میں رہناتکلیف اور حرج کا سبب ہو یا اس کی شان کے مطابق گھر نہ ہونیزاس کے لئے ضروری ہے کہ جب بھی شوہرجنسی لذتیں حاصل کرناچاہےجو اس کا حق ہے تواس کی خواہش پوری کرے اور شرعی عذرکے بغیرشوہرکوہم بستری سے نہ روکے اوراس کی غذا،لباس رہائش اورزندگی کی باقی ضروریات کاانتظام شوہر پرواجب ہے اوراگروہ یہ چیزیں مہیانہ کرے توخواہ ان کے مہیاکرنے پر قدرت رکھتا ہویانہ رکھتاہووہ بیوی کامقروض ہےاسی طرح عورت کے حقوق میں سے ہے کہ مرداسے اذیت نہ دے اور بغیر کسی شرعی عذر کے اس کے ساتھ سختی اور بے رحمی نہ کرے۔

مسئلہ (۲۴۳۱)اگرکوئی عورت ہم بستری اورجنسی لذتوں کے سلسلے میں شوہرکاساتھ دے کراس کی خواہش پوری نہ کرے توروٹی،کپڑے اورمکان کاوہ ذمہ دارنہیں ہے اگرچہ وہ شوہر کے پاس ہی رہے اوراگروہ کبھی کبھاراپنی ان ذمہ داریوں کوپورانہ کرے تو(احتیاط واجب کی بناء پر) اس کا خرچ ساقط نہیں ہوتا لیکن مرد کی خواہش پوری نہ کرنے کی بناء پر کسی بھی صورت میں مہرساقط نہیں ہوتا۔

مسئلہ (۲۴۳۲)مردکویہ حق نہیں کہ بیوی کوگھریلوخدمت پرمجبورکرے۔

مسئلہ (۲۴۳۳)بیوی کے سفرکے اخراجات وطن میں رہنے کے اخراجات سے زیادہ ہوں تواگراس نے سفرشوہرکی اجازت سے کیاہوتوشوہرکی ذمہ داری ہے کہ وہ ان اخراجات کوپوراکرے۔لیکن اگروہ سفر گاڑی یاجہازوغیرہ کے ذریعے ہوتوکرائے اور سفر کے دوسرے ضروری اخراجات کی وہ خودذمہ دار ہے۔ لیکن اگراس کاشوہراسے سفر میں ساتھ لے جاناچاہتاہوتواس کے لئے ضروری ہے کہ بیوی کے سفری اخراجات برداشت کرے اور اسی طرح اگر سفر کرنا زندگی کی ضروریات میں سے ہے جیسے علاج کی غرض سے سفر کرنا۔

مسئلہ (۲۴۳۴)جس عورت کاخرچ اس کے شوہرکے ذمہ ہواورشوہراسے خرچ نہ دے تووہ اپناخرچ شوہرکی اجازت کے بغیراس کے مال سے لے سکتی ہے اوراگرنہ لے سکتی ہواورمجبورہوکہ اپنی معاش کاخودبندوبست کرے اورشکایت کرنے کے لئے حاکم شرع تک اس کی رسائی نہ ہو توجس وقت وہ اپنی معاش کابندوبست کرنے میں مشغول ہواس وقت شوہر کی اطاعت اس پرواجب نہیں ہے۔

مسئلہ (۲۴۳۵)اگرکسی مردکی مثلاً دوبیویاں دائمی ہوں اوروہ ان میں سے ایک کے پاس ایک رات رہے تواس پر واجب ہے کہ چارراتوں میں سے کوئی ایک رات دوسری کے پاس بھی گزارے اوراس صورت کے علاوہ عورت کے پاس رہناواجب نہیں ہے۔ ہاں یہ لازم ہے کہ اس کے پاس رہنابالکل ہی ترک نہ کردے اوراولیٰ اوراحوط یہ ہے کہ ہر چارراتوں میں سے ایک رات مرداپنی دائمی منکوحہ بیوی کے پاس رہے۔

مسئلہ (۲۴۳۶)شوہراپنی جوان بیوی سے چارمہینے سے زیادہ مدت کے لئے ہم بستری ترک نہیں کرسکتامگریہ کہ ہم بستری اس کے لئے نقصان دہ یابہت زیادہ تکلیف کا باعث ہویااس کی بیوی خودچارمہینے سے زیادہ مدت کے لئے ہم بستری ترک کرنے پر راضی ہویاشادی کرتے وقت نکاح کے ضمن میں چارمہینے سے زیادہ مدت کے لئے ہم بستری ترک کرنے کی شرط رکھی گئی ہواوراس حکم میں (احتیاط واجب کی بناپر)شوہرکے موجود ہونے یامسافر ہونے میں کوئی فرق نہیں ہے پس (احتیاط واجب کی بناء پر) جائز نہیں ہےکہ بیوی کی اجازت کے بغیر اور بغیر عذر کے چار مہینہ سے زیادہ غیر ضروری سفر نہ کرے۔

مسئلہ (۲۴۳۷)اگردائمی نکاح میں مہرمعین نہ کیاجائے تونکاح صحیح ہے اوراگرمرد عورت کے ساتھ جماع کرے تواسے چاہئے کہ اس کامہراسی جیسی عورتوں کے مہرکے مطابق دے البتہ اگرمتعہ میں مہرمعین نہ کیاجائے تومتعہ باطل ہوجاتاہے اگر چہ ایسا حکم سے جاہل ہونے یا غفلت یا فراموشی کی بناء پر ہو۔

مسئلہ (۲۴۳۸)اگردائمی نکاح پڑھتے وقت مہردینے کے لئے مدت معین نہ کی جائے توعورت مہرلینے سے پہلے شوہرکوجماع کرنے سے روک سکتی ہےاس سے قطع نظر کہ مردمہردینے پرقادرہویانہ ہولیکن اگروہ مہرلینے سے پہلے جماع پرراضی ہواورشوہر اس سے جماع کرے توبعدمیں وہ شرعی عذرکے بغیرشوہرکوجماع کرنے سے نہیں روک سکتی۔