توضیح المسائل اردو آیت الله سیستانی

طلاق اور موت کی عدت

طلاق کی عدت

مسئلہ (۲۵۲۸)جس لڑکی کی عمر (پورے) نوسال نہ ہوئی ہواوراس طرح جوعورت یائسہ ہوچکی ہواس کی کوئی عدت نہیں ہوتی۔یعنی اگرچہ شوہرنے اس سے مجامعت کی ہو، طلاق کے بعد وہ فوراً دوسراشوہر کرسکتی ہے۔

مسئلہ (۲۵۲۹)جس عورت کی عمر(پورے) نوسال ہوچکی ہواورجوعورت یائسہ نہ ہو، اس کاشوہراس سے مجامعت کرے تواگروہ اسے طلاق دے توضروری ہے کہ وہ عورت طلاق کے بعد عدت رکھے اور عورت کی عدت یہ ہے کہ جب اس کاشوہر اسے پاکی کی حالت میں طلاق دے تواگر اُس کے دو حیض کی مدت تین مہینہ سے کم ہواس کے بعدوہ اتنی مدت انتظارکرے کہ دودفعہ حیض سے پاک ہوجائے اورجونہی اسے تیسری دفعہ حیض آئے تواس کی عدت ختم ہوجاتی ہے اور وہ دوسرانکاح کرسکتی ہے۔لیکن اگرشوہر عورت سے مجامعت کرنے سے پہلے اسے طلاق دے دے تواس کے لئے کوئی عدت نہیں یعنی وہ طلاق کے فوراً بعد دوسرا نکاح کر سکتی ہے۔ لیکن اگرشوہر کی منی اس کی شرم گاہ میں داخل ہوئی ہوتواس صورت میں ضروری ہے کہ وہ عورت عدت رکھے۔

مسئلہ (۲۵۳۰)جس عورت کوحیض نہ آتاہولیکن اس کاسن ان عورتوں جیساہو جنہیں حیض آتاہویا حیض آتا ہو لیکن دو حیض کی درمیانی مدت تین مہینہ یا اس سے زیادہ ہوتواگر اس کاشوہر مجامعت کرنے کے بعد اسے طلاق دے دے تو ضروری ہے کہ طلاق کے بعد تین قمری مہینے کی عدت رکھے۔

مسئلہ (۲۵۳۱)جس عورت کی عدت تین مہینے ہواگراسے چاند کے مہینہ کی پہلی تاریخ کو طلاق دی جائے تو ضروری ہے کہ مکمل تین مہینے تک اوراگراسے مہینے کے دوران (کسی اور تاریخ کو) طلاق دی جائے توضروری ہے کہ اس مہینے کے باقی دنوں میں اس کے بعد آنے والے دو مہینے اور چوتھے مہینے کے اتنے دن جتنے دن پہلے مہینے سے کم ہو عدت رکھے تاکہ تین مہینے مکمل ہوجائیں مثلاً اگراسے مہینے کی بیسویں تاریخ کوغروب کے وقت طلاق دی جائے اوریہ مہینہ تیس دن کاہوتواس کی عدت کا اختتام چوتھے مہینہ کے بیسویں دن کے غروب پر ہوگا اور اگر( ۲۹) دن کامہینہ ہوتو احتیاط واجب یہ ہے کہ چوتھے مہینے کے اکیس دن عدت رکھے تاکہ پہلے مہینے کے جتنے دن عدت رکھی ہے انہیں ملاکردنوں کی تعدادتیس ہوجائے۔

مسئلہ (۲۵۳۲)اگرحاملہ عورت کوطلاق دی جائے تواس کی عدت وضع حمل یااسقاط حمل تک ہے لہٰذا مثال کے طورپر اگرطلاق کے ایک گھنٹے بعدبچہ پیداہوجائے توعورت کی عدت ختم ہوجائے گی۔لیکن یہ حکم اس صورت میں ہے جب وہ بچہ صاحبۂ عدت کےشرعی شوہر کا بیٹاہولہٰذا اگرعورت زناسے حاملہ ہوئی ہواور شوہراسے طلاق دے تواس کی عدت بچے کے پیداہونے سے ختم نہیں ہوتی۔

مسئلہ (۲۵۳۳)جس عورت نے عمر کے نوسال مکمل کرلئے ہوں اورجو عورت یائسہ نہ ہواگروہ متعہ کرے تو اگر اس کاشوہر اس سے مجامعت کرے اوراس عورت کی مدت تمام ہو جائے یا شوہراسے مدت بخش دے توضروری ہے کہ وہ عدت رکھے۔پس اگراسے حیض آئے توضروری ہے کہ وہ دو حیض کے برابر عدت رکھے اور نکاح نہ کرے اور ایک بار حیض کا آنا (احتیاط واجب کی بنا پر) کافی نہیں ہے اور اگرحیض نہ آئے توپینتالیس دن نکاح کرنے سے اجتناب کرے اور حاملہ ہونے کی صورت میں اس کی عدت بچے کی پیدائش یااسقاط ہونے تک ہے۔ اگرچہ احتیاط مستحب یہ ہے کہ جو مدت وضع حمل یا پینتالیس دن سے زیادہ ہو اتنی مدت کے لئے عدت رکھے۔

مسئلہ (۲۵۳۴)طلاق کی عدت اس وقت شروع ہوتی ہے جب صیغہ کاپڑھنا ختم ہو جاتاہے خواہ عورت کو پتاچلے یانہ چلے کہ اسے طلاق دی گئی ہے پس اگراسے عدت (کے برابر مدت) گزرنے کے بعدپتاچلے کہ طلاق ہوگئی ہے توضروری نہیں کہ وہ دوبارہ عدت رکھے۔

وفات کی عدت

مسئلہ (۲۵۳۵)اگرکوئی عورت بیوہ ہو جائے اگر وہ حاملہ نہ ہوتوضروری ہے کہ قمری چارمہینے اور دس دن عدت رکھے یعنی نکاح کرنے سے پرہیز کرے خواہ صغیرہ(۹؍سال سے کم ہو) یا یائسہ ہو یا متعہ کیا ہو یا کافر ہو یا طلاق رجعی کی عدت میں ہو یا شوہر نے اس سے مجامعت نہ کی ہو یہا ں تک کہ اگر شوہر بچہ یا دیوانہ رہاہو اوراگرحاملہ ہو تو ضروری ہے کہ وضع حمل تک عدت رکھے لیکن اگرچارمہینے اوردس دن گزرنے سے پہلے بچہ پیداہوجائے توضروری ہے کہ شوہر کی موت کے بعدچارمہینے دس دن تک صبر کرے اوراس عدت کووفات کی عدت کہتے ہیں ۔

مسئلہ (۲۵۳۶)جو عورت وفات کی عدت میں ہواس کے لئے زینت والا لباس پہننا،سرمہ لگانااوراسی طرح دوسرے ایسے کام جوزینت میں شمارہوتے ہوں حرام ہیں لیکن گھر سے باہر نکلنا حرام نہیں ہے۔

مسئلہ (۲۵۳۷)اگرعورت کویقین ہوجائے کہ اس کاشوہرمرچکاہے اورعدت وفات تمام ہونے کے بعد وہ دوسرانکاح کرے اورپھراسے معلوم ہوکہ اس کے شوہر کی موت بعد میں واقع ہوئی ہے اور دوسرا عقد پہلے شوہر کی زندگی میں ہوا تھا یا اس کی واقعی عدت وفات تھی توضروری ہے کہ دوسرے شوہر سے علیٰحدگی اختیار کرے اور( احتیاط واجب کی بناپر)دو عدت رکھےاس صورت میں جب کہ وہ دوسرے شوہر سے حاملہ ہووضع حمل تک دوسرے شوہر کے لئے وطی شبہ کی عدت رکھے(جو طلاق کی عدت کی طرح ہے)اور اس کے بعد پہلے شوہر کے لئے عدت وفات رکھے اوراگرحاملہ نہ ہوتو اگر پہلے شوہر کی موت سے پہلے دوسرے شوہر نے مجامعت کیا ہو تو پہلے عدۂ وفات رکھے اوراس کے بعد وطی شبہ کی عدت رکھے اور اگر مجامعت موت سے پہلے ہوئی تو اس کی عدت مقدم ہے۔

مسئلہ (۲۵۳۸)جس عورت کاشوہرلاپتا ہویالاپتا ہونے کے حکم میں ہواس کی عدت وفات شوہر کی موت کی اطلاع ملنے کے وقت سے شروع ہوتی ہے نا کہ شوہر کی موت کے وقت سے، لیکن اس حکم کااس عورت کے لئے ہوناجونابالغ یاپاگل ہو اشکال ہے اور احتیاط کی رعایت کرناواجب ہے۔

مسئلہ (۲۵۳۹)اگرعورت کہے کہ میری عدت ختم ہوگئی ہے تواس کی بات قابل قبول ہے مگریہ کہ وہ غلط بیان مشہورہوتواس صورت میں ( احتیاط واجب کی بناپر) اس کی بات قابل قبول نہیں ہے۔مثلاً وہ کہے کہ: مجھے ایک مہینے میں تین دفعہ خون آتاہے تواس بات کی تصدیق نہیں کی جائے گی مگریہ کہ اس کی رشتے دار عورتیں اس بات کی تصدیق کریں کہ اس کی حیض کی عادت ایسی ہی تھی۔