طلاق خلع
مسئلہ (۲۵۴۶)اس عورت کی طلاق کوجواپنے شوہر کی طرف مائل نہ ہواور اس سے نفرت کرتی ہواپنامہریاکوئی اورمال بخش دے تاکہ وہ اسے طلاق دے دے’’ طلاق خلع‘‘ کہتے ہیں اورطلاق خلع میں معتبرہے کہ عورت اپنے شوہر سے اس قدر شدید نفرت کرتی ہو کہ اسے وظیفۂ زوجیت ادانہ کرنے کی دھمکی دے۔
مسئلہ (۲۵۴۷)جب شوہر خودطلاق خلع کاصیغہ پڑھناچاہے تواگراس کی بیوی کا نام عاطفہ ہوتوعوض لینے کے بعدکہے:’’زَوْجَتِیْ عَاطِفَۃُ خَالَعْتُھَاعَلیٰ مَابَذَلَتْ‘‘ اور احتیاط مستحب کی بناپر ’’فھِیَ طَالِقٌ‘‘ بھی کہے یعنی میں نے اپنی بیوی عاطفہ کواس مال کے عوض جو اس نے مجھے دیاہے طلاق خلع دے رہاہوں اوروہ آزادہے اوراگرعورت معین ہوتوطلاق خلع نیز طلاق مبارات میں اس کانام لینالازم نہیں ۔
مسئلہ (۲۵۴۸)اگرکوئی عورت کسی شخص کووکیل مقررکرے تاکہ وہ اس کامہر اس کے شوہر کو بخش دے اورشوہر بھی اسی شخص کووکیل مقررکرے تاکہ وہ اس کی بیوی کوطلاق دے دے تواگرمثال کے طورپرشوہرکانام محمداوربیوی کانام عاطفہ ہوتووکیل صیغہ ٔ طلاق یوں پڑھے:’’عَنْ مُوَکِّلَتِیْ عَاطِفَۃَ بَذَلْتُ مَہْرَھَالِمُوَکِّلِیْ مُحَمَّدٍ لِیَخْلَعَھَاعَلَیْہِ‘‘ اور اس کے بعد بلا فاصلہ کہے: ’’زَوْجَۃُ مُوَکِّلِیْ خَالَعْتُھَاعَلیٰ مَابَذَلَتْ فَھِیَ طَالقٌ‘‘اور اگرعورت کسی کووکیل مقررکرے کہ اس کے شوہر کومہرکے علاوہ کوئی اور چیز بخش دے تاکہ اس کاشوہر اسے طلاق دے دے توضروری ہے کہ وکیل لفظ ’’مَہْرَھَا‘‘ کے بجائے اس چیز کانام لے مثلاًاگرعورت نے سوروپے دیئے ہوں توضروری ہے کہ کہے: ’’بَذَلَتْ مِاَۃَ رُوْبِیَۃ‘‘۔
طلاق مبارات
مسئلہ (۲۵۴۹)اگرمیاں بیوی دونوں ایک دوسرے کونہ چاہتے ہوں اورایک دوسرے سے نفرت کرتے ہوں اورعورت مردکوکچھ مال دے تاکہ وہ اسے طلاق دے دے تواسے’’ طلاق مبارات‘‘ کہتے ہیں ۔
مسئلہ (۲۵۵۰)اگرشوہر مبارات کاصیغہ پڑھناچاہے تواگرمثلاً عورت کانام عاطفہ ہو توضروری ہے کہ کہے: ’’بَارَاْتُ زَوْجَتِیْ عَاطِفَۃَ عَلیٰ مَابَذَلَتْ‘‘اور( احتیاط لازم کی بنا پر) ’’فَھِیَ طَالِقٌ‘‘ بھی کہے یعنی میں اور میری بیوی عاطفہ اس ’عطا‘ کے مقابل میں جواس نے کی ہے ایک دوسرے سے جداہوگئے ہیں پس وہ آزاد ہے اور اگروہ شخص کسی کووکیل مقرر کرے توضروری ہے کہ وکیل کہے: ’’عَنْ قِبَلِ مُوَکِّلِیْ بَارَاْتُ زَوْجَتَہٗ عَاطِفَۃَ عَلیٰ مَابَذَلَتْ فَھِیَ طَالِقٌ‘‘ اوردونوں صورتوں میں کلمۂ ’’عَلیٰ مَابَذَلَتْ‘‘ کے بجائے اگر ’’بِمَابَذَلَتْ‘‘ کہے توکوئی اشکال نہیں ہے۔
مسئلہ (۲۵۵۱)خلع اورمبارات کی طلاق کاصیغہ اگرممکن ہوتوصحیح عربی میں پڑھا جانا چاہئے اوراگرممکن نہ ہوتواس کاحکم طلاق کے حکم جیساہے جس کابیان مسئلہ (۲۵۲۶) میں گزرچکاہے۔لیکن اگرعورت مبارات کی طلاق کے لئے شوہر کواپنامال بخش دے۔ مثلاً اردو میں کہے کہ: ’’میں نے طلاق لینے کے لئے فلاں مال تمہیں بخش دیا‘‘توکوئی اشکال نہیں ۔
مسئلہ (۲۵۵۲)اگرکوئی عورت طلاق خلع یاطلاق مبارات کی عدت کے دوران اپنی بخشش سے پھرجائے توشوہر اس کی طرف رجوع کرسکتاہے اوردوبارہ نکاح کئے بغیر اسے اپنی بیوی بناسکتاہے۔
مسئلہ (۲۵۵۳)جومال شوہر طلاق مبارات دینے کے لئے لے(احتیاط واجب کی بناپر) ضروری ہے کہ وہ عورت کے مہر سے زیادہ نہ ہولیکن طلاق خلع کے سلسلے میں لیاجانے والامال اگرمہرسے زیادہ بھی ہوتوکوئی اشکال نہیں ۔

