مسئلہ (۲۵۵۴)اگرکوئی آدمی کسی نامحرم عورت سے اس گمان میں جماع کرے کہ وہ اس کی بیوی ہے توخواہ عورت کوعلم ہوکہ وہ شخص اس کاشوہر نہیں ہے یاگمان کرے کہ اس کاشوہر ہے ضروری ہے کہ عدت رکھے۔
مسئلہ (۲۵۵۵)اگرکوئی آدمی کسی عورت سے یہ جانتے ہوئے زناکرے کہ وہ اس کی بیوی نہیں ہے تواگر عورت کوعلم ہوکہ وہ آدمی اس کاشوہر نہیں ہے اس کے لئے عدت رکھنا ضروری نہیں ۔ لیکن اگراسے شوہر ہونے کاگمان ہوتواحتیاط لازم یہ ہے کہ وہ عورت عدت رکھے۔
مسئلہ (۲۵۵۶)اگرکوئی آدمی کسی عورت کوورغلائے کہ وہ اپنے شوہرسے متعلق ازدواجی ذمے داریاں پوری نہ کرے تاکہ اس طرح شوہر اسے طلاق دینے پرمجبور ہو جائے اوروہ خوداس عورت کے ساتھ شادی کرسکے توطلاق اورنکاح صحیح ہیں لیکن دونوں نے بہت بڑاگناہ کیاہے۔
مسئلہ (۲۵۵۷)اگرعورت نکاح کے سلسلے میں شوہر سے شرط کرے کہ اگراس کاشوہر مخصوص شرائط میں طولانی سفراختیار کرے یا مثلاًچھ مہینے اسے خرچ نہ دے یا طولانی مدت تک زندان میں رہے وغیرہ توطلاق کااختیار عورت کوحاصل ہوگاتو یہ شرط باطل ہے۔لیکن اگروہ یوں شرط کرے کہ ابھی سے شوہر کی طرف سے وکیل ہے کہ اگر وہ مخصوص شرائط میں یا بغیرقید وشرط اپنے کو طلاق دے گی توشرط صحیح ہے اور اسے بعدمیں اس وکالت سے معزول نہیں کرسکتا ہے اور اگر عورت نے خود کو طلاق دے کر جدا کرلیا تو طلاق صحیح ہے۔
مسئلہ (۲۵۵۸)جس عورت کاشوہرلاپتا ہوجائے اگروہ دوسراشوہرکرناچاہے تو ضروری ہے کہ مجتہدعادل کے پاس جائے اور’’ منھاج الصالحین‘‘ میں بیان کئے گئے مخصوص شرائط کے مطابق اسے طلاق دے سکتی ہے۔
مسئلہ (۲۵۵۹)دیوانے کے باپ دادااس کی بیوی کوطلاق دے سکتے ہیں اگر اس کی بھلائی میں ہو۔
مسئلہ (۲۵۶۰)اگرباپ یادادا اپنے (نابالغ) لڑکے (یاپوتے) کاکسی عورت سے متعہ کردیں اورمتعہ کی مدت میں اس لڑکے کے مکلف ہونے کی کچھ مدت بھی شامل ہو مثلا ً اپنے چودہ سالہ لڑکے کاکسی عورت سے دو سال کے لئے متعہ کردیں تواگراس میں لڑکے کی بھلائی ہوتووہ (یعنی باپ یادادا) اس عورت کی مدت بخش سکتے ہیں لیکن لڑکے کی دائمی بیوی کوطلاق نہیں دے سکتے۔
مسئلہ (۲۵۶۱)اگرکوئی شخص دوآدمیوں کوشرع کی مقررکردہ علامت کی روسے عادل سمجھے اوراپنی بیوی کوان کے سامنے طلاق دے دے توکوئی اورشخص جس کے نزدیک ان دوآدمیوں کی عدالت مشکوک ہو اور وہ یہ احتمال دے کہ طلاق دینے والے شخص کے نزدیک ان دو کی عدالت ثابت تھی تو اس عورت کی عدت ختم ہونے کے بعد اس کے ساتھ خود نکاح کرسکتاہے یااسے کسی دوسرے کے نکاح میں دے سکتاہےلیکن اگر عادل ہونے پر یقین ہوتو اس عورت سے عقد نہیں کرسکتا۔
مسئلہ (۲۵۶۲)جس عورت کو طلاق رجعی دیا گیا ہے وہ اس وقت تک شرعی بیوی کے حکم میں ہے جب تک کہ اس کا عدہ مکمل نہیں ہوجاتا پس ضروری ہےکہ ہر طرح کی لذت جو شوہر کاحق ہے اس سےمنع نہ کرے اور جائز ہے بلکہ مستحب ہےکہ اس کے لئےاپنے آپ کو زینت سے آراستہ کرے اور اس کی اجازت کےبغیر باہر نکلنا جائز نہیں ہے اور اگر نافرمانی نہیں کرتی تو اس کا خرچہ شوہر پر واجب ہے اور اس کا فطرہ اور کفن کا خرچ بھی شوہر کے ذمہ ہے اور دونوں میں سے کسی ایک کے مرنے کی صورت میں ایک دوسرے کی میراث پائیں گے اور مرد اس کے عدت کے دوران اس کی بہن سے عقد نہیں کرسکتا۔

