توضیح المسائل اردو آیت الله سیستانی

وضوصحیح ہونے کی شرائط

وضو صحیح ہونے کی چندشرائط ہیں :

(پہلی شرط:) وضو کاپانی پاک ہو۔احتیاط واجب کی بناء پر وضو کا پانی ان چیزوں سے آلودہ نہ ہو جن کو انسان کی طبیعت پسند نہ کرے مثلاً حلال گوشت حیوان کےپیشاب، پاک مردار، زخم کی چرک(ریم) گرچہ شرعا وہ پاک ہے۔

(دوسری شرط:) پانی مطلق ہو۔

مسئلہ(۲۶۴) نجس یامضاف پانی سے وضوکرناباطل ہے خواہ وضوکرنے والاشخص اس کے نجس یامضاف ہونے کے بارے میں علم نہ رکھتاہویابھول گیاہوکہ یہ نجس یا مضاف پانی ہے۔لہٰذااگروہ ایسے پانی سے وضوکرکے نماز پڑھ چکاہوتوصحیح وضوکرکے دوبارہ نمازپڑھناضروری ہے۔

مسئلہ(۲۶۵) اگرایک شخص کے پاس مٹی ملے ہوئے مضاف پانی کے علاوہ اور کوئی پانی وضوکے لئے نہ ہواورنمازکاوقت تنگ ہوتوضروری ہے کہ تیمم کرلے، لیکن اگروقت تنگ نہ ہوتوضروری ہے کہ پانی کے صاف ہونے کاانتظارکرے یاکسی طریقے سے اس پانی کوصاف کرے اور وضو کرے۔لیکن مٹی ملے پانی کو مضاف اسی وقت کہاجائے گا جب اسے پانی نہ کہاجاسکے۔

(تیسری شرط:) وضو کاپانی مباح ہو۔

مسئلہ(۲۶۶) ایسے پانی سے وضوکرناجوغصبی ہویاجس کے بارے میں علم نہ ہوکہ اس کامالک اس کے استعمال پرراضی ہے یانہیں حرام اورباطل ہے۔اس کےعلاوہ اگرچہرے اورہاتھوں سے وضوکاپانی غصب کی ہوئی جگہ پرگرتاہویاوہ جگہ جس میں وضو کر رہاہے غصبی ہے اوروضوکرنے کے لئے کوئی اور جگہ بھی نہ ہوتومتعلقہ شخص کافریضہ تیمم ہے اوراگرکسی دوسری جگہ وضوکرسکتاہوتوضروری ہے کہ دوسری جگہ وضوکرے۔لیکن اگر دونوں صورتوں میں گناہ کاارتکاب کرتے ہوئے اسی جگہ وضوکرلے تواس کاوضو صحیح ہے۔

مسئلہ(۲۶۷) کسی مدرسے کے ایسے حوض سے وضوکرنے میں کوئی حرج نہیں جس کے بارے میں یہ علم نہ ہوکہ آیاوہ تمام لوگوں کے لئے وقف کیاگیاہے یاصرف مدرسے کے طلباء کے لئے وقف ہے اور صورت یہ ہوکہ لوگ عموماً اس حوض سے وضو کرتے ہوں اور کوئی منع نہ کرتاہو۔

مسئلہ(۲۶۸) اگرکوئی شخص ایک مسجد میں نماز پڑھنانہ چاہتاہواوریہ بھی نہ جانتا ہو کہ آیااس مسجدکا حوض تمام لوگوں کے لئے وقف ہے یاصرف ان لوگوں کے لئے جو اس مسجد میں نماز پڑھتے ہیں تواس کے لئے اس حوض سے وضو کرنادرست نہیں ، لیکن اگرعموماً وہ لوگ بھی اس حوض سے وضو کرتے ہوں جواس مسجد میں نمازنہ پڑھناچاہتے ہوں اور کوئی منع نہ کرتاہوتووہ شخص بھی اس حوض سے وضو کرسکتاہے۔

مسئلہ(۲۶۹) سرائے، مسافرخانوں اورایسے ہی دوسرے مقامات کے حوض سے ان لوگوں کاجوان میں مقیم نہ ہوں ، وضوکرنااسی صورت میں درست ہے جب عموماً ایسے لوگ بھی جووہاں مقیم نہ ہوں اس حوض سے وضوکرتے ہوں اورکوئی منع نہ کرتاہو۔

مسئلہ(۲۷۰) ان نہروں سے وضو کرنے میں کوئی اشکال نہیں ہے جن کے سلسلہ میں بغیر مالک کی اجازت کے جواز استعمال پر بناء عقلا ہے نہر( خواہ چھوٹی ہو یا بڑی) اگرچہ انسان نہ جانتا ہو کہ ان کامالک راضی ہے یانہیں ۔لیکن اگران نہروں کامالک وضوکرنے سے منع کرے یامعلوم ہوکہ وہ ان سے وضوکرنے پر راضی نہیں یاان کامالک نابالغ یاپاگل ہوتب بھی ان نہروں کااستعمال جائز ہے۔

مسئلہ(۲۷۱) اگرکوئی شخص یہ بھول جائے کہ پانی غصبی ہے اوراس سے وضو کرلے تواس کاوضو صحیح ہے۔ لیکن اگرکسی شخص نے خودپانی غصب کیاہواوربعدمیں بھول جائے کہ یہ پانی غصبی ہے اوراس سے وضوکرلے تواس کاوضوصحیح ہونے میں اشکال ہے۔

مسئلہ(۲۷۲) اگروضو کاپانی اس کی ملکیت میں ہے مگر برتن غصبی ہو اور اس کے علاوہ دوسرا پانی نہ ہوتو اگر شرعی طور سے اس پانی کو کسی دوسرے برتن میں نکال لینا ممکن ہوتو ضروری ہے کہ نکالے اور وضو کرے اور اگر یہ ممکن نہ ہوتو تیمم کرنا ضروری ہے لیکن اگر دوسرا پانی ہے تو ضروری ہے کہ اس سے وضو کرے اور دونوں صورتوں میں اگر اس نے مخالفت کیا اور غصبی برتن کے پانی سے وضو کرلیا تو اس کا وضو صحیح ہے۔

مسئلہ(۲۷۳) جس حوض کی ایک اینٹ یاایک پتھر غصبی ہو اگر عرف میں اس سے پانی نکالنا اینٹ یا پتھر کااستعمال نہ سمجھا جاتا ہو تو اشکال نہیں ہے لیکن اگر اینٹ یا پتھر کا استعمال سمجھا جاتاہوتوپانی نکالنا حرام ہے مگر وضو صحیح ہے۔

مسئلہ(۲۷۴) اگر کسی امام یا امام زادہ کے صحن میں جو پہلے قبرستان رہا ہو ایک حوض یا نہر بنادی جائے اور انسان کو معلوم نہ ہو کہ صحن کی زمین کو خاص طورسے قبرستان کے لئے وقف کیا تھا تواس حوض یانہر سے وضو کرنے میں کوئی اشکال نہیں ہے۔

(چوتھی شرط:):وضو کے اعضاء دھوتے اور مسح کرتے وقت پاک ہوں خواہ انہیں دوران وضو ہی دھونے یا مسح کرنے سےپہلے پاک کرے اور اگر آب کر یا اس کے جیسے پانی سے وضو کررہاہوتو دھونے سے پہلے پاک کرنا ضروری نہیں ہے۔

مسئلہ(۲۷۵) اگروضومکمل ہونے سے پہلے وہ مقام نجس ہوجائے جسے دھویاجا چکا ہے یاجس کامسح کیاجاچکاہے تووضوصحیح ہے۔

مسئلہ(۲۷۶) اگراعضائے وضوکے سوابدن کاکوئی حصہ نجس ہوتووضوصحیح ہے، لیکن اگرپاخانے یاپیشاب کے مقام کوپاک نہ کیاہوتوپھراحتیاط مستحب یہ ہے کہ پہلے انہیں پاک کرے اورپھروضوکرے۔

مسئلہ(۲۷۷) اگروضوکے اعضاء میں سے کوئی عضونجس ہواوروضوکرنے کے بعد متعلقہ شخص کو شک ہو کہ آیاوضوکرنے سے پہلے اس عضوکودھویاتھایانہیں تووضو صحیح ہے، لیکن اس نجس مقام کودھو لیناضروری ہے۔

مسئلہ(۲۷۸) اگرکسی کے چہرے یاہاتھوں پرکوئی ایسی خراش یازخم ہوجس سے خون نہ رکتاہواور پانی اس کے لئے مضرنہ ہوتوضروری ہے کہ اس عضوکے صحیح سالم اجزاء کو ترتیب واردھونے کے بعدزخم یاخراش والے حصے کوکرپانی یاجاری پانی میں ڈبو دے اور اسے اس قدردبائے کہ خون بندہوجائے اور پانی کے اندرہی اپنی انگلی زخم یاخراش پررکھ کراوپرسے نیچے کی طرف کھینچے تاکہ اس (خراش یازخم) پرپانی جاری ہوجائےپھر اس کے بعد والے حصہ کو دھولے اس طرح اس کاوضوصحیح ہوجائے گا۔

(پانچویں شرط:) وضوکرنے اورنمازپڑھنے کے لئے وقت کافی ہو۔

مسئلہ(۲۷۹) وقت اتناتنگ ہوکہ اگر وضوکرے توساری نمازیااس کاکچھ حصہ وقت کے بعدپڑھناپڑے توضروری ہے کہ تیمم کرلے، لیکن اگرتیمم اوروضوکے لئے تقریباً یکساں وقت درکارہوتوپھروضوکرے۔

مسئلہ(۲۸۰) جس شخص کے لئے نماز کاوقت تنگ ہونے کے باعث تیمم کرنا ضروری ہواگروہ قصدقربت کی نیت سے یاکسی مستحب کام( مثلاً قرآن مجیدپڑھنے کے لئے ) وضوکرے تواس کاوضوصحیح ہے اوراگراسی نماز کوپڑھنے کے لئے وضوکرے توبھی یہی حکم ہے، لیکن اسے قصدقربت حاصل نہ ہو۔

(چھٹی شرط:) وضوبقصد قربت یعنی اللہ تعالیٰ کی قربت کے لئے کیا جائے۔اور کافی ہے کہ اللہ کے حکم کی اطاعت کے قصدسے بجالایا جائے اگر اپنے کوٹھنڈک پہنچانے یاکسی اورنیت سے کیاجائے تووضوباطل ہے۔

مسئلہ(۲۸۱) وضوکی نیت زبان سے یادل میں کرناضروری نہیں بلکہ اگرایک شخص وضو کے تمام افعال اللہ تعالیٰ کے حکم پرعمل کرنے کی نیت سے بجالائے توکافی ہے۔

(ساتویں شرط:) وضواس ترتیب سے کیاجائے جس کاذکراوپرہوچکاہے یعنی پہلے چہرہ اوراس کے بعددایاں اورپھربایاں ہاتھ دھویاجائے اس کے بعدسرکااورپھرپاؤں کا مسح کیاجائے اوراحتیاط مستحب یہ ہے کہ دونوں پاؤں کاایک ساتھ مسح نہ کیا جائے بلکہ بائیں پاؤں کامسح دائیں پاؤں کے بعدکیاجائے۔

(آٹھویں شرط:) وضوکے افعال پے درپے انجام دے۔

مسئلہ(۲۸۲) اگروضوکے افعال کے درمیان اتنافاصلہ ہوجائے کہ عرف عام میں متواتردھونانہ کہلائے تو وضوباطل ہے، لیکن اگرکسی شخص کوکوئی عذرپیش آجائے( مثلاً یہ کہ بھول جائے یاپانی ختم ہوجائے) تواس صورت میں بلافاصلہ دھونے کی شرط معتبرنہیں ہے۔ بلکہ وضوکرنے والاشخص جس وقت چاہے کسی عضو کودھولے یااس کامسح کرلے تواس اثنا میں اگران مقامات کی تری خشک ہوجائے جنہیں وہ پہلے دھوچکاہویاجس کامسح کرچکا ہو تووضوباطل ہوگا،لیکن اگرجس عضوکودھوناہے یامسح کرناہے صرف اس سے پہلے دھوئے ہوئے یامسح کئے ہوئے عضوکی تری خشک ہوگئی ہومثلاً جب بایاں ہاتھ دھوتے وقت دائیں ہاتھ کی تری خشک ہوچکی ہولیکن چہرہ ترہوتووضو صحیح ہے۔

مسئلہ(۲۸۳) اگرکوئی شخص وضوکے افعال بلافاصلہ انجام دے، لیکن گرم ہوایا بدن کی حرارت یاکسی اورایسی ہی وجہ سے پہلی جگہوں کی تری (یعنی ان جگہوں کی تری جنہیں وہ پہلے دھوچکاہویاجن کامسح کرچکاہو)خشک ہوجائے تواس کاوضو صحیح ہے۔

مسئلہ(۲۸۴) وضو کے دوران چلنے پھرنے میں کوئی حرج نہیں لہٰذااگرکوئی شخص چہرہ اورہاتھ دھونے کے بعدچندقدم چلے اورپھرسراورپاؤں کامسح کرے تواس کاوضو صحیح ہے۔

(نویں شرط:) انسان خوداپناچہرہ اورہاتھ دھوئے اورپھرسراور پاؤں کامسح کرے۔ اگرکوئی دوسرااسے وضوکرائے یااس کے چہرے یاہاتھوں پرپانی ڈالنے یاسر اور پاؤں کامسح کرنے میں اس کی مددکرے تواس کاوضوباطل ہے۔

مسئلہ(۲۸۵) اگرکوئی شخص خودوضونہ کرسکتاہوتوکسی دوسرے شخص سے مددلے لے اگرچہ دھونے اور مسح کرنے میں حتی الامکان دونوں کی شرکت ضروری ہے اور اگروہ شخص اجرت مانگے تواگراس کی ادائیگی کرسکتاہواورایساکرنااس کے حالات کےلئے نقصان دہ نہ ہوتواجرت اداکرناضروری ہے۔ نیز ضروری ہے کہ وضو کی نیت خودکرے اور اپنے ہاتھ سے مسح کرے اوراگرخوددوسرے کے ساتھ شرکت نہ کر سکتاہو تو ضروری ہے کہ کسی دوسرے شخص سے مددلے جواسے وضوکروائے یااس صورت میں احتیاط واجب یہ ہے کہ دونوں وضوکی نیت کریں اوراگریہ ممکن نہ ہوتوضروری ہے کہ اس کانائب اس کا ہاتھ پکڑکراس کی مسح کی جگہوں پر ہاتھ پھیرے اوراگریہ بھی ممکن نہ ہوتوضروری ہے کہ نائب اس کے ہاتھ سے تری حاصل کرے اوراس تری سے اس کے سراورپاؤں پرمسح کرے۔

مسئلہ(۲۸۶) وضوکے جوافعال بھی انسان بذات خودانجام دے سکتاہوضروری ہے کہ انہیں انجام دینے کے لئے دوسروں کی مددنہ لے۔

(دسویں شرط:) وضوکرنے والے کے لئے پانی کے استعمال میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔

مسئلہ(۲۸۷) جس شخص کوخوف ہوکہ وضوکرنے سے بیمارہوجائے گایااس پانی سے وضوکرے گاتو پیاسارہ جائے گااس کافریضہ وضونہیں ہے اوراگراسے علم نہ ہوکہ پانی اس کے لئے مضرہے اوروہ وضوکرلے اوراسے وضوکرنے سے نقصان پہنچے تواس کاوضو باطل ہے۔

مسئلہ(۲۸۸) اگرچہرے اورہاتھوں کواتنے کم پانی سے دھوناجس سے وضو صحیح ہو جاتا ہوضرررساں نہ ہواوراس سے زیادہ ضرررساں ہوتوضروری ہے کہ کم مقدارسے ہی وضوکرے۔

(گیارہویں شرط:) وضوکے اعضاء تک پانی پہنچنے میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔

مسئلہ(۲۸۹) اگرکسی شخص کومعلوم ہوکہ اس کے اعضاء پرکوئی چیزلگی ہوئی ہے، لیکن اس بارے میں اسے شک ہوکہ آیاوہ چیزپانی کے ان اعضاء تک پہنچنے میں مانع ہے یانہیں تو ضروری ہے کہ یاتواس چیزکوہٹادے یاپانی اس کے نیچے تک پہنچائے۔

مسئلہ(۲۹۰) اگرناخن کے نیچے میل ہوتووضودرست ہے،لیکن اگرناخن کاٹا جائے اوراس میل کی وجہ سے پانی کھال تک نہ پہنچے تووضو کے لئے اس میل کادورکرنا ضروری ہے۔اس کےعلاوہ اگرناخن معمول سے زیادہ بڑھ جائیں توجتناحصہ معمول سے زیادہ بڑھا ہواہواس کے نیچے سے میل نکالناضروری ہے۔

مسئلہ(۲۹۱) اگرکسی شخص کے چہرے، ہاتھوں ، سرکے اگلے حصے یاپاؤں کے اوپر والے حصے جل جانے سے یاکسی اوروجہ سے ورم ہوجائے تواسے دھولینااوراس پر مسح کرلیناکافی ہے اوراگراس میں سوراخ ہوجائے توپانی جلدکے نیچے پہنچاناضروری نہیں بلکہ اگرجلدکاایک حصہ اکھڑجائے تب بھی یہ ضروری نہیں کہ جوحصہ نہیں اکھڑااس کے نیچے تک پانی پہنچایاجائے، لیکن جب اکھڑی ہوئی جلدکبھی بدن سے چپک جاتی ہواور کبھی اوپر اٹھ جاتی ہوتوضروری ہے کہ یاتواسے کاٹ دے یااس کے نیچے پانی پہنچائے۔

مسئلہ(۲۹۲) اگرکسی شخص کوشک ہوکہ اس کے وضوکے اعضاء سے کوئی چیزچپکی ہوئی ہے یانہیں اوراس کایہ احتمال لوگوں کی نظر میں بھی درست ہومثلاً گارے سے کوئی کام کرنے کے بعدشک ہوکہ گارااس کے ہاتھ سے لگارہ گیاہے یانہیں توضروری ہے کہ تحقیق کرلے یاہاتھ کواتناملے کہ اطمینان ہوجائے کہ اگراس پرگارالگارہ گیاتھاتودورہو گیا ہے یاپانی اس کے نیچے پہنچ گیاہے۔

مسئلہ(۲۹۳) جس جگہ کودھوناہویاجس کامسح کرناہواگراس پرمیل ہولیکن وہ میل پانی کی جلدتک پہنچنے میں رکاوٹ نہ ڈالے توکوئی حرج نہیں ۔ اسی طرح اگرپلستروغیرہ کا کام کرنے کے بعدسفیدی ہاتھ پرلگی رہ جائے جوپانی کوجلدتک پہنچنے سے نہ روکے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ۔لیکن اگرشک ہوکہ ان چیزوں کی موجودگی پانی کی جلدتک پہنچنے میں مانع ہے یانہیں توانہیں دورکرناضروری ہے۔

مسئلہ(۲۹۴) اگرکوئی شخص وضوکرنے سے پہلے جانتاہوکہ وضوکے بعض اعضاء پر ایسی چیزموجودہے جو ان تک پانی پہنچنے میں مانع ہے اوروضوکے بعدشک کرے کہ وضو کرتے وقت پانی ان اعضاء تک پہنچایاہے یانہیں تواس کاوضوصحیح ہے۔

مسئلہ(۲۹۵) اگروضوکے بعض اعضاء میں کوئی ایسی رکاوٹ ہوجس کے نیچے پانی کبھی توخودبخودچلاجاتاہواورکبھی نہ پہنچتاہواورانسان وضوکے بعدشک کرے کہ پانی اس کے نیچے پہنچاہے یانہیں جب کہ وہ جانتاہوکہ وضوکے وقت وہ اس رکاوٹ کے نیچے پانی پہنچنے کی جانب متوجہ نہ تھاتواحتیاط مستحب یہ ہے کہ دوبارہ وضوکرے۔

مسئلہ(۲۹۶) اگرکوئی شخص وضوکرنے کے بعدوضوکے اعضاء پرکوئی ایسی چیز دیکھے جوپانی کے بدن تک پہنچنے میں مانع ہواوراسے یہ معلوم نہ ہوکہ وضوکے وقت یہ چیز موجودتھی یابعدمیں پیداہوئی تواس کاوضوصحیح ہے، لیکن اگروہ جانتاہوکہ وضوکرتے وقت وہ اس رکاوٹ کی جانب متوجہ نہ تھاتواحتیاط مستحب یہ ہے کہ دوبارہ وضوکرے۔

مسئلہ(۲۹۷) اگرکسی شخص کووضوکے بعدشک ہوکہ جوچیزپانی کے پہنچنے میں مانع ہے وضوکے اعضاء پرتھی یانہیں تواس کاوضوصحیح ہے۔