توضیح المسائل اردو آیت الله سیستانی

مزارعہ اور مساقات اور مغارسہ کے احکام

مزارعہ کے احکام

مسئلہ (۲۲۴۶)مزارعہ یہ ہے کہ (زمین کا) مالک کاشت کار (زارع) سے معاہدہ کرکے اپنی زمین اس کے اختیارمیں دے تاکہ وہ اس میں کاشت کاری کرے اور پیداوارکاکچھ حصہ مالک کودے۔

مسئلہ (۲۲۴۷)مزارعہ کی چندشرائط ہیں :

۱:
) معاہدہ ان دو کے درمیان ہو جیسے زمین کامالک کاشت کار سے کہے کہ میں نے زمین تمہیں کھیتی باڑی کے لئے دی ہے اور کاشت کار بھی کہے کہ میں نے قبول کی ہے یابغیراس کے کہ زبانی کچھ کہیں مالک کاشت کار کوکھیتی باڑی کے ارادے سے زمین دے دے اور کاشت کارقبول کرلے۔

۲:
)زمین کامالک اورکاشت کاردونوں بالغ اورعاقل ہوں اور مزارعہ کامعاہدہ اپنے ارادے اور اختیارسے کریں اورسفیہ نہ ہوں یعنی اپنے مال کو بیہودہ کاموں میں مصرف نہ کریں اور اسی طرح ضروری ہے کہ مالک دیوالیہ نہ ہو۔لیکن اگر کاشت کار دیوالیہ ہواوراس کامزارعہ کرناان اموال میں تصرف نہ کہلائے جن میں اسے تصرف کرنامنع تھاتوایسی صورت میں کوئی اشکال نہیں ہے۔

۳:
)مالک اور کاشت کارمیں سے ہرایک زمین کی پیداوارمیں سے کچھ حصہ مثلاً نصف یاایک تہائی وغیرہ لے لے۔لہٰذا اگرکوئی بھی اپنے لئے کوئی حصہ مقررنہ کرے یامثلاً مالک کہے کہ اس زمین میں کھیتی باڑی کرواور جوتمہاراجی چاہے مجھے دے دیناتویہ درست نہیں ہے اور اسی طرح اگرپیداوارکی ایک معین مقدارمثلاًدس من کاشت کار یامالک کے لئے مقررکردی جائے تویہ بھی صحیح نہیں ہے۔

۴:
)جتنی مدت کے لئے زمین کاشت کار کے قبضے میں رہنی چاہئے اسے معین کردیں اور ضروری ہے کہ وہ مدت اتنی ہوکہ اس مدت میں پیداوارحاصل ہوناممکن ہواوراگر مدت کی ابتداایک مخصوص دن سے اورمدت کااختتام پیداوارملنے تک کومقررکردیں توکافی ہے۔

۵:
)زمین قابل کاشت ہو اور اگراس میں ابھی کاشت کرناممکن نہ ہولیکن ایساکام کیاجاسکتاہوجس سے کاشت ممکن ہوجائے تومزارعہ صحیح ہے۔

۶:
)کاشت کارجوچیزکاشت کرناچاہے،ضروری ہے کہ اس کومعین کردیاجائے۔مثلاً معین کرے کہ چاول ہے یاگیہوں اوراگرچاول ہے توکس قسم کاچاول ہے۔لیکن اگر کسی مخصوص چیزکی کاشت پیش نظرنہ ہوتواس کامعین کرناضروری نہیں ہے اور اسی طرح اگر کوئی مخصوص چیزپیش نظرہواوراس کاعلم ہوتولازم نہیں ہے کہ اس کی وضاحت بھی کرے۔

۷:
)مالک، زمین کومعین کردے۔ یہ شرط اس صورت میں ہے جب کہ مالک کے پاس زمین کے چندقطعات ہوں اور ان قطعات کے لوازم کاشت کاری میں فرق رکھتے ہوں۔ لیکن ان میں کوئی فرق نہ ہوتو زمین کومعین کرنالازم نہیں ہے۔ لہٰذااگرمالک کاشت کار سے کہے کہ زمین کے ان قطعات میں سے کسی ایک میں کھیتی باڑی کرواور اس قطعہ کو معین نہ کرے تو مزارعہ صحیح ہےاور معاہدہ کے بعد معین کرنا مالک کے اختیار میں ہے۔

۸:
)جوخرچ جیسے بیج ڈالنا کھاد ڈالنا اور زراعت کے لوازم کااستعمال کرنا وغیرہ ان میں سے ہرایک کوکرناضروری ہواسے معین کردیں لیکن جوخرچ ہر ایک کوکرناضروری ہو اگر اس کا علم ہوتوپھراس کی وضاحت کرنالازم نہیں ۔

مسئلہ (۲۲۴۸)اگرمالک کاشت کار سے طے کرے کہ پیداوارکی کچھ مقدارایک کی ہوگی اورجوباقی بچے گااسے وہ آپس میں تقسیم کرلیں گے تومزارعہ باطل ہے اگرچہ انہیں علم ہوکہ اس مقدار کوعلیٰحدہ کرنے کے بعدکچھ نہ کچھ باقی بچ جائے گا۔ ہاں اگروہ آپس میں یہ طے کرلیں کہ بیج کی جومقدارکاشت کی گئی ہے یا ٹیکس کی جومقدار حکومت لیتی ہے وہ پیداوارسے نکالی جائے گی اور جوباقی بچے گااسے دونوں کے درمیان تقسیم کیاجائے گا تو مزارعہ صحیح ہے۔

مسئلہ (۲۲۴۹)اگرمزارعہ کے لئے کوئی مدت معین کی ہوکہ جس میں عموماً پیداوار دستیاب ہوجاتی ہے لیکن اگراتفاقاً مدت ختم ہوجائے اورپیداوار دستیاب نہ ہوئی ہوتو اگر مدت معین کرتے وقت یہ بات بھی شامل تھی یعنی دونوں اس بات پرراضی تھے کہ مدت ختم ہونے کے بعداگرچہ پیداوار دستیاب نہ ہو مزارعہ ختم ہوجائے گاتواس صورت میں اگر مالک اس بات پرراضی ہوکہ اجرت پریابغیراجرت فصل اس کی زمین میں کھڑی رہے اور کاشت کاربھی راضی ہوتوکوئی حرج نہیں اوراگرمالک راضی نہ ہوتوکاشت کار کومجبور کرسکتاہے کہ فصل زمین میں سے کاٹ لے اور اگرفصل کاٹ لینے سے کاشت کار کوکوئی نقصان پہنچے تو لازم نہیں کہ مالک اسے اس کاعوض دے لیکن اگرچہ کاشت کارمالک کوکوئی چیزدینے پرراضی ہو تب بھی وہ مالک کومجبورنہیں کرسکتاکہ وہ فصل اپنی زمین پررہنے دے۔

مسئلہ (۲۲۵۰)اگرکوئی ایسی صورت پیش آجائے کہ زمین میں کھیتی باڑی کرناممکن نہ ہومثلاً زمین کاپانی بندہوجائے تومزارعہ ختم ہوجاتاہے اوراگرکاشت کاربلاوجہ کھیتی باڑی نہ کرے تواگرزمین اس کے تصرف میں رہی ہواورمالک کااس میں کوئی تصرف نہ رہاہوتو ضروری ہے کہ عام شرح کے حساب سے اس مدت کا کرایہ مالک کودے۔

مسئلہ (۲۲۵۱)زمین کامالک اورکاشت کارایک دوسرے کی رضامندی کے بغیر مزارعہ (کامعاہدہ) منسوخ نہیں کرسکتے۔لیکن اگرمزارعہ کے معاہدے کے سلسلے میں انہوں نے شرط طے کی ہوکہ ان میں سے دونوں کویاکسی ایک کومعاملہ فسخ کرنے کاحق حاصل ہوگاتوجومعاہدہ انہوں نے کررکھاہواس کے مطابق معاملہ فسخ کرسکتے ہیں ۔اسی طرح اگران دونوں میں سے ایک فریق طے شدہ شرائط کے خلاف عمل کرے تودوسرا فریق معاملہ فسخ کرسکتاہے۔

مسئلہ (۲۲۵۲)اگرمزارعہ کے معاہدے کے بعدمالک یاکاشت کار مرجائے تو مزارعہ منسوخ نہیں ہوجاتابلکہ ان کے وارث ان کی جگہ لے لیتے ہیں لیکن اگرکاشت کار مرجائے اور انہوں نے مزارعہ میں یہ شرط رکھی تھی کہ کاشت کار خودکاشت کرے گا تومزارعہ منسوخ ہو جاتاہے۔لیکن اگرجوکام ا س کے ذمے تھے وہ مکمل ہو گئے ہوں تواس صورت میں مزارعہ منسوخ نہیں ہوتااوراس کاحصہ اس کے ورثاء کودیناضروری ہے اورجودوسرے حقوق کاشت کار کوحاصل ہوں وہ بھی اس کے ورثاء کومیراث میں مل جاتے ہیں اورورثاء مالک کو اس بات پرمجبورکرسکتے ہیں کہ مزارعہ ختم ہونے تک فصل اس کی زمین میں کھڑی رہے۔

مسئلہ (۲۲۵۳)اگرکاشت کے بعدپتاچلے کہ مزارعہ باطل تھاتواگرجوبیج ڈالاگیاہو وہ مالک کامال ہوتوجو فصل ہاتھ آئے گی وہ بھی اسی کامال ہوگی اورضروری ہے کہ کاشت کار کی اجرت اورجوکچھ اس نے خرچ کیاہواورکاشت کارکے مملوکہ جن بیلوں اوردوسرے جانوروں نے زمین پرکام کیاہوان کاکرایہ کاشت کارکودے اوراگربیج کاشت کارکامال ہوتو فصل بھی اسی کامال ہے اورضروری ہے کہ زمین کاکرایہ اورجوکچھ مالک نے خرچ کیاہو اوران بیلوں اوردوسرے جانوروں کاکرایہ جومالک کامال ہوں اورجنہوں نے اس زراعت پر کام کیاہومالک کودے اور دونوں صورتوں میں عام طورپرجوحق بنتاہواگر اس کی مقدارطے شدہ مقدارسے زیادہ ہواوردوسرے فریق کواس کاعلم ہوتوزیادہ مقداردینا واجب نہیں ۔

مسئلہ (۲۲۵۴)اگربیج کاشت کارکامال ہواورکاشت کے بعدفریقین کوپتاچلے کہ مزارعہ باطل تھا تواگرمالک اورکاشت کار رضامندہوں کہ اجرت پریابلااجرت فصل زمین پر کھڑی رہے توکوئی اشکال نہیں ہے اوراگر مالک راضی نہ ہوتو(احتیاط واجب کی بنا ء پر) کاشت کار کو مجبور نہیں کیاجاسکتا کہ وہ زراعت کو کاٹ لے اوراسی طرح مالک کاشت کار کومجبور نہیں کرسکتاکہ وہ کرایہ دے کرفصل اس کی زمین میں کھڑی رہنے دے حتیٰ کہ اس سے زمین کاکرایہ طلب نہ کرے (تب بھی فصل کھڑی رکھنے پرمجبورنہیں کرسکتا)۔

مسئلہ (۲۲۵۵)اگرکھیت کی پیداوارجمع کرنے اورمزارعہ کی میعادختم ہونے کے بعد زراعت کی جڑیں زمین میں رہ جائیں اوردوسرے سال سرسبزہوجائیں اورپیداواردیں تو اگرمالک نے کاشت کار کے ساتھ زراعت کی جڑوں میں اشتراک کامعاہدہ نہ کیاہوتو دوسرے سال کی پیداواربیج کے مالک کامال ہے۔

مساقات اور مغارسہ کے احکام

مسئلہ (۲۲۵۶)اگرانسان کسی کے ساتھ اس قسم کامعاہدہ کرے مثلاً پھل دار درختوں کوجن کاپھل خود اس کامال ہویااس پھل پراس کااختیار ہوایک مقررہ مدت کے لئے کسی دوسرے شخص کے سپردکردے تاکہ وہ ان کی نگہداشت کرے اور انہیں پانی دے اور جتنی مقداروہ آپس میں طے کریں اس کے مطابق وہ ان درختوں کاپھل لے لے توایسا معاملہ ’’مساقات‘‘ (آبیاری) کہلاتاہے۔

مسئلہ (۲۲۵۷)جودرخت پھل نہیں دیتے اگران کی کوئی دوسری پیداوارہومثلاً پتے اورپھول ہوں کہ جو کچھ نہ کچھ قابل توجہ مالیت رکھتے ہوں ( مثلاًمہندی (اورپان)کے درخت کہ ان کے پتے کام آتے ہیں ) ان کے لئے مساقات کامعاملہ صحیح ہے۔

مسئلہ (۲۲۵۸)مساقات کے معاملے میں صیغہ پڑھنالازم نہیں بلکہ اگردرخت کا مالک مساقات کی نیت سے اسے کسی کے سپردکردے اورجس شخص کوکام کرناہووہ بھی اسی نیت سے کام میں مشغول ہوجائے تومعاملہ صحیح ہے۔

مسئلہ (۲۲۵۹)درختوں کامالک اورجوشخص درختوں کی نگہداشت کی ذمہ داری لے ضروری ہے کہ دونوں بالغ اورعاقل ہوں اورکسی نے انہیں معاملہ کرنے پرمجبور نہ کیا ہو نیزیہ بھی ضروری ہے کہ سفیہ نہ ہوں یعنی اپنے مال کو بےہودہ کاموں میں استعمال نہ کریں اوراسی طرح ضروری ہے کہ مالک دیوالیہ نہ ہو۔ لیکن اگرباغبان دیوالیہ ہواور مساقات کامعاملہ کرنے کی صورت میں ان اموال میں تصرف کرنالازم نہ آئے جن میں تصرف کرنے سے اسے روکاگیاہوتوکوئی اشکال نہیں ہے۔

مسئلہ (۲۲۶۰)مساقات کی مدت معین ہونی چاہئے اور اتنی مدت ہوناضروری ہے کہ جس میں پیداوارکا دستیاب ہوناممکن ہواور اگرفریقین اس مدت کی ابتدامعین کردیں اور اس کااختتام اس وقت کوقراردیں جب اس کی پیداوار دستیاب ہوتومعاملہ صحیح ہے۔

مسئلہ (۲۲۶۱)ضروری ہے کہ ہرفریق کاحصہ پیداوارکاآدھایاایک تہائی یااسی کے مانندہواوراگریہ معاہدہ کریں کہ مثلاًسومن میوہ مالک کااورباقی کام کرنے والے کا ہوگا تو معاملہ باطل ہے۔

مسئلہ (۲۲۶۲)لازم نہیں ہے کہ مساقات کامعاملہ پیداوارظاہرہونے سے پہلے طے کرلیں ۔بلکہ اگر پیداوارظاہرہونے کے بعدمعاملہ کریں اورکچھ کام باقی رہ جائے جو کہ پیداوار میں اضافے کے لئے یااس کی بہتری یااسے نقصان سے بچانے کے لئے ضروری ہوتومعاملہ صحیح ہے۔ لیکن اگراس طرح کے کوئی کام باقی نہ رہے ہوں کہ جو آبیاری کی طرح درخت کی پرورش کے لئے ضروری ہیں یامیوہ توڑنے یااس کی حفاظت جیسے کاموں میں سے باقی رہ جاتے ہیں توپھرمساقات کے معاملے کاصحیح ہونامحل اشکال ہے۔

مسئلہ (۲۲۶۳)خربوزے اورکھیرے وغیرہ کی بیلوں کے بارے میں مساقات کا معاملہ( بنابراظہر)صحیح ہے۔

مسئلہ (۲۲۶۴)جودرخت بارش کے پانی یازمین کی نمی سے استفادہ کرتے ہوں اور جسے آبیاری کی ضرورت نہ ہواگراسے مثلاً دوسرے ایسے کاموں کی ضرورت ہوجومسئلہ (۲۲۶۲) میں بیان ہوچکے ہیں توان کاموں کے بارے میں مساقات کامعاملہ کرناصحیح ہے ۔

مسئلہ (۲۲۶۵)دوافراد جنہوں نے مساقات کی ہوباہمی رضامندی سے معاملہ فسخ کرسکتے ہیں اور اگر مساقات کے معاہدے کے سلسلے میں یہ شرط طے کریں کہ ان دونوں کویاان میں سے کسی ایک کومعاملہ فسخ کرنے کاحق ہوگاتوان کے طے کردہ معاہدہ کے مطابق معاملہ فسخ کرنے میں کوئی اشکال نہیں اوراگر مساقات کے معاملے میں کوئی شرط طے کریں اوراس شرط پرعمل نہ ہوتوجس شخص کے فائدے کے لئے وہ شرط طے کی گئی ہو وہ معاملہ فسخ کرسکتاہے۔

مسئلہ (۲۲۶۶)اگرمالک مرجائے تومساقات کامعاملہ فسخ نہیں ہوتابلکہ اس کے وارث اس کی جگہ پاتے ہیں ۔

مسئلہ (۲۲۶۷)درختوں کی پرورش جس شخص کے سپردکی گئی ہواگروہ مرجائے اور معاہدے میں یہ قیداور شرط عائدنہ کی گئی ہوکہ وہ خوددرختوں کی پرورش کرے گاتواس کے ورثاء اس کی جگہ ہیں اور اگر ورثاء نہ خوددرختوں کی پرورش کاکام انجام دیں اور نہ ہی اس مقصد کے لئے کسی کواجیرمقررکریں توحاکم شرع مردہ کے مال سے کسی کواجیر مقررکردے گااورجوآمدنی ہوگی اسے مردہ کے ورثاء اوردرختوں کے مالک کے مابین تقسیم کردے گااوراگرفریقین نے معاملے میں یہ قیدلگائی ہوکہ وہ شخص خوددرختوں کی پرورش کرے گاتواس کے مرنے کے بعدمعاملہ فسخ ہوجائے گا۔

مسئلہ (۲۲۶۸)اگریہ شرط طے کی جائے کہ تمام پیداوارمالک کامال ہوگی تو مساقات باطل ہے لیکن ایسی صورت میں پیداوارمالک کامال ہوگا اورجس شخص نے کام کیاہووہ اجرت کامطالبہ نہیں کرسکتالیکن اگر مساقات کسی اوروجہ سے باطل ہوتوضروری ہے کہ مالک آبیاری اور دوسرے کام کرنے کی اجرت درختوں کی نگہداشت کرنے والے کومعمول کے مطابق دے لیکن اگرمعمول کے مطابق اجرت طے شدہ اجرت سے زیادہ ہو اور وہ اس سے مطلع ہوتوطے شدہ اجرت سے زیادہ دینالازم نہیں ۔

مسئلہ (۲۲۶۹)’’مغارسہ‘‘ یہ ہے کہ کوئی شخص زمین دوسرے کے سپرد کردے تاکہ وہ درخت لگائے اور جو کچھ حاصل ہووہ دونوں کامال ہو تو یہ معاملہ صحیح ہے اگرچہ احتیاط یہ ہے کہ ایسے معاملے کوترک کرے۔لیکن اس معاملے کے نتیجے پرپہنچنے کے لئے کوئی اور معاملہ انجام دے توبغیراشکال کے وہ معاملہ صحیح ہے،مثلاًفریقین کسی طرح باہم مصالحت اوراتفاق کرلیں یانئے درخت لگانے میں شریک ہوجائیں پھر باغبان اپنی خدمات مالک زمین کوبیج بونے، درختوں کی نگہداشت اورآبیاری کرنے کے لئے ایک معین مدت تک زمین کی پیداوار کے نصف فائدے کے عوض کرایہ پرپیش کرے۔