مسئلہ(۷۲۹) انسان نمازمیں اس وقت مشغول ہوسکتاہے جب اسے یقین ہو جائے کہ وقت داخل ہوگیاہے یادوعادل مردوقت داخل ہونے کی خبردیں بلکہ اذان یا ایسے شخص کی خبر سے جس کے بارے میں مکلف جانتا ہو کہ وقت داخل ہونے کی پوری رعایت کرتا ہے چنانچہ اطمینان کا سبب قرار پائے تو اس پر اکتفا کرسکتا ہے۔
مسئلہ(۷۳۰) اگرکوئی شخص کسی ذاتی عذرمثلاًبینائی نہ ہونے یاقیدخانے میں ہونے کی وجہ سے نماز کااول وقت داخل ہونے کایقین نہ کرسکے توضروری ہے کہ نماز پڑھنے میں تاخیرکرے حتیٰ کہ اسے یقین یااطمینان ہوجائے کہ وقت داخل ہوگیاہے۔ اسی طرح اگروقت داخل ہونے کایقین ہونے میں ایسی چیزمانع ہوجو مثلاً بادل،غباریا ان جیسی دوسری چیزوں (مثلاً دھند) کی طرح عموماً پیش آتی ہوتو(احتیاط لازم کی بناپر) اس کے لئے بھی یہی حکم ہے۔
مسئلہ(۷۳۱) اگربالامذکورطریقے سے کسی شخص کواطمینان ہوجائے کہ نمازکا وقت ہوگیاہے اور وہ نمازمیں مشغول ہوجائے لیکن نماز کے دوران اسے پتا چلے کہ ابھی وقت داخل نہیں ہواتواس کی نماز باطل ہے اوراگرنماز کے بعدپتا چلے کہ اس نے ساری نماز وقت سے پہلے پڑھی ہے تواس کے لئے بھی یہی حکم ہے لیکن اگرنماز کے دوران اسے پتا چلے کہ وقت داخل ہوگیاہے یانماز کے بعدپتا چلے کہ نماز پڑھتے ہوئے وقت داخل ہوگیاتھاتواس کی نماز صحیح ہے۔
مسئلہ(۷۳۲) اگرکوئی شخص اس امر کی جانب متوجہ نہ ہوکہ وقت کے داخل ہونے کا یقین کرکے نمازمیں مشغول ہوناچاہئے، لیکن نماز کے بعداسے معلوم ہوکہ اس نے ساری نمازوقت میں پڑھی ہے تواس کی نماز صحیح ہے اوراگراسے یہ پتا چل جائے کہ اس نے وقت سے پہلے نماز پڑھی ہے یااسے یہ پتا نہ چلے کہ وقت میں پڑھی ہے یاوقت سے پہلے پڑھی ہے تواس کی نماز باطل ہے بلکہ اگرنماز کے بعداسے پتا چلے کہ نماز کے دوران وقت داخل ہوگیاتھاتب بھی اسے چاہئے کہ اس نماز کودوبارہ پڑھے۔
مسئلہ(۷۳۳) اگرکسی شخص کویقین ہوکہ وقت داخل ہوگیاہے اورنماز پڑھنے لگے لیکن نماز کے دوران شک کرے کہ وقت داخل ہواہے یانہیں تواس کی نماز باطل ہے لیکن اگرنماز کے دوران اسے یقین ہوکہ وقت داخل ہوگیاہے اورشک کرے کہ جتنی نماز پڑھی ہے وہ وقت میں پڑھی ہے یانہیں تواس کی نماز صحیح ہے۔
مسئلہ(۷۳۴) اگرنمازکاوقت اتناتنگ ہوکہ نماز کے کچھ مستحب افعال اداکرنے سے نماز کی کچھ مقدار وقت کے بعدپڑھنی پڑتی ہوتوضروری ہے کہ وہ مستحب امور کو چھوڑ دے مثلاً اگرقنوت پڑھنے کی وجہ سے نماز کاکچھ حصہ وقت کے بعدپڑھناپڑتاہوتواسے چاہئے کہ قنوت نہ پڑھے اور اگر قنوت پڑھنا ہے تو اس صورت میں اس کی نماز صحیح ہے جب کم سے کم ایک رکعت نماز وقت کے اندر پڑھی گئی ہو۔
مسئلہ(۷۳۵) جس شخص کے پاس نمازکی فقط ایک رکعت اداکرنے کاوقت ہو اسے چاہئے کہ نماز اداکی نیت سے پڑھے البتہ اسے جان بوجھ کرنماز میں اتنی تاخیر نہیں کرنی چاہئے۔
مسئلہ(۷۳۶) جوشخص سفرمیں نہ ہواگراس کے پاس غروب آفتاب تک پانچ رکعت نماز پڑھنے کے اندازے کے مطابق وقت ہوتواسے چاہئے کہ ظہراورعصرکی ترتیب سے دونوں نمازیں پڑھے،لیکن اگراس کے پاس اس سے کم وقت ہوتواسے چاہئے کہ صرف عصر کی نمازپڑھے اوربعدمیں ظہر کی نماز قضاکرے اور اسی طرح اگرآدھی رات تک اس کے پاس پانچ رکعت پڑھنے کے اندازے کے مطابق وقت ہوتواسے چاہئے کہ مغرب اور عشاء کو ترتیب سے پڑھے اور اگروقت اس سے کم ہوتواسے چاہئے کہ صرف عشاکی نماز پڑھے اور بعد میں ادااورقضاکی نیت کئے بغیرنمازمغرب پڑھے۔
مسئلہ(۷۳۷) جوشخص سفرمیں ہواگرغروب آفتاب تک اس کے پاس تین رکعت نماز پڑھنے کے اندازے کے مطابق وقت ہوتواسے چاہئے کہ ظہر اور عصر کی نماز ترتیب سے پڑھے اور اگراس سے کم وقت ہوتوچاہئے کہ صرف عصر پڑھے اوربعدمیں نمازظہر کی قضاکرے اور اگرآدھی رات تک اس کے پاس چاررکعت نمازپڑھنے کے اندازے کے مطابق وقت ہوتواسے چاہئے کہ مغرب اورعشاکی نماز ترتیب سے پڑھے اوراگرنماز کی تین رکعت کے برابر وقت باقی ہوتواسے چاہئے کہ پہلے عشاکی نماز پڑھے اوربعدمیں مغرب کی نماز بجا لائے تاکہ نماز مغرب کی ایک رکعت وقت میں انجام دی جائے اور اگرنماز کی تین رکعت سے کم وقت باقی ہوتوضروری ہے کہ پہلے عشاکی نماز پڑھے اوربعدمیں مغرب کی نماز ادا اور قضاکی نیت کئے بغیر پڑھے اور اگرعشاکی نماز پڑھنے کے بعدمعلوم ہوجائے کہ آدھی رات ہونے میں ایک رکعت یا اس سے زیادہ رکعتیں پڑھنے کے لئے وقت باقی ہے تو اسے چاہئے کہ مغرب کی نماز فوراً اداکی نیت سے بجالائے۔
مسئلہ(۷۳۸) انسان کے لئے مستحب ہے کہ نمازاول وقت میں پڑھے اوراس کے متعلق بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے اورجتنااول وقت کے قریب ہوبہترہے ماسوااس کے کہ اس میں تاخیرکسی وجہ سے بہترہومثلاً اس لئے تھوڑا انتظارکرے کہ نمازجماعت کے ساتھ پڑھے۔ اس شرط کے ساتھ کہ فضیلت کا وقت نہ گزرے۔
مسئلہ(۷۳۹) جب انسان کے پاس کوئی ایساعذرہوکہ اگراول وقت میں نماز پڑھنا چاہے توتیمم کرکے نمازپڑھنے پرمجبورہواوراسے علم ہوکہ اس کاعذرآخر وقت تک باقی رہے گایاآخر وقت تک عذرکے دور ہونے سے مایوس ہوتووہ اول وقت میں تیمم کرکے نماز پڑھ سکتاہے،لیکن اگرمایوس نہ ہوتوضروری ہے کہ عذر کے برطرف یا مایوس ہوجانے تک انتظار کرے اوراگراس کاعذردورنہ ہوتوآخروقت میں نمازپڑھے اوریہ ضروری نہیں کہ اس قدر انتظار کرے کہ نماز کے صرف واجب افعال انجام دے سکے بلکہ اگراس کے پاس مستحبات نماز( مثلاً اذان،اقامت اورقنوت) کے لئے بھی وقت ہوتووہ تیمم کرکے ان مستحبات کے ساتھ نمازاداکرسکتاہے اورتیمم کے علاوہ دوسری مجبوریوں کی صورت میں اگرچہ عذردورہونے سے مایوس نہ ہواہواس کے لئے جائزہے کہ اول وقت میں نماز پڑھے۔ لیکن اگروقت کے دوران اس کاعذردورہوجائے تو کچھ مقامات میں ضروری ہے کہ دوبارہ نماز پڑھے۔
مسئلہ(۷۴۰) اگرایک شخص نماز کے مسائل کو نہیں جانتا اور سیکھے بغیر صحیح طور سے انجام نہیں دے سکتا اورشکیات اورسہویات کاعلم نہ رکھتا ہو اوراسے اس بات کااحتمال ہوکہ اسے نمازکے دوران ان مسائل میں سے کوئی نہ کوئی مسئلہ پیش آئے گااوراس کے یادنہ کرنے کی وجہ سے کسی لازمی حکم کی مخالفت ہوتی ہو تو ضروری ہے کہ انہیں سیکھنے کے لئے نماز کواول وقت سے مؤخر کردے لیکن اگراسے امید ہو کہ صحیح طریقے سے نماز انجام دے سکتاہےتواول وقت میں نماز پڑھے اگرنماز میں کوئی ایسامسئلہ پیش نہ آئے جس کاحکم نہ جانتاہوتواس کی نماز صحیح ہے اور اگرکوئی ایسامسئلہ پیش آجائے جس کاحکم نہ جانتاہوتواس کے لئے جائز ہے کہ جن دوباتوں کااحتمال ہوان میں سے ایک پرعمل کرے اور نماز ختم کرے تاہم ضروری ہے کہ نمازکے بعد مسئلہ پوچھے اوراگراس کی نمازباطل ثابت ہوتودوبارہ پڑھے اور اگرصحیح ہوتو دوبارہ پڑھنالازم نہیں ہے۔
مسئلہ(۷۴۱) اگرنماز کاوقت وسیع ہواورقرض خواہ بھی اپنے قرض کامطالبہ کرے تو اگرممکن ہوتوضروری ہے کہ پہلے قرضہ اداکرے اوربعدمیں نماز پڑھے اوراگرکوئی ایسا دوسرا واجب کام پیش آجائے جسے فوراً بجالاناضروری ہوتواس کے لئے بھی یہی حکم ہے مثلاًاگردیکھے کہ مسجدنجس ہوگئی ہے توضروری ہے کہ پہلے مسجد کوپاک کرے اوربعدمیں نمازپڑھے اوراگرمذکورہ بالادونوں صورتوں میں پہلے نمازپڑھے توگناہ کامرتکب ہوگا، لیکن اس کی نماز صحیح ہوگی۔

