مسئلہ(۷۵۱) مستحب نمازیں بہت سی ہیں جنہیں نافلہ کہتے ہیں اور مستحب نمازوں میں سے روزانہ کے نافلوں کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ یہ نمازیں روزجمعہ کے علاوہ چونتیس رکعت ہیں جن میں سے آٹھ رکعت ظہر کی، آٹھ رکعت عصر کی، چاررکعت مغرب کی، دو رکعت عشا کی، گیارہ رکعت نمازشب (یعنی تہجد) کی اور دورکعت صبح کی ہوتی ہیں اور چونکہ( احتیاط واجب کی بناپر) عشاکی دورکعت بیٹھ کرپڑھنی ضروری ہیں اس لئے وہ ایک رکعت شمارہوتی ہے۔لیکن جمعہ کے دن ظہر اور عصر کی سولہ رکعت نافلہ نمازوں پر چار رکعت کا اضافہ ہوجاتاہے اوربہترہے کہ یہ پوری کی پوری بیس رکعتیں زوال سے پہلے پڑھی جائیں ۔سوائے ان کی دو رکعت نماز کہ جس کے لئے بہتر ہے کہ زوال کے وقت ادا کی جائیں ۔
مسئلہ(۷۵۲) نمازشب کی گیارہ رکعتوں میں سے آٹھ رکعتیں نافلۂ شب کی نیت سے اوردورکعت نمازشفع کی نیت سے اورایک رکعت نمازوترکی نیت سے پڑھنی ضروری ہیں اورنافلۂ شب کامکمل طریقہ دعاکی کتابوں میں مذکورہے۔
مسئلہ(۷۵۳) نافلہ نمازیں بیٹھ کربھی پڑھی جاسکتی ہیں چاہے اختیاری صورت میں ہی کیوں نہ ہو اور ضروری نہیں کہ ہر دو رکعت کو ایک رکعت شمار کرے لیکن کھڑے ہوکر پڑھنا بہتر ہے سوائے نافلۂ عشاء کہ جس کو (احتیاط واجب کی بناء پر) بیٹھ کر پڑھنا ضروری ہے۔
مسئلہ(۷۵۴) ظہراورعصرکی نافلہ نمازیں سفرمیں نہیں پڑھنی چاہئیں اوراگرعشاکی نافلہ رجاکی نیت سے پڑھی جائے توکوئی حرج نہیں ہے۔
روزانہ کی نوافل کاوقت
مسئلہ(۷۵۵) ظہر کی نافلہ نمازظہرسے پہلے پڑھی جاتی ہیں اور اس کا وقت اول ظہر ہے اورجہاں تک ممکن ہو اسے ظہر کی نماز سے پہلے پڑھاجائے اور اس کا وقت اول ظہر سے لے کر ظہر کی نماز ادا کرنے تک باقی رہتاہے۔ لیکن اگر کوئی شخص ظہر کی نوافل اس وقت تک مؤخرکردے کہ شاخص کے سایہ کی وہ مقدارجوظہر کے بعدنمودارہوسات میں سے دوحصوں کے برابر ہو جائے( مثلاً شاخص کی لمبائی سات بالشت اورسایہ کی مقدار دو بالشت ہو) تواس صورت میں بہتریہ ہے کہ انسان ظہر کی نماز کو نافلہ سے پہلے پڑھے اس صورت میں کہ نافلہ کی ایک رکعت نماز مذکورہ وقت سے پہلے پڑھ لیا ہوتو اس صورت میں نافلہ کو فریضۂ ظہر سے پہلے تمام کرنا بہتر ہے۔
مسئلہ(۷۵۶) عصرکی نوافل عصرکی نمازسے پہلے پڑھی جاتی ہیں اورجب تک ممکن ہو اسے عصر کی نماز سے پہلے پڑھاجائے اور اس کاوقت عصرکی نمازاداکرنے تک باقی رہتا ہے۔ لیکن اگرکوئی شخص عصر کی نوافل اس وقت تک مؤخرکر دے کہ شاخص کے سایہ کی وہ مقدارجوظہرکے بعدنمودارہوسات میں سے چارحصوں تک پہنچ جائے تواس صورت میں بہترہے کہ انسان عصر کی نماز کو نافلہ سے پہلے پڑھے سوائے اس صورت میں کہ جس کا ذکر پہلے والے مسئلہ میں کیا گیا ہےپڑھے۔
مسئلہ(۷۵۷) مغرب کی نافلوں کاوقت نماز مغرب ختم ہونے کے بعدہوتاہے اور جہاں تک ممکن ہواسے مغرب کی نماز کے بعد وقت میں بجالائے لیکن اگرکوئی شخص اس سرخی کے ختم ہونے تک( جوسورج کے غروب ہونے کے بعدآسمان میں دکھائی دیتی ہے ) مغرب کی نافلوں میں تاخیرکرے تواس وقت بہتریہ ہے کہ عشاکی نمازپڑھے۔
مسئلہ(۷۵۸) عشاکی نافلہ کاوقت نمازعشاختم ہونے کے بعدسے آدھی رات تک ہے اوربہترہے کہ نمازعشاختم ہونے کے فوراً بعدپڑھی جائے۔
مسئلہ(۷۵۹) صبح کی نافلہ صبح کی نماز سے پہلے پڑھی جاتی ہے اوراس کا وقت نماز شب کاوقت ختم ہونے کے بعددو رکعت نماز کی مقدار میں ہوتاہے اورصبح کی نماز کے اداہونے تک باقی رہتا ہے اورجہاں تک ممکن ہوصبح کی نوافل صبح کی نماز سے پہلے پڑھنی چاہئیں لیکن اگر کوئی شخص صبح کی نافلہ مشرق کی سرخی ظاہر ہونے تک نہ پڑھے تواس صورت میں بہتریہ ہے کہ پہلے صبح کی نماز پڑھے۔
مسئلہ(۷۶۰) نمازشب کااول وقت مشہورقول کی بناپرآدھی رات ہے یہ ا گرچہ احوط اور بہتر ہے لیکن بعید نہیں ہےکہ اول شب سے اذان صبح تک اس کا وقت جاری رہے اوربہتریہ ہے کہ صبح کی اذان کے قریب پڑھی جائے۔
مسئلہ(۷۶۱) اگر کوئی شخص طلوع فجر کے وقت بیدار ہوتو نماز شب کو بغیر اداو قضا کی نیت کے انجام دے سکتا ہے۔
نمازغفیلہ
مسئلہ(۷۶۲) مستحب نمازوں میں سے ایک نمازغفیلہ ہے جو مغرب اور عشا کے درمیان پڑھی جاتی ہے۔ اس کی پہلی رکعت میں الحمدکے بعدکسی دوسری سورۃ کے بجائے یہ آیت پڑھنی ضروری ہے :
’’وَذَاالنُّوْنِ اِذْ ذَّھَبَ مُغَاضِبًافَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْہِ فَنَادیٰ فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّا اِلٰہ اِلَّا اَنْتَ سُبْحٰنَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ فَاسْتَجَبْنَالَہٗ وَنَجَّیْنٰہُ مِنَ الْغَمِّ وَکَذٰلِکَ نُنْجِی الْمُؤْمِنِیْنَ۔‘‘
اور دوسری رکعت میں الحمدکے بعدبجائے کسی اورسورۃ کے یہ آیت پڑھے:
’’وَعِنْدَہٗ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لَا یَعْلَمُھَا اِلَّا ھُوَوَیَعْلَمُ مَافِی الْبَرِّوَالْبَحْرِ وَمَاتَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَۃٍ اِلَّا یَعْلَمُھَاوَلَا حَبَّۃٍ فِیْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَّلَا یَابِسٍ اِلَّا فِیْ کِتٰبِ مُّبِیْنٍ‘‘
اوراس کے قنوت میں یہ پڑھے :
’’اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ بِمَفَاتِحِ الْغَیْبِ الَّتِیْ لَایَعْلَمُھَااِلَّااَنْتَ اَنْ تُصَلِّیَ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَّاٰلِ مُحَمَّدٍ وَّاَنْ تَفْعَلَ بِیْ کَذَاوَکَذَا‘‘۔
اورکَذَا وَکَذَاکے بجائے اپنی حاجتیں بیان کرے اوراس کے بعد کہے:
’’اَللّٰھُمَّ اَنْتَ وَلِیُّ نِعْمَتِیْ وَالْقَادِرُعَلیٰ طَلِبَتِیْ تَعْلَمُ حَاجَتِیْ فَاَسْئَلُکَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَّاٰلِ مُحَمَّدٍ عَلَیْہِ وَعَلَیْھِمُ السَّلاَمُ لَمَّاقَضَیْتَھَالِیْ‘‘۔

