مسئلہ(۷۶۳) خانۂ کعبہ جومکۂ مکرمہ میں ہے وہ ہماراقبلہ ہے لہٰذا(ہرمسلمان کے لئے) ضروری ہے کہ اس کے سامنے کھڑے ہوکرنمازپڑھے،لیکن جوشخص اس سے دورہو اگروہ اس طرح کھڑاہوکہ لوگ کہیں کہ قبلے کی طرف منہ کرکے نمازپڑھ رہاہے توکافی ہے اور دوسرے کام جوقبلے کی طرف منہ کرکے انجام دینے ضروری ہیں ۔(مثلاً حیوانات کو ذبح کرنا)ان کابھی یہی حکم ہے۔
مسئلہ(۷۶۴) جوشخص کھڑاہوکرواجب نمازپڑھ رہاہوضروری ہے کہ اس کاسینہ اور پیٹ قبلے کی طرف ہوبلکہ اس کاچہرہ قبلے سے بہت زیادہ پھراہوانہیں ہوناچاہئے اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ اس کے پاؤں کی انگلیاں بھی قبلہ کی طرف ہوں ۔
مسئلہ(۷۶۵) جس شخص کوبیٹھ کرنمازپڑھنی ہوضروری ہے کہ اس کا سینہ اورپیٹ نماز کے وقت قبلے کی طرف ہو۔ بلکہ اس کاچہرہ بھی قبلے سے بہت زیادہ پھراہوانہ ہو۔
مسئلہ(۷۶۶) جوشخص بیٹھ کرنمازنہ پڑھ سکے ضروری ہے کہ دائیں پہلو کے بل یوں لیٹے کہ اس کے بدن کااگلا حصہ قبلے کی طرف ہواوراگریہ ممکن نہ ہوتوضروری ہے بائیں پہلو کے بل یوں لیٹے کہ اس کے بدن کااگلا حصہ قبلے کی طرف ہو اورجب تک دائیں پہلو کے بل لیٹ کرنماز پڑھناممکن ہو(احتیاط لازم کی بناپر)بائیں پہلو کے بل لیٹ کرنماز نہ پڑھے اور اگریہ دونوں صورتیں ممکن نہ ہوں توضروری ہے کہ پشت کے بل یوں لیٹے کہ اس کے پاؤں کے تلوے قبلے کی طرف ہوں ۔
مسئلہ(۷۶۷) نمازاحتیاط،بھولاہواسجدہ اوربھولاہواتشہدقبلے کی طرف منہ کرکے ادا کرناضروری ہے اور (احتیاط مستحب کی بناپر) سجدئہ سہو بھی قبلے کی طرف منہ کرکے ادا کرے۔
مسئلہ(۷۶۸) مستحب نمازراستہ چلتے ہوئے اورسواری کی حالت میں پڑھی جا سکتی ہے اوراگرانسان ان دونوں حالتوں میں مستحب نمازپڑھے توضروری نہیں کہ اس کامنہ قبلے کی طرف ہو۔
مسئلہ(۷۶۹) جوشخص نمازپڑھناچاہے ضروری ہے کہ قبلے کی سمت کاتعین کرنے کے لئے کوشش کرے تاکہ قبلے کی سمت کے بارے میں یقین یاایسی کیفیت جویقین کے حکم میں ہو ۔(مثلاًدوعادل آدمیوں کی گواہی اگر محسوسات اور اس کے جیسی دوسری چیز سے مستند ہو)حاصل کرلے اوراگرایسانہ کرسکے تو ضروری ہے کہ مسلمانوں کی مسجدکے محراب سے یاان کی قبروں سے یادوسرے طریقوں سے جوگمان پیداہواس کے مطابق عمل کرے حتیٰ کہ اگرکسی ایسے فاسق یا کافر کے کہنے پر جو علمی قواعد کے ذریعے قبلے کا رخ پہچانتاہوقبلے کے بارے میں گمان پیداکرے تووہ بھی کافی ہے۔
مسئلہ(۷۷۰) جوشخص قبلے کی سمت کے بارے میں گمان کرے،اگروہ اس سے قوی ترین گمان پیداکرسکتاہوتووہ اپنے گمان پرعمل نہیں کرسکتامثلاًاگرمہمان صاحب ِخانہ کے کہنے پرقبلے کی سمت کے بارے میں گمان پیداکرلے لیکن کسی دوسرے طریقے پر زیادہ قوی گمان پیداکرسکتاہوتواسے صاحب خانہ کے کہنے پرعمل نہیں کرناچاہئے۔
مسئلہ(۷۷۱) اگرکسی کے پاس قبلے کارخ متعین کرنے کاکوئی ذریعہ نہ ہو (مثلاً قطب نما) یاکوشش کے باوجود اس کاگمان کسی ایک طرف نہ جاتاہوتواس کاکسی بھی طرف منہ کرکے نماز پڑھناکافی ہے اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ اگرنماز کاوقت وسیع ہوتوچار نمازیں چاروں طرف منہ کرکے پڑھے (یعنی وہی ایک نماز چار مرتبہ ایک ایک سمت کی جانب منہ کرکے پڑھے)۔
مسئلہ(۷۷۲) اگرکسی شخص کویقین یاگمان ہوکہ قبلہ دوسمت میں سے ایک طرف ہے تو ضروری ہے کہ دونوں طرف منہ کرکے نمازپڑھے۔
مسئلہ(۷۷۳) جوشخص کئی طرف منہ کرکے نماز پڑھناچاہتاہواگروہ ایسی دو نمازیں پڑھناچاہے جوظہراور عصر کی طرح یکے بعددیگرے پڑھنی ضروری ہیں تواحتیاط مستحب یہ ہے کہ پہلی نمازمختلف سمتوں کی طرف منہ کرکے پڑھے اوربعدمیں دوسری نمازشروع کرے۔
مسئلہ(۷۷۴) جس شخص کوقبلے کی سمت کایقین نہ ہواگروہ نماز کے علاوہ کوئی ایسا کام کرناچاہے جوقبلے کی طرف منہ کرکے کرناضروری ہے مثلاً اگروہ کوئی حیوان ذبح کرنا چاہتاہوتواسے چاہئے کہ گمان پرعمل کرے اور اگرگمان پیداکرناممکن نہ ہوتوجس طرف منہ کرکے وہ کام انجام دے درست ہے۔

