توضیح المسائل اردو آیت الله سیستانی

مسجدکے احکام

مسئلہ(۸۸۶) مسجد کی زمین،اندرونی چھت اوراندرونی دیوارکونجس کرناحرام ہے اورجس شخص کوپتا چلے کہ ان میں سے کوئی مقام نجس ہوگیاہے توضروری ہے کہ اس کی نجاست کوفوراً دورکرے اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ مسجدکی دیوار کے بیرونی حصے کو بھی نجس نہ کیاجائے اوراگروہ نجس ہوجائے تو نجاست کاہٹانالازم نہیں لیکن اگردیوار کابیرونی حصہ نجس کرنامسجد کی بے حرمتی کاسبب ہوتوقطعاً حرام ہے اور اس قدرنجاست کازائل کرناکہ جس سے بے حرمتی ختم ہوجائے ضروری ہے۔

مسئلہ(۸۸۷) اگرکوئی شخص مسجد کوپاک کرنے پرقادرنہ ہویااسے مددکی ضرورت ہوجودستیاب نہ ہوتو مسجد کاپاک کرنااس پرواجب نہیں ،لیکن یہ سمجھتاہوکہ اگردوسرے کو اطلاع دے گاتویہ کام ہوجائے گااگر نجاست کا باقی رہنا اس کی توہین کا سبب ہوتو ضروری ہے کہ اسے اطلاع دے۔

مسئلہ(۸۸۸) اگرمسجد کی کوئی جگہ نجس ہوگئی ہوجسے کھودے یاتوڑے بغیر پاک کرنا ممکن نہ ہوتوضروری ہے کہ اس جگہ کوکھودیں یاتوڑیں جب کہ جزوی طورپرکھودنایاتوڑنا پڑے یابے حرمتی کاختم ہونامکمل طورپرکھودنے یاتوڑنے پرموقوف ہوورنہ توڑنے میں اشکال ہے۔ جوجگہ کھودی گئی ہواسے پرکرنااورجو جگہ توڑی گئی ہواسے تعمیرکرناواجب نہیں ہے لیکن مسجدکی کوئی چیز مثلاً اینٹ اگرنجس ہوگئی ہوتوممکنہ صورت میں اسے پانی سے پاک کرکے ضروری ہے کہ اس کی اصلی جگہ پرلگادیاجائے۔

مسئلہ(۸۸۹) اگرکوئی مسجدکوغصب کرے اوراس کی جگہ گھریاایسی ہی کوئی چیزتعمیر کرے یامسجد اس قدرٹوٹ پھوٹ جائے کہ اسے مسجد نہ کہاجائےاس کا نجس کرناحرام نہیں اور پاک کرنا واجب نہیں ۔

مسئلہ(۸۹۰) ائمہ اہل بیت علیہم السلام میں سے کسی کاحرم نجس کرناحرام ہے۔اگران کے حرموں میں سے کوئی حرم نجس ہوجائے اوراس کانجس رہنااس کی بے حرمتی کاسبب ہوتو اس کاپاک کرناواجب ہے بلکہ احتیاط مستحب یہ ہے کہ خواہ بے حرمتی نہ ہوتی ہو تب بھی پاک کیاجائے۔

مسئلہ(۸۹۱) اگرمسجد کی چٹائی یا فرش نجس ہوجائے توضروری ہے کہ اسے دھوکرپاک کریں اور اگر نجس جگہ کا کاٹ دینا بہتر ہو تو ضروری ہے کہ اسے کاٹ دے لیکن اچھی خاصی مقدار میں اس کا کاٹنا یااس طرح سے پاک کرنا کہ اس میں نقص کا سبب بنے تو اس میں اشکال ہے مگر اس صورت میں کہ ان کاموں کو ترک کرنا بے حرمتی کا سبب ہو۔

مسئلہ(۸۹۲) اگرکسی عین نجاست یانجس چیزکومسجدمیں لے جانے سے مسجد کی بے حرمتی ہوتی ہوتواس کامسجد میں لے جاناحرام ہے بلکہ احتیاط مستحب یہ ہے کہ اگربے حرمتی نہ ہوتی ہوتب بھی عین نجاست کو مسجد میں نہ لے جایاجائے۔ لیکن یہ کہ وہ چیز انسانی تابعیت میں شمار ہوتی ہوجیسے کسی زخمی کا خون جو اس کے لباس یابدن پر ہو۔

مسئلہ(۸۹۳) اگرمسجد میں مجلس عزاکے لئے قنات تانی جائے اورفرش بچھایاجائے اور سیاہ پردے لٹکائے جائیں اورچائے کاسامان اس کے اندرلے جایاجائے تواگر یہ چیزیں مسجد کو نقصان نہ پہونچائیں اورنمازپڑھنے میں بھی مانع نہ ہوتی ہوں توکوئی حرج نہیں ۔

مسئلہ(۸۹۴) احتیاط واجب یہ ہے کہ مسجد کی سونے سے زینت نہ کریں اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ مسجد کوانسان اورحیوان کی طرح جانداروں کی تصویروں سے بھی نہ سجایا جائے۔

مسئلہ(۸۹۵) اگرمسجد ٹوٹ پھوٹ بھی جائے تب بھی نہ تواسے بیچاجاسکتاہے اور نہ ہی ملکیت اور سڑک میں شامل کیاجاسکتاہے۔

مسئلہ(۸۹۶) مسجد کے دروازوں ،کھڑکیوں اور دوسری چیزوں کابیچناحرام ہے اور اگرمسجد ٹوٹ پھوٹ جائے تب بھی ضروری ہے کہ ان چیزوں کواسی مسجد کی مرمت کے لئے استعمال کیاجائے اوراگراس مسجد کے کام کی نہ رہی ہوں توضروری ہے کہ کسی دوسری مسجد کے کام میں لایاجائے اوراگردوسری مسجدوں کے کام کی بھی نہ رہی ہوں توانہیں بیچاجاسکتاہے اورجورقم حاصل ہووہ بصورت امکان اسی مسجد کی مرمت پرورنہ کسی دوسری مسجد کی مرمت پرخرچ کی جائے۔

مسئلہ(۸۹۷) مسجد کاتعمیرکرنااورایسی مسجدکی مرمت کرناجومخدوش ہومستحب ہے اور اگرمسجد اس قدر مخدوش ہوکہ اس کی مرمت ممکن نہ ہوتواسےمنہدم کرکےدوبارہ تعمیرکیاجاسکتا ہے بلکہ اگرمسجد ٹوٹی پھوٹی نہ ہوتب بھی اسے لوگوں کی ضرورت کی خاطر منہدم کرکےوسیع کیاجا سکتاہے۔

مسئلہ(۸۹۸) مسجد کوصاف ستھرارکھنااوراس میں چراغ جلانامستحب ہے اور اگر کوئی شخص مسجد میں جانا چاہے تومستحب ہے کہ خوشبولگائے اورپاکیزہ اورقیمتی لباس پہنے اور اپنے جوتے کے تلووں کے بارے میں تحقیق کرے کہ کہیں نجاست تونہیں لگی ہوئی ہے۔ نیزیہ کہ مسجد میں داخل ہوتے وقت پہلے دایاں پاؤں اور باہر نکلتے وقت پہلے بایاں پاؤں رکھے اوراسی طرح مستحب ہے کہ سب لوگوں سے پہلے مسجد میں آئے اور سب سے بعدمیں نکلے۔

مسئلہ(۸۹۹) جب کوئی شخص مسجدمیں داخل ہوتومستحب ہے کہ دورکعت نماز تحیت واحترام مسجدکی نیت سے پڑھے اوراگرواجب نمازیاکوئی اورمستحب نمازپڑھے تب بھی کافی ہے۔

مسئلہ(۹۰۰) اگرانسان مجبورنہ ہوتومسجد میں سونا، دنیاوی کاموں کے بارے میں گفتگوکرنااورکوئی کام کاج کرنااورایسے اشعار پڑھناجن میں نصیحت اورکام کی کوئی بات نہ ہومکروہ ہے۔ نیزمسجدمیں تھوکنا،ناک کی آلائش پھینکنااوربلغم تھوکنامکروہ ہے بلکہ بعض صورتوں میں حرام ہے اور اس کے علاوہ گم شدہ (شخص یاچیز) کوتلاش کرتے ہوئے آواز بلندکرنابھی مکروہ ہے۔ لیکن اذان کے لئے آواز بلندکرنے کی ممانعت نہیں ہے۔

مسئلہ(۹۰۱) دیوانے کومسجد میں داخل ہونے دینامکروہ ہے اوراسی طرح اس بچے کو بھی داخل ہونے دینامکروہ ہے جونمازیوں کے لئے باعث زحمت ہویااحتمال ہوکہ وہ مسجد کونجس کردے گا۔ان دوصورتوں کے علاوہ بچے کومسجد میں آنے دینے میں کوئی حرج نہیں ۔اس شخص کابھی مسجد میں جانا مکروہ ہے جس نے پیاز،لہسن یاان سے مشابہ کوئی چیز کھائی ہوکہ جس کی بولوگوں کوناگوارگزرتی ہو۔