توضیح المسائل اردو آیت الله سیستانی

نماز کے واجبات

واجبات نمازگیارہ ہیں :

۱
) نیت ۲) قیام یعنی کھڑے ہونا

۳
) تکبیرۃ الاحرام یعنی نماز کے شروع میں اللہ اکبر کہنا ۴)رکوع ۵)سجود

۶
) قرأت ۷)ذکر ۸)تشہد ۹) سلام ۱۰) ترتیب

۱۱
) موالات یعنی اجزائے نماز کا پے درپے بجالانا۔

مسئلہ(۹۲۸) نماز کے واجبات میں سے بعض اس کے رکن ہیں یعنی انسان انہیں بجانہ لائے توخواہ ایساکرنا(عمداً ہویاغلطی سے) ہونمازباطل ہوجاتی ہے اوربعض واجبات رکن نہیں ہیں یعنی اگروہ غلطی سے چھوٹ جائیں تو نماز باطل نہیں ہوتی۔

نماز کے ارکان پانچ ہیں :

۱:
) نیت

:۲)حالت قیام میں تکبیرۃ الاحرام

۳:
)رکوع سے متصل قیام یعنی رکوع میں جانے سے پہلے کھڑاہونا

۴:
)رکوع

۵:
)ہررکعت میں دوسجدے، اور جہاں تک زیادتی کاتعلق ہے اگرزیادتی عمداً ہوتو بغیر کسی شرط کے نمازباطل ہے اور اگرغلطی سے ہوئی ہوتورکوع میں یاایک ہی رکعت کے دو سجدوں میں زیادتی سے( احتیاط لازم کی بناپر)نماز باطل ہے ورنہ باطل نہیں ۔

نیت

مسئلہ(۹۲۹) ضروری ہے کہ انسان نماز قربت کی نیت سے( یعنی تذلل اور خدا کےمقابل سرجھکانے کے لئے ہی) بجالائے اوریہ ضروری نہیں کہ نیت کواپنے دل سے گزارے یامثلاً زبان سے کہے کہ چاررکعت نمازظہرپڑھتاہوں قربۃً الی اللہ۔

مسئلہ(۹۳۰) اگرکوئی شخص ظہر کی نمازمیں یاعصرکی نماز میں نیت کرے کہ چار رکعت نماز پڑھتاہوں لیکن اس امرکاتعین نہ کرے کہ نمازظہرکی ہے یاعصرکی تواس کی نمازباطل ہے۔ لیکن کافی ہے کہ نماز کو پہلی نماز کےعنوان سے اور نماز عصر کو دوسری نماز کے عنوان سے معین کرےنیزمثال کے طورپراگر کسی شخص پرنمازظہرکی قضاواجب ہواوروہ اس قضا نماز یانمازظہرکو ’’ظہرکے وقت‘‘ میں پڑھناچاہے تو ضروری ہے کہ جونمازوہ پڑھے نیت میں اس کاتعین کرے۔

مسئلہ(۹۳۱) ضروری ہے کہ انسان شروع سے آخرتک اپنی نیت پرقائم رہے۔ اگر وہ نماز میں اس طرح غافل ہوجائے کہ اگرکوئی پوچھے کہ وہ کیاکررہاہے تواس کی سمجھ میں نہ آئے کہ کیاجواب دے تواس کی نمازباطل ہے۔

مسئلہ(۹۳۲) ضروری ہے کہ انسان فقط خداوندعالم کی بارگاہ میں تذلل کے لئے نمازپڑھے پس جو شخص ریاکرے (یعنی لوگوں کودکھانے کے لئے نمازپڑھے) تو اس کی نمازباطل ہے خواہ یہ نماز پڑھنافقط لوگوں کویاخدااورلوگوں دونوں کودکھانے کے لئے ہو۔

مسئلہ(۹۳۳) اگرکوئی شخص نماز کاکچھ حصہ بھی اللہ تعالیٰ جل شانہ کے علاوہ کسی اور کے لئے بجالائے خواہ وہ حصہ واجب ہومثلاً سورۂ الحمدیامستحب ہومثلاً قنوت اوراگرغیر خداکایہ قصدپوری نمازپرمحیط ہویااس بڑے حصے کے تدارک سے بطلان لازم آتاہو تو اس کی نماز باطل ہے اور اگرنماز توخداکے لئے پڑھے لیکن لوگوں کودکھانے کے لئے کسی خاص جگہ مثلاً مسجد میں پڑھے یاکسی خاص وقت مثلاً اول وقت میں پڑھے یاکسی خاص قاعدے سے مثلاً باجماعت پڑھے تواس کی نمازبھی باطل ہے۔

تکبیرۃ الاحرام

مسئلہ(۹۳۴) ہرنماز کے شروع میں ’’اللہ اکبر‘‘ کہناواجب اوررکن ہے اورضروری ہے کہ انسان’’ اللہ‘‘ کے حروف اور’’اکبر‘‘کے حروف اوردوکلمے اللہ اوراکبرپے درپے کہے اور یہ بھی ضروری ہے کہ یہ دوکلمے صحیح عربی میں کہے جائیں اوراگرکوئی شخص غلط عربی میں کہے مثلاً ان کاکسی زبان میں ترجمہ کرکے کہے توصحیح نہیں ہے۔

مسئلہ(۹۳۵) احتیاط مستحب یہ ہے کہ انسان نماز کی تکبیرۃ الاحرام کواس چیزسے مثلاً اقامت یادعاسے جو وہ تکبیر سے پہلے پڑھ رہاہونہ ملائے۔

مسئلہ(۹۳۶) اگرکوئی شخص چاہے کہ’’ اللہ اکبر‘‘کواس جملے کے ساتھ جوبعدمیں پڑھنا ہو مثلاً’’ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم‘‘سے ملائے توبہتریہ ہے کہ اکبرکے آخری حرف ’’را‘‘ پر پیش دے لیکن احتیاط مستحب یہ ہے کہ واجب نماز میں اسے نہ ملائے۔

مسئلہ(۹۳۷) تکبیرۃ الاحرام کہتے وقت ضروری ہے کہ انسان کابدن ساکن ہو اور اگرکوئی شخص جان بوجھ کر اس حالت میں تکبیرۃ الاحرام کہے کہ اس کا بدن حرکت میں ہوتو باطل ہے۔

مسئلہ(۹۳۸) ضروری ہے کہ تکبیر، الحمد، سورہ، ذکراوردعاکم سے کم اتنی آواز سے پڑھے کہ خودسن سکے اوراگراونچاسننے یابہرہ ہونے کے وجہ سے یاشوروغل کی وجہ سے نہ سن سکے تواس طرح کہناضروری ہے کہ اگرکوئی امرمانع نہ ہوتوسن لے۔

مسئلہ(۹۳۹) جوشخص کسی بیماری کی بناپرگونگاہوجائے یااس کی زبان میں کوئی نقص ہوجس کی وجہ سے ’’اللہ اکبر‘‘نہ کہہ سکتاہوتوضروری ہے کہ جس طرح بھی ممکن ہواس طرح کہے اوراگربالکل ہی نہ کہہ سکتاہوتوضروری ہے کہ دل میں کہے اوراس کے لئے انگلی سے اس طرح اشارہ کرے کہ جوتکبیر سے مناسبت رکھتاہواور اگرہوسکے توزبان اورہونٹ کو بھی حرکت دے اور اگرکوئی پیدائشی گونگاہوتواس کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی زبان اور ہونٹ کواس طرح حرکت دے کہ جوکسی شخص کے تکبیر کہنے سے مشابہ ہواوراس کے لئے اپنی انگلی سے بھی اشارہ کرے۔

مسئلہ(۹۴۰) انسان کے لئے مستحب ہے کہ تکبیرۃ الاحرام کے پہلے رجاء کی نیت سےکہے:

’’یَامُحْسِنُ قَدْاَتَاکَ الْمُسِیْٓئُ وَقَدْاَمَرْتَ الْمُحْسِنَ اَنْ یَّتَجَاوَزَ عَنِ الْمُسِیْٓئِ اَنْتَ الْمُحْسِنُ وَاَنَاالْمُسِیْٓئُ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَّاٰلِ مُحَمَّدٍ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَّاٰلِ مُحَمَّدٍ وَّتَجَاوَزْ عَنْ قَبِیْحِ مَاتَعْلَمُ مِنِّیْ‘‘۔

(یعنی) اے اپنے بندوں پراحسان کرنے والے خدا! یہ گنہگاربندہ تیری بارگاہ میں آیاہے اورتونے حکم دیاہے کہ نیک لوگ گناہ گاروں سے درگزرکریں ۔تواحسان کرنے والاہے اور میں گناہگارہوں ۔ محمد(ﷺ) اورآل محمد (علیہم السلام) پراپنی رحمتیں نازل فرمااور میری برائیوں سے جنہیں توجانتاہے درگزرفرما!

مسئلہ(۹۴۱) (انسان کے لئے) مستحب ہے کہ نماز کی پہلی تکبیراورنماز کی درمیانی تکبیریں کہتے وقت ہاتھوں کوکانوں کے برابر تک لے جائے۔

مسئلہ(۹۴۲) اگرکوئی شخص شک کرے کہ تکبیرۃ الاحرام کہی ہے یانہیں اور قرأت میں مشغول ہوجائے تو اپنے شک کی پروانہ کرے اوراگرابھی کچھ نہ پڑھاہوتوضروری ہے کہ تکبیرکہے۔

مسئلہ(۹۴۳) اگرکوئی شخص تکبیرۃ الاحرام کہنے کے بعدشک کرے کہ صحیح طریقے سے تکبیر کہی ہے یانہیں توخواہ اس نے آگے کچھ پڑھاہویانہ پڑھاہواپنے شک کی پرواہ نہ کرے۔

قیام( یعنی کھڑاہونا)

مسئلہ(۹۴۴) تکبیرۃ الاحرام کہنے کے موقع پرقیام اوررکوع سے پہلے والاقیام جسے (قیام متصل برکوع کہتے ہیں ) رکن ہے۔ لیکن الحمداورسورہ پڑھنے کے موقع پرقیام اوررکوع کے بعدقیام رکن نہیں ہے اوراگرکوئی شخص اسے بھول چوک کی وجہ سے ترک کردے تواس کی نمازصحیح ہے۔

مسئلہ(۹۴۵) تکبیر کہنے سے پہلے اور اس کے بعدتھوڑی دیرکے لئے کھڑا ہوناواجب ہے تاکہ یقین ہوجائے کہ تکبیرقیام کی حالت میں کہی گئی ہے۔

مسئلہ(۹۴۶) اگرکوئی شخص رکوع کرنابھول جائے اورالحمد اورسورہ کے بعدبیٹھ جائے اور پھراسے یاد آئے کہ رکوع نہیں کیاتوضروری ہے کہ کھڑاہوجائے اور رکوع میں جائے۔لیکن اگرسیدھاکھڑاہوئے بغیر جھکے ہونے کی حالت میں رکوع کرے توچونکہ وہ قیام متصل برکوع بجانہیں لایااس لئے اس کایہ رکوع کفایت نہیں کرتا۔

مسئلہ(۹۴۷) جس وقت ایک شخص تکبیرۃ الاحرام یاقرأت کے لئے کھڑاہوضروری ہے کہ راستہ نہ چلے اورکسی طرف نہ جھکے اوراحتیاط لازم کی بناپربدن کو حرکت نہ دے اور اختیار کی حالت میں کسی جگہ ٹیک نہ لگائے لیکن اگرایساکرنابہ امرمجبوری ہوتوکوئی اشکال نہیں ۔

مسئلہ(۹۴۸) اگرقیام کی حالت میں کوئی شخص بھولے سے تھوڑا سا راستہ چلے یا کسی طرف جھک جائے یاکسی جگہ ٹیک لگالے توکوئی اشکال نہیں ہے۔

مسئلہ(۹۴۹) احتیاط واجب یہ ہے کہ قیام کے وقت انسان کے دونوں پاؤں زمین پر ہوں لیکن یہ ضروری نہیں کہ بدن کا بوجھ دونوں پاؤں پرہوچنانچہ اگرایک پاؤں پربھی ہوتوکوئی اشکال نہیں ۔

مسئلہ(۹۵۰) جوشخص ٹھیک طورپرکھڑاہوسکتاہواگروہ اپنے پاؤں کواتنا پھیلادے کہ اس پرکھڑاہوناصادق نہ آتاہوتواس کی نمازباطل ہے بلکہ( احتیاط لازم کی بناپر) اپنے پیروں کو بہت زیادہ نہ پھیلائے اگر چہ اس پر کھڑا ہونا صادق آئے۔

مسئلہ(۹۵۱) جب انسان نمازمیں کوئی واجب ذکرپڑھنے میں مشغول ہوتو ضروری ہے کہ اس کابدن ساکن ہواورجب مستحب ذکرمیں مشغول ہوتب بھی( احتیاط لازم کی بناپر)یہی حکم ہے اورجس وقت وہ قدرے آگے یاپیچھے ہوناچاہے یابدن کودائیں یا بائیں جانب تھوڑی سی حرکت دیناچاہے توضروری ہے کہ اس وقت کچھ نہ پڑھے۔

مسئلہ(۹۵۲) اگرمتحرک بدن کی حالت میں کوئی شخص مستحب ذکرپڑھے مثلاً رکوع سجدے میں جانے کے وقت تکبیر کہے اور اس ذکرکے قصدسے کہے جس کانمازمیں حکم دیا گیاہے تووہ ذکرصحیح نہیں لیکن اس کی نماز صحیح ہے اورضروری ہے کہ انسان’’ بِحَوْلِ اللہِ وَ قُوَّتِہٖ اَقُوْمُ وَاَقْعُد‘‘ اس وقت کہے جب کھڑاہورہاہو۔

مسئلہ(۹۵۳) ہاتھوں اور انگلیوں کوالحمدپڑھتے وقت حرکت دینے میں کوئی حرج نہیں اگرچہ احتیاط مستحب یہ ہے کہ انہیں بھی حرکت نہ دی جائے۔

مسئلہ(۹۵۴) اگرکوئی شخص الحمداورسورہ پڑھتے وقت یاتسبیحات پڑھتے وقت بے اختیار اتنی حرکت کرے کہ بدن کے ساکن ہونے کی حالت سے خارج ہوجائے تو احتیاط مستحب یہ ہے کہ بدن کے دوبارہ ساکن ہونے پر جوکچھ اس نے حرکت کی حالت میں پڑھا تھا، دوبارہ پڑھے۔

مسئلہ(۹۵۵) نمازکے دوران اگرکوئی شخص کھڑے ہونے کے قابل نہ ہوتو ضروری ہے کہ بیٹھ جائے اوراگربیٹھ بھی نہ سکتاہوتوضروری ہے کہ لیٹ جائے،لیکن جب تک اس کے بدن کوسکون حاصل نہ ہوضروری ہے کہ کوئی واجب ذکرنہ پڑھے۔

مسئلہ(۹۵۶) جب تک انسان کھڑے ہوکرنماز پڑھ سکتاہوضروری ہے کہ نہ بیٹھے مثلاً اگرکھڑاہونے کی حالت میں کسی کابدن حرکت کرتاہویاوہ کسی چیزپرٹیک لگانے پریا بدن کوتھوڑاساٹیڑھاکرنے پرمجبورہو توضروری ہے کہ جیسے بھی ہوسکے کھڑےہوکرنماز پڑھے لیکن اگروہ کسی طرح بھی کھڑانہ ہوسکتاہوتو ضروری ہے کہ سیدھابیٹھ جائے اوربیٹھ کرنماز پڑھے۔

مسئلہ(۹۵۷) جب تک انسان بیٹھ سکے ضروری ہے کہ وہ لیٹ کرنماز نہ پڑھے اور اگروہ سیدھاہوکرنہ بیٹھ سکے توضروری ہے کہ جیسے بھی ممکن ہوبیٹھے اوراگربالکل نہ بیٹھ سکے توجیساکہ قبلے کے احکام میں کہاگیاہے ضروری ہے کہ پہلو کےبل اس طرح لیٹے کہ بدن کا اگلا حصہ قبلہ کی طرف ہو اور (احتیاط لازم کی بناپر)ضروری ہے کہ جب تک دائیں پہلو پرلیٹ سکتاہوبائیں پہلو پرنہ لیٹے اوراگردونوں طرف لیٹناممکن نہ ہو توپشت کے بل اس طرح لیٹے کہ اس کے تلوے قبلے کی طرف ہوں ۔

مسئلہ(۹۵۸) جوشخص بیٹھ کرنمازپڑھ رہاہواگروہ الحمداورسورہ پڑھنے کے بعدکھڑا ہو سکے اوررکوع کھڑے ہوکربجالاسکے توضروری ہے کہ کھڑاہوجائے اورقیام کی حالت سے رکوع میں جائے اوراگرایسانہ کرسکے تو ضروری ہے کہ رکوع بھی بیٹھ کربجالائے۔

مسئلہ(۹۵۹) جوشخص لیٹ کرنمازپڑھ رہاہواگروہ نماز کے دوران اس قابل ہو جائے کہ بیٹھ سکے تو ضروری ہے کہ نماز کی جتنی مقدارممکن ہوبیٹھ کرپڑھے اورکھڑا ہوسکے تو ضروری ہے کہ جتنی مقدارممکن ہوکھڑےہوکرپڑھے، لیکن جب تک اس کے بدن کوسکون حاصل نہ ہوجائے ضروری ہے کہ کوئی واجب ذکر نہ پڑھےلیکن اگر یہ جانتا ہے کہ کچھ مقدار میں کھڑےرہ سکتا ہے توضروری ہے کہ اس کو قیام متصل برکوع سے مخصوص قرار دے۔

مسئلہ(۹۶۰) جوشخص بیٹھ کرنمازپڑھ رہاہواگرنماز کے دوران اس قابل ہوجائے کہ کھڑاہوسکے تو ضروری ہے کہ نمازکی جتنی مقدارممکن ہوکھڑےہوکرپڑھے لیکن جب تک اس کے بدن کوسکون حاصل نہ ہوجائے ضروری ہے کہ کوئی واجب ذکر نہ پڑھے۔لیکن اگر یہ جانتا ہو کہ کچھ مقدارمیں کھڑے رہ سکتا ہے تو اس کو قیام متصل برکوع سے مخصوص قراردینا ضروری ہے۔

مسئلہ(۹۶۱) اگرکسی ایسے شخص کوجوکھڑاہوسکتاہویہ خوف ہوکہ کھڑےہونے سے بیمارہوجائے گایااسے کوئی نقصان ہوگا تووہ بیٹھ کرنمازپڑھ سکتاہے اوراگربیٹھنے سے بھی ڈرتاہوتولیٹ کرنماز پڑھ سکتاہے۔

مسئلہ(۹۶۲) اگرکوئی شخص ناامیدنہ ہوکہ آخروقت میں کھڑےہوکرنماز پڑھ سکے گااوروہ اول وقت میں نمازپڑھ لے اورآخروقت میں کھڑےہونے پرقادر ہو جائے تو ضروری ہے کہ وہ دوبارہ نمازپڑھے لیکن اگرکھڑےہوکرنمازپڑھنے سے مایوس ہو اور اول وقت میں نمازپڑھ لےاس کے بعد وہ کھڑے ہونے کے قابل ہوجائے تو ضروری نہیں کہ دوبارہ نمازپڑھے۔

مسئلہ(۹۶۳) مستحب ہے کہ قیام کی حالت میں جسم سیدھا رکھے اورکندھوں کونیچے کی طرف جھکادے نیزہاتھوں کورانوں پررکھے اورانگلیوں کو باہم ملاکررکھے اورنگاہ سجدہ کی جگہ پر مرکوز رکھے اوربدن کابوجھ دونوں پاؤں پر یکساں ڈالے اورخشوع اورخضوع کے ساتھ کھڑاہواورپاؤں آگے پیچھے نہ رکھے اوراگرمرد ہوتو پاؤں کے درمیان تین پھیلی ہوئی انگلیوں سے لے کرایک بالشت تک کافاصلہ رکھے اور اگر عورت ہوتودونوں پاؤں ملاکررکھے۔

قرأت

مسئلہ(۹۶۴) ضروری ہے کہ انسان روزانہ کی واجب نمازوں کی پہلی اور دوسری رکعت میں پہلے الحمداور اس کے بعد(احتیاط واجب کی بناپر)کسی ایک پورے سورے کی تلاوت کرے اور’’وَالضُّحیٰ‘‘ اور’’اَلَمْ نَشْرَح‘‘کی سورتیں اور اسی طرح ’’سورۂ فیل‘‘ اور’’سورۂ قریش‘‘( احتیاط واجب کی بناپر)نماز میں ایک سورت شمارہوتی ہیں ۔

مسئلہ(۹۶۵) اگرنمازکاوقت تنگ ہویاانسان کسی مجبوری کی وجہ سے سورہ نہ پڑھ سکتاہو مثلاًاسے خوف ہوکہ اگرسورہ پڑھے گاتوچوریادرندہ یاکوئی چیزاسے نقصان پہنچائے گی یااسے ضروری کام ہوتواگروہ چاہے توسورہ نہ پڑھے بلکہ وقت تنگ ہونے کی صورت میں اور خوف کی بعض حالتوں میں ضروری ہے کہ وہ سورہ نہ پڑھے۔

مسئلہ(۹۶۶) اگرکوئی شخص جان بوجھ کرالحمدسے پہلے سورہ پڑھے تواس کی نماز باطل ہوگی لیکن اگرغلطی سے الحمد سے پہلے سورہ پڑھے اورپڑھنے کے دوران یادآئے تو ضروری ہے کہ سورہ کوچھوڑدے اورالحمدپڑھنے کے بعدسورہ شروع سے پڑھے۔

مسئلہ(۹۶۷) اگرکوئی شخص الحمداورسورہ یاان میں سے کسی ایک کاپڑھنابھول جائے اور رکوع میں جانے کے بعداسے یادآئے تواس کی نمازصحیح ہے۔

مسئلہ(۹۶۸) اگررکوع کے لئے جھکنے سے پہلے کسی شخص کویادآئے کہ اس نے الحمد اور سورہ نہیں پڑھاتو ضروری ہے کہ پڑھے اوراگریہ یادآئے کہ سورہ نہیں پڑھاتوضروری ہے کہ فقط سورہ پڑھے لیکن اگراسے یادآئے کہ فقط الحمدنہیں پڑھی توضروری ہے کہ پہلے الحمداوراس کے بعددوبارہ سورہ پڑھے اوراگر جھک بھی جائے لیکن رکوع کی حدتک پہنچنے سے پہلے یادآئے کہ الحمداورسورہ یافقط الحمدنہیں پڑھی توضروری ہے کہ کھڑاہوجائے اور اسی حکم کے مطابق عمل کرے۔

مسئلہ(۹۶۹) اگرکوئی شخص جان بوجھ کرفریضہ نماز میں ان چارسوروں میں سے کوئی ایک سورہ پڑھے جن میں آیۂ سجدہ ہواورجن کاذکرمسئلہ (۳۵۴ )میں کیاگیاہے توواجب ہے کہ آیۂ سجدہ پڑھنے کے بعدسجدہ کرے لیکن اگرسجدہ بجالائے تو(احتیاط کی بناپر) اس کی نماز باطل ہے اورضروری ہے کہ اسے دوبارہ پڑھے لیکن یہ کہ بھول کر سجدہ کرے اور اگرسجدہ نہ کرے تواپنی نمازجاری رکھ سکتاہے اگرچہ سجدہ نہ کرکے اس نے گناہ کیاہے۔

مسئلہ(۹۷۰) اگرکوئی شخص بھول کرایساسورہ پڑھناشروع کردے جس میں سجدہ واجب ہو(خواہ عمداً پڑھ رہا ہو یا بھول کر)لیکن آیۂ سجدہ پر پہنچنے سے پہلے اسے خیال آجائے توضروری ہے کہ اس سورہ کو چھوڑدے اورکوئی دوسراسورہ پڑھے اورآیۂ سجدہ پڑھنے کے بعد خیال آئے تو ضروری ہے کہ جس طرح سابقہ مسئلہ میں کہاگیاہے عمل کرے۔

مسئلہ(۹۷۱) اگرکوئی شخص نماز کے دوران کسی دوسرے کوآیۂ سجدہ پڑھتے ہوئے سنے تواس کی نمازصحیح ہے لیکن( احتیاط واجب کی بناپر)اگر واجب نماز پڑھ رہاہوتوسجدے کااشارہ کرے اورنمازختم کرنے کے بعد اس کاسجدہ بجالائے۔

مسئلہ(۹۷۲) مستحب نمازمیں سورہ پڑھناضروری نہیں ہے خواہ وہ نمازمنت ماننے کی وجہ سے ہی واجب کیوں نہ ہوگئی ہو۔لیکن اگرکوئی شخص بعض ایسی مستحب نمازیں ان کے احکام کے مطابق پڑھناچاہے مثلاً نماز وحشت کہ جن میں مخصوص سورتیں پڑھنی ہوتی ہیں توضروری ہے کہ وہی سورتیں پڑھے۔

مسئلہ(۹۷۳) جمعہ کی نمازمیں اور جمعہ کے دن صبح، ظہر وعصر اور شب جمعہ عشاء کی نماز میں پہلی رکعت میں الحمد کے بعدسورۂ جمعہ اور دوسری رکعت میں الحمدکے بعدسورۂ منافقون پڑھنامستحب ہے اور اگرکوئی شخص ان میں سے کوئی ایک سورہ پڑھناشروع کردے تو(احتیاط واجب کی بناپر) اسے چھوڑکرکوئی دوسراسورہ نہیں پڑھ سکتا۔

مسئلہ(۹۷۴) اگرکوئی شخص الحمد کے بعدسورۂ اخلاص یاسورۂ کافرون پڑھنے لگے تو وہ اسے چھوڑکرکوئی دوسراسورہ نہیں پڑھ سکتاالبتہ اگرجمعہ یاجمعہ کے دن کی نمازوں میں بھول کر سورۂ جمعہ اور سورۂ منافقون کے بجائے ان دوسورتوں میں سے کوئی سورہ پڑھے تو انہیں چھوڑسکتاہے اورسورۂ جمعہ اور سورۂ منافقون پڑھ سکتاہے اوراحتیاط مستحب یہ ہے کہ اگرنصف تک پڑھ چکاہوتوپھران سوروں کونہ چھوڑے۔

مسئلہ(۹۷۵) اگرکوئی شخص جمعہ کی نماز میں یاجمعہ کے دن کی نمازوں میں جان بوجھ کر سورۂ اخلاص یاسورۂ کافرون پڑھے توخواہ وہ نصف تک نہ پہنچاہو(احتیاط واجب کی بناپر) انہیں چھوڑکرسورۂ جمعہ اورسورۂ منافقون نہیں پڑھ سکتا۔

مسئلہ(۹۷۶) اگرکوئی شخص نمازمیں سورۂ اخلاص یاسورۂ کافرون کے علاوہ کوئی دوسرا سورہ پڑھے توجب تک نصف تک نہ پہنچاہواسے چھوڑسکتاہے اوردوسراسورہ پڑھ سکتاہے اورنصف تک پہنچنے کے بعدبغیر کسی وجہ کے اس سورہ کوچھوڑکردوسراسورہ پڑھنا (احتیاط کی بناپر) جائزنہیں ۔

مسئلہ(۹۷۷) اگرکوئی شخص کسی سورے کاکچھ حصہ بھول جائے یابہ امرمجبوری مثلاً وقت کی تنگی یاکسی اوروجہ سے اسے مکمل نہ کرسکے تووہ اس سورہ کوچھوڑکرکوئی دوسرا سورہ پڑھ سکتاہے خواہ نصف تک ہی پہنچ چکاہویاوہ سورۂ اخلاص یاسورۂ کافرون ہی ہو اور فراموشی کی صورت میں جس مقدار میں پڑھا ہے اس پر اکتفا کرسکتا ہے۔

مسئلہ(۹۷۸) مردپر(احتیاط کی بناءپر) واجب ہے کہ صبح اورمغرب وعشاکی نمازوں میں الحمد اور سورہ بلندآواز سے پڑھے اورمرداورعورت دونوں پر(احتیاط کی بناپر) واجب ہے کہ نماز ظہروعصرمیں الحمداورسورہ آہستہ پڑھیں ۔

مسئلہ(۹۷۹) (احتیاط کی بناپر)ضروری ہے کہ مردصبح اورمغرب وعشا کی نمازمیں خیال رکھے کہ الحمداور سورہ کے تمام کلمات حتیٰ کہ ان کے آخری حرف تک بلندآوازسے پڑھے۔

مسئلہ(۹۸۰) صبح کی نمازاورمغرب وعشاکی نماز میں عورت الحمداورسورہ بلندآواز سے یاآہستہ جیساچاہے پڑھ سکتی ہے۔ لیکن اگرنامحرم اس کی آوازسن رہاہواورایسی جگہ ہو جہاں نامحرم کو آواز سنانا حرام ہوتوضروری ہے آہستہ پڑھے اور اگر جان بوجھ کر بلند آواز سے پڑھے تو (احتیاط واجب کی بناپر) اسکی نمازباطل ہے۔

مسئلہ(۹۸۱) اگرکوئی شخص جس نمازکوبلندآوازسے پڑھناضروری ہے اسے عمداً آہستہ پڑھے یاجونماز آہستہ پڑھنی ضروری ہے اسے عمداً بلندآواز سے پڑھے تو(احتیاط واجب کی بناپر) اس کی نمازباطل ہے۔ لیکن اگربھول جانے کی وجہ سے یامسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے ایسا کرے تو(اس کی نماز) صحیح ہے۔نیزالحمداورسورہ پڑھنے کے دوران بھی اگروہ متوجہ ہو جائے کہ اس سے غلطی ہوئی ہے توضروری نہیں کہ جوحصہ پڑھ چکاہواسے دوبارہ پڑھے۔

مسئلہ(۹۸۲) اگرکوئی شخص الحمداورسورہ پڑھنے کے دوران اپنی آواز معمول سے زیادہ بلندکرے مثلاً ان سورتوں کوایسے پڑھے جیسے کہ فریادکررہاہوتواس کی نمازباطل ہے۔

مسئلہ(۹۸۳) انسان کے لئے ضروری ہے کہ نمازکو صحیح قرأت کےساتھ پڑھے اورجوشخص کسی طرح بھی پورے سورۂ الحمدکوصحیح طرح نہ پڑھ سکتا ہو تو ضروری ہے کہ اسی طرح پڑھے اگر جس مقدار کو صحیح پڑھ سکتا ہے وہ قابل توجہ ہو لیکن اگروہ مقداربہت کم ہوتو(احتیاط واجب کی بناپر)قرآن کے دوسرے سوروں میں سے جس قدر صحیح پڑھنا ممکن ہواس کے ساتھ ملاکر پڑھنا ضروری ہے اوراگرایسانہ کرسکتاہوتوتسبیح (سبحان اللہ)اس کے ساتھ ملاکر پڑھنا ضروری ہے اوراگرکوئی پورے سورہ کو صحیح نہ پڑھ سکتاہوتوضروری نہیں کہ اس کے بدلے کچھ پڑھے اورہرحال میں احتیاط مستحب یہ ہے کہ نماز کوجماعت کے ساتھ بجا لائے۔

مسئلہ(۹۸۴) اگرکسی کوالحمد اچھی طرح یادنہ ہو تو ضروری ہے کہ کوشش کرکے اپنی ذمہ داری کو پوری کرے خواہ سیکھنے کے ساتھ یا تلقین (کسی کے بتانے کے ذریعہ ہو) خواہ جماعت میں شامل ہونے یا شک کی صورت میں نماز کو دوبارہ پڑھنے کے ذریعہ ہو اور اگروقت تنگ ہواور وہ اس طرح نماز پڑھے جیساکہ گزشتہ مسئلے میں کہاگیاہے تواس کی نمازصحیح ہے لیکن سیکھنے میں کوتاہی کیا ہوتو اگرممکن ہوتوعذاب سے بچنے کے لئے جماعت کے ساتھ نمازپڑھے۔

مسئلہ(۹۸۵) واجبات نمازسکھانے کی اجرت لینا(احتیاط کی بناپر)حرام ہے لیکن مستحبات نماز سکھانے کی اجرت لیناجائزہے۔

مسئلہ(۹۸۶) اگرکوئی شخص الحمداورسورہ کاکوئی کلمہ نہ جانتاہویاجان بوجھ کراسے نہ پڑھے یاایک حرف کے بجائے دوسراحرف کہے مثلاً ’’ض‘‘ کے بجائے ’’ذ‘‘ یا ’’ز‘‘ کہے یاجہاں زیراورزبرکے بغیرپڑھناضروری ہووہاں زیراورزبر لگائے یاتشدید حذف کردے تواس کی نمازباطل ہے۔

مسئلہ(۹۸۷) اگرانسان نے کوئی کلمہ جس طرح یادکیاہواسے صحیح سمجھتاہواور نماز میں اسی طرح پڑھے اور بعدمیں اسے پتا چلے کہ اس نے غلط پڑھاہے تواس کے لئے نماز کادوبارہ پڑھناضروری نہیں ۔

مسئلہ(۹۸۸) اگرکوئی شخص کسی لفظ کے زبراورزیر سے واقف نہ ہویایہ نہ جانتا ہو کہ وہ لفظ (ہ) سے ادا کرناچاہئے یا (ح) سے توضروری ہے وہ اپنی ذمہ داری کو اس طرح انجام دےجیسے کہ سیکھ لے یا جماعت سے پڑھے یا اُسے دویادوسے زائد طریقوں سے ادا کرے تاکہ اس کو یقین ہوجائے کہ صحیح طرح پڑھا ہے لیکن اس صورت میں اس کی نماز اس فرض کی بناپر صحیح ہے کہ اس کا یہ غلط جملہ بھی قرآن یا ذکر خدا شمار ہوتا ہو۔

مسئلہ(۹۸۹) علمائے تجوید کاکہناہے کہ اگرکسی لفظ میں واوہواوراس لفظ سے پہلے والے حرف پرپیش ہو اوراس لفظ میں واو کے بعدوالاحرف ہمزہ ہو مثلاً کلمہ’’سُوْٓءٍ‘‘ توپڑھنے والے کوچاہئے کہ اس واو کومدکے ساتھ کھینچ کرپڑھے۔اسی طرح اگرکسی لفظ میں ’’الف‘‘ ہو اور اس لفظ میں الف سے پہلے والے حرف پرزبرہواوراس لفظ میں الف کے بعد والا حرف ہمزہ ہو مثلاً ’’جَآءَ‘‘ توضروری ہے کہ اس لفظ کے الف کو کھینچ کر پڑھے اوراگرکسی لفظ میں ’’ی‘‘ ہواوراس لفظ میں ’’ی‘‘ سے پہلے والے حرف پرزیرہواوراس لفظ میں ’’ی‘‘ کے بعد والاحرف ہمزہ ہومثلاً ’’جِیْ ٓءَ‘‘ توضروری ہے کہ ’’ی‘‘ کومدکے ساتھ پڑھے اور اگران حروف ’’واو،الف اوریا‘‘ کے بعدہمزہ کے بجائے کوئی ساکن حرف ہویعنی اس پر زبر، زیر یاپیش (میں سے کوئی حرکت) نہ ہوتب بھی ان تینوں حروف کومد کے ساتھ پڑھنا ضروری ہے۔ لیکن ظاہراً ایسے معاملے میں قرأت کاصحیح ہونا مد پر موقوف نہیں ہے۔ لہٰذاجو طریقہ بتایاگیاہے اگرکوئی اس پرعمل نہ کرے تب بھی اس کی نماز صحیح ہے لیکن’’وَلَا الضَّالِّیْنَ‘‘ جیسے الفاظ میں تشدید اورالف کاپورے طور پر ادا ہونا مد پرٹھوڑا ساتوقف کرنے میں ہے لہٰذا ضروری ہے کہ الف کو تھوڑاسا کھینچ کرپڑھے۔

مسئلہ(۹۹۰) احتیاط مستحب یہ ہے کہ انسان نمازمیں وقف بحرکت اوروصل بسکون نہ کرے اور وقف بحرکت کے معنی یہ ہیں کہ کسی لفظ کے آخر میں زیرزبرپیش پڑھے اوراس لفظ اوراس کے بعدکے لفظ کے درمیان فاصلہ دے مثلاً کہے: ’’اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘ اور’’اَلرَّحِیْمِ‘‘ کے میم کوزیردے اوراس کے بعدقدرے فاصلہ دے اورکہے: ’’مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ‘‘ اوروصل بسکون کے معنی یہ ہیں کہ کسی لفظ کی زیرزبر یاپیش نہ پڑھے اور اس لفظ کو بعدکے لفظ سے جوڑدے مثلاً یہ کہے ’’اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ اور اَلرَّحِیْمِ‘‘ کے میم کوزیرنہ دے اور فوراً ’’مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ‘‘ کہے۔

مسئلہ(۹۹۱) نماز کی تیسری اورچوتھی رکعت میں فقط ایک دفعہ الحمدیاایک دفعہ تسبیحات اربعہ پڑھی جاسکتی ہے یعنی نماز پڑھنے والاایک دفعہ کہے ’’سُبْحَانَ اللہِ وَالْحَمْدُ للّٰہِ وَلَااِلٰہَ اِلَّااللہُ وَاللہُ اَکْبَرُ‘‘اوربہتریہ ہے کہ تین دفعہ کہے اور وہ ایک رکعت میں الحمد اور دوسری رکعت میں تسبیحات بھی پڑھ سکتاہے اوربہتریہ ہے کہ دونوں رکعتوں میں تسبیحات پڑھے۔

مسئلہ(۹۹۲) اگروقت تنگ ہوتوتسبیحات اربعہ ایک دفعہ پڑھناچاہئے اور اگر اس قدر وقت بھی نہ ہو توکافی ہے کہ ایک دفعہ سبحان اللہ کہے۔

مسئلہ(۹۹۳) (احتیاط کی بناپر) مرداورعورت دونوں پرواجب ہے کہ نماز کی تیسری اور چوتھی رکعت میں الحمد یاتسبیحات اربعہ آہستہ پڑھیں ۔

مسئلہ(۹۹۴) اگرکوئی شخص تیسری اورچوتھی رکعت میں الحمد پڑھے توواجب نہیں کہ اس کی بسم اللہ بھی آہستہ پڑھے لیکن مقتدی کے لئے احتیاط واجب یہ ہے کہ’’ بسم اللہ‘‘ بھی آہستہ پڑھے۔

مسئلہ(۹۹۵) جوشخص تسبیحات سیکھ نہ سکتاہویاانہیں ٹھیک سےپڑھ نہ سکتاہو ضروری ہے کہ وہ تیسری اورچوتھی رکعت میں الحمد پڑھے۔

مسئلہ(۹۹۶) اگرکوئی شخص نماز کی پہلی دورکعتوں میں یہ خیال کرتے ہوئے کہ یہ آخری دورکعتیں ہیں تسبیحات پڑھے لیکن رکوع سے پہلے اسے صحیح صورت کا پتا چل جائے تو ضروری ہے کہ الحمداورسورہ پڑھے اوراگراسے رکوع کے دوران یارکوع کے بعد پتا چلے تواس کی نماز صحیح ہے۔

مسئلہ(۹۹۷) اگرکوئی شخص نماز کی آخری دورکعتوں میں یہ خیال کرتے ہوئے کہ یہ پہلی دورکعتیں ہیں الحمدپڑھے یانماز کی پہلی دورکعتوں میں یہ خیال کرتے ہوئے کہ یہ آخری دورکعتیں ہیں الحمدپڑھے تواسے صحیح صورت کاخواہ رکوع سے پہلے پتا چلے یابعد میں اس کی نمازصحیح ہے۔

مسئلہ(۹۹۸) اگرکوئی شخص تیسری یاچوتھی رکعت میں الحمد پڑھناچاہتاہولیکن تسبیحات اس کی زبان پر آجائیں یاتسبیحات پڑھناچاہتاہولیکن الحمداس کی زبان پر آ جائے اوراگراس کے پڑھنے کابالکل ارادہ نہ تھا( حتی غیر ارادی طورپر ضمیر میں ) بھی قصد نہ رہا ہوتوضروری ہے کہ اسے چھوڑکردوبارہ الحمد یا تسبیحات پڑھے لیکن اگربلاارادہ نہ ہوجیسے کہ اس کی عادت وہی کچھ پڑھنے کی ہو جو اس کی زبان پرآیاہے تووہ اسی کوتمام کرسکتاہے اوراس کی نماز صحیح ہے۔

مسئلہ(۹۹۹) جس شخص کی عادت تیسری اورچوتھی رکعت میں تسبیحات پڑھنے کی ہو اگروہ اپنی عادت سے غفلت برتے اوراپنے وظیفے کی ادائیگی کی نیت سے الحمد پڑھنے لگے تووہی کافی ہے اوراس کے لئے الحمد یاتسبیحات دوبارہ پڑھناضروری نہیں ۔

مسئلہ(۱۰۰۰) تیسری اورچوتھی رکعت میں تسبیحات کے بعداستغفار کرنا مستحب ہے مثلاً کہے:’’اَسْتَغْفِرُاللہَ رَبِّیْ وَاَتُوْبُ اِلَیْہِ‘‘ یاکہے ’’اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ‘‘ اور اگر نماز پڑھنے والے کو استغفار اوررکوع کے لئے جھکنے سے پہلے اسے شک ہو کہ اس نے الحمدیا تسبیحات پڑھی ہیں یانہیں توضروری ہے کہ الحمد یا تسبیحات پڑھے اور اگر دوران استغفار یا اس کے بعد شک کرے تو بھی (احتیاط واجب کی بنا پر) الحمد یا تسبیحات کو پڑھے۔

مسئلہ(۱۰۰۱) اگرتیسری یاچوتھی رکعت میں یارکوع میں جاتے ہوئے شک کرے کہ اس نے الحمدیا تسبیحات پڑھی ہیں یانہیں تواپنے شک کی پروانہ کرے۔

مسئلہ(۱۰۰۲) اگرنمازپڑھنے والاشک کرے کہ آیااس نے کوئی آیت یاجملہ درست پڑھاہے یانہیں مثلاً شک کرے کہ’’قل ھواللہ احد‘‘ درست پڑھاہے یانہیں تووہ اپنے شک کی پروانہ کرے، لیکن اگراحتیاطاًوہی آیت یاجملہ دوبارہ صحیح طریقے سے پڑھ دے توکوئی حرج نہیں اوراگرکئی باربھی شک کرے توکئی بار پڑھ سکتاہے۔ہاں اگر وسوسے کی حدتک پہنچ جائے تو تکرار نہ کرے۔

مسئلہ(۱۰۰۳) مستحب ہے کہ پہلی رکعت میں الحمد پڑھنے سے پہلے’’اَعُوْذُبِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ‘‘ کہے اورظہر اورعصر کی پہلی اوردوسری رکعتوں میں ’’بِسْمِ اللہِ‘‘ بلند آواز سے کہے اورالحمداورسورہ کوآہستہ کرکے پڑھے اورہرآیت کے آخر پروقف کرے یعنی اسے بعدوالی آیت کے ساتھ نہ ملائے اورالحمد اورسورہ پڑھتے وقت آیات کے معنوں کی طرف توجہ رکھے اور اگرجماعت سے نماز پڑھ رہاہوتوامام جماعت کے سورۂ الحمدختم کرنے کے بعداوراگرفرادیٰ نماز پڑھ رہاہوتوسورۂ الحمدپڑھنے کے بعدکہے: ’’اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ‘‘ اورسورہ ’’قُلْ ھُوَاللہُ اَحَد‘‘ پڑھنے کے بعدایک یادویاتین دفعہ ’’کَذَالِکَ اللہُ رَبِّیْ‘‘ یاتین دفعہ ’’کَذَالِکَ اللہُ رَبُّنَا‘‘ کہے اور سورہ پڑھنے کے بعد اور تھوڑی دیررکے اوراس کے بعدرکوع سے پہلے کی تکبیر کہے یا قنوت پڑھے۔

مسئلہ(۱۰۰۴) مستحب ہے کہ تمام نمازوں کی پہلی رکعت میں سورۂ قدراوردوسری رکعت میں سورۂ اخلاص پڑھے۔

مسئلہ(۱۰۰۵) پنجگانہ نمازوں میں سے کسی ایک نمازمیں بھی انسان کاسورۂ اخلاص کانہ پڑھنامکروہ ہے۔

مسئلہ(۱۰۰۶) ایک ہی سانس میں سورہ’’قل ھُوَاللہُ اَحَد‘‘ کاپڑھنامکروہ ہے۔

مسئلہ(۱۰۰۷) جوسورہ انسان پہلی رکعت میں پڑھے اس کادوسری رکعت میں پڑھنا مکروہ ہے، لیکن اگر سورۂ اخلاص دونوں رکعتوں میں پڑھے تومکروہ نہیں ہے۔

رکوع

مسئلہ(۱۰۰۸) ضروری ہے کہ ہررکعت میں قرأت کے بعد اس قدر جھکے کہ اپنی انگلیوں کے سرے(انگوٹھے کے ساتھ) گھٹنے پررکھ سکے اوراس عمل کو’’رکوع‘‘ کہتے ہیں ۔

مسئلہ(۱۰۰۹) اگررکوع جتناجھک جائے لیکن اپنی انگلیوں کے سرے گھٹنوں پر نہ رکھے توکوئی حرج نہیں ۔

مسئلہ(۱۰۱۰) اگرکوئی شخص رکوع عام طریقے کے مطابق نہ بجالائے مثلاً بائیں یا دائیں جانب جھک جائےیا اپنے زانوؤں کو آگے کی طرف موڑے توخواہ اس کے ہاتھ گھٹنوں تک پہنچ بھی جائیں اس کارکوع صحیح نہیں ہے۔

مسئلہ(۱۰۱۱) ضروری ہے کہ جھکنارکوع کی نیت سے ہولہٰذا اگرکسی اورکام کے لئے مثلاً کسی جانور کو مارنے کے لئے جھکے تواسے رکوع نہیں کہاجاسکتابلکہ ضروری ہے کہ کھڑا ہو جائے اوردوبارہ رکوع کے لئے جھکے اوراس عمل کی وجہ سے رکن میں اضافہ نہیں ہوتا اور نماز باطل نہیں ہوتی۔

مسئلہ(۱۰۱۲) جس شخص کے ہاتھ یاگھٹنے دوسرے لوگوں کے ہاتھوں اورگھٹنوں سے مختلف ہوں مثلاً اس کے ہاتھ اتنے لمبے ہوں کہ اگرمعمولی سابھی جھکے توگھٹنوں تک پہنچ جائیں یااس کے گھٹنے دوسرے لوگوں کے گھٹنوں کے مقابلے میں نیچے ہوں اور اسے ہاتھ گھٹنوں تک پہنچانے کے لئے بہت زیادہ جھکناپڑتاہوتوضروری ہے کہ اتناجھکے جتنا عموماً لوگ جھکتے ہیں ۔

مسئلہ(۱۰۱۲) جوشخص بیٹھ کررکوع کررہاہواسے اس قدر جھکناضروری ہے کہ اس کا چہرہ اس کے گھٹنوں کے بالمقابل پہنچے اوربہترہے کہ اتناجھکے کہ اس کا چہرہ سجدے کی جگہ کے قریب پہنچے۔

مسئلہ(۱۰۱۳) بہتریہ ہے کہ اختیارکی حالت میں رکوع میں تین دفعہ ’’سُبْحَانَ اللہِ‘‘ یا ایک دفعہ’’سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ وَبِحَمْدِہٖ‘‘ کہے اور ظاہریہ ہے کہ جوذکربھی اتنی مقدار میں کہا جائے کافی ہے اور( احتیاط واجب کی بناپر) ضروری ہے کہ اسی مقدار میں ہو لیکن وقت کی تنگی اور مجبوری کی حالت میں ایک دفعہ ’’سُبْحَانَ اللہِ‘‘ کہنا ہی کافی ہےاور جو شخصسُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ کو اچھی طرح سےادا نہ کرسکے اس کے لئے ضروری ہے کہ دوسرے ذکر جیسے سبحان اللہ کوتین دفعہ کہے۔

مسئلہ(۱۰۱۵) ذکررکوع مسلسل اورصحیح عربی میں پڑھناچاہئے اورمستحب ہے کہ اسے تین یاپانچ یاسات دفعہ بلکہ اس سے بھی زیادہ پڑھاجائے۔

مسئلہ(۱۰۱۶) رکوع کی حالت میں ضروری ہے کہ نماز پڑھنے والے کابدن ساکن ہو نیز ضروری ہے کہ وہ اپنے اختیار سے بدن کواس طرح حرکت نہ دے کہ اس پر ساکن ہونا صادق نہ آئے حتیٰ کہ( احتیاط کی بناپر)اگروہ واجب ذکرمیں مشغول نہ ہوتب بھی یہی حکم ہےاگر عمداً اطمینان کی رعایت نہ کرے تو (احتیاط واجب کی بنا پر) نماز باطل ہے یہاں تک کہ اگر وہ ذکر کو حالت استقرار میں دوہرائے تب بھی باطل ہے۔

مسئلہ(۱۰۱۷) اگرنماز پڑھنے والااس وقت جب کہ رکوع کاواجب ذکراداکررہاہو سہواً یا بے اختیاراتنی حرکت کرے کہ بدن کے سکون کی حالت میں ہونے سے خارج ہوجائے تو بہتریہ ہے کہ بدن کے سکون حاصل کرنے کے بعددوبارہ ذکرکوبجالائے لیکن اگراتنی کم مدت کے لئے حرکت کرے کہ بدن کے سکون میں ہونے کی حالت سے خارج نہ ہو یا انگلیوں کوحرکت دے تو کوئی حرج نہیں ہے۔

مسئلہ(۱۰۱۸) اگرنماز پڑھنے والااس سے پیشترکہ رکوع کے جتناجھکے اوراس کابدن سکون حاصل کرے جان بوجھ کرذکررکوع پڑھناشروع کردے تواس کی نمازباطل ہے مگر یہ کہ حالت استقرار میں ذکر رکوع دوبارہ پڑھے اور اگر اس نے بھولے سے ایسا کیا ہے تو دوبارہ پڑھنالازم نہیں ہے۔

مسئلہ(۱۰۱۹) اگرایک شخص واجب ذکرکے ختم ہونے سے پہلے جان بوجھ کر سر رکوع سے اٹھالے تواس کی نمازباطل ہے اوراگرسہواً سراٹھالے تو دوبارہ ذکر پڑھنا ضروری نہیں ہے۔

مسئلہ(۱۰۲۰) اگرایک شخص ذکرکی مقدارکے مطابق خواہ ایک بار سبحان اللہ کہنا ہی کیوں نہ ہو رکوع کی حالت میں نہ رہ سکتا ہو تو اگر چہ بے چینی کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو تو پڑھنا واجب نہیں ہے لیکن احتیاط مستحب یہ ہے کہ اس ذکر کابقیہ حصہ مطلق قربت کے قصدسے رکوع سے اٹھتے ہوئے پڑھے یا اس سےپہلے شروع کردے۔

مسئلہ(۱۰۲۱) اگرکوئی شخص مرض وغیرہ کی وجہ سے رکوع میں اپنابدن ساکن نہ رکھ سکتاہوتواس کی نمازصحیح ہے لیکن ضروری ہے کہ رکوع کی حالت سے خارج ہونے سے پہلے واجب ذکر اس طریقے سے اداکرے جیسے اوپربیان کیاگیاہے۔

مسئلہ(۱۰۲۲) جب کوئی شخص رکوع کے لئے نہ جھک سکتاہوتوضروری ہے کہ کسی چیز کاسہارالے کر رکوع بجالائے اوراگرسہارے کے ذریعے بھی معمول کے مطابق رکوع نہ کرسکے توضروری ہے کہ اس قدر جھکے کہ عرفاًاسے رکوع کہاجاسکے اوراگراس قدرنہ جھک سکے توضروری ہے کہ رکوع کے لئے سر سے اشارہ کرے۔

مسئلہ(۱۰۲۳) جس شخص کورکوع کے لئے سرسے اشارہ کرناضروری ہواگروہ اشارہ کرنے پرقادرنہ ہوتو ضروری ہے کہ رکوع کی نیت کے ساتھ آنکھوں کوبندکرے اورذکر رکوع پڑھے اوررکوع سے اٹھنے کی نیت سے آنکھوں کوکھول دے اوراگراس قابل بھی نہ ہو تو(احتیاط واجب کی بناپر)دل میں رکوع کی نیت کرے اور اپنے ہاتھ سے رکوع کے لئے اشارہ کرے اورذکر رکوع پڑھے اور اس صورت میں اگر ممکن ہوتو( احتیاط واجب کی بنا پر) اس کیفیت کے ساتھ ساتھ ذکر رکوع کے لئے اشارہ بھی کرے اور بیٹھنے کی حالت میں رکوع کے لئے اشارہ کرے۔

مسئلہ(۱۰۲۴) جوشخص کھڑے ہوکررکوع نہ کرسکے لیکن جب بیٹھاہواہوتورکوع کے لئے جھک سکتاہوتو ضروری ہے کہ کھڑے ہوکرنمازپڑھے اوررکوع کے لئے سر سے اشارہ کرے اوراحتیاط مستحب یہ ہے کہ ایک دفعہ پھرنماز پڑھے اوراس کے رکوع کے وقت بیٹھ جائے اوررکوع کے لئے جھک جائے۔

مسئلہ(۱۰۲۵) اگرکوئی شخص رکوع کی حدتک پہنچنے کے بعدسرکواٹھالے اوردوبارہ رکوع کرنے کی حدتک جھکے تواس کی نماز باطل ہے۔

مسئلہ(۱۰۲۶) ضروری ہے کہ ذکررکوع ختم ہونے کے بعدسیدھاکھڑاہوجائے اور (احتیاط واجب کی بناء پر) جب اس کا بدن سکون حاصل کرلے اس کے بعدسجدے میں جائے اوراگرجان بوجھ کر کھڑےہونے سے پہلے یابدن کے سکون حاصل کرنے سے پہلے سجدے میں چلا جائے تو اس کی نمازباطل ہے اور(احتیاط واجب کی بناء پر) یہی حکم ہے اگر جان بوجھ کر بدن کے سکون حاصل کرنے سے پہلے سجدہ میں چلاجائے۔

مسئلہ(۱۰۲۷) اگرکوئی شخص رکوع اداکرنابھول جائے اور اس سے پیشترکہ سجدے کی حالت میں پہنچے اسے یادآجائے توضروری ہے کہ کھڑاہوجائے اورپھر رکوع میں جائے اورجھکے ہوئے ہونے کی حالت میں اگررکوع کی جانب لوٹ جائے توکافی نہیں ۔

مسئلہ(۱۰۲۸) اگرکسی شخص کوپیشانی زمین پررکھنے کے بعدیادآئے کہ اس نے رکوع نہیں کیاتواس کے لئے ضروری ہے کہ لوٹ جائے اورکھڑےہونے کے بعدرکوع بجا لائے اوراگراسے دوسرے سجدے میں یادآئے تو(احتیاط لازم کی بناپر)اس کی نمازباطل ہے۔

مسئلہ(۱۰۲۹) مستحب ہے کہ انسان رکوع میں جانے سے پہلے سیدھاکھڑےہوکر تکبیرکہے اوررکوع میں گھٹنوں کوپیچھے کی طرف ڈھکیلے۔پیٹھ کوہمواررکھے۔گردن کو کھینچ کر پیٹھ کے برابررکھے۔ دونوں پاؤں کے درمیان دیکھے۔ذکرسے پہلے یابعدمیں درود پڑھے اورجب رکوع کے بعداٹھے اورسیدھاکھڑاہوتو بدن کے سکون کی حالت میں ہوتے ہوئے ’’سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہ‘‘ کہے۔

مسئلہ(۱۰۳۰) عورتوں کے لئے مستحب ہے کہ رکوع میں ہاتھوں کوگھٹنوں سے اوپر رکھیں اورگھٹنوں کو پیچھے کی طرف نہ ڈھکیلیں ۔

سجود

مسئلہ(۱۰۳۱) نمازپڑھنے والے کے لئے ضروری ہے کہ واجب اورمستحب نمازوں کی ہررکعت میں رکوع کے بعددوسجدے کرے۔سجدہ یہ ہے کہ خاص شکل میں پیشانی کوخضوع کی نیت سے زمین پر رکھے اورنماز کے سجدے کی حالت میں واجب ہے کہ دونوں ہتھیلیاں ، دونوں گھٹنے اوردونوں پاؤں کے انگوٹھے زمین پررکھے جائیں اور پیشانی سے مراد( احتیاط واجب کی بناء پر) اس کا درمیانی حصہ ہے اور دونوں ابرؤں اور سر پر بال کے اگنے کی جگہ کے درمیان دو فرضی لائنوں کے کھینچے جانے کی صورت میں ظاہر ہونے والی چوڑائی کو پیشانی کہتے ہیں ۔

مسئلہ(۱۰۳۲) دوسجدے مل کرایک رکن ہیں اوراگرکوئی شخص واجب نمازمیں ( مسئلہ نہ جاننے کی بناپر یا بھولے سے) ایک رکعت میں دونوں سجدے ترک کردے تواس کی نمازباطل ہے اور اگر بھول کریا جاہل قاصر ہونے کی صورت میں ایک رکعت میں دوسجدوں کااضافہ کرے تو(احتیاط لازم کی بناپر)یہی حکم ہے(اور جاہل قاصر سے مراد وہ شخص ہےجو اپنے جاہل ہونے کا عذر رکھتا ہو)۔

مسئلہ(۱۰۳۳) اگرکوئی شخص جان بوجھ کرایک سجدہ کم یازیادہ کردے تواس کی نماز باطل ہے اوراگرسہواً ایک سجدہ کم یازیادہ کرے تواس کی نماز باطل نہیں ہوگی اور سجدے کی کمی کی صورت کا ذکر یا اس کا حکم سجدے کےاختتام میں آئے گا۔

مسئلہ(۱۰۳۴) جوشخص پیشانی زمین پررکھ سکتاہواگرجان بوجھ کریاسہواًپیشانی زمین پرنہ رکھے توخواہ بدن کے دوسرے حصے زمین سے لگ بھی گئے ہوں تواس نے سجدہ نہیں کیالیکن اگروہ پیشانی زمین پررکھ دے اورسہواً بدن کے دوسرے حصے زمین پرنہ رکھے یاسہواً ذکرنہ پڑھے تواس کاسجدہ صحیح ہے۔

مسئلہ(۱۰۳۵) بہتریہ ہے کہ اختیارکی حالت میں سجدے میں تین دفعہ ’’سُبْحَانَ اللہ‘‘یاایک دفعہ ’’سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلیٰ وَبِحَمْدِہٖ‘‘ پڑھے اورضروری ہے کہ یہ جملے مسلسل اور صحیح عربی میں کہے جائیں اورظاہر یہ ہے کہ ہرذکرکاپڑھناکافی ہے لیکن (احتیاط لازم کی بنا پر)ضروری ہے کہ اتنی ہی مقدار میں ہواور مستحب ہے کہ’’سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلیٰ وَبِحَمْدِہٖ‘‘ تین یا پانچ یاسات دفعہ یااس سے بھی زیادہ مرتبہ پڑھے۔

مسئلہ(۱۰۳۶) سجدے کی حالت میں ضروری ہے کہ نمازی کابدن ساکن ہواور حالت اختیارمیں اسے اپنے بدن کواس طرح حرکت نہیں دیناچاہئے کہ سکون کی حالت سے نکل جائے اورجب واجب ذکرمیں مشغول نہ ہوتواحتیاط واجب کی بناپریہی حکم ہے۔

مسئلہ(۱۰۳۷) اگراس سے پیشترکہ پیشانی زمین سے لگے اوربدن سکون حاصل کرلے کوئی شخص جان بوجھ کر ذکرسجدہ پڑھے تو اس کی نماز باطل ہے سوائے یہ کہ سکون کی حالت میں دوبارہ ذکر پڑھے اور اسی طرح اگرذکرختم ہونے سے پہلے جان بوجھ کر سر سجدے سے اٹھالے تواس کی نمازباطل ہے۔

مسئلہ(۱۰۳۸) اگراس سے پیشترکہ پیشانی زمین پرلگے کوئی شخص سہواً ذکرسجدہ پڑھے اوراس سے پیشترکہ سرسجدے سے اٹھائے اسے پتا چل جائے کہ اس نے غلطی کی ہے توضروری ہے کہ ساکن ہوجائے اور دوبارہ ذکر پڑھے لیکن اگر پیشانی زمین پر پہنچی ہو اور سہو اً سکون حاصل کرنے سے پہلے ذکر کرے تو ذکر کی تکرار لازم نہیں ہے۔

مسئلہ(۱۰۳۹) اگرکسی شخص کو سرسجدے سے اٹھالینے کے بعدپتا چلے کہ اس نے ذکر سجدہ ختم ہونے سے پہلے سراٹھالیاہے تواس کی نمازصحیح ہے۔

مسئلہ(۱۰۴۰) جس وقت کوئی شخص ذکرسجدہ پڑھ رہاہواگروہ جان بوجھ کر سات اعضائے سجدہ میں سے کسی ایک کوزمین سے اٹھائے تو اگر یہ اٹھانا وہ آرام جو سجدہ میں معتبر ہے اس کے خلاف ہوتو اس کی نمازباطل ہوجائے گی اور( احتیاط واجب کی بناء پر) یہی حکم ہے جب نمازی ذکر میں مشغول نہ ہو۔

مسئلہ(۱۰۴۱) اگرذکرسجدہ ختم ہونے سے پہلے کوئی شخص سہواً پیشانی زمین پرسے اٹھالے تواسے دوبارہ زمین پرنہیں رکھ سکتااورضروری ہے کہ اسے ایک سجدہ شمارکرے لیکن اگردوسرے اعضاسہواً زمین پرسے اٹھالے توضروری ہے کہ انہیں دوبارہ زمین پر رکھے اورذکرپڑھے۔

مسئلہ(۱۰۴۲) پہلے سجدے کاذکرختم ہونے کے بعدضروری ہے کہ بیٹھ جائے حتیٰ کہ اس کابدن سکون حاصل کرلے اورپھردوبارہ سجدے میں جائے۔

مسئلہ(۱۰۴۳) نمازپڑھنے والے کی پیشانی رکھنے کی جگہ گھٹنوں اورپاؤں کی انگلیوں کے سروں کی جگہ سے چارملی ہوئی انگلیوں سے زیادہ بلندیاپست نہیں ہونی چاہئے۔ بلکہ احتیاط واجب یہ ہے اس کی پیشانی کی جگہ اس کے کھڑے ہونے کی جگہ سے چارملی ہوئی انگلیوں سے زیادہ نیچی یااونچی بھی نہ ہو۔

مسئلہ(۱۰۴۴) اگرکسی ایسی ڈھلوان جگہ میں ( اگرچہ اس کاجھکاؤ صحیح طورپرمعلوم نہ ہو ) نماز پڑھنے والے کی پیشانی کی جگہ اس کے گھٹنوں اورپاؤں کی انگلیوں کے سروں کی جگہ سے چارملی ہوئی انگلیوں سے زیادہ بلندیاپست ہوتواس کی نمازمیں اشکال ہے۔

مسئلہ(۱۰۴۵) اگرنمازپڑھنے والااپنی پیشانی کوغلطی سے ایک ایسی چیزپررکھ دے جو گھٹنوں اوراس کے پاؤں کی انگلیوں کے سروں کی جگہ سے چارملی ہوئی انگلیوں سے زیادہ بلندہواوران کی بلندی اس قدرہو کہ یہ نہ کہہ سکیں کہ سجدے کی حالت میں ہے تو ضروری ہے کہ سرکواٹھائے اورایسی چیز پرجس کی بلندی چارملی ہوئی انگلیوں سے زیادہ نہ ہو رکھے اوراگراس کی بلندی اس قدرہوکہ کہہ سکیں کہ سجدے کی حالت میں ہے تو پھر واجب ذکرپڑھنے کے بعدمتوجہ ہوتوسرسجدے سے اٹھاکرنماز کوتمام کرسکتاہے اوراگر واجب ذکرپڑھنے سے پہلے متوجہ ہوتوضروری ہے کہ پیشانی کواس چیز سے ہٹاکر اس چیز پر رکھے کہ جس کی بلندی چارملی ہوئی انگلیوں کے برابریااس سے کم ہواورواجب ذکر پڑھے اوراگرپیشانی کو ہٹاناممکن نہ ہوتوواجب ذکر کواسی حالت میں پڑھے اورنماز کو تمام کرے اورضروری نہیں کہ نمازکودوبارہ پڑھے۔

مسئلہ(۱۰۴۶) ضروری ہے کہ نمازپڑھنے والے کی پیشانی اوراس چیزکے درمیان جس پرسجدہ کرناصحیح ہے کوئی دوسری چیزکا فاصلہ نہ ہوپس اگرسجدہ گاہ اتنی میلی ہوکہ پیشانی سجدہ گاہ کو نہ چھوئے تواس کاسجدہ باطل ہے۔ لیکن اگرسجدہ گاہ کارنگ تبدیل ہوگیاہوتوکوئی حرج نہیں ۔

مسئلہ(۱۰۴۷) ضروری ہے کہ سجدے میں دونوں ہتھیلیاں زمین پررکھے( اور احتیاط واجب کی بناء پر) ممکنہ صورت میں پوری ہتھیلی کو رکھے، لیکن مجبوری کی حالت میں ہاتھوں کی پشت بھی زمین پررکھے توکوئی حرج نہیں اوراگرہاتھوں کی پشت بھی زمین پررکھناممکن نہ ہوتو(احتیاط واجب کی بناپر) ضروری ہے کہ ہاتھوں کی کلائیاں زمین پررکھے اوراگرانہیں بھی نہ رکھ سکے توپھرکہنی تک جوحصہ بھی ممکن ہوزمین پررکھے اور اگریہ بھی ممکن نہ ہوتوپھربازوکارکھنابھی کافی ہے۔

مسئلہ(۱۰۴۸) (نماز پڑھنے والے کے لئے) ضروری ہے کہ سجدے میں پاؤں کے دونوں انگوٹھے زمین پررکھے لیکن ضروری نہیں کہ دونوں انگوٹھوں کے سرے زمین پر رکھے بلکہ ان کا ظاہری یاباطنی حصہ بھی رکھے توکافی ہے اوراگربڑی انگلی نہ رکھے اور پاؤں کی دوسری انگلیاں یا پاؤں کااوپروالاحصہ زمین پر رکھے یاناخن لمبے ہونے کی بناپرانگوٹھوں کے سرے زمین پر نہ لگیں تونمازباطل ہے اورجس شخص نے کوتاہی اورمسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے اپنی نمازیں اس طرح پڑھی ہوں ضروری ہے کہ انہیں دوبارہ پڑھے۔

مسئلہ(۱۰۴۹) جس شخص کے پاؤں کے انگوٹھوں کے سروں سے کچھ حصہ کٹاہواہو ضروری ہے کہ جتناباقی ہووہ زمین پررکھے اوراگرانگوٹھوں کاکچھ حصہ بھی نہ بچاہواور اگر بچابھی ہوتوبہت چھوٹاہوتو(احتیاط واجب کی بناپر)ضروری ہے کہ باقی انگلیوں کو زمین پر رکھے اور اگراس کی کوئی بھی انگلی نہ ہوتوپاؤں کاجتناحصہ بھی باقی بچاہواسے زمین پررکھے۔

مسئلہ(۱۰۵۰) اگرکوئی شخص معمول کے خلاف سجدہ کرے مثلاً سینے اورپیٹ کو زمین پر ٹکائے یاپاؤں کوکچھ پھیلائے چنانچہ اگرکہاجائے کہ اس نے سجدہ کیاہے تواس کی نماز صحیح ہے۔لیکن اگرکہاجائے کہ وہ لیٹ گیا ہے اوراس پرسجدہ کرناصادق نہ آتا ہو تواس کی نمازباطل ہے۔

مسئلہ(۱۰۵۱) سجدہ گاہ یادوسری چیزجس پرنمازپڑھنے والاسجدے کرے ضروری ہے کہ پاک ہو لیکن اگرمثال کے طورپرسجدہ گاہ کونجس فرش پررکھ دے یاسجدہ گاہ کی ایک طرف نجس ہواوروہ پیشانی پاک طرف رکھے توکوئی حرج نہیں ہے اور اگر سجدہ گاہ کاکچھ حصہ نجس اور کچھ حصہ پاک ہو اور پیشانی کو نجس نہ کرے تو اشکال نہیں ہے۔

مسئلہ(۱۰۵۲) اگرنماز پڑھنے والے کی پیشانی پرپھوڑایازخم یااس طرح کی کوئی چیز ہوجس کی بناپروہ پیشانی اگر بغیر دباؤ کے زمین پرنہ رکھ سکتاہومثلاًاگروہ پھوڑاپوری پیشانی کونہ گھیرے ہوئے ہوتوضروری ہے کہ پیشانی کے سالم حصے سے سجدہ کرے اور اگرپیشانی کی سالم جگہ پرسجدہ کرنااس بات پرموقوف ہوکہ زمین کوکھودے اور پھوڑے کو گڑھے میں اورسالم جگہ کی اتنی مقدار زمین پررکھے کہ سجدے کے لئے کافی ہوتوضروری ہے کہ اس کام کو انجام دے(پیشانی سے مراد وہ حصہ ہے جس کا تذکرہ سجدہ کی پہلی بحث میں آچکا ہے)۔

مسئلہ(۱۰۵۳) اگر پھوڑا یا زخم تمام پیشانی پر (جیسا کہ کہا گیا ہے) پھیلا ہوا ہوتو (احتیاط واجب کی بناء پر) ضروری ہےکہ پیشانی کےدونوں طرف کو یا ان میں سے کسی ایک طرف کو جس طرح سے بھی زمین پر رکھ سکتا ہے، رکھے اور اگر یہ ممکن نہ ہوتو چہرے کے کچھ حصے سے سجدہ کرے اور احتیاط لازم یہ ہےکہ اگرٹھوڑی سےسجدہ کرسکتا ہے تو ٹھوڑی سے سجدہ کرے اور اگر پیشانی کے دوطرف میں سے کسی ایک طرف سے بھی سجدہ نہیں کرسکتا اور اگرچہرہ سے کسی بھی طرح سجدہ کرنا ممکن نہ ہوتو سجدہ کےلئے اشارہ کرنا ضروری ہے۔

مسئلہ(۱۰۵۴) جوشخص بیٹھ سکتاہولیکن پیشانی زمین پرنہ رکھ سکتاہوضروری ہے کہ جس قدر بھی جھک سکتاہوجھکے اورسجدہ گاہ یاکسی دوسری چیز کوجس پرسجدہ صحیح ہوکسی بلندچیز پر رکھے اوراپنی پیشانی اس پر اس طرح رکھے کہ لوگ کہیں کہ اس نے سجدہ کیاہے لیکن ضروری ہے کہ ہتھیلیوں اورگھٹنوں اور پاؤں کے انگوٹھوں کواگر ممکن ہوتومعمول کے مطابق زمین پر رکھے۔

مسئلہ(۱۰۵۵) مذکور فرض میں اگرکوئی ایسی بلندچیزنہ ہوجس پرنمازپڑھنے والاسجدہ گاہ یاکوئی دوسری چیزجس پرسجدہ کرناصحیح ہورکھ سکے اورکوئی شخص بھی نہ ہوجومثلاًسجدہ گاہ کواٹھائے اور پکڑے تاکہ وہ شخص اس پرسجدہ کرے تواحتیاط یہ ہے کہ سجدہ گاہ یادوسری چیزکو جس پر سجدہ کررہاہوہاتھ سے اٹھائے اوراس پرسجدہ کرے۔

مسئلہ(۱۰۵۶) اگرکوئی شخص بالکل ہی سجدہ نہ کرسکتاہو اور جس مقدار میں جھک سکتا ہے اس مقدار میں سجدہ نہ کیا جاتا ہوتوضروری ہے کہ سجدے کے لئے سرسے اشارہ کرے اوراگرایسانہ کرسکے توضروری ہے کہ آنکھوں سے اشارہ کرے اور اگرآنکھوں سے بھی اشارہ نہ کرسکتاہوتو(احتیاط لازم کی بناپر) ضروری ہے کہ ہاتھ وغیرہ سے سجدے کے لئے اشارہ کرے اوردل میں بھی سجدے کی نیت کرے اور واجب ذکر ادا کرے۔

مسئلہ(۱۰۵۷) اگرکسی شخص کی پیشانی بے اختیار سجدے کی جگہ سے اٹھ جائے تو ضروری ہے کہ حتی الامکان اسے دوبارہ سجدے کی جگہ پرنہ جانے دے، اور یہ ایک سجدہ شمار کیا جائے گا( قطع نظر اس کے کہ اس نے سجدے کاذکرپڑھاہو یانہ پڑھاہو)یہ ایک سجدہ شمارہوگا اوراگرسر کونہ روک سکے اور وہ بے اختیار دوبارہ سجدے کی جگہ پہنچ جائے تووہی ایک سجدہ شمارہوگا۔لیکن اگرواجب ذکر ادانہ کیاہوتواحتیاط واجب کی بنا پراسے کہے لیکن ضروری ہے کہ اسے مطلق قربت کی نیت سے ادا کرے اور جزئیت کا قصد نہ کرے ۔

مسئلہ(۱۰۵۸) جہاں انسان کے لئے تقیہ کرناضروری ہے وہاں وہ قالین یااس طرح کی چیزپرسجدہ کرسکتا ہے اوریہ ضروری نہیں کہ نمازکے لئے کسی دوسری جگہ جائے یانماز کو مؤخر کرے تاکہ اسی جگہ پراس سبب تقیہ کے ختم ہونے کے بعدنمازاداکرے۔ لیکن اگراسی جگہ چٹائی یاکسی دوسری چیزجس پرسجدہ کرناصحیح ہواگروہ اس طرح سجدہ کرسکتا ہو کہ تقیہ کی مخالفت نہ ہوتی ہوتوضروری ہے کہ پھروہ قالین یااس سے ملتی جلتی چیزپر سجدہ نہ کرے۔

مسئلہ(۱۰۵۹) اگرکوئی شخص بھرے گدے پر یااسی قسم کی کسی دوسری چیزپر سجدہ کرے جس پرجسم سکون کی حالت میں نہ رہے تو اس کی نماز باطل ہے۔

مسئلہ(۱۰۶۰) اگرانسان کیچڑوالی زمین پرنمازپڑھنے پرمجبورہواوربدن اور لباس کا آلودہ ہوجانااس کے لئے مشقت کاموجب نہ ہوتوضروری ہے کہ سجدہ اورتشہدمعمول کے مطابق بجالائے اوراگرایساکرنامشقت کاموجب ہوتوقیام کی حالت میں سجدے کے لئے سرسے اشارہ کرے اور تشہدکھڑے ہوکرپڑھے تواس کی نمازصحیح ہوگی۔

مسئلہ(۱۰۶۱) پہلی رکعت میں اور تیسری رکعت میں جس میں تشہد نہیں ہے مثلاً نماز ظہر، نماز عصراورنمازعشاکی تیسری رکعت میں احتیاط واجب یہ ہے کہ انسان دوسرے سجدے کے بعد تھوڑی دیر کے لئے سکون سے بیٹھے اورپھرکھڑاہو۔

وہ چیزیں جن پرسجدہ کرناصحیح ہے

مسئلہ(۱۰۶۲) سجدہ زمین پراوران چیزوں پرکرناضروری ہے جوکھائی اورپہنی نہ جاتی ہوں اور زمین سے اگتی ہوں مثلاً لکڑی اوردرختوں کے پتے پرسجدہ کرے۔ کھانے اور پہننے کی چیزوں مثلاً گندم،جو اورکپاس پراوران چیزوں پرجوزمین کے اجزاء میں شمار نہیں ہوتیں مثلاً سونے، چاندی اوراسی طرح کی دوسری چیزوں پرسجدہ کرناصحیح نہیں ہے لیکن تارکول اور بیروزا(ایک قسم کاگندا تارکول)کومجبوری کی حالت میں دوسری چیزوں کے مقابلے میں کہ جن پر سجدہ کرناصحیح نہیں سجدے کے لئے اولویت دے۔

مسئلہ(۱۰۶۳) انگورکے پتوں پرسجدہ کرناجب کہ وہ کچے ہوں اورانہیں معمولاً کھایاجاتا ہوجائزنہیں ۔اس صورت کے علاوہ ان پرسجدہ کرنے میں ظاہراً کوئی حرج نہیں ۔

مسئلہ(۱۰۶۴) جوچیزیں زمین سے اگتی ہیں اورحیوانات کی خوراک ہیں مثلاً گھاس اور بھوساان پرسجدہ کرناصحیح ہے۔

مسئلہ(۱۰۶۵) جن پھولوں کوکھایانہیں جاتاان پرسجدہ صحیح ہے بلکہ ان کھانے کی دواؤں پربھی سجدہ صحیح ہے جوزمین سے اگتی ہیں اورانہیں کوٹ کریاجوش دےکران کاپانی پیتے ہیں مثلاً گل بنفشہ اورگل گاؤ زبان، پربھی سجدہ صحیح ہے۔

مسئلہ(۱۰۶۶) ایسی گھاس جوبعض شہروں میں کھائی جاتی ہواوربعض شہروں میں کھائی تونہ جاتی ہولیکن وہاں اسے کھانے والی اشیاء میں شمارکیاجاتاہواس پرسجدہ صحیح نہیں اور کچے پھلوں پربھی( احتیاط کی بناء پر) سجدہ کرناصحیح نہیں ہے۔

مسئلہ(۱۰۶۷) چونے اورجپسم کے پتھرپرسجدہ کرناصحیح ہےبلکہ پختہ جپسم اورچونے اوراینٹ اورمٹی کے پکے ہوئے برتنوں اور ان سے ملتی جلتی چیزوں پرسجدہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

مسئلہ(۱۰۶۸) اگر لکھنے کےکاغذکوایسی چیزسے بنایاجائے کہ جس پرسجدہ صحیح ہے مثلاً لکڑی اور بھوسے سے تو اس پرسجدہ کیاجاسکتاہے اوراسی طرح اگرروئی یاکتان سے بنایاگیاہو تو بھی اس پرسجدہ کرناصحیح ہے لیکن اگرریشم یاابریشم اوراسی طرح کی کسی چیزسے بنایاگیاہو تو اس پرسجدہ صحیح نہیں ہے لیکن ٹیشو پیپر پر صرف اسی صورت میں سجدہ کرسکتے ہیں جب معلوم ہو کہ یہ ایسی چیز سے بنایا گیاہے جس پر سجدہ صحیح ہے۔

مسئلہ(۱۰۶۹) سجدے کے لئے خاک شفاسب چیزوں سے بہترہے اس کے بعد مٹی، مٹی کے بعدپتھراورپتھرکے بعدگھاس ہے۔

مسئلہ(۱۰۷۰) اگرکسی کے پاس ایسی چیزنہ ہوجس پرسجدہ کرناصحیح ہے یااگرہوتو سردی یازیادہ گرمی وغیرہ کی وجہ سے اس پرسجدہ نہ کرسکتاہوتوایسی صورت میں تارکول اور گندا بیروزاکوسجدے کے لئے دوسری چیزوں پراولویت حاصل ہے لیکن اگران پرسجدہ کرنا ممکن نہ ہوتوضروری ہے کہ اپنے لباس یا ہراس چیز پرجس پر حالت اختیار میں سجدہ جائزنہیں سجدہ کرے لیکن احتیاط مستحب یہ ہے کہ جب تک کپڑے پرسجدہ ممکن ہوکسی دوسری چیزپرسجدہ نہ کرے۔

مسئلہ(۱۰۷۱) کیچڑ پراورایسی نرم مٹی پرجس پرپیشانی سکون سے نہ ٹک سکے سجدہ کرنا باطل ہے۔

مسئلہ(۱۰۷۲) اگرپہلے سجدے میں سجدہ گاہ پیشانی سے چپک جائے تودوسرے سجدے کے لئے اسے چھڑالیناچاہئے۔

مسئلہ(۱۰۷۳) جس چیزپرسجدہ کرناہواگرنماز پڑھنے کے دوران وہ گم ہوجائے اور نماز پڑھنے والے کے پاس کوئی ایسی چیزنہ ہوجس پرسجدہ کرناصحیح ہوتوجوترتیب مسئلہ (۱۰۷۰) میں بتائی گئی ہے اس پرعمل کرے خواہ وقت تنگ ہویاوسیع،کہ نماز کوتوڑکراس کااعادہ کرے۔

مسئلہ(۱۰۷۴) جب کسی شخص کوسجدے کی حالت میں پتا چلے کہ اس نے اپنی پشانی کسی ایسی چیزپررکھی ہے جس پرسجدہ کرناباطل ہے چنانچہ واجب ذکراداکرنے کے بعد متوجہ ہوتوسرسجدے سے اٹھائے اوراپنی نمازجاری رکھے اوراگرواجب ذکراداکرنے سے پہلے متوجہ ہوتوضروری ہے کہ اپنی پیشانی کواس چیزپرکہ جس پرسجدہ کرناصحیح ہے لائے اورواجب ذکر پڑھے لیکن اگرپیشانی لاناممکن نہ ہوتواسی حال میں واجب ذکر اداکر سکتا ہے اوراس کی نمازہردوصورت میں صحیح ہے۔

مسئلہ(۱۰۷۵) اگرکسی شخص کوسجدے کے بعدپتا چلے کہ اس نے اپنی پیشانی کسی ایسی چیزپررکھی ہے جس پرسجدہ کرناباطل ہے توکوئی حرج نہیں ۔

مسئلہ(۱۰۷۶) اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی دوسرے کوسجدہ کرناحرام ہے۔ عوام میں سے بعض لوگ جوائمہ علیہم السلام کے مزارات مقدسہ کے سامنے پیشانی زمین پررکھتے ہیں اگروہ اللہ تعالیٰ کاشکراداکرنے کی نیت سے ایساکریں توکوئی حرج نہیں ورنہ ایساکرنامشکل ہے۔

سجدہ کے مستحبات اورمکروہات

مسئلہ(۱۰۷۷) چندچیزیں سجدے میں مستحب ہیں :

۱
) جوشخص کھڑےہوکرنمازپڑھ رہاہووہ رکوع سے سراٹھانے کے بعدمکمل طورپر کھڑے ہوکراوربیٹھ کرنماز پڑھنے والارکوع کے بعدپوری طرح بیٹھ کرسجدہ میں جانے کے لئے تکبیرکہے۔

۲
) سجدے میں جاتے وقت مردپہلے اپنی ہتھیلیوں اورعورت اپنے گھٹنوں کوزمین پر رکھے۔

۳
) نمازی ناک کوسجدہ گاہ یاکسی ایسی چیزپررکھے جس پرسجدہ کرنادرست ہو۔

۴
) نمازی سجدے کی حالت میں ہاتھ کی انگلیوں کوملاکرکانوں کے پاس اس طرح رکھے کہ ان کے سرے روبہ قبلہ ہوں ۔

۵
) سجدے میں دعاکرے، اللہ تعالیٰ سے حاجت طلب کرے اور یہ دعا پڑھے:

’’یَاخَیْرَالْمَسْئُوْلِیْنَ وَیَاخَیْرَالْمُعْطِیْنَ، ارْزُقْنِیْ وَارْزُقْ عَیَالِیْ مِنْ فَضْلِکَ فَاِنَّکَ ذُوالْفَضْلِ الْعَظِیْمِ‘‘۔

یعنی: اے ان سب میں سے بہترجن سے کہ مانگاجاتاہے اوراے ان سب سے برتر جوعطا کرتے ہیں ۔ مجھے اورمیرے اہل وعیال کواپنے فضل وکرم سے رزق عطا فرما کیونکہ توہی فضل عظیم کامالک ہے۔

۶
) سجدے کے بعدبائیں ران پربیٹھ جائے اوردائیں پاؤں کااوپروالاحصہ(یعنی پشت) بائیں پاؤں کے تلوے پررکھے۔

۷
) ہرسجدے کے بعدجب بیٹھ جائے اوربدن کوسکون حاصل ہوجائے توتکبیر کہے۔

۸
) پہلے سجدے کے بعدجب بدن کوسکون حاصل ہوجائے تو ’’اَسْتَغْفِرُاللہَ رَبِّیْ وَاَتُوْبُ اِلَیْہِ‘‘ کہے۔

۹
) سجدہ زیادہ دیرتک انجام دے اوربیٹھنے کے وقت ہاتھوں کورانوں پررکھے۔

۱۰
) دوسرے سجدے میں جانے کے لئے بدن کے سکون کی حالت میں ’’ اللہ اکبر ‘‘ کہے۔

۱۱
) سجدے میں درودپڑھے۔

۱۲
) سجدے سے قیام کے لئے اٹھتے وقت پہلے گھٹنوں کواوران کے بعدہاتھوں کو زمین سے اٹھائے۔

۱۳
) مردکہنیوں اورپیٹ کوزمین سے نہ لگائیں نیزبازوؤں کوپہلوسے جدا رکھیں اور عورتیں کہنیاں اورپیٹ زمین پررکھیں اوربدن کے اعضاء کوایک دوسرے سے ملالیں ۔

ان کے علاوہ دوسرے مستحبات بھی ہیں جن کاذکرمفصل کتابوں میں موجود ہے۔

مسئلہ(۱۰۷۸) سجدے میں قرآن مجیدپڑھنامکروہ ہے اورسجدے کی جگہ کوگردو غبار جھاڑنے کے لئے پھونک مارنابھی مکروہ ہے بلکہ اگرپھونک مارنے کی وجہ سے دو حرف بھی منہ سے عمداً نکل جائیں تو(احتیاط واجب کی بناپر)نمازباطل ہے اوران کے علاوہ اورمکروہات کا ذکر بھی مفصل کتابوں میں آیاہے۔

قرآن مجیدکے واجب سجدے

مسئلہ(۱۰۷۹) قرآن مجیدکی چارسورتوں یعنی سورۂ ’’ سجدہ‘‘،’’ فصلت‘‘، ’’النجم‘‘، ’’العلق‘‘ میں سے ہرایک میں ایک آیۂ سجدہ ہے جسے اگرانسان پڑھے یاسنے توآیت ختم ہونے کے بعدفوراً سجدہ کرناضروری ہے اوراگرسجدہ کرنابھول جائے توجب بھی اسے یاد آئے سجدہ کرے اور آیۂ سجدہ غیر اختیاری حالت میں سنے توسجدہ واجب نہیں ہے اگرچہ بہتریہ ہے کہ سجدہ کیاجائے۔

مسئلہ(۱۰۸۰) اگرانسان سجدے کی آیت سننے کے وقت خودبھی وہ آیت پڑھے تو ضروری ہے کہ دو سجدے کرے۔

مسئلہ(۱۰۸۱) اگرنمازکے علاوہ سجدے کی حالت میں کوئی شخص آیۂ سجدہ پڑھے یا سنے توضروری ہے کہ سجدے سے سراٹھائے اوردوبارہ سجدہ کرے۔

مسئلہ(۱۰۸۲) اگرانسان سوئے ہوئے شخص یادیوانے یابچے سے جوقرآن کو قرآن سمجھ کرنہ پڑھ رہاہو سجدے کی آیت سنے یااسےکان لگا کر سنے توسجدہ واجب ہے۔ لیکن اگر گراموفون یاٹیپ ریکارڈرسے سنے توسجدہ واجب نہیں اور سجدے کی آیت ریڈیوپرٹیپ ریکارڈرکے ذریعے نشرکی جائے تب بھی یہی حکم ہے۔ لیکن اگرکوئی شخص ریڈیواسٹیشن سے (براہ راست نشریات میں ) سجدے کی آیت پڑھے اور انسان اسے ریڈیوپرسنے توسجدہ واجب ہے۔

مسئلہ(۱۰۸۳) قرآن کاواجب سجدہ کرنے کے لئے (احتیاط واجب کی بناپر)ضروری ہے کہ انسان کی جگہ غصبی نہ ہواور احتیاط مستحب کی بناپراس کے پیشانی رکھنے کی جگہ اس کے گھٹنوں اورپاؤں کی انگلیوں کے سروں کی جگہ سے چارملی ہوئی انگلیوں سے زیادہ اونچی نہ ہولیکن یہ ضروری نہیں کہ اس نے وضویاغسل کیاہوا ہویاقبلہ رخ ہویااپنی شرم گاہ کو چھپائے یااس کابدن اورپیشانی رکھنے کی جگہ پاک ہو۔اس کے علاوہ جوشرائط نماز پڑھنے والے کے لباس کے لئے ضروری ہیں وہ شرائط قرآن مجید کاواجب سجدہ اداکرنے والے کے لباس کے لئے نہیں ہیں ۔

مسئلہ(۱۰۸۴) احتیاط واجب یہ ہے کہ قرآن مجیدکے واجب سجدے میں انسان اپنی پیشانی سجدہ گاہ یاکسی ایسی چیزپررکھے جس پرسجدہ کرناصحیح ہواور(احتیاط مستحب کی بنا پر) بدن کے دوسرے اعضاء زمین پراس طرح رکھے جس طرح نماز کے سلسلے میں بتایاگیا ہے۔

مسئلہ(۱۰۸۵) جب انسان قرآن مجیدکاواجب سجدہ کرنے کے ارادے سے پیشانی زمین پررکھ دے تو خواہ وہ کوئی ذکرنہ بھی پڑھے تب بھی کافی ہے اورذکرکاپڑھنا مستحب ہے اوربہترہے کہ یہ پڑھے :

’’لَااِلٰہَ اِلَّا اللہُ حَقًّاحَقًّا،لَااِلٰہَ اِلَّااللہُ اِیْمَانًاوَّ تَصْدِیْقًا، لَا اِلٰہَ اِلَّااللہُ عُبُوْدِیَّۃً وَّرِقًّا،سَجَدْتُّ لَکَ یَارَبِّ تَعَبُّدًاوَّرِقًّا، لَا مُسْتَنْکِفًا وَّلَا مُسْتَکْبِراً، بَلْ اَنَاعَبْدٌذَلِیْلٌ ضَعِیْفٌ خَائِفٌ مُّسْتَجِیْر‘‘۔

تشہد

مسئلہ(۱۰۸۶) تمام واجب اورمستحب نمازوں کی دوسری رکعت میں اورنماز مغرب کی تیسری رکعت میں اورظہر،عصراورعشاکی چوتھی رکعت میں انسان کے لئے ضروری ہے کہ دوسرے سجدے کے بعدبیٹھ جائے اور بدن کے سکون کی حالت میں تشہد پڑھے یعنی کہے:

’’اَشْھَدُاَنْ لَّااِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ وَاَشْھَدُاَنَّ مُحَمَّدًاعَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَّاٰلِ مُحَمَّدٍ‘‘ اوراگرکہے: ’’اَشْھَدُ اَنْ لَّااِلٰہَ اِلَّااللہُ وَاَشْھَدُاَنَّ مُحَمَّدًاصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ‘‘

تو کافی ہے اورنماز وترمیں بھی تشہدپڑھناضروری ہے۔

مسئلہ(۱۰۸۷) ضروری ہے کہ تشہدکے جملے صحیح عربی میں اورمعمول کے مطابق مسلسل کہے جائیں ۔

مسئلہ(۱۰۸۸) اگرکوئی شخص تشہد پڑھنابھول جائے اور کھڑاہوجائے اوررکوع سے پہلے اسے یادآئے کہ اس نے تشہدنہیں پڑھاتوضروری ہے کہ بیٹھ جائے اورتشہدپڑھے اور پھردوبارہ کھڑاہواوراس رکعت میں جوکچھ پڑھناضروری ہے پڑھے اورنماز ختم کرے اور (احتیاط مستحب کی بناپر)نماز کے بعدبے جاقیام کے لئے دو سجدئہ سہوبجالائے اور اگر اسے رکوع میں یااس کے بعدیاد آئے توضروری ہے کہ نماز تمام کرے اورنماز کے سلام کے بعد(احتیاط مستحب کی بنا)پرتشہدکی قضاکرے اورضروری ہے کہ بھولے ہوئے تشہد کے لئے دوسجدۂ سہوبجالائے۔

مسئلہ(۱۰۸۹) مستحب ہے کہ تشہدکی حالت میں انسان بائیں ران پربیٹھے اور دائیں پاؤں کی پشت کوبائیں پاؤں کے تلوے پررکھے اورتشہدسے پہلے کہے: ’’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ‘‘ یاکہے: ’’بِسْمِ اللہِ وَبِاللّٰہِ وَالْحَمْدُلِلّٰہِ وَخَیْرُالْاَسْمَاءِ لِلّٰہِ‘‘ اوریہ بھی مستحب ہے کہ ہاتھوں کورانوں پر رکھے اور انگلیاں ایک دوسرے کے ساتھ ملائے اور اپنے دامن پر نگاہ ڈالے اور تشہد میں صلوات کے بعدکہے : ’’وَتَقَبَّلْ شَفَاعَتَہٗ وَارْفَعْ دَرَجَتَہٗ‘‘۔

مسئلہ(۱۰۹۰) مستحب ہے کہ عورتیں تشہدپڑھتے وقت اپنی رانیں ملاکررکھیں ۔

نمازکاسلام

مسئلہ(۱۰۹۱) نماز کی آخری رکعت کے تشہدکے بعدجب نمازی بیٹھاہواور اس کا بدن سکون کی حالت میں ہوتومستحب ہے کہ وہ کہے: ’’اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ اَیُّھَاالنَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہٗ‘‘ اوراس کے بعد ضروری ہے کہ کہے: ’’اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ‘‘ (اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ’’اَلسَّلاَمُ عَلَیْکُمْ‘‘ کے جملے کے ساتھ’’وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہٗ‘‘ کے جملے کااضافہ کرے)یایہ کہے: ’’اَلسَّلاَمُ عَلَیْنَاوَعَلیٰ عِبَادِاللہِ الصَّالِحِیْنَ‘‘ لیکن اگراس سلام کوپڑھے تواحتیاط واجب یہ ہے کہ اس کے بعد ’’اَلسَّلاَمُ عَلیْکُمْ‘‘ بھی کہے۔

مسئلہ(۱۰۹۲) اگرکوئی شخص نمازکاسلام کہنابھول جائے اوراسے ایسے وقت یاد آئے جب ابھی نمازکی شکل ختم نہ ہوئی ہواوراس نے کوئی ایساکام بھی نہ کیاہوجسے عمداً اور سہواًکرنے سے نمازباطل ہوجاتی ہومثلاً قبلے کی طرف پیٹھ کرناتوضروری ہے کہ سلام کہے اوراس کی نمازصحیح ہے۔

مسئلہ(۱۰۹۳) اگرکوئی شخص نمازکاسلام کہنابھول جائے اوراسے ایسے وقت یاد آئے جب نماز کی شکل ختم ہوگئی ہویااس نے کوئی ایساکام کیاہوجسے عمداًیاسہواًکرنے سے نمازباطل ہوجاتی ہے مثلاً قبلے کی طرف پیٹھ کرناتواس کی نمازصحیح ہے۔

ترتیب

مسئلہ(۱۰۹۴) اگرکوئی شخص جان بوجھ کرنماز کی ترتیب الٹ دے مثلاً الحمدسے پہلے سورہ پڑھ لے یارکوع سے پہلے سجدے بجالائے تواس کی نمازباطل ہوجاتی ہے۔

مسئلہ(۱۰۹۵) اگرکوئی شخص نمازکاکوئی رکن بھول جائے اوراس کے بعدکارکن بجا لائے مثلاً رکوع کرنے سے پہلے دوسجدے کرے تواس کی نماز(احتیاط واجب کی بناپر)باطل ہے۔

مسئلہ(۱۰۹۶) اگرکوئی شخص نماز کاکوئی رکن بھول جائے اورایسی چیزبجالائے جو اس کے بعدہواوررکن نہ ہومثلاً اس سے پہلے کہ دوسجدے کرے تشہد پڑھ لے توضروری ہے کہ رکن بجالائے اور جوکچھ غلطی سے پہلے پڑھاہواسے دوبارہ پڑھے۔

مسئلہ(۱۰۹۷) اگرکوئی شخص ایک ایسی چیزبھول جائے جورکن ہواوراس کے بعد کا رکن بجالائے مثلاً الحمدبھول جائے اوررکوع میں چلاجائے تواس کی نمازصحیح ہے۔

مسئلہ(۱۰۹۸) اگرکوئی شخص ایک ایسی چیز بھول جائے جورکن نہ ہواوراس چیز کوبجا لائے جواس کے بعدہو اوروہ بھی رکن نہ ہومثلاً الحمدبھول جائے اورسورہ پڑھ لے تو ضروری ہے کہ جوچیزبھول گیاہووہ بجالائے اوراس کے بعدوہ چیزجوغلطی سےپہلے پڑھ لی ہودوبارہ پڑھے۔

مسئلہ(۱۰۹۹) اگرکوئی شخص پہلاسجدہ اس خیال سے بجالائے کہ دوسراسجدہ ہے یا دوسراسجدہ اس خیال سے بجالائے کہ پہلاسجدہ ہے تواس کی نمازصحیح ہے اوراس کاپہلا سجدہ، پہلاسجدہ اوردوسراسجدہ دوسرا سجدہ شمارہوگا۔

موالات

مسئلہ(۱۱۰۰) ضروری ہے کہ انسان نمازموالات کے ساتھ پڑھے یعنی نماز کے افعال مثلاًرکوع، سجوداورتشہدتواتراورتسلسل کے ساتھ بجالائے اور جوچیزیں بھی نماز میں پڑھے معمول کے مطابق پے درپے پڑھے اوراگران کے درمیان اتنافاصلہ ڈالے کہ لوگ یہ نہ کہیں کہ نمازپڑھ رہاہے تواس کی نمازباطل ہے۔

مسئلہ(۱۱۰۱) اگرکوئی شخص نمازمیں سہواًحروف یاجملوں کے درمیان فاصلہ دے اور فاصلہ اتنانہ ہوکہ نماز کی صورت برقرارنہ رہے تواگروہ ابھی بعدوالے رکن میں مشغول نہ ہواہوتوضروری ہے کہ وہ حروف یاجملے معمول کے مطابق پڑھے اوراگربعد کی کوئی چیز پڑھی جاچکی ہوتوضروری ہے کہ اسے دہرائے اوراگربعدکے رکن میں مشغول ہوگیاہو تو اس کی نمازصحیح ہے۔

مسئلہ(۱۱۰۲) رکوع اورسجودکوطول دینااوربڑی سورتیں پڑھناموالات کونہیں توڑتا۔

قنوت

مسئلہ(۱۱۰۳) تمام واجب اورمستحب نمازوں میں دوسری رکعت کے رکوع سے پہلے قنوت پڑھنامستحب ہے لیکن نمازشفع میں ضروری ہے کہ اسے رجاء ً پڑھے اورنماز وتر میں بھی باوجودیکہ ایک رکعت کی ہوتی ہے رکوع سے پہلے قنوت پڑھنامستحب ہے اور نماز جمعہ کی ہررکعت میں ایک قنوت،نمازآیات میں پانچ قنوت،نمازعیدفطروقربان کی دونوں رکعتوں میں چندقنوت ہیں جن کی تفصیل اپنی جگہ آئے گی۔

مسئلہ(۱۱۰۴) مستحب ہے کہ قنوت پڑھتے وقت ہاتھ چہرے کے سامنے اور ہتھیلیاں ایک دوسری کے ساتھ ملاکر آسمان کی طرف رکھے اورانگوٹھوں کے علاوہ باقی انگلیوں کوآپس میں ملائے اورنگاہ ہتھیلیوں پررکھے۔بلکہ( احتیاط واجب کی بناء پر) ہاتھ اٹھائےبغیر قنوت پڑھنا صحیح نہیں ہے سوائے مجبوری کے۔

مسئلہ(۱۱۰۵) قنوت میں انسان جوذکربھی پڑھے خواہ ایک دفعہ’’سُبْحَانَ اللہِ‘‘ ہی کہے کافی ہے اوربہترہے کہ یہ دعاپڑھے :

’’لَااِلٰہَ اِلَّا اللہُ الْحَلِیْمُ الْکَرِیْمُ،لَااِلٰہَ اِلَّااللہُ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ،سُبْحَانَ اللہِ رَبِّ السَّمٰوَاتِ السَّبْعِ وَرَبِّ الْاَرَضِیْنَ السَّبْعِ وَمَافِیْھِنَّ وَمَابَیْنَھُنَّ وَ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ، وَالْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ‘‘۔

مسئلہ(۱۱۰۶) مستحب ہے کہ انسان قنوت بلندآواز سے پڑھے لیکن اگرایک شخص جماعت کے ساتھ نماز پڑھ رہاہواور امام اس کی آواز سن سکتاہوتواس کابلندآواز سے قنوت پڑھنامستحب نہیں ہے۔

مسئلہ(۱۱۰۷) اگرکوئی شخص عمداًقنوت نہ پڑھے تواس کی قضانہیں ہے اور اگربھول جائے اوراس سے پہلے کہ رکوع کی حدتک جھکے اسے یادآجائے تومستحب ہے کہ کھڑاہو جائے اورقنوت پڑھے اوراگر رکوع میں یادآجائے تومستحب ہے کہ رکوع کے بعد قضا کرے اور اگرسجدے میں یادآئے تومستحب ہے کہ سلام کے بعداس کی قضاکرے۔