وہ صورتیں جن میں فقط روزے کی قضا واجب ہے
مسئلہ(۱۶۵۷) جوصورتیں بیان ہوچکی ہیں ان کے علاوہ ان چندصورتوں میں انسان پرصرف روزے کی قضاواجب ہے اور کفارہ واجب نہیں ہے:
۱:) ایک شخص ماہ رمضان کی رات میں جنب ہوجائے اورجیساکہ مسئلہ ( ۱۶۰۱) میں تفصیل سے بتایاگیاہے صبح کی اذان تک دوسری نیندسے بیدارنہ ہو۔
۲:)روزے کوباطل کرنے والاکام تونہ کیاہولیکن روزے کی نیت نہ کرے یاریا کرے (یعنی لوگوں پرظاہرکرے کہ روزے سے ہوں ) یاروزہ نہ رکھنے کاارادہ کرے۔ اسی طرح اگرایسے کام کاارادہ کرے جوروزہ کوباطل کرتاہوتواس تفصیل کےمطابق جو( ۱۵۴۹) میں بیان کی گئی ہے عمل کرے۔
۳:)ماہ رمضان المبارک میں غسل جنابت کرنابھول جائے اورجنابت کی حالت میں ایک یا کئی دن روزے رکھتارہے۔
۴:)ماہ رمضان المبارک میں یہ تحقیق کئے بغیر کہ صبح ہوئی ہے یانہیں کوئی ایساکام کرے جوروزے کوباطل کرتاہواوربعدمیں پتا چلے کہ صبح ہوچکی تھی ۔
۵:)کوئی کہے کہ صبح نہیں ہوئی اورانسان اس کے کہنے کی بناپرکوئی ایساکام کرے جو روزے کوباطل کرتاہواوربعدمیں پتا چلے کہ صبح ہوگئی تھی۔
۶:)کوئی کہے کہ صبح ہوگئی ہے اورانسان اس کے کہنے پریقین نہ کرے یاسمجھے کہ مذاق کررہاہے اورخود بھی تحقیق نہ کرے اورکوئی ایساکام کرے جو روزے کوباطل کرتاہواور بعد میں معلوم ہوکہ صبح ہوگئی تھی۔
۷:)یہ کہ کسی ایسے دوسرے شخص کے کہنے پر افطار کرے کہ جس کی بات اس کے لئے شرعاً حجت ہے یا اس پر اندھی عقیدت کی بناء پر اعتماد کرتے ہوئے کہ اس کی خبر حجت ہے افطار کرلے اوربعدمیں پتا چلے کہ ابھی مغرب کاوقت نہیں ہواتھا۔
۸:)انسان کویقین یااطمینان ہوکہ مغرب ہوگئی ہے اوروہ روزہ افطارکرلے اور بعد میں پتا چلے کہ مغرب نہیں ہوئی تھی۔لیکن اگرمطلع ابرآلودہواورانسان اس گمان کے تحت روزہ افطارکرلے کہ مغرب ہوگئی ہے اور بعدمیں معلوم ہوکہ مغرب نہیں ہوئی تھی تو احتیاط کی بناپراس صورت میں قضاواجب ہے۔
۹:)انسان پیاس کی وجہ سے کلی کرے یعنی پانی منہ میں گھمائے اوربے اختیار پانی پیٹ میں چلاجائے۔ لیکن اگرانسان بھول جائے کہ روزے سے ہے اورپانی گلے سے اترجائے یاپیاس کے علاوہ کسی دوسری صورت میں کہ جہاں کلی کرنا مستحب ہے جیسے وضو کرتے وقت کلی کرے اورپانی بے اختیار پیٹ میں چلا جائے تواس کی قضانہیں ہے۔
۱۰:)کوئی شخص مجبوری،اضطراریاتقیہ کی حالت میں روزہ افطار کرےاگر مجبوری اور تقیہ کی حالت کھانایا پینا یاجماع ہو اور اسی طرح ان کے علاوہ مقام میں بناء بر احتیاط واجب یہی حکم ہے تواس پر روزے کی قضارکھنالازم ہے لیکن کفارہ واجب نہیں ۔
مسئلہ(۱۶۵۸) اگرروزہ دارپانی کے علاوہ کوئی چیزمنہ میں ڈالے اوروہ بے اختیار پیٹ میں چلی جائے یا ناک میں پانی ڈالے اوروہ بے اختیار حلق کے نیچے اترجائے تواس پرقضاواجب نہیں ہے۔
مسئلہ(۱۶۵۹) روزہ دارکے لئے زیادہ کلیاں کرنامکروہ ہے اوراگرکلی کے بعد لعاب دہن نگلناچاہے توبہترہے کہ پہلے تین دفعہ لعاب کوتھوک دے۔
مسئلہ(۱۶۶۰) اگرکسی شخص کومعلوم ہویااسے احتمال ہوکہ کلی کرنے سے بے اختیار یا بھولے سے پانی اس کے حلق میں چلاجائے گاتوضروری ہے کہ کلی نہ کرے اور اگر جانتا ہو کہ بھول جانے کی وجہ سے پانی اس کے حلق میں چلاجائے گاتب بھی( احتیاط واجب کی بناپر)یہی حکم ہے اگر اس حالت میں کلی کرلیا اور پانی نیچے نہیں گیا تو(احتیاط واجب کی بناء پر) قضا لازم ہے۔
مسئلہ(۱۶۶۱) اگرکسی شخص کوماہ رمضان المبارک میں تحقیق کرنے کے بعد معلوم نہ ہوکہ صبح ہوگئی ہے اوروہ کوئی ایساکام کرے جوروزے کوباطل کرتاہے اوربعدمیں معلوم ہو کہ صبح ہوگئی تھی تواس کے لئے روزے کی قضاکرناضروری نہیں ۔
مسئلہ(۱۶۶۲) اگرکسی شخص کوشک ہوکہ مغرب ہوگئی ہے یانہیں تووہ روزہ افطار نہیں کرسکتالیکن اگراسے شک ہوکہ صبح ہوئی ہے یانہیں تووہ تحقیق کرنے سے پہلے ایساکام کر سکتاہے جوروزے کو باطل کرتاہو۔
قضاروزے کے احکام
مسئلہ(۱۶۶۳) اگرکوئی دیوانہ اچھاہوجائے تواس کے لئے عالم دیوانگی کے روزوں کی قضاواجب نہیں ۔
مسئلہ(۱۶۶۴) اگرکوئی کافرمسلمان ہوجائے تواس پرزمانۂ کفرکے روزوں کی قضا واجب نہیں ہے لیکن اگرایک مسلمان کافرہوجائے اورپھردوبارہ مسلمان ہوجائے تو ضروری ہے ایام کفر کے روزوں کی قضابجالائے۔
مسئلہ(۱۶۶۵) جوروزے انسان کی بے حواسی کی وجہ سے چھوٹ جائیں ضروری ہے کہ ان کی قضابجالائے خواہ جس چیزکی وجہ سے وہ بے حواس ہواہووہ علاج کی غرض سے ہی کیوں نہ ہو۔
مسئلہ(۱۶۶۶) اگرکوئی شخص کسی عذرکی وجہ سے چنددن روزے نہ رکھے اوربعد میں شک کرے کہ اس کاعذرکس وقت زائل ہواتھاتواس کے لئے واجب نہیں کہ جتنی مدت روزے نہ رکھنے کازیادہ احتمال ہو اس کے مطابق قضابجالائے مثلاًاگرکوئی شخص رمضان المبارک سے پہلے سفرکرے اور اسے معلوم نہ ہو کہ ماہ مبارک رمضان کی پانچویں تاریخ کو سفر سے واپس آیاتھایاچھٹی کویامثلاً اس نے ماہ مبارک رمضان کے آخرمیں سفر شروع کیاہواورماہ مبارک رمضان ختم ہونے کے بعدواپس آیاہواوراسے پتا نہ ہوکہ پچیسویں رمضان کوسفرکیاتھایا چھبیسویں کوتودونوں صورتوں میں وہ کمتردنوں یعنی پانچ روزوں کی قضا کرسکتاہے اگرچہ احتیاط مستحب یہ ہے کہ زیادہ دنوں یعنی چھ روزوں کی قضاکرے۔
مسئلہ(۱۶۶۷) اگرکسی شخص پرکئی سال کے ماہ رمضان المبارک کے روزوں کی قضا واجب ہوتوجس سال کے روزوں کی قضاپہلے کرناچاہے کرسکتاہے لیکن اگرآخررمضان المبارک کے روزوں کی قضاکاوقت تنگ ہومثلاًآخری رمضان المبارک کے پانچ روزوں کی قضااس کے ذمے ہواورآئندہ رمضان المبارک کے شروع ہونے میں بھی پانچ ہی دن باقی ہوں توبہتریہ ہے کہ پہلے آخری رمضان المبارک کے روزوں کی قضابجا لائے۔
مسئلہ(۱۶۶۸) اگرکسی شخص پرکئی سال کے ماہ رمضان کے روزوں کی قضاواجب ہو اور وہ روزہ کی نیت کرتے وقت معین نہ کرے کہ کس رمضان المبارک کے روزے کی قضاکررہاہے تواس کاشمارآخری ماہ رمضان کی قضامیں نہیں ہوگا جس سے تاخیر کرنے کا کفارہ ساقط ہوجائے۔
مسئلہ(۱۶۶۹) جس شخص نے رمضان المبارک کاقضاروزہ رکھاہووہ اس روزے کو ظہر سے پہلے توڑسکتاہے لیکن اگرقضاکاوقت تنگ ہوتوبہترہے کہ روزہ نہ توڑے۔
مسئلہ(۱۶۷۰) اگرکسی نے میت کاقضاروزہ رکھاہوتوبہتریہ ہے کہ ظہرکے بعدروزہ نہ توڑے۔
مسئلہ(۱۶۷۱) اگرکوئی بیماری یاحیض یانفاس کی وجہ سے رمضان المبارک کے روزے نہ رکھے اوراس مدت کے گزرنے سے پہلے کہ جس میں وہ ان روزوں کی جو اس نے نہیں رکھے تھے قضاکرسکتاہومرجائے توان روزوں کی قضانہیں ہے۔
مسئلہ(۱۶۷۲) اگرکوئی شخص بیماری کی وجہ سے رمضان المبارک کے روزے نہ رکھے اوراس کی بیماری آئندہ رمضان تک طول کھینچ جائے توجوروزے اس نے نہ رکھے ہوں ان کی قضااس پرواجب نہیں ہے اورضروری ہے کہ ہردن کے لئے ایک مدطعام( تقریباً ۷۵۰ گرام) یعنی گندم یاجویاروٹی وغیرہ فقیرکودے لیکن اگرکسی اور عذرمثلاً سفرکی وجہ سے روزے نہ رکھے اوراس کاعذرآئندہ رمضان المبارک تک باقی رہے توضروری ہے کہ جو روزے نہ رکھے ہوں ان کی قضاکرے اوراحتیاط واجب یہ ہے کہ ہرایک دن کے لئے ایک مدطعام بھی فقیرکودے۔
مسئلہ(۱۶۷۳) اگرکوئی شخص بیماری کی وجہ سے رمضان المبارک کے روزے نہ رکھے اوررمضان المبارک کے بعداس کی بیماری دورہوجائے لیکن کوئی دوسراعذرلاحق ہو جائے جس کی وجہ سے وہ آئندہ رمضان المبارک تک قضاروزے نہ رکھ سکے توضروری ہے کہ جوروزے نہ رکھے ہوں ان کی قضابجالائےاور( احتیاط واجب کی بناء پر) ایک مد طعام بھی فقیر کو دے اور یہی حکم ہے اگررمضان المبارک میں بیماری کے علاوہ کوئی اور عذررکھتاہواوررمضان المبارک کے بعدوہ عذردورہوجائے اورآئندہ سال کے رمضان المبارک تک بیماری کی وجہ سے روزے نہ رکھ سکے ۔
مسئلہ(۱۶۷۴) اگرکوئی شخص کسی عذرکی وجہ سے رمضان المبارک میں روزے نہ رکھے اوررمضان المبارک کے بعداس کاعذردورہوجائے اوروہ آئندہ رمضان المبارک تک عمداً روزوں کی قضانہ بجالائے توضروری ہے کہ روزوں کی قضاکرے اورہردن کے لئے ایک مدطعام بھی فقیرکودے۔
مسئلہ(۱۶۷۵) اگرکوئی شخص قضاروزے رکھنے میں کوتاہی کرے حتیٰ کہ وقت تنگ ہو جائے اوروقت کی تنگی میں اسے کوئی عذرپیش آجائے توضروری ہے کہ روزوں کی قضا کرے اور(احتیاط کی بناپر)ہرایک دن کے لئے ایک مدطعام فقیرکودے اوراگرعذردور ہونے کے بعدمصمم ارادہ رکھتاہوکہ روزوں کی قضابجالائے گالیکن قضابجالانے سے پہلے تنگ وقت میں اسے کوئی عذرپیش آجائے تواس صورت میں بھی یہی حکم ہے۔
مسئلہ(۱۶۷۶) اگرانسان کامرض چندسال طولانی ہو جائے توضروری ہے کہ تندرست ہونے کے بعد آخری رمضان المبارک کے چھٹے ہوئے روزوں کی قضا بجالائے اوراس سے پچھلے برسوں کے ماہ ہائے مبارک رمضان کے ہردن کے لئے ایک مد طعام فقیر کودے۔
مسئلہ(۱۶۷۷) جس شخص کے لئے ہرروزے کے عوض ایک مدطعام فقیرکودینا ضروری ہووہ چنددنوں کاکفارہ ایک ہی فقیرکودے سکتاہے۔
مسئلہ(۱۶۷۸) اگرکوئی شخص ماہ رمضان المبارک کے روزوں کی قضاکرنے میں کئی سال کی تاخیرکردے توضروری ہے کہ قضاکرے اور پہلے سال میں تاخیرکرنے کی بناپرہر روزے کے لئے ایک مد طعام فقیرکودے لیکن باقی کئی سال کی تاخیرکے لئے اس پرکچھ واجب نہیں ہے۔
مسئلہ(۱۶۷۹) اگرکوئی شخص رمضان المبارک کے روزے جان بوجھ کرنہ رکھے تو ضروری ہے کہ ان کی قضابجالائے اورہردن کے لئے دومہینے روزے رکھے یاساٹھ فقیروں کو کھانادے یاایک غلام آزاد کرے اوراگر آئندہ رمضان المبارک تک ان روزوں کی قضانہ کرے تو(احتیاط لازم کی بناپر)ہردن کے لئے ایک مدطعام کفارہ بھی دے۔
مسئلہ(۱۶۸۰) اگرکوئی شخص جان بوجھ کررمضان المبارک کاروزہ نہ رکھے اوردن میں کئی دفعہ جماع یااستمناء کرے توکفارہ مکررنہیں ہوگا بلکہ ایک کفارہ کافی ہے ایسے ہی اگرکئی دفعہ کوئی اور ایساکام کرے جوروزے کوباطل کرتا ہومثلاً کئی دفعہ کھانا کھائے تب بھی ایک ہی کفارہ کافی ہے۔
مسئلہ(۱۶۸۱) باپ کے مرنے کے بعدبڑے بیٹے کے لئے( احتیاط لازم کی بناپر) ضروری ہے کہ باپ کے روزوں کی قضااسی طرح بجالائے جیسے کہ نمازکے سلسلے میں مسئلہ (۱۳۷۰ )میں تفصیل سے بتایاگیاہے اور ہر دن کےبدلے ایک مد طعام (۷۵۰گرام) فقیر کو دے سکتاہے خواہ میت کے مال سے ہی کیوں نہ ہو اگر ورثا راضی ہیں ۔
مسئلہ(۱۶۸۲) اگرکسی کے باپ نے ماہ رمضان المبارک کے روزوں کے علاوہ کوئی دوسرے واجب روزے مثلاً منتی روزے نہ رکھے ہوں یااجرت کاروزہ ہواورنہ رکھا ہوتو بڑےبیٹے پر اس کی قضا لازم نہیں ہے۔

