توضیح المسائل اردو آیت الله سیستانی

طلاق کے احکام

مسئلہ (۲۵۱۶)جومرداپنی بیوی کوطلاق دے اس کے لئے ضروری ہے کہ بالغ اور عاقل ہولیکن اگردس سال کابچہ بیوی کوطلاق دے تواس کے بارے میں احتیاط کی رعایت کریں اوراسی طرح ضروری ہے کہ مرداپنے اختیار سے طلاق دے اوراگراسے اپنی بیوی کو طلاق دینے پرمجبور کیاجائے توطلاق باطل ہے اور یہ بھی ضروری ہے کہ وہ شخص طلاق کی نیت رکھتاہولہٰذااگروہ مثلاً مذاق یا مدہوشی میں طلاق کاصیغہ کہے توطلاق صحیح نہیں ہے۔

مسئلہ (۲۵۱۷)ضروری ہے کہ عورت طلاق کے وقت حیض یانفاس سے پاک ہواور اس کے شوہرنے اس پاکی کے دوران اس سے ہم بستری نہ کی ہواوران دوشرطوں کی تفصیل آئندہ مسائل میں بیان کی جائے گی۔

مسئلہ (۲۵۱۸)عورت کوحیض یانفاس کی حالت میں تین صورتوں میں طلاق دیناصحیح ہے:

۱:
) شوہر نے نکاح کے بعداس سے ہم بستری نہ کی ہو۔

۲:
)معلوم ہوکہ وہ حاملہ ہے اوراگریہ بات معلوم نہ ہواورشوہراسے حیض کی حالت میں طلاق دے دے اوربعدمیں شوہرکوپتاچلے کہ وہ حاملہ تھی تووہ طلاق باطل ہے اگرچہ بہترہےکہ احتیاط کی رعایت ہو خواہ دوبارہ طلاق کے ذریعہ ہی کیوں نہ ہو۔

۳:
)مردکےلئے عورت کے غائب ہونے یا کسی اورسبب سےچاہے وہ عورت کے اپنی حالت کے چھپانے کی شکل میں ہو ممکن نہ ہو کہ وہ جان پائے کہ عورت حیض و نفاس سے پاک ہے یا نہیں لیکن اس صورت میں (احتیاط واجب کی بناپر)ضروری ہے کہ مردانتظارکرے تاکہ بیوی سے جداہونےکے بعدکم از کم ایک مہینہ گزرجائے اس کے بعداسے طلاق دے۔

مسئلہ (۲۵۱۹)اگرکوئی شخص عورت کوحیض سے پاک سمجھے اوراسے طلاق دے دے اوربعدمیں پتاچلے کہ وہ حیض کی حالت میں تھی تواس کی طلاق باطل ہےسوائے مذکورہ صورت میں اوراگر شوہر اسے حیض کی حالت میں سمجھے اورطلاق دے دے اوربعد میں معلوم ہوکہ پاک تھی تواس کی طلاق صحیح ہے۔

مسئلہ (۲۵۲۰)جس شخص کوعلم ہوکہ اس کی بیوی حیض یانفاس کی حالت میں ہے اگر وہ بیوی سے جداہو جائے مثلا سفر اختیار کرے اور اسے طلاق دیناچاہتاہوتواسے چاہئے کہ اتنی مدت انتظارکرے جس میں اسے یقین یااطمینان ہوجائے کہ وہ عورت حیض یانفاس سے پاک ہوگئی ہے اورجب وہ یہ جان لے کہ عورت پاک ہے اسے طلاق دے اور اگر اسے شک ہوتب بھی یہی حکم ہے۔ لیکن اس صورت میں غائب کی طلاق کے بارے میں مسئلہ (۲۵۱۸) میں جوشرائط بیان ہوئی ہیں ان کاخیال رکھے۔

مسئلہ (۲۵۲۱)جوشخص اپنی بیوی سے جداہواگروہ اسے طلاق دیناچاہے تواگر وہ معلوم کرسکتاہوکہ اس کی بیوی حیض یانفاس کی حالت میں ہے یانہیں تواگرچہ عورت کی حیض کی عادت یاان دوسری نشانیوں کوجو شرع میں معین ہیں دیکھتے ہوئے اسے طلاق دے اوربعد میں معلوم ہوکہ وہ حیض یانفاس کی حالت میں تھی تواس کی طلاق صحیح نہیں ہے۔

مسئلہ (۲۵۲۲)اگر کوئی شخص اپنی بیوی سےجماع کرے چاہے وہ پاک حالت میں ہو یا حیض کی حالت میں ہو اور اُسے طلاق دینا چاہے تو ضروری ہےکہ انتظار کرے تاکہ اس کو دوبارہ حیض آجائے اور پاک ہوجائے لیکن وہ زوجہ جس کی عمر کے نو سال پورے نہیں ہوئےہیں جس کے بارے میں معلوم ہے کہ وہ حاملہ ہے تو اگر اسے جماع کے بعد طلاق دیں تو کوئی اشکال نہیں ہے اور یہی حکم یائسہ عورت کےلئے بھی ہے(یائسہ کےبارے میں ( ۲۴۶۶) میں گزر چکا ہے۔)

مسئلہ (۲۵۲۳)اگرکوئی شخص ایسی عورت سے ہم بستری کرے جوحیض یانفاس سے پاک ہواوراسی پاکی کی حالت میں اسے طلاق دے دے اوربعدمیں معلوم ہو کہ وہ طلاق دینے کے وقت حاملہ تھی تووہ طلاق باطل ہےلیکن احتیاط کی رعایت بہتر ہے اگر چہ یہ طلاق تجدید کی صورت میں ہو۔

مسئلہ (۲۵۲۴)اگرکوئی شخص ایسی عورت سے ہم بستری کرے جو حیض یانفاس سے پاک ہوپھروہ اس سے جدا ہوجائے مثلاً سفر اختیار کرے لہٰذا اگروہ چاہے کہ سفر کے دوران اسے طلاق دے اور اس کی پاکی یاناپاکی کے بارے میں نہ جان سکتاہو توضروری ہے کہ اتنی مدت انتظار کرے کہ عورت کواس پاکی کے بعد حیض آئے اوروہ دوبارہ پاک ہو جائے اور احتیاط واجب یہ ہے کہ وہ مدت ایک مہینے سے کم نہ ہو۔اور اگر بیان کی گئ رعایت کے مطابق طلاق دے اور پھر پتا چلے کہ طلاق اس کی پہلی والی پاکی کے عالم میں ہوگئی ہے تو کوئی حرج نہیں ہے۔

مسئلہ (۲۵۲۵)اگرکوئی مرداپنی عورت کوطلاق دیناچاہتاہوجسے فطری طورپر یاکسی بیماری کی وجہ سےیا دودھ پلانے یا دوا کھانے یا کسی اور وجہ سے حیض نہ آتاہواوراس عمرکی دوسری عورتوں کوحیض آتاہوتوضروری ہے کہ جب اس نے عورت سے جماع کیاہو اس وقت سے تین مہینے تک اس سے جماع نہ کرے اوربعدمیں اسے طلاق دے ۔

مسئلہ (۲۵۲۶)ضروری ہے کہ طلاق کاصیغہ صحیح عربی میں لفظ ’’طَالِقٌ‘‘ کے ساتھ پڑھا جائے اوردو عادل مرداسے سنیں ۔اگرشوہر خودطلاق کاصیغہ پڑھناچاہے اور مثال کے طورپر اس کی بیوی کانام عاطفہ ہوتوضروری ہے کہ کہے: ’’زَوْجَتِیْ عَاطِفَۃُ طَالِقٌ‘‘ یعنی میری بیوی عاطفہ آزاد ہے اوراگروہ کسی دوسرے شخص کووکیل کرے توضروری ہے کہ وکیل کہے : ’’زَوْجَۃُ مُوَکِّلِیْ عَاطِفَۃُ طَالِقٌ‘‘اوراگرعورت معین ہوتواس کانام لینالازم نہیں ہے اوراگر حاضر ہو تو’’ ھٰذِہٖ طَالِقٌ ‘‘کہنا کافی ہے اور اس کی طرف اشارہ کرے یا’’ اَنْتِ طَالِقٌ ‘‘کہے اور اسے مخاطب قرار دے اور اگرمرد عربی میں طلاق کاصیغہ نہ پڑھ سکتاہواوروکیل بھی نہ بناسکے تووہ جس زبان میں چاہے ہراس لفظ کے ذریعے طلاق دے سکتاہے جو عربی لفظ کے ہم معنی ہو۔

مسئلہ (۲۵۲۷)عقد متعہ میں طلاق نہیں ہےاوراس کاآزاد ہونااس بات پر منحصر ہے کہ یاتومتعہ کی مدت ختم ہو جائے یامرد اسے مدت بخش دے اوروہ اس طرح کہ اس سے کہے : ’’میں نے مدت تجھے بخش دی‘‘ اورکسی کواس پرگواہ قراردینااوراس عورت کاحیض یانفاس سے پاک ہونالازم نہیں ۔