توضیح المسائل اردو آیت الله سیستانی

طلاق بائن اور طلاق رجعی

طلاق بائن اور طلاق رجعی

مسئلہ (۲۵۴۰)طلاق بائن وہ طلاق ہے کہ جس کے بعدمرداپنی عورت کی طرف رجوع کرنے کاحق نہیں رکھتایعنی یہ کہ بغیرنکاح کے دوبارہ اسے اپنی بیوی نہیں بناسکتا اور اس طلاق کی چھ قسمیں ہیں :

۱:
) اس عورت کو دی گئی طلاق جس کی عمرابھی نوسال نہ ہوئی ہو۔

۲:
)اس عورت کودی گئی طلاق جویائسہ ہو۔

۳:
)اس عورت کودی گئی طلاق جس کے شوہر نے نکاح کے بعداس سے جماع نہ کیاہو۔

۴:
)تیسرا طلاق جس کی وضاحت( ۲۵۴۵) میں آئےگی۔

۵:
)خلع اورمبارات کی طلاق کہ جن کے احکام آئندہ بیان ہوں گے۔

۶:
)حاکم شرع کااس عورت کوطلاق دیناجس کاشوہرنہ اس کے اخراجات دینے پر تیار ہو اورنہ اسے طلاق دینے پر تیار ہو۔

ان(مذکورہ) طلاقوں کے علاوہ جوطلاقیں ہیں وہ رجعی ہیں جس کامطلب یہ ہے کہ جب تک عورت عدت میں ہوشوہر اس سے رجوع کرسکتاہے۔

مسئلہ (۲۵۴۱)جس شخص نے اپنی عورت کورجعی طلاق دی ہواس کے لئے اس عورت کواس گھر سے نکال دیناجس میں وہ طلاق دینے کے وقت مقیم تھی حرام ہے۔ البتہ بعض موقعوں پرجن میں سے ایک یہ ہے کہ عورت زناکرے تواسے گھر سے نکال دینے میں کوئی اشکال نہیں ۔اوریہ بھی حرام ہے کہ عورت غیرضروری کاموں کے لئے شوہر کی اجازت کے بغیر اس گھرسے باہرجائے اور مرد پر بھی عدت کے دوران زندگی کے اخراجات دینا واجب ہے۔

رجوع کرنے کے احکام

مسئلہ (۲۵۴۲)رجعی طلاق میں مرددوطریقوں سے اپنی عورت کی طرف رجوع کر سکتا ہے:

۱:
) ایسی باتیں کرے جن سے یہ معنی نکلے کہ اس نے اسے دوبارہ اپنی بیوی بنالیاہے۔

۲:
)کوئی کام کرے اوراس کام سے رجوع کاقصد کرے اور جماع کرنے سے رجوع ثابت ہوجاتاہے خواہ اس کاقصدرجوع کرنے کانہ بھی ہو۔ لیکن شہوت کے ساتھ ساتھ ہاتھ لگانے اوربوسہ لینے میں اشکال ہے اور( احتیاط واجب کی بناء پر) اگر رجوع نہ کرناچاہتا ہوتو ضروری ہےکہ دوبارہ طلاق دے۔

مسئلہ (۲۵۴۳)رجوع کرنے میں مرد کے لئے لازم نہیں کہ کسی کوگواہ بنائے یااپنی بیوی کو(رجوع کے متعلق) اطلاع دے بلکہ اگربغیر اس کے کہ کسی کوپتاچلے وہ خود ہی رجوع کرلے تواس کارجوع کرناصحیح ہے لیکن اگر عدت ختم ہوجانے کے بعد مرد کہے کہ میں نے عدت کے دوران ہی رجوع کرلیاتھا اور عورت تصدیق نہ کرےتولازم ہے کہ مرد اس بات کوثابت کرے۔

مسئلہ (۲۵۴۴)جس مرد نے عورت کورجعی طلاق دی ہواگروہ اس سے کچھ مال لے لے اوراس سے مصالحت کرلے کہ اب تجھ سے رجوع نہ کروں گاتواگرچہ یہ مصالحت درست ہے اورمردپرواجب ہے کہ رجوع نہ کرے لیکن اس سے مرد کے رجوع کاحق ختم نہیں ہوتااوراگروہ رجوع کرے تو وہ دوبارہ اس کی بیوی بن جائے گی۔

مسئلہ (۲۵۴۵)اگرکوئی شخص اپنی بیوی کودودفعہ طلاق دے کراس کی طرف رجوع کرلے یا اسے دو دفعہ طلاق دے اور ہر طلاق کے بعداس سے نکاح کرے یا ایک طلاق کے بعد رجوع کرے اوردوسری طلاق کے بعد نکاح کرے توتیسری طلاق کے بعدوہ اس مرد پرحرام ہوجائے گی۔لیکن اگرعورت تیسری طلاق کے بعدکسی دوسرے مرد سے نکاح کرے تووہ پانچ شرطوں کے ساتھ پہلے مردپرحلال ہوگی یعنی وہ اس عورت سے دوبارہ نکاح کرسکے گا:

۱:
) دوسرے شوہرکانکاح دائمی ہو۔پس اگر اس عورت سے متعہ کرلے تواس مرد کے اس سے علیٰحدگی کے بعدپہلا شوہر اس سے نکاح نہیں کرسکتا۔

۲:
)دوسراشوہرجماع کرے اوراحتیاط واجب یہ ہے کہ جماع فرج(آگے کی شرم گاہ) میں کرے دُبر (پیچھے کی شرم گاہ )میں نہ ہو۔

۳:
)دوسراشوہراسے طلاق دے یامرجائے۔

۴:
)دوسرے شوہر کی طلاق کی عدت یاوفات کی عدت ختم ہوجائے۔

۵:
)احتیاط واجب کی بناپردوسراشوہرجماع کرتے وقت بالغ ہو۔