توضیح المسائل اردو آیت الله سیستانی

نمازی کے لباس کی شرطیں

مسئلہ(۷۸۵) نماز پڑھنے والے کے لباس کی چھ شرطیں ہیں :

(اول:) پاک ہو۔

(دوم:) مباح ہو احتیاط واجب کی بناپر۔

(سوم:) مردارکے اجزاسے نہ بناہو۔

(چہارم:) (درندہ )پھاڑ کھانے والے حیوان کے اجزاء سے نہ ہو بلکہ( احتیاط واجب کی بنا پر)حرام گوشت حیوان کے اجزا سے بھی نہ بناہو۔

(پنجم اورششم:)اگرنماز پڑھنے والامردہوتواس کالباس خالص ریشم اور سونے کے تاروں کابناہوانہ ہو۔ان شرطوں کی تفصیل آئندہ مسائل میں بتائی جائے گی۔

پہلی شرط

مسئلہ(۷۸۶) نماز پڑھنے والے کالباس پاک ہوناضروری ہے۔ اگرکوئی شخص حالت اختیار میں نجس بدن یانجس لباس کے ساتھ نماز پڑھے تواس کی نماز باطل ہے۔

مسئلہ(۷۸۷) اگرکوئی شخص شرعی مسئلہ کو سیکھنے میں کوتاہی کی وجہ سے یہ نہ جانتاہوکہ نجس بدن اور لباس کے ساتھ نماز پڑھنا باطل ہےیا مثلاً نہیں جانتا کہ منی نجس ہے اور اس میں نماز پڑھ لےتو احتیاط واجب کی بناپردوبارہ نماز پڑھے اور اگر وقت گزر گیا ہوتو قضا نماز پڑھے۔

مسئلہ(۷۸۸) اگر کوئی شخص مسئلہ سے ناواقفیت کی بنا پر نجس بدن یا لباس میں نماز پڑھ لے اور مسئلہ سیکھنے میں کوتاہی نہ کیا ہو تو اپنی نمازکو دوبارہ بجالانا یا قضا کرنا ضروری نہیں ہے۔

مسئلہ(۷۸۹) اگرکسی شخص کویہ یقین ہوکہ اس کابدن یالباس نجس نہیں ہے اور اس کے نجس ہونے کے بارے میں اسے نماز کے بعدپتا چلے تواس کی نماز صحیح ہے۔

مسئلہ(۷۹۰) اگرکوئی شخص یہ بھول جائے کہ اس کابدن یالباس نجس ہے اور اسے نماز کے دوران یااس کے بعدیاد آئے چنانچہ اگراس نے لاپروائی اوراہمیت نہ دینے کی وجہ سے بھلادیاہوتو(احتیاط لازم کی بناپر)ضروری ہے کہ وہ نماز کودوبارہ پڑھے اور اگر وقت گزرگیاہوتواس کی قضاکرے اور اس صورت کے علاوہ ضروری نہیں ہے کہ وہ نماز کو دوبارہ پڑھے۔ لیکن اگرنماز کے دوران اسے یاد آئے توضروری ہے کہ اس حکم پر عمل کرے جو بعدوالے مسئلے میں بیان کیاجائے گا۔

مسئلہ(۷۹۱) جوشخص وسیع وقت میں نمازمیں مشغول ہواگرنماز کے دوران اسے پتا چلے کہ اس کابدن یالباس نجس ہے اوراسے یہ احتمال ہوکہ نماز شروع کرنے کے بعد نجس ہواہے تواس صورت میں اگربدن یا لباس کوپاک کرنے یالباس تبدیل کرنے یا لباس اتاردینے سے نماز نہ ٹوٹے تونماز کے دوران بدن یالباس پاک کرے یالباس تبدیل کرے یااگرکسی اورچیزنے اس کی شرم گاہ کوڈھانپ رکھاہوتولباس اتاردے لیکن جب صورت یہ ہوکہ اگر بدن یالباس پاک کرے یااگرلباس بدلے یااتارے تونماز ٹوٹتی ہویااگرلباس اتارے توبرہنہ ہوجائے تو(احتیاط لازم کی بناپر)ضروری ہے کہ دوبارہ پاک لباس کے ساتھ نمازپڑھے۔

مسئلہ(۷۹۲) جوشخص تنگ وقت میں نمازمیں مشغول ہواگرنماز کے دوران اسے پتا چلے کہ اس کا لباس نجس ہے اوراسے یہ احتمال ہوکہ نماز شروع کرنے کے بعدنجس ہوا ہے تواگرصورت یہ ہوکہ لباس کوپاک کرنے یابدلنے یااتارنے سے نمازنہ ٹوٹتی ہواوروہ لباس اتارسکتاہوتوضروری ہے کہ لباس کوپاک کرے یابدلے یااگرکسی اورچیزنے اس کی شرم گاہ کوڈھانپ رکھاہوتولباس اتاردے اورنماز ختم کرے لیکن اگرکسی اورچیز نے اس کی شرم گاہ کونہ ڈھانپ رکھاہواوروہ لباس پاک نہ کرسکتاہواوراسے بدل بھی نہ سکتا ہو تو ضروری ہے کہ اس نجس لباس کے ساتھ نماز کوختم کرے۔

مسئلہ(۷۹۳) کوئی شخص جوتنگ وقت میں نماز میں مشغول ہواورنماز کے دوران پتا چلے کہ اس کابدن نجس ہے اور اسے یہ احتمال ہوکہ نمازشروع کرنے کے بعد نجس ہوا ہے تواگرصورت یہ ہوکہ بدن کوپاک کرنے سے نماز نہ ٹوٹتی ہوتوبدن کوپاک کرے اور اگر نماز ٹوٹتی ہوتوضروری ہے کہ اسی حالت میں نماز تمام کرے اور اس کی نماز صحیح ہے۔

مسئلہ(۷۹۴) ایساشخص جواپنے بدن یالباس کے پاک ہونے کے بارے میں شک کرے اور جستجو کرنے پرکوئی چیزنہ پائےاورنماز پڑھ لے اور نماز کے بعداسے پتا چلے کہ اس کابدن یالباس نجس تھاتواس کی نماز صحیح ہے اور اگراس نے جستجو نہ کی ہوتو( احتیاط لازم کی بناپر)ضروری ہے کہ نمازکودوبارہ پڑھے اوراگروقت گزرگیاہوتواس کی قضا کرے ۔

مسئلہ(۷۹۵) اگرکوئی شخص اپنالباس دھوئے اوراسے یقین ہوجائے کہ لباس پاک ہوگیاہے، اس کے ساتھ نماز پڑھے اورنماز کے بعداسے پتا چلے کہ پاک نہیں ہوا تھاتواس کی نمازصحیح ہے۔

مسئلہ(۷۹۶) اگرکوئی شخص اپنے بدن یالباس میں خون دیکھے اوراسے یقین ہوکہ یہ نجس خون میں سے نہیں ہے مثلاً اسے یقین ہوکہ مچھرکاخون ہے لیکن نماز پڑھنے کے بعد اسے پتا چلے کہ یہ اس خو ن میں سے ہے جس کے ساتھ نماز نہیں پڑھی جاسکتی تو اس کی نماز صحیح ہے۔

مسئلہ(۷۹۷) اگرکسی شخص کویقین ہوکہ اس کے بدن یالباس میں جوخون ہے وہ ایسا نجس خون ہے جس کے ساتھ نماز صحیح ہے مثلاً اسے یقین ہوکہ زخم اورپھوڑے کاخون ہے لیکن نمازکے بعداسے پتا چلے کہ یہ ایساخون ہے جس کے ساتھ نماز باطل ہے تواس کی نماز صحیح ہے۔

مسئلہ(۷۹۸) اگرکوئی شخص یہ بھول جائے کہ ایک چیزنجس ہے اور گیلا بدن یا گیلا لباس اس چیز سے چھو جائے اوراسی بھول کے عالم میں وہ نماز پڑھ لے اور نماز کے بعد اسے یادآئے تواس کی نماز صحیح ہے۔ لیکن اگراس کاگیلابدن اس چیزکوچھوجائے جس کا نجس ہوناوہ بھول گیاہے اوراپنے آپ کوپاک کئے بغیر وہ غسل کرے اور نماز پڑھے تواس کاغسل اورنمازباطل ہےماسوااس صورت کے کہ غسل کرنے سے بدن بھی پاک ہو جائے اور پانی نجس نہ ہو جیسے آب جاری سے غسل کرےاگروضوکے گیلے اعضاکاکوئی حصہ اس چیزسے چھوجائے جس کے نجس ہونے کے بارے میں وہ بھول گیاہے اوراس سے پہلے کہ وہ اس حصے کوپاک کرے وہ وضو کرے اورنماز پڑھے تواس کاوضو اورنمازدونوں باطل ہیں ماسوااس صورت کے کہ وضو کرنے سے وضوکے اعضابھی پاک ہوجائیں اور پانی نجس نہ ہو جیسے آب کر یا جاری پانی۔

مسئلہ(۷۹۹) جس شخص کے پاس صرف ایک لباس ہواگراس کابدن اورلباس نجس ہوجائیں اوراس کے پاس ان میں سے ایک کوپاک کرنے کے لئے ہی پانی ہوتواحتیاط لازم یہ ہے کہ بدن کوپاک کرے اورنجس لباس کے ساتھ نمازپڑھے اورلباس کوپاک کرکے نجس بدن کے ساتھ نماز پڑھناجائزنہیں ہے۔ لیکن اگرلباس کی نجاست (بدن کی) نجاست سے بہت زیادہ ہویالباس کی نجاست بدن کی نجاست کے لحاظ سے زیادہ شدیدہو تواسے اختیار ہے کہ لباس اوربدن میں سے جسے چاہے پاک کرے۔

مسئلہ(۸۰۰) جس شخص کے پاس نجس لباس کے علاوہ کوئی لباس نہ ہوضروری ہے کہ نجس لباس کے ساتھ نماز پڑھے اوراس کی نماز صحیح ہے۔

مسئلہ(۸۰۱) جس شخص کے پاس دولباس ہوں اگروہ جانتاہوکہ ان میں سے ایک نجس ہے لیکن یہ نہ جانتاہوکہ کون سانجس ہے اوراس کے پاس وقت ہوتوضروری ہے کہ دونوں لباس کے ساتھ نماز پڑھے تو اسی لباس کے ساتھ نماز جاری رکھے اور نماز صحیح ہے مثلاًاگروہ ظہر اور عصر کی نماز پڑھناچاہے توضروری ہے کہ ہرایک لباس سے ایک نماز ظہر کی اور ایک نماز عصر کی پڑھے لیکن اگر وقت تنگ ہے اور دونوں لباس میں سے کوئی بھی قوت احتمال اور اہمیت محتمل کے لحاظ سے برتری نہ رکھتا ہو تو جس لباس کے ساتھ نماز پڑھ لے کافی ہے۔

دوسری شرط

مسئلہ(۸۰۲) (احتیاط واجب کی بناء پر)نماز پڑھنے والے کا وہ لباس مباح ہونا ضروری ہےجس سے اپنی دونوں شرم گاہ کو چھپاتا ہے پس اگرایک ایسا شخص جوجانتاہوکہ غصبی لباس پہنناحرام ہے یاکوتاہی کی وجہ سے مسئلہ کاحکم نہ جانتاہواور جان بوجھ کراس لباس کے ساتھ نماز پڑھے تواحتیاط کی بناپراس کی نماز باطل ہے۔ لیکن اگر لباس میں وہ چیزیں شامل ہوں جو تنہاشرم گاہ کونہیں ڈھانپ سکتیں اوراسی طرح وہ چیزیں جن سے اگرچہ شرم گاہ کوڈھانپاجاسکتاہولیکن نماز پڑھنے والے نے انہیں حالت نماز میں نہ پہن رکھاہومثلاً بڑارومال یالنگوٹی جوجیب میں رکھی ہواوراسی طرح وہ چیزیں جنہیں نمازی نے پہن رکھاہواگرچہ اس کے پاس ایک دوسرا مباح سترپوش ہو۔ ایسی تمام صورتوں میں ان (اضافی) چیزوں کے غصبی ہونے سے نمازمیں کوئی فرق نہیں پڑتا اگرچہ احتیاط ان کے ترک کردینے میں ہے۔

مسئلہ(۸۰۳) جوشخص یہ جانتاہوکہ غصبی لباس پہنناحرام ہے لیکن اس لباس کے ساتھ نماز پڑھنے کاحکم نہ جانتاہواگروہ جان بوجھ کرغصبی لباس کے ساتھ نماز پڑھے توجیسا کہ سابقہ مسئلے میں تفصیل سے بتایاگیاہے احتیاط کی بناپراس کی نماز باطل ہے۔

مسئلہ(۸۰۴) اگرکوئی شخص نہ جانتاہویابھول جائے کہ اس کالباس غصبی ہے اور اس لباس کے ساتھ نماز پڑھے تواس کی نمازصحیح ہے۔ لیکن اگروہ شخص خوداس لباس کو غصب کرے اورپھربھول جائے کہ اس نے غصب کیاہے اوراسی لباس میں نماز پڑھے تو (احتیاط کی بناپر)اس کی نمازباطل ہے۔

مسئلہ(۸۰۵) اگرکسی شخص کوعلم نہ ہویابھول جائے کہ اس کالباس غصبی ہے لیکن نمازکے دوران اسے پتا چل جائے اور اس کی شرم گاہ کسی دوسری چیزسے ڈھکی ہوئی ہو اور وہ فوراًیا(نماز کاتسلسل توڑے بغیر) غصبی لباس اتارسکتاہوتوضروری ہے کہ فوراً اس لباس کو اتاردے اور اپنی نماز کو جاری رکھے اور اگراس کی شرم گاہ کسی دوسری چیز سے کسی شخص محترم(باشعور) کی نظر سے ڈھکی ہوئی نہ ہویاوہ غصبی لباس کوفوراً نہ اتارسکتاہوتو اسی لباس کےساتھ نماز جاری رکھے اور نماز صحیح ہے۔

مسئلہ(۸۰۶) اگر کوئی شخص اپنی جان کی حفاظت کے لئے غصبی لباس کے ساتھ نماز اس صورت حال میں پڑھے کہ آخری وقت تک کسی دوسرے لباس میں نماز پڑھنا ممکن نہ ہو یا یہ لباس پہننے کی مجبوری اس کےخود کے غلط انتخاب کی بناپر نہ ہو جیسے خود لباس غصب نہ کیا ہوتو نماز صحیح ہے اور اس طرح اگر اس غصبی لباس میں نماز اس لئے پڑھے کہ کوئی چور اس کو نہ چرائے اور آخر وقت تک دوسرے لباس میں نماز نہ پڑھ سکے یا غصبی لباس کا رکھنا اس نیت سے ہو کہ پہلی فرصت میں اس کے مالک تک پہونچا دےگا تو اس کی نماز صحیح ہے۔

مسئلہ(۸۰۷) اگرکوئی شخص اس رقم سے لباس خریدے جس کاخمس اس نے ادانہ کیا ہوجب کہ سودے میں رائج طریقۂ کار کے مطابق ،قیمت اپنے ذمہ لے لی ہوتو لباس اس کے لئے حلال ہے البتہ وہ ادا شدہ قیمت کے خمس کا مقروض ہوگا لیکن اگر اسی مال سے لباس خریدے جس کا خمس نہیں ادا کیا ہےتو حاکم شرع کی اجازت کے بغیراس لباس کے ساتھ نماز پڑھنے کے لئے وہی حکم ہے جوغصبی لباس کے ساتھ نماز پڑھنے کاہے۔

تیسری شرط

مسئلہ(۸۰۸) ضروری ہے کہ نمازپڑھنے والے کالباس اورہروہ چیزجوشرم گاہ چھپانے کے لئے تنہاکافی ہےضروری ہے کہ جہندہ خون والے مردہ حیوان (یعنی ایسا حیوان جس کا خون ذبح کرتے وقت اچھل کر نکلے) کے اجزاء سے نہ بنی ہواور یہ شرط( احتیاط واجب کی بنا پر) ایسے کپڑےجو صرف شرم گاہ کو نہ چھپا سکتے ہوں میں بھی ثابت ہے اور احتیاط مستحب یہ ہے کہ اس لباس میں جو ایسے حیوان کے مردار سےبنا ہو جو خون جہندہ نہیں رکھتا (جیسے سانپ) تو اس کے ساتھ نماز نہ پڑھی جائے۔

مسئلہ(۸۰۹) اگرنجس مردار کی ایسی چیزمثلاً گوشت اور کھال جس میں روح ہوتی ہے نماز پڑھنے والے کے ہمراہ ہوتو اس کی نماز صحیح ہے۔

مسئلہ(۸۱۰) اگرحلال گوشت مردار کی کوئی ایسی چیزجس میں روح نہیں ہوتی( مثلاً بال اور اون) نمازپڑھنے والے کے ہمراہ ہویااس لباس کے ساتھ نماز پڑھے جوان چیزوں سے تیارکیاگیاہوتواس کی نمازصحیح ہے۔

چوتھی شرط

مسئلہ(۸۱۱) ضروری ہے کہ نماز پڑھنے والے کالباس ان چیزوں کے علاوہ جو صرف شرم گاہ چھپانے کے لئے ناکافی ہے مثلاً جوراب (درندوں کے اجزاسے تیار کیا ہوا نہ ہوبلکہ احتیاط لازم کی بناپر)ہر اس جانور کے اجزاسے بناہوانہ ہوجس کاگوشت کھانا حرام ہے۔اسی طرح ضروری ہے کہ نماز پڑھنے والے کالباس اوربدن حرام گوشت جانور کے پیشاب،پاخانے،پسینے،دودھ اوربال سے آلودہ نہ ہولیکن اگرحرام گوشت جانور کاایک بال اس کے لباس پرلگاہوتوکوئی حرج نہیں ہے۔ اسی طرح نمازگزارکے ہمراہ ان میں سے کوئی چیز اگرڈبیہ (یابوتل وغیرہ) میں بندرکھی ہوتب بھی کوئی حرج نہیں ہے۔

مسئلہ(۸۱۲) حرام گوشت جانور- مثلاًبلی کے منہ یاناک کاپانی یاکوئی دوسری رطوبت نمازپڑھنے والے کے بدن یالباس پرلگی ہواوراگروہ ترہوتونمازباطل ہے لیکن اگر خشک ہواوراس کاعین جززائل ہوگیاہوتونماز صحیح ہے۔

مسئلہ(۸۱۳) اگرکسی کابال یاپسینہ یامنہ کالعاب نماز پڑھنے والے کے بدن یا لباس پرلگاہوتوکوئی حرج نہیں ۔ اسی طرح مروارید،موم اورشہداس کے ہمراہ ہوتب بھی نماز پڑھناجائزہے۔

مسئلہ(۸۱۴) اگرکسی کوشک ہوکہ لباس حلال گوشت جانورسے تیارکیاگیاہے یا حرام گوشت جانورسے توخواہ وہ اسلامی ملک میں تیارکیاگیاہویاغیر اسلامی ملک میں بنایا گیاہواس کے ساتھ نماز پڑھناجائزہے۔

مسئلہ(۸۱۵) یہ معلوم نہیں ہے کہ سیپی حرام گوشت حیوان کے اجزامیں سے ہے لہٰذا سیپ کے لباس کے ساتھ نمازپڑھناجائزہے۔

مسئلہ(۸۱۶) گلہری کی پوستین پہن کر نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں لیکن احتیاط مستحب یہ ہے کہ گلہری کی پوستین کے ساتھ نماز نہ پڑھی جائے۔

مسئلہ(۸۱۷) اگرکوئی شخص ایسے لباس کے ساتھ نماز پڑھے جس کے متعلق وہ نہ جانتا ہویابھول گیاہو کہ حرام گوشت جانور سے تیارہواہےتواس کی نماز صحیح ہے۔

پانچویں شرط

مسئلہ(۸۱۸) سونے کے تار سے بنا ہوا لباس مردوں کے لئے پہننا حرام ہے اور اس کے ساتھ نمازپڑھناباطل ہے لیکن عورتوں کے لئے نمازمیں یانماز کے علاوہ اس کے پہننے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

مسئلہ(۸۱۹) سوناپہننامثلاً سونے کی زنجیرگلے میں پہننا،سونے کی انگوٹھی ہاتھ میں پہننا، سونے کی گھڑی کلائی پرباندھنامردوں کے لئے حرام ہے اوران چیزوں کے ساتھ نمازپڑھناباطل ہے۔ لیکن عورتوں کے لئے نمازمیں اورنماز کے علاوہ ان چیزوں کے استعمال میں کوئی حرج نہیں ۔

مسئلہ(۸۲۰) اگرکوئی شخص نہ جانتاہویابھول گیاہوکہ اس کی انگوٹھی یالباس سونے کا ہے یاشک رکھتاہو اوراس کے ساتھ نماز پڑھے تواس کی نماز صحیح ہے۔

چھٹی شرط

مسئلہ(۸۲۱) نماز پڑھنے والے مردکالباس جو صرف شرم گاہ کو چھپا سکتا ہو ضروری ہے کہ خالص ریشم کا نہ ہو اورنماز کے علاوہ بھی مردوں کے لئے اس کا پہننا حرام ہے۔

مسئلہ(۸۲۲) اگرلباس کاتمام استریااس کاکچھ حصہ خالص ریشم کاہوتومرد کے لئے اس کا پہنناحرام اوراس کے ساتھ نماز پڑھناباطل ہے۔

مسئلہ(۸۲۳) جب کسی لباس کے بارے میں یہ علم نہ ہوکہ خالص ریشم کاہے یا کسی اورچیزکابناہواہے تواس کاپہنناجائزہے اوراس کے ساتھ نمازپڑھنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔

مسئلہ(۸۲۴) ریشمی رومال یااسی جیسی کوئی چیزمرد کی جیب میں ہوتوکوئی حرج نہیں ہے اوروہ نماز کوباطل نہیں کرتی۔

مسئلہ(۸۲۵) عورت کے لئے نماز میں یااس کے علاوہ ریشمی لباس پہننے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

مسئلہ(۸۲۶) مجبوری کی حالت میں غصبی اورخالص ریشمی اورسونے کے تار سے بنے ہوئے لباس پہننے میں کوئی حرج نہیں ۔ اس کےعلاوہ جوشخص یہ لباس پہننے پر مجبور ہو اور اس کے پاس کوئی اور لباس نہ ہوتووہ ان لباسوں کے ساتھ نماز پڑھ سکتاہے۔

مسئلہ(۸۲۷) اگرکسی شخص کے پاس غصبی یاخالص ریشمی یاسونے کے تار سے بنے لباس کے علاوہ کوئی لباس نہ ہواوروہ یہ لباس پہننے پرمجبورنہ ہوتواسے چاہئے کہ ان احکام کے مطابق نماز پڑھے جو برہنہ لوگوں کے لئے بتائے گئے ہیں ۔

مسئلہ(۸۲۸) اگرکسی کے پاس درندے کے اجزا سے بنے ہوئے لباس کے علاوہ اورکوئی لباس نہ ہواوروہ یہ لباس پہننے پرمجبورہوتواس لباس کے ساتھ نمازپڑھ سکتاہے اگر آخر وقت تک مجبوری باقی رہے اور اگرلباس پہننے پرمجبورنہ ہوتواسے چاہئے کہ ان احکام کے مطابق نمازپڑھے جوبرہنہ لوگوں کے لئے بتائے گئے ہیں اوراگراس کے پاس (غیر درندہ) حرام جانوروں کے اجزا سے تیارشدہ لباس کے سوادوسرالباس نہ ہواوروہ اس لباس کوپہننے پرمجبورنہ ہوتواحتیاط لازم یہ ہے کہ دودفعہ نمازپڑھے۔ ایک باراسی لباس کے ساتھ اورایک بار اس طریقے کے مطابق جس کاذکربرہنہ لوگوں کی نمازمیں بیان ہوچکاہے۔

مسئلہ(۸۲۹) اگرکسی کے پاس ایسی کوئی چیزنہ ہوجس سے وہ اپنی شرم گاہ کونماز میں ڈھانپ سکے تو واجب ہے کہ ایسی چیز(اگرچہ کرائے پرلے یاخریدے)فراہم کرے، لیکن اگراس پراس کی حیثیت سے زیادہ خرچ آتاہویا صورت یہ ہوکہ اس کام کے لئے خرچ برداشت کرے تو اس کےلئے نقصان دہ ہو توان احکام کے مطابق نمازپڑھے جوبرہنہ لوگوں کے لئے بتائے گئے ہیں ۔

مسئلہ(۸۳۰) جس شخص کے پاس لباس نہ ہواگرکوئی دوسراشخص اسے لباس بخش دے یاعاریتاًدے دے تواگراس لباس کاقبول کرنااس پرگراں نہ گزرتاہوتوضروری ہے کہ اسے قبول کرلے بلکہ اگر عاریتاًلینایابخشش کے طورپرطلب کرنااس کے لئے تکلیف کا باعث نہ ہوتوضروری ہے کہ جس کے پاس لباس ہواس سے عاریتاً مانگ لے یابخشش کے طورپر طلب کرے۔

مسئلہ(۸۳۱) اگرکوئی شخص ایسالباس پہنناچاہے جس کاکپڑا، رنگ یاسلائی رواج کے مطابق نہ ہوتواگر اس کاپہننااس کی شان کے خلاف اور توہین کاباعث ہوتواس کاپہننا حرام ہے۔لیکن اگروہ اس لباس کے ساتھ نمازپڑھے اوراس کے پاس شرم گاہ چھپانے کے لئے فقط وہی لباس ہوتواس کی نمازصحیح ہے۔

مسئلہ(۸۳۲) اگرمردزنانہ لباس پہنے اورعورت مردانہ لباس پہنے تو اس کا پہننا حرام نہیں ہے اور اس میں نماز پڑھنا باطل نہیں ہے لیکن( احتیاط واجب کی بناپر) جائز نہیں ہے کہ مرد اپنے آپ کی عورت کی شکل وصورت بنائے اور اسی طرح برعکس ۔

مسئلہ(۸۳۳) جس شخص کولیٹ کرنماز پڑھنی چاہئے اس کےلئےضروری نہیں ہے کہ چادر اور لحاف جو استعمال کرتا ہے وہ نماز گزار کے لباس کی شرائط رکھتا ہو مگر یہ کہ وہ اس طرح ہو کہ اس کو پہننا کہاجائے جیسے کہ وہ اس کو اپنے بدن پر چاروں طرف سے لپیٹ لے۔